ابا کی موت کے بعد میری ماں زہرا بی بی کے حالات اتنے بگڑ گئے کہ وہ مستقل بیماری کا شکار رہنے لگیں۔ جب میں دسویں جماعت میں پہنچی تو ان کا جسم ٹی بی کی مار سے نڈھال ہو چکا تھا۔ وہ وقت سے پہلے ہار مان گئیں اور ہم دونوں کو یتیم چھوڑ گئیں۔ ماں کے بعد میرے لیے سب سے قریبی رشتہ میری ممانی رفیعہ تھیں، جنہوں نے مجھے اپنے گھر پناہ دے دی۔
ممانی کے ایک ہی بیٹے تھے، فہیم۔ میں اور فہیم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ ممانی نے بہت جلد ہماری منگنی کر دی کہ شاید اس سے میرے مستقبل کے اندیشے ختم ہو جائیں۔ خاندان بھر میں ممانی کی نیک دلی کے چرچے ہونے لگے کہ انہوں نے اپنی بیوہ بھابھی کی بچی کو دردر کی ٹھوکروں سے بچا لیا ہے۔ ماموں بھی میرے سگے چچا تھے۔
بچپن میں میں فہیم کے ساتھ کھیلتی رہی تھی۔ لیکن جب شعور آیا، میں نے اس سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیا۔ میں اس کے سامنے آتے ہی خاموش ہو جاتی۔ شاید یہ حیا تھی یا ممانی کی سخت تربیت، جنہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ میری منگنی کر کے سب خطرات ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر خطرے کب ختم ہوتے ہیں؟ شیطان موقع دیکھ کر وار کرتا ہے۔
فہیم میرا منگیتر تھا، اور اس کے باوجود میں اس سے دور رہتی تھی۔ وہ خوبصورت، دلکش اور سب کا لاڈلا تھا، مگر میرے دل میں بچپن کے ساتھی ہونے کے باوجود اس کے لیے ایک پردہ تھا۔
ایک دن ممانی محلے کی ایک تقریب میں گئی ہوئی تھیں۔ دوپہر کا وقت تھا، گھر میں میں اکیلی تھی۔ اچانک فہیم اندر آ گیا۔ وہ براہِ راست میرے کمرے میں آیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور کیا۔
میں کبھی اس سے یوں بے تکلف نہیں ہوئی تھی۔ گھر میں کوئی نہ ہونے کا خیال میرے دل پر خوف کی بجلیاں گرا رہا تھا۔ میں ہکّا بکّا بیٹھی رہی۔ وہ قہقہہ مار کر بولا: “عجیب لڑکی ہو! اپنے ہونے والے شوہر سے ڈرتی ہو؟ تم میری منگیتر ہو۔ میرا حق ہے کہ تم سے بات کروں۔”
میں صرف “ہوں…ہاں…” میں جواب دیتی رہی۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے یا ممانی واپس آ جائیں تاکہ یہ صورتحال ختم ہو۔ فہیم میری خاموشی دیکھ کر بولا: “تم مجھ سے کیوں کتراتی ہو؟ میں آج یہ فاصلے ختم کرنا چاہتا ہوں۔”
میں نے بار بار اس کا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کی لیکن وہ باز نہ آیا۔
اس دن جو ہوا، وہ میرے لیے ایک کالی رات بن گیا۔ شام تک میری آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔ ممانی واپس آئیں تو میری حالت دیکھی مگر کچھ نہ پوچھا۔ انہوں نے یہی سوچا کہ مجھے اپنی ماں کی یاد آ رہی ہو گی۔ انہوں نے میرے لیے کھانا خود بنایا، پیار بھری باتیں کیں، اور میری حالت بہتر کرنے کی کوشش کی۔
میں نے کئی دن سوچا کہ سچ ممانی کو بتا دوں مگر زبان پر تالے لگے تھے۔ میں ڈرتی تھی کہ اگر میں بولی تو ان کے دل میں زہر بھر جائے گا، اور ان کے بیٹے کی حقیقت ان کے لیے جان لیوا ہو جائے گی۔ آخرکار میں نے خاموشی اختیار کر لی۔
مگر تقدیر کو یہ راز چھپانا منظور نہ تھا۔ ایک دن ممانی کے سامنے حقیقت آ گئی۔ وہ حیران ہو کر بولیں: “یہ سب کیا ہے، حنا؟”
میں نے کہا: “آپ اپنے بیٹے سے پوچھیے۔”
ممانی نے فہیم سے سوال کیا تو وہ قسمیں کھانے لگا: “امی! میں بے قصور ہوں۔ یہ سب جھوٹ ہے۔ کسی نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ہے۔ اگر آپ نے مجھے الزام دیا تو میں ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا!”
ممانی اندر سے جانتی تھیں کہ میں سچ کہہ رہی ہوں مگر ان کی ممتا غالب آ گئی۔ “اگر یہ سب سچ تھا تو تم نے مجھے فوراً کیوں نہ بتایا؟” انہوں نے مجھے جھوٹا اور اپنے بیٹے کو سچا قرار دے دیا۔
اب میرا جرم یہ تھا کہ میں لڑکی تھی۔ “جس تھالی میں کھاؤ، اسی میں چھید کرتی ہو!” یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے۔
اس دن کے بعد ممانی اور فہیم نے میری طرف سے آنکھیں پھیر لیں۔ میں ان کی بے رخی پر ٹوٹ گئی۔ فہیم کی بے وفائی سے زیادہ مجھے ممانی کی محبت چھن جانے کا دکھ تھا۔
وقت گزرتا رہا۔ فہیم نے شادی سے انکار کر دیا۔ ممانی نے مجھے ایک رشتہ تلاش کر کے شادی کر دی۔ میرا شوہر عادل نہایت شفیق نکلا۔ اس نے میرا ہر دکھ بھلا دیا، مجھے عزت، تحفظ اور محبت دی۔ ہماری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوا۔ میں نے سوچا کہ میرے برے دن ختم ہو گئے۔
مگر وقت کب ایک سا رہتا ہے؟
ایک دن میں عید کی تیاری کے لیے ممانی کے گھر آئی۔ فہیم اب ایک کامیاب کاروباری شخص بن چکا تھا۔ ممانی اور ماموں مجھ سے خوش اخلاقی سے ملتے مگر میں فہیم سے گریز کرتی۔
عید سے دو دن پہلے میں چھت پر کپڑے پھیلانے گئی۔ اچانک فہیم آ گیا۔ اس نے طنز کیا: “تم نے ماضی اتنی جلدی بھلا دیا؟ بے وفا عورتوں کا یہی حال ہوتا ہے!”
میں نے سخت لہجے میں کہا: “میں بے وفا نہیں، تم ہو۔ تم نے مجھے دھوکا دیا اور شادی سے انکار کیا۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتی۔”
اس کے چہرے پر غصہ آیا: “یاد رکھنا! ایک دن تمہارے شوہر کو سب کچھ بتا دوں گا۔”
میں نے ہنکارا بھرا: “وہ مجھ پر اعتبار کرتے ہیں۔ جھوٹ تمہارے منہ پر مارا جائے گا۔”
میں نے تہیہ کر لیا کہ اب دوبارہ اس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی۔
لیکن اسی سال میرا آسمان ٹوٹ پڑا۔ عید کے تیسرے دن خبر ملی کہ عادل کا اچانک ہارٹ فیل ہو گیا۔ میں بچوں کے ساتھ ممانی کے گھر تھی۔ میرے دیور نے خبر دی: “وہ صبح سے فون نہیں اٹھا رہے تھے۔ جب ہم گھر گئے تو وہ صحن میں مردہ حالت میں پڑے تھے۔”
میرے اوپر قیامت ٹوٹ پڑی۔ راحت کی دھمکی ختم ہو گئی مگر میرا سب کچھ چھن گیا۔
عدت کے بعد ممانی اور ماموں نے مشورہ دیا کہ بچوں کی خاطر میں ان کے گھر آ جاؤں۔ مجبورا مجھے وہی گھر آنا پڑا جہاں میرا سب کچھ برباد ہوا تھا۔
اب فہیم بدل چکا تھا۔ وہ بچوں کا خرچ اٹھانے لگا، ان کو گھمانے لے جاتا، ان کے لیے تحفے لاتا۔ لیکن ہم دونوں کبھی بات نہ کرتے۔
ایک دن ماموں نے کہا: “بیٹی، ہم زیادہ زندہ نہیں رہیں گے۔ تم اور تمہارے بچوں کا کیا ہوگا؟ فہیم اب تمہیں بیوی کے طور پر قبول کرنا چاہتا ہے۔ یہ تمہارے بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر ہے۔”
میں ششدر رہ گئی۔ جس شخص نے میرا سب کچھ برباد کیا، آج وہی میرے لیے پناہ بننے کو تیار تھا۔ لیکن ماموں کی بیماری اور میرے بچوں کے مستقبل نے میرا دل توڑ دیا۔
آخرکار میں نے ہاں کر دی۔
ماموں کی وفات کے بعد فہیم نے ہمیں عزت اور تحفظ دیا۔ میں اکثر اس سے شکوہ کرتی: “اگر شادی کرنی ہی تھی تو وقت پر کیوں نہ کی؟ مجھے کیوں اتنا دکھ دیا؟”
ایک دن اس نے روتے ہوئے کہا: “انسان غلطی کر بیٹھتا ہے۔ میں نے دوست کے مشورے پر تمہیں چھوڑ دیا۔ یہی پچھتاوا مجھے زندہ جلاتا رہا۔ تمہیں پا کر سکون ملا ہے۔”
اس کی آنکھوں کے آنسو اس کی سچائی کی دلیل تھے۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Shadi Se Phaly شادی سے پہلے” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.