Porasrar Maqlook پراسرار مخلوق

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 2.6k

 

Category: Tags: ,

Description

پراسرار مخلوق

رات کے سناٹے میں حرا اپنے کمرے میں تنہا بیٹھی پینٹنگ کر رہی تھی۔ وقت ڈیڑھ بجے کے قریب تھا۔ گھر کے سب افراد اپنے کمروں میں سو چکے تھے۔ اس کا کمرہ باقی کمروں سے ہٹ کر تھا، کھڑکی لان کی طرف کھلتی تھی اور وہاں اندھیروں کی دبیز تہہ پھیلی ہوئی تھی۔ خاموشی اس قدر گہری تھی کہ سانس کی آواز بھی عجیب لگتی تھی۔

پینٹنگ کرتے کرتے اچانک حرا کی نظر کھڑکی پر پڑی۔ دل جیسے ایک لمحے کو تھم گیا۔ کھڑکی کے باہر سفید چمکتے لباس میں ایک سایہ سا کھڑا تھا۔ وہ دھندلے اندھیرے میں جھلملاتا ہوا مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخی مائل چمک رہی تھیں۔ حرا کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ پینٹنگ برش اس کے ہاتھ سے گر پڑا اور وہ بھاگ کر کھڑکی بند کرنے لگی۔ جیسے ہی اس نے پردہ گرایا، کھڑکی پر ہلکی سی دستک ہوئی، ایسی کہ جیسے ناخن شیشے پر رگڑ کھا رہے ہوں۔

گھبراہٹ میں اس نے پانی پیا اور گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔ اچانک وہ گلاس زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔ زمین پر بہنے والا پانی لمحوں میں گاڑھے خون کی شکل اختیار کر گیا۔ خون کی بو کمرے میں پھیل گئی۔ حرا نے مڑ کر دیکھا تو دل دہل گیا۔ کھڑکی کے شیشے پر ایک عورت کا عکس نظر آ رہا تھا جس کے دانت لمبے اور نوکیلے تھے۔

وہ دروازے کی طرف دوڑی مگر جیسے ہی لاک کھولنے کی کوشش کی، ایک زوردار چوٹ ہاتھ پر پڑی، جیسے کسی نے اسٹک سے مارا ہو۔ دوسری بار کوشش پر پھر وہی ہوا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبنے لگا۔ حرا موبائل اٹھا کر امی، ابو، زینب، سلمان سب کو کال کرنے لگی مگر سب کے نمبر بند تھے۔ جیسے پوری دنیا اس سے کٹ گئی ہو۔

کھڑکی کے پاس سے ایک سایہ گزرا۔ پردہ ہلکا سا سرکا اور اندر سے ایک بھاری، خوفناک قہقہہ سنائی دیا۔ اس کی چیخ حلق میں دب کر رہ گئی۔ وہ کونے میں سمٹ کر آیت الکرسی پڑھنے لگی مگر الفاظ زبان پر لڑکھڑا گئے۔ دانت اتنے زور سے بج رہے تھے کہ آواز ہڈیوں تک گونج رہی تھی۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ ساتھ ہی ایک مانوس آواز ابھری:
“حرا بیٹا… دروازہ کھولو، میں ہوں، تمہاری ماں۔”

وہ تذبذب میں آ گئی۔ اس وقت امی کیوں آئیں گی؟ مگر خوف کے زیرِ اثر وہ دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ خود بخود چرچراتے ہوئے کھلا۔ سامنے ایک عورت کھڑی تھی۔ سیاہ لباس، لمبے بال، اور آنکھیں جو دہکتے انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔ حرا نے کانپتی آواز میں کہا:
“آپ… کون… ہیں؟”

عورت نے جواب نہ دیا۔ بس کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔ اس کے کپڑوں کے رنگ پل بھر میں بدلنے لگے۔ کبھی خون کی طرح سرخ، کبھی قبر کی مٹی جیسا زرد۔ حرا کے پاؤں جیسے زمین سے جُڑ گئے۔

اچانک لیمپ کی روشنی بجھ گئی اور کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ اندھیرے میں صرف عورت کی آنکھیں روشن تھیں۔ وہ حرا کو گھور رہی تھی۔ پھر اس نے ہونٹ کھولے۔ اس کے نوکیلے دانت روشنی کی ایک جھلک میں ظاہر ہوئے۔ حرا کا دل حلق میں آ گیا۔

قالین پر ہاتھ رکھا تو جب اٹھایا، ہاتھ خون میں تر تھا۔ مگر قالین خشک۔ عورت نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا۔ حرا کے کانوں میں اس کی آواز گونجی، ایک سرد اور کرخت سرگوشی:
“ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں…”

یہ سنتے ہی کمرے کی دیواروں پر سایے رینگنے لگے۔ سانپوں کی طرح بل کھاتے سائے، جن کی آنکھیں جلتی ہوئی کوئلوں جیسی تھیں۔

حرا نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز نہ نکلی۔ اچانک بیڈ پر پڑی پینٹنگ میں رنگ خود بخود پھیلنے لگے۔ تصویر میں اس عورت کا چہرہ ابھر آیا اور نیچے لکھا تھا:

WELCOME TO HELL

فرش لرزنے لگا، جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ کھڑکی کے باہر چار لمبے وجود سفید لباس میں نمودار ہوئے۔ ان کے چہرے ڈھانپے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے گرد گھومنے لگے اور پھر یکایک فضا میں قہقہے گونجے۔

حرا نے خود کو چیئر کے سہارے کھڑا کرنے کی کوشش کی مگر قدم قالین میں دھنس گئے۔ جسم بھاری پتھر کی طرح ہو گیا۔ اس نے “اللہ ہو” پڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی یہ کلمات لبوں سے نکلے، عورت اور سائے لمحوں میں غائب ہو گئے۔ لیکن کمرے کی دیوار پر ایک نیلی روشنی باقی رہ گئی۔ روشنی کے اندر دو سائے چل رہے تھے، ان کے قہقہے اب بھی گونج رہے تھے۔

اسی وقت موبائل بجا۔ یہ زینب کی کال تھی۔ حرا نے میسج لکھنے کی کوشش کی مگر الفاظ خود بخود غائب ہو گئے۔ موبائل اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔

وقت دیکھا: 4:17۔ وہ مسلسل درود شریف پڑھنے لگی۔ آہستہ آہستہ سکون اترنے لگا۔ جب کھڑکی کھولی تو سفید لباس والے وجود گھوم رہے تھے۔ اس بار ان کے قدموں کی آواز سنائی دے رہی تھی، جیسے زمین پھٹ رہی ہو۔ کچھ لمحوں بعد وہ ایک ایک کر کے زمین میں دھنستے گئے۔

اسی لمحے فجر کی اذان کی آواز سنائی دی۔ کمرے کی فضا یکدم پرسکون ہو گئی۔ حرا بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی مگر اس کے جسم پر لرزہ ابھی باقی تھا۔ یہ واقعہ اس کی زندگی میں خوف کا ایسا داغ چھوڑ گیا جو شاید کبھی نہ مٹ سکے اور اگلا ایک ہفتہ میں بخار میں مبتلا رہی.

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Porasrar Maqlook پراسرار مخلوق”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more