Jawan Larki جوان لڑکی

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 3.7k

 

Category: Tags: ,

Description

جوان لڑکی

میری عمر چودہ برس تھی۔ چودہ برس کا وہ معصوم اور نادان سا زمانہ جب دل چاہتا ہے کہ سارے جہان کی رنگینیاں اپنے آنچل میں سمیٹ لوں، ہر خوشبو کو قید کر لوں، ہر پرندے کی پرواز کو اپنے خوابوں سے باندھ لوں۔ لیکن انہی دنوں میرے والدین کو اچانک یہ احساس ہوا کہ ان کی بیٹی حنا اب بڑی ہو گئی ہے، اور اب اسے سات پردوں میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ ان کی محبت تھی، مگر ساتھ ہی بے خبری بھی۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ سات پردے اگر چادر کے ہوں یا اینٹوں کی دیواروں کے، یہ کسی کے جسم کو تو روک سکتے ہیں مگر دل کے خوابوں اور خیالات کے پروں کو کبھی قید نہیں کر سکتے۔ اور یوں انہوں نے میرے قدموں پر دہلیز پار کرنے کی سخت پابندی لگا دی۔

اب میں تھی اور طویل دن کی پھیلتی ہوئی خاموش دوپہریں… کھڑکی سے جھانکتی دھوپ، بند کمروں کی گھٹن، اور ایک ایسی تشنگی جو بار بار دل میں اٹھتی۔

ایک روز دوپہر کو جب پورا محلہ سنسان پڑا تھا، گلیاں سوتی ہوئی لگ رہی تھیں اور امی کھانے کے بعد خوابِ غفلت میں ڈوبی تھیں، میرے اندر ایک ضد جاگی۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ آہستہ سے دروازے کی کنڈی کهولی اور دهلیز پار کر گئی۔

کھلی فضا کی ہوا میرے چہرے کو چھونے لگی، جیسے قید کے بعد کسی پرندے کو آزاد کر دیا گیا ہو۔ مگر دل نے فوراً سوال کیا: “اب جاؤں گی کہاں؟”۔ محلے میں تو امی نے کسی سے دوستی نہ کرنے دی تھی۔ بس ایک انوشہ تھی، جس کی ماں، امی کی دور کی کزن تھیں۔ وہ آتی تو میری عید ہو جاتی تھی۔ مگر وہ بھی ان دنوں ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی۔

اب میں تنہا تھی۔ خالی گلیوں میں قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی، جیسے میرے ہی قدم میرا پیچھا کر رہے ہوں۔

اسی دوران میری نظر ثانیہ کے گھر پر پڑی۔ ثانیہ میری پرائمری اسکول کی ساتھی تھی۔ اس کا گیٹ نیم وا تھا۔ اندر جانے کا دل کیا۔ آہستہ سے گیٹ کو دھکیلا، لان خاموش تھا۔ دبے قدموں اندر چلی گئی۔ کمرے کے برآمدے تک پہنچی تو اچانک اوپر سے کسی کتاب کے گرنے کی آواز آئی۔

یقیناً یہ ریحان تھا، ثانیہ کا بھائی۔ وہ میڈیکل کا طالب علم تھا اور اوپر ہی کمرے میں رہتا تھا۔ بچپن میں ہم ساتھ اسکول جایا کرتے تھے مگر پردے کے بعد ملاقات ختم ہو گئی تھی۔

میں نے آہستہ سے آواز دی:
“ریحان! کوئی ہے گھر میں؟”
وہ چونک کر مڑا، پھر حیرت سے بولا: “ہاں تم ہو؟ باقی سب تو نانی کے گھر گئے ہیں۔”

میں بےاختیار کمرے میں داخل ہو گئی۔ کچھ دیر کے بعد باتوں باتوں میں میں نے شرارت سے اس کے نوٹس کے کاغذ ہوا میں اچھال دیے۔ وہ گھبرا گیا، بوکھلا سا گیا۔ پھر ہنستے ہوئے بولا: “چائے پیو گی؟”

میں نے ہاں کہا تو وہ کچن میں گیا، مگر جاتے جاتے کمرے کو باہر سے بند کر دیا۔ میں سوچتی رہی کہ وہ جلد واپس آئے گا، مگر وقت گزرتا گیا اور میں چھ گھنٹے تک اس کمرے میں بند رہی۔

ادھر امی جاگ گئیں۔ جب مجھے گھر نہ پایا تو محلے میں شور مچ گیا کہ “حنا غائب ہے!”۔ ہر دروازے پر دستک دی گئی، مگر ثانیہ کے گھر کو چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ شام ڈھل گئی اور میں اب بھی بند کمرے میں قید تھی۔

آخر کار ثانیہ کی ماں گھر لوٹیں اور مجھے آزاد کیا۔ مگر خبر بجلی کی طرح پورے محلے میں پھیل گئی کہ “حنا چھ گھنٹے تک ریحان کے کمرے میں بند رہی!”

وہ دن میری زندگی کا سب سے بھیانک دن تھا۔ امی، ابو شرمندگی سے جھک گئے۔ میں خود شرمندگی کے بوجھ تلے دب گئی۔ وقت گزرتا گیا مگر محلے کی عورتوں کی زبانیں کبھی نہ رکیں۔ شادی بیاہ کی محفلوں میں لوگ مجھے دیکھ کر کھسر پھسر کرتے، انگلیاں اٹھاتے۔ کئی رشتے میری اس ایک غلطی کی نذر ہو گئے۔

والد جلد ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ امی مجھے ساتھ لے کر خالہ سمیرا کے پاس آ گئیں۔ وہاں سے میری نرسنگ کی تعلیم شروع ہوئی۔ خالہ نے میری زندگی کو سنبھالا، وہ میری ماں بھی بن گئیں۔

اسی دوران اسپتال کے کینسر وارڈ میں ایک نوجوان آیا۔ اس کا نام ارسلان تھا۔ جوانی کی بہار میں تھا مگر کینسر نے اس کے جسم کو توڑ دیا تھا۔ وہ تنہا تھا۔ بیوی اسے چھوڑ چکی تھی اور اس کا ایک ننھا بیٹا علی نوکرانی کے سہارے جی رہا تھا۔

میں نے جب اس کے قریب جانا شروع کیا تو محسوس ہوا کہ وہ میری منتظر رہتا ہے۔ میری موجودگی میں اس کی آنکھوں میں زندگی کی روشنی جاگتی۔ وہ اکثر کہتا:
“مجھے اپنی فکر نہیں، بس اپنے بیٹے کی فکر ہے۔ میرے بعد وہ کس کے سہارے زندہ رہے گا؟”

اس کی آواز میں وہ کرب تھا جو دل کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا:
“اگر آپ چاہیں تو علی کو مجھے دے دیجیے۔ میں اس کی ماں بنوں گی۔”

وہ پہلے ہچکچایا، مگر پھر میرے خلوص نے اس کا دل جیت لیا۔ اس نے اپنے بیٹے کو میری جھولی میں ڈال دیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔

اس دن کے بعد میری زندگی کا مرکز علی بن گیا۔ میں نے شادی نہ کی، نہ ہی کسی کو پسند کرنے دیا۔ میری جوانی اس بچے کی پرورش میں گزر گئی۔ علی نے مجھے ماں کہا، اور میں نے اپنی ممتا اس پر نچھاور کر دی۔

میں اب بھی اسپتال میں مریضوں کی خدمت کرتی ہوں۔ محبت، سکون اور خوشی مجھے انہی چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے ملتی ہے۔ ارسلان کی یاد اور علی کی معصومیت میری زندگی کے سب سے قیمتی تحفے ہیں۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Jawan Larki جوان لڑکی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more