Taaweez تعویز

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 4.6k

 

Category: Tags: , ,

Description

تعویز

اس واقعہ کو گزرے تین سال ہو چکے ہیں ایک روز کالج سے واپسی پر مجھے خاصی دیر ہوگئی۔ بس اسٹاپ تک پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی ۔ ادھر سے قیامت کہ بس آکر نہیں دیتی تھی۔ اپنے حلقہ احباب میں بے حد زندہ دل مشہور ہوں۔ دومنٹ خاموش نہیں ہو سکتی ۔ حسب عادت میں نے اپنے ساتھ کھڑی ہوئی لڑکی کو اپنی باتوں میں شریک کر لیا ۔ یہ لڑکی کسی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ اپنی جمود والی زندگی سے سخت بیزار تھی۔ میں بڑی دلچسپی سے اس کے مسائل سن رہی تھی اور ہمدردی سے اسے مشورے بھی دیتی جا رہی تھی۔ دفعتا میں نے محسوس کیا میرے بائیں طرف کھڑی ہوئی ایک سفید برقع پوش عورت بڑے انہماک سے ہماری باتیں سن رہی ہے۔ میں نے ایک بار جو اس عورت کو دیکھا تو ایک تیز لہر کرنٹ کی طرح دوڑ گئی۔ بظاہر اس معمر عورت میں کوئی ایسی بات نہ بھی جو مجھے خوفزدہ سکے لیکن خدا جانے اس کی پر پھر آنکھوں میں کیسی مقناطیت تھی جو اس سے نگاہیں ملتے ہی مجھے عجیب سی کیفیت میں ڈال گئی۔ میں نے لاکھ چاہا کہ اس عورت کو نہ دیکھوں مگر ایسا نہ کست سکی اس کی بڑی

بڑی سانپ جیسی مقناطیسیت والی آنکھیں ایک تک مجھے گھورے جا رہی تھیں اور مجھےاپنے پر ذرہ بھر اختیار نہ رہا دو قدم بڑھ کر اس کے پاس جا پہنچی۔ وہ قدرے مسکرائی اور بولی آج میرے مرشد کا حکم ہے کہ تجھ کو مالا مال کر دوں۔ اس وقت بس اسٹاپ پر سواے میرے ، میری ٹیچر اور اس عورت کے اور کوئی بھی نہ تھا۔ ٹیچر بھی ہماری باتیں سننے کے لیے میرے قریب آگئی۔ اللہ جانے اس عورت کی شخصیت میں کونسی غیر مرئی طاقت چھپی ہوئی تھی کہ اس نے مجھ سے جو پوچھا بغیر مجھے بوجھے میں نے اس کا جواب دے دیا۔ سمریزم کے مریض کی طرح میں اس کے سحر میں گھر تی جا رہی تھی۔ میرے ساتھ والی ٹیچر بولی۔ اماں میری بھی کچھ مدد کرو میں بہت پریشان ہو ۔ اس مداخلت پر اس عورت کی آنکھوں میں بلا کی سرخی تیرنے لگی اور جھڑ کنے والے انداز میں بولی۔ میں نے کہا ہے آج میرے مرشد کا صرف اس لڑکی سے بات کرنے کا حکم ہے۔ تھوڑی دیر بعد بس آگئی اور وہ لڑکی چلی گئی مگر میں اپنے گرد چھائے ہوئے سحر کو نہ تو ڑ سکی۔ مجھے حیرت ہے کہ اس عورت نے مجھ سے متعلق ایسی باتیں بتا ئیں جو میرے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔ میں کھڑے کھڑے بری طرح تھک گئی تھی لیکن اس سے اجازت لیے بغیر میں اپنے میں ایک قدم اٹھانے کی سکت نہ پا رہی تھی ۔

میرے سامنے بیٹھ کر اس نے بوسیدہ کاغذ پر انگلیوں سے کچھ نقش بنائے اور زعفرانی رنگ کے سفوف کے لپیٹ کر میرے حوالے کیا۔ ایک پیلے رنگ کی روٹی بھی دی اور کہا کہ یہ ساری چیزیں گلے میں تعویز بنا کر ڈال لے اور ہر رات طاق میں چراغ جلا۔ تجھ پر میرے مرشد کی نظر ہو رہی ہے اور یہ کہ کر وہ عورت لمبے لمبے قدم اٹھا کر بھیڑ میں گم ہو گئی۔ پندرہ منٹ تک تو مجھے ارد گرد کا بھی ہوش نہیں رہا۔ آخر جب میرے حواس درست ہوئے تو مجھے خود پر بے حد جسمی آئی آخر مجھے کیا ہو گیا تھا جو اس مکار عورت کی باتوں میں الجھ گئی۔ پہلے سوچا یہ ساری چیزیں یہیں پھینک دوں پھر غیر ارادی طور پر پرس میں ڈال لیں۔ گھر پہنچتے پہنچتے مجھ پر رعشہ سا طاری ہو گیا اور اس کے بعد گھر آکر میں جو سوئی تو میری آنکھ اسپتال میں کھلی ۔ مختلف طریقوں سے میرا علاج ہوا لیکن کسی ڈاکٹر کو میرا مرض ہی , معلوم نہیں ہو سکا۔ تین مہینے تک بے ہوشی کے عالم میں رہی ایک بار میرے منہ سے بے ہوشی کا عالم میں یہ الفاظ نکلے۔ آنکھوں والے تعویز جلاؤ۔ میری چھوٹی بہن بڑی وہمی طبیعت کی مالک ہے۔ اس نے گھر آکر میری ہر شے کھنگال کر پرس سے وہ تعویز نکال لیے

اور جلا دئیے۔ جس رات تعویز جلائے گئے اس صبح میں ہوش میں آئی اور روز بروز میری حالت بہتر ہوتی چلی گئی۔ گھر آنے پر مجھے امی نے بتایا کہ میری بیماری کے تیسرے روز ایک عجیب سی عورت گھر آئی تھی اس نے میرا حال پوچھا اور فور آوائیس چلی گئی۔ یہ میرے لئے آج تک معمہ ہے کہ وہ عورت آخر کون تھی ۔ مجھ سے کیا چاہتی تھی اور اسے میرے گھر کا پتہ کس طرح معلوم ہو گیا۔ جبکہ میں نے اسے اپنے گھر کا پتہ دیا ہی نہیں تھا۔ بہر حال میں زندگی بھر اس عجیب وغریب کردار کو فراموش نہ کر سکوں گی۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Taaweez تعویز”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more