پرانے وقتوں کی بات ھے ایک شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک معمولی سا مکان تھا۔ اس مکان کی دیواریں ٹوٹی پھوٹی، چھت کمزور اور کچا صحن بارش کے بعد کیچڑ سے بھرا رہتا تھا۔ اسی مکان میں الہ دین اپنی ماں کے ساتھ زندگی بسر کرتا تھا۔
الہ دین کے باپ کا سایہ برسوں پہلے اُٹھ گیا تھا۔ باپ ایک ہنرمند درزی تھا لیکن ایک دن اچانک بخار میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ماں بیچاری سلائی کر کے اپنا اور بیٹے کا پیٹ پالتی تھی۔
شہر کی گلیوں میں بچپن کی شوخی کے ساتھ الہ دین دوڑتا پھرتا۔ گرد آلود ہوا، چھتوں پر جھولتی پرانی لالٹینیں، فٹ پاتھ پر سبزی فروش کی آوازیں، گدھوں اور اونٹوں کی گھنٹیاں… یہ سب اُس کے بچپن کا حصہ تھے۔ مگر غربت اُس کے خوابوں کو ہمیشہ کچل دیتی۔ایک شام جب سورج کی سرخی آسمان پر بکھر رہی تھی، ماں نے الہ دین کو آواز دی:
“بیٹے! ذرا قریب آؤ۔ دیکھو یہ دھاگہ ختم ہو گیا ہے، مجھے بازار سے لانا ہے۔ لیکن پیسے نہیں ہیں۔ تم کل محنت مزدوری کیوں نہیں کر لیتے؟”
الہ دین نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“اماں! مزدوری؟ میں نے تو سنا ہے قسمت والے ہی محنت کے بغیر امیر ہو جاتے ہیں۔ شاید میرا بھی کوئی نصیب چھپا ہو۔”
ماں نے غصے اور محبت کے ملے جلے لہجے میں کہا:
” الہ دین! قسمت محنت والوں کا ساتھ دیتی ہے۔ بس خواب دیکھ کر زندگی نہیں گزرتی۔”
الہ دین خاموش ہو گیا مگر دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ کیا واقعی اس کے لیے کوئی خاص نصیب رکھا ہے؟
رات کو آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے۔ ہوا میں ٹھنڈک اور خاموشی تھی۔ کبھی کبھی کتے بھونکنے لگتے۔ الہ دین الادین چھت پر لیٹا آسمان کو دیکھتا اور سوچتا:
کاش میں بھی کبھی امیر ہو جاؤں، میرے پاس سونے چاندی کے ڈھیر ہوں، اور سب مجھے عزت سے دیکھیں۔”*
وہ خوابوں میں ہی سو گیا۔
شام کا وقت تھا۔ شہر کے بازار میں روشنی اور اندھیروں کا عجیب سا ملاپ تھا۔ دکاندار اپنی دکانیں سمیٹنے لگے تھے، کہیں چراغ روشن تھے اور کہیں اونٹوں کی گھنٹیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
الہ دین اب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل ہی کھیل میں مصروف تھا، کہ اچانک ایک اجنبی شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اجنبی کے چہرے پر لمبی داڑھی، سر پر پگڑی اور آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ قریب آیا اور مسکرا کر بولا:
“السلام علیکم، پیارے بچے… کیا تمہارا نام الہ دین ہے؟”
الہ دین چونک گیا۔
“جی… مگر آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟”
وہ شخص ہنس پڑا:
“میں تمہارا چچا ہوں، پردیس سے آیا ہوں۔ برسوں بعد لوٹا ہوں اور تمہیں دیکھنے آیا ہوں۔”
الہ دین حیرت زدہ رہ گیا۔ اُس کی ماں نے تو کبھی نہیں بتایا کہ کوئی چچا بھی ہے۔ مگر اجنبی کی باتوں میں ایک جادو سا تھا۔
“بیٹے، میں جانتا ہوں تم غریب ہو۔ لیکن تمہارے نصیب میں بڑی دولت لکھی ہے۔ آؤ میرے ساتھ، میں تمہیں ایک خزانہ دکھاؤں گا۔”
الہ دین نے جھجکتے ہوئے کہا:
“خزانہ؟ لیکن… اماں نے منع کیا ہے کہ اجنبی کے ساتھ نہ جاؤں۔”
آدمی نے مصنوعی محبت سے کہا:
“میں اجنبی نہیں، تمہارا اپنا ہوں۔ تمہارے والد کی قسم، میں تمہیں کبھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔”
الہ دین کے دل میں لالچ نے جگہ بنا لی۔ اُس نے سوچا: *”اگر واقعی خزانہ ملا تو میری ساری زندگی بدل جائے گی۔”*
اور یوں وہ اُس اجنبی کے ساتھ چل پڑا۔
اجنبی شخص، جو خود کو الہ دین کا “چچا” کہہ رہا تھا، بازار کی بھیڑ سے نکل کر سنسان راستے پر چلنے لگا۔ الہ دین اُس کے ساتھ تھا۔
راستہ تنگ اور گرد آلود تھا۔ دونوں طرف کھیت لہرا رہے تھے۔ کھجور کے درخت ہوا میں جھوم رہے تھے اور پرندے چہچہاتے ہوئے ادھر اُدھر اڑ رہے تھے۔ دور پہاڑوں کی نیلی دھند نظر آ رہی تھی۔ دھوپ تیز تھی لیکن ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک شامل تھی۔
الہ دین (ذرا جھجکتے ہوئے): “چچا جان! ہم کہاں جا رہے ہیں؟”
**اجنبی (ہنستے ہوئے):** “بیٹے! جلد بازی نہ کرو۔ ابھی تھوڑی دور اور چلنا ہے۔ وہاں ایک ایسا راز چھپا ہے جو تمہاری زندگی بدل دے گا۔”
الہ دین : “کیا واقعی خزانہ ہے؟”
اجنبی (چالاکی سے): “خزانہ ہی نہیں، بلکہ ایسا خزانہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ سونا، ہیرے، جواہرات… سب تمہارے قدموں میں ہوں گے۔”
الہ دین کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
الہ دین (خواب دیکھتے لہجے میں): “اگر یہ سب مل جائے تو میں بھی شہر کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں گا۔ ماں کو بھی آرام دوں گا۔”
اجنبی (دل ہی دل میں): “ہاں… مگر یہ سب میرا ہوگا، معصوم لڑکے۔”
کچھ دیر بعد راستہ سنسان ہو گیا۔ سامنے ایک چھوٹا سا صحرا تھا۔ ریت کے ٹیلے سنہری رنگ میں دمک رہے تھے۔ سورج ڈھلنے لگا تھا اور آسمان پر لالی پھیل رہی تھی۔ دور ایک پہاڑی اُبھرتی دکھائی دی جس کے دامن میں پرانے کھنڈر جیسے پتھر بکھرے تھے۔
الہ دین (حیرت سے): “چچا جان، یہ جگہ تو بڑی سنسان ہے۔ یہاں تو لوگ بھی نہیں آتے۔”
اجنبی (سخت لہجے میں): “بیٹے! خزانہ کبھی بھیڑ بھاڑ میں نہیں چھپایا جاتا۔ صبر کرو۔”
وہ دونوں پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اجنبی نے عصا زمین پر مارا اور آہستہ آہستہ کچھ عجیب الفاظ پڑھنے لگا۔زمین ہلنے لگی۔ دھول کے بادل اٹھے اور اچانک ایک بڑا سا پتھریلا دروازہ ظاہر ہوا۔ اُس پر عجیب نشانات کندہ تھے جو ہلکی ہلکی روشنی دے رہے تھے۔ جیسے زمین کے نیچے کوئی بھٹّی جل رہی ہو۔
الہ دین ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔
الہ دین (گھبرا کر): “یہ… یہ کیا ہے؟ زمین کیوں کانپ رہی ہے؟”
اجنبی (مصنوعی نرمی سے): “گھبراؤ نہیں، یہ وہی خزانے کا دروازہ ہے جس کا میں نے وعدہ کیا تھا۔”
اجنبی: “دیکھو بیٹے! یہ دروازہ صرف تمہارے ہاتھ سے کھل سکتا ہے۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔” الہ دین (حیرت سے): “میری قسمت؟ لیکن میں تو ایک عام لڑکا ہوں۔”اجنبی (مسکرا کر):** “عام نہیں، تم خاص ہو۔ اندر جاؤ، وہاں باغ ہے، اور باغ میں ایک پرانا چراغ رکھا ہے۔ وہ میرے لیے لے آؤ۔ باقی خزانہ، زیورات، ہیرے سب تمہارے۔”
الہ دین کے دل میں لالچ اور خوف دونوں تھے۔
الہ دین: “اور اگر میں اندر نہ گیا تو؟”
اجنبی کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے غصہ آیا مگر اُس نے فوراً چہرے پر نرمی لا کر کہا:
اجنبی: “پھر تم ہمیشہ اسی غربت میں رہو گے۔ فیصلہ تمہارا ہے۔”
ہوا اچانک تیز چلنے لگی۔ درختوں کی شاخیں ہلنے لگیں۔ غروبِ آفتاب کا سرخ رنگ پہاڑوں پر بکھر گیا تھا۔ سنسان ماحول، اجنبی کی پر اسرار مسکراہٹ، اور سامنے وہ خوفناک دروازہ— الہ دین کے دل میں عجیب سا خوف اور تجسس بھر گیا۔
جب دروازہ کھلا تو اندھیری سیڑھیاں نیچے اترتی دکھائی دیں۔ اندر سے عجیب سی خوشبو اور ٹھنڈی ہوا آنے لگی۔ الہ دین نے قدم پیچھے کھینچنا چاہا مگر اجنبی نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
الہ دین (ہچکچاتے ہوئے): “چچا جان! یہ جگہ تو بہت خوفناک لگ رہی ہے… میں اندر نہیں جا سکتا۔”
اجنبی (مصنوعی نرمی سے): “بیٹے! ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ خزانہ تمہارے لیے ہی ہے۔ بس ایک بار جاؤ، چراغ لے آؤ، پھر دیکھنا تمہاری غربت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”
الہ دین (بچوں کی معصومیت سے): “لیکن چراغ کیسا ہوگا؟ اگر میں نہ پہچان سکا تو؟”
اجنبی (جلدی سے): “وہ پرانا، کالا سا چراغ ہے۔ باقی جو کچھ دیکھو—ہیرے، جواہرات، سونا—وہ سب تمہارا ہے۔”
الہ دین نے خوف کے باوجود ہمت کی اور سیڑھیوں پر قدم رکھ دیا۔سیڑھیاں طویل اور نم تھیں، جیسے صدیوں سے کسی نے ان پر قدم نہ رکھا ہو۔ آخرکار وہ ایک وسیع باغ میں جا پہنچا۔
یہ باغ دنیا کے ہر باغ سے مختلف تھا:
درختوں پر آم، سیب یا انار نہیں لگے تھے، بلکہ ہر شاخ پر لعل، زمرد، یاقوت اور ہیرے جگمگا رہے تھے۔
زمین پر گھاس کے بجائے سبزیش مائل کرسٹل بکھرے تھے جو روشنی میں چمکتے تھے۔ بیچ میں ایک تالاب تھا جس کا پانی نیلا اور شفاف تھا، جیسے آسمان زمین پر اُتر آیا ہو۔ پرندے بھی عام نہ تھے؛ اُن کے پروں پر رنگ برنگی روشنی جھلملاتی تھی۔
الہ دین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
الہ دین: “یا اللہ! یہ کیسا باغ ہے… اگر ماں یہ سب دیکھ لیتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی۔ یہ پھل اگر بازار میں بیچوں تو پورا شہر میرا غلام ہو جائے!”
وہ درختوں کے قریب گیا۔ اُس نے ایک شاخ سے سرخ یاقوت توڑ کر اپنی جیب میں ڈال لیا، پھر نیلا زمرد، پھر سبز پکھراج… اُس کی جیبیں اور ہاتھ چمکتے پتھروں سے بھر گئے۔باغ کے آخر میں ایک پرانا سا کمرہ تھا۔ کمرے کی دیواروں پر مکڑ جالے، اور فرش پر گرد جمی تھی۔ ایک کونے میں ایک پرانی مٹی کی لالٹین نما چراغ رکھی تھی، جو دیکھنے میں بالکل معمولی لگتی تھی۔چراغ کے ساتھ ایک انگھوٹھی بھی تھی آلہ دین نے وہ بھی اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لی اور چراغ کو ہاتھ میں پکڑ کر باہر کی طرف چلا پرا
اوپر سے اجنبی کی آواز گونجی:
اجنبی: ” آلہ دین ! کیا چراغ مل گیا؟”
آلہ دین (زور سے): “جی ہاں، یہیں پڑا ہے، لیکن یہ تو بالکل پرانا اور بے کار لگ رہا ہے۔”اجنبی (بے صبری سے): “بے کار مت سمجھو، وہی سب سے قیمتی ہے۔ فوراً اُٹھا کر مجھے دے دو۔”
آلہ دین نے چراغ ہاتھ میں پکڑا مگر دل ہی دل میں سوچنے لگا:
یہ شخص چراغ کے لیے اتنا بے چین کیوں ہے؟ اس باغ کے قیمتی جواہرات تو اُس نے بالکل یاد بھی نہیں دلائے… کچھ تو راز ہے۔” آلہ دین نے چراغ مضبوطی سے تھام لیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ اُس کے قدموں کے ساتھ ہیرے جواہرات چھن چھن کرتے تھے۔ جیسے ہی وہ دروازے کے قریب پہنچا تو اجنبی جھک کر بولا:
اجنبی (غصے میں): “نہیں! پہلے چراغ دو ورنہ تم کبھی باہر نہیں نکل سکو گے!”
ادھر سورج بالکل غروب ہونے والا تھا۔ آسمان پر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ ہوا تیز ہو گئی۔ اجنبی کی آنکھوں میں چمک اور لہجے میں سختی آ گئی۔
آلہ دین نے دل میں کہا: “یہ شخص میرا خیرخواہ نہیں ہے۔ اگر میں نے چراغ ابھی دیا تو شاید یہ مجھے یہیں مرنے کے لیے چھوڑ جائے گا۔”*
اس نے صاف انکار کر دیا۔ آلہ دین (چیختے ہوئے): “نہیں! میں پہلے باہر آؤں گا، پھر چراغ دوں گا!”اجنبی کا چہرہ غضبناک ہو گیا۔ اُس نے ایک چیخ ماری، کچھ منتر پڑھے اور زمین پر زور سے عصا مارا۔زمین پھر کانپنے لگی۔ پتھریلا دروازہ ہل ہل کر بند ہو گیا۔ اندھیرا چھا گیا۔ آلہ دین چراغ کو سینے سے لگائے اندھیرے میں تنہا رہ گیا۔
جب الاجنبی (جادوگر) نے دروازہ بند کر دیا، آلہ دین چراغ کو سینے سے لگائے اندھیرے میں تنہا رہ گیا۔اندر اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ اپنی انگلی بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ زمین سے سرد ہوا اُٹھ رہی تھی، اور ہر قدم پر چھوٹے پتھر رگڑ کی آواز دے رہے تھے۔ دیواروں سے نمی ٹپک رہی تھی۔ کبھی کبھار دور سے کسی پرانے پتھر کے ٹوٹنے کی آواز گونجتی۔ آلہ دین کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ وہ بولنے لگا:
آلہ دین (خاموشی میں): “یا اللہ! اگر یہ سب ختم ہو گیا تو میں کیسے باہر نکلوں گا؟”
یا اللہ مجھے اس اندھیرے سے نکال ، یا اللہ میری مدد کر
اس نے چراغ کو مضبوطی سے تھام لیا اور ہمت کر کے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگا آلہ دین نے چراغ کی مٹی کو صاف کرنا شروع کر دیا اور اچانک چراغ سے دھواں اٹھا اور پورے کمرے کو گھیر لیا۔ دھواں گہرا اور نیلا سا تھا، اور دھیرے دھیرے ایک بڑی سی چھایا کی شکل اختیار کر گیا۔
پھر دھواں گھومتے گھومتے ایک جن کی صورت اختیار کر گیا۔ اُس کا جسم روشنی اور دھواں کا ملاپ تھا، آنکھیں سنہری اور لباس جادوئی روشنی میں جھلملاتے۔
جن ہا ہا ہا ہا ہا
جن: “اے میرے مالک! کیا حکم ہے میرے اقا ؟ میں تمہارا غلام ہوں، جو چاہو کر دوں!”
آلہ دین کانپ گیا، مگر پھر حوصلہ کر کے بولا:
آلہ دین: “میں… میں… بس چاہتا ہوں کہ مجھے یہاں سے باہر نکالو!”
جن نے زور سے ہنس کر کہا:
جن: “اچھا! تمہارا حکم سر آنکھوں پر! تم بس مجھے بتاؤ کہاں جانا ہے!”
آلہ دین نے بتایا کہ وہ واپس اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔
جن نے ایک لمحے میں پورا اندھیرا دور کر دیا۔ ہوا میں روشنی پھیل گئی، اور وہ دونوں لمحوں میں زمین سے اُٹھے۔
دیواروں سے ٹپکتی نمی اور تاریک چھتیں پچھلے لمحے کی یاد بنی رہیں۔
نیلے اور سنہری روشنی کے دھبے جن کے آس پاس گھوم رہے تھے۔
ہوا کی سردی اور چراغ کی روشنی کا ملاپ ایک خواب جیسا منظر بنا رہا تھا۔
آلہ دین (حیرت سے): “یہ… یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟”
جن (مسکرا کر): “تمہارے حکم سے! چراغ کی طاقت سے! تمہارا ہر حکم میرے لیے فرماں ہے۔”
آلہ دین : “تو… میں بس چاہوں اور تم سب کر دو گے؟”
جن: “جی ہاں! چاہے سونا ہو، محل ہو یا کچھ بھی… تمہاری مرضی سب پر لازم ہے!”
آلہ دین کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ دل میں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب وہ اپنے نصیب کا مالک بن گیا ہے۔
چند لمحوں میں وہ آلہ دین اپنے گھر پہنچ گیا۔ ماں حیرت زدہ، آشفتہ اور خوش تھی۔
ماں: “بیٹے! تم کہاں تھے؟” آلہ دین نے کہا ماں میں آپ کو سب بتاتا ھوں پھر اس نے شروع سے لے کر جو چچا بن کے آیا تھا جادوگر سب کچھ بتا دیا
آلہ دین (مسکرا کر): “اماں، سب ٹھیک ہے۔ یہ سب… اس چراغ اور اس جن کی طاقت سے ممکن ہوا ہے!”
ماں نے چراغ کو دیکھا، حیرت اور خوف میں اک عجیب سا امتزاج تھا۔
ماں نے خوف زدہ ہوکر کہا:
ماں: “آلہ دین ! جلدی سے اس کو واپس بھیج دو، کہیں یہ ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔”
آلہ دین: “نہیں اماں، یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ہمارا غلام ہے۔ ہم اسے آزما کر دیکھتے ہیں۔”
پھرآلہ دین نے جن کو حکم دیا:
آلہ دین: “ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ ہمیں ابھی کھانے کا انتظام کر کے دو۔”
ایک لمحے میں پورا دسترخوان سامنے آ گیا۔ رنگ برنگے پھل، کباب، میٹھے اور خوشبو دار پلاؤ سے گھر بھر گیا۔ ماں نے حیران ہوکر علاءالدین کی طرف دیکھا اور دونوں کی آنکھوں میں چمک اُتر آئی۔
آلہ دین نے چراغ مضبوطی سے تھام لیا اور سوچا:
اب میری زندگی بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
صبح کا سورج شہر کے پرانے مکانات پر سنہری روشنی ڈال رہا تھا۔ گلیوں میں مرغیاں چہچہا رہی تھیں، دکاندار اپنی دکانیں سجانے لگے، اور فٹ پاتھ پر بچے کھیل رہےتھے۔ مگر آلہ دین کی آنکھوں میں ایک نئے خواب کی چمک تھی۔
اس نے جن کو حکم دیا:
“جن! ہمارے گھر کے لیے سب سے بہترین کھانے کا بندوبست کرو۔ کپڑے، بستر… سب کچھ لاؤ!”
چند لمحوں میں پورا گھر رنگ برنگی روشنیوں سے بھر گیا۔ مٹی کے فرش پر قالین بچھ گئے، چھت پر روشن چراغ، اور ہر کمرے میں قیمتی فرنیچر۔ ماں حیرت اور خوشی سے بولیں: ماں: “بیٹے! یہ سب کیسے ہوا؟ یہ خواب لگ رہا ہے!”
آلہ دین : “اماں! یہ سب… اس چراغ اور اس جن کی طاقت سے ممکن ہوا ہے!”
اس لمحےآلہ دین نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی بدلنے کے لیے جن کی طاقت کا استعمال کرے گا، مگر وہ کبھی کسی کی مدد سے دھوکہ نہیں کھائے گا۔
آلہ دین نے چراغ مضبوطی سے تھام لیا اور سوچا:
اب میری زندگی بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
آلہ دین نے جن سے کہا:
“اب ہمارے لیے کچھ قیمتی جواہرات لے آؤ، اور ان کو شہر میں ایک محفوظ جگہ پر رکھ دو تاکہ کوئی ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے۔”
جن نے ایک لمحے میں قیمتی ہیرے، یاقوت اور زمرد لائے۔ آلہ دین نے سوچا:
“اب میں نہ صرف ماں کو خوش دیکھ سکتا ہوں بلکہ شہر کے لوگوں کی مدد بھی کر سکتا ہوں۔”
جادوگر جب غاد کا منہ بند کر دیتا ہے پھر وہ ایک بستی میں روانہ ہو جاتا ہے وہ ایک ایسی بستی ہوتی ہے بہت ہی خوبصورت اور وہاں کے لوگ بہت امیر کبیر ہوتے ہیں یہ جادوگر ایک تاجر کا روپ دھاڑ لیتا ہے اور اپنا کام کرنا شروع کر دیتا ہے لوگوں سے پرانی چیزیں خریدنے لگ جاتا ہے اس کا مقصد ہوتا ہے کسی طرح وہ چراغ اسے مل جائے جو الہ دین کے پاس تھا اس لیے وہ جادوگر تاجر کا بیس بدل لیتا ہے اور آلہ دین کی کوج میں لگ جاتا ہے کیونکہ اسے وہ چراغ چاہیے تھا جو اللہ دین کے پاس تھا
اور ادھر الہ دین کی امی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی بیماری کی وجہ سے اب الہ دین کی امی چار پائی کے ساتھ ہی لگ کر رہ گئی اور اعلی دن کو بہت افسوس تھا اور وہ اپنی امی سے کہتا ہے کہ امی اپ سے کام نہیں ہوتا اپ بہت بیمار رہتی ہیں اگر اپ مجھے اجازت دیں تو میں اپ کے لیے ایک خادمہ رکھ دوں اس کی امی کہتی ہے بیٹا کوئی اچھی خاتمہ اور اعتماد والی ہونی چاہیے جو ہمیں نقصان بھی نہ دے اور ہماری چیزوں کی حفاظت بھی کرے کیونکہ اسے پتہ تھا علا دن تو باہر چلا جاتا ہے اور اماں بیمار رہتی ہے ایسے ہی وہ ایک دن بازار میں چاہتا ہے اور اسے وہاں ایک مرجینہ نام کی خادمہ ملتی ہے جو بہت ہی اچھی اور نیک دل ہوتی ہے وہ اس کو اپنی گھر ے جاتا ہے
ایک دن محل کے باغ میں کھیل رہی شہزادی بدرالبدور کو خبر ملی کہ شہر میں ایک نوجوان لڑکا آیا ہے جو نہ صرف دولت مند ہے بلکہ بہت عاجز اور نیک دل ہے۔علاءالدین بھی محل کی طرف گیا تاکہ وہاں کے باغات کا منظر دیکھے۔ وہ پہلی بار شہزادی کے سامنے آیا:
الہ دین (شرمندگی سے): “السلام علیکم، شہزادی! میں… میں صرف باغ دیکھنے آیا ہوں۔”
شہزادی بدرالبدور (مسکرا کر): “وعلیکم السلام۔ تمہارا حلیہ بہت نرالا ہے… تمہارے چہرے پر ایک شفافیت ہے جو کم لوگوں میں ہوتی ہے۔”
الہ دین نے دل ہی دل میں سوچا:
“شہزادی تو بہت خوبصورت اور نرمل ہے… اور ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے دل کی خواہش سمجھ سکتی ہے۔”*
باغ میں رنگ برنگے پھول کھلے تھے، درختوں کی شاخیں ہلکی ہوا میں جھول رہی تھیں۔
پرندے خوشی سے چہچہا رہے تھے، اور پانی کی ندی میں سنہری روشنی کی عکاسی ہو رہی تھی۔
الہ دین اور شہزادی کے درمیان ہوا میں ہلکی خوشبو تھی، جیسے قدرت خود خوشی منا رہی ہو۔
شہزادی بدرالبدور: “تمہارے ہاتھ میں یہ جواہرات کیسے آئے؟”
الہ دین (ہنستے ہوئے): “یہ… ایک پرانے چراغ کی طاقت ہے۔”
شہزادی (حیرت سے):”چراغ؟ واقعی؟ یہ تو عجیب ہے، مگر تمہارے دل کی نیک نیتی سے سب ممکن ہوا ہے۔”
الہ دین نے دل میں سوچا:
“یہ چراغ صرف دولت نہیں لایا، بلکہ ایک نئی زندگی اور امید بھی دی۔ اور شاید یہ شہزادی بھی میری زندگی کا حصہ بن جائے…”
شہر میں خوشحالی اور دولت کے بعد الہ دین کی زندگی ایک خواب جیسی لگ رہی تھی۔ ہر روز جواہرات، محل کی رونق اور شہزادی بدرالبدور کی معصوم مسکراہٹ، الہ دین کے دل کو خوشی سے بھر دیتی تھی۔
محل کے باغ میں رنگ برنگے پھول، بہتے پانی کے ندیچے، اور ہوا میں خوشبو ہر لمحے نئی زندگی کا احساس دلا رہی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، اور روشنی کی نرم کرنیں ہر شاخ پر پڑ رہی تھیں۔
لیکن ایک دن، شام کے وقت، آسمان پر گہرے بادل چھا گئے۔ ہوا تیز ہو گئی اور درختوں کی شاخیں زور سے جھولنے لگیں۔
وہ اجنبی جادوگر، جو پہلے باغ میں الہ دین کو دھوکہ دینے آیا تھا، ایک پوشیدہ راستے سے شہر میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر غصہ اور چالاکی کا ملاپ تھا۔ وہ بولا:
جادوگر (خاموشی میں اپنے آپ سے): “یہ بچہ سوچتا ہے کہ چراغ اس کا غلام ہے… میں اسے سبق سکھا دوں گا۔”
جادوگر (اپنے آپ سے): “سب سے پہلے اسے یقین دلانا ہوگا کہ چراغ کی طاقت مجھے نہیں بلکہ اسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پھر میں خزانے پر قبضہ کر لوں گا!”
جادوگر کی چالاکی یہیں عروج پر آتی ہے
جادوگر جب آلہ دین سے شکست کھاتا رہا تو اس نے ایک نئی چال سوچی۔ اس نے اپنا بھیس بدل کر محل کے قریب آنا شروع کیا۔ وہ کبھی فقیر بن کر خیرات مانگتا، کبھی کسی سیاح کا روپ دھارتا، تاکہ محل کے پہرے دار اسے پہچان نہ سکیں۔
ایک دن وہ ایک قیمتی، چمکدار جادوئی ہار بنا کر محل میں لایا۔ اس ہار کی خاص بات یہ تھی کہ جیسے ہی کوئی نیک اور پاک دل انسان اسے پہنتا، اس پر جادوگر کا جادو قابو پا لیتا۔
شہزادی بدرالبدور جب باغ میں بیٹھی تھی تو جادوگر نے نرم لہجے میں کہا:
“اے نیک شہزادی! یہ ہار ایک نایاب خزانے سے ملا ہے۔ یہ آپ کو چاند جیسی روشنی بخشے گا۔ قبول کریں، یہ آپ کے حسن کی زینت ہے۔”
شہزادی نے جب ہار پہنا تو اچانک ایک سیاہ دھواںاٹھا، اور شہزادی کے قدموں کے نیچے زمین لرزنے لگی۔ لمحوں میں وہ ہار ایک زنجیر میں بدل گیا، اور شہزادی ایک قید میں جکڑ گئی۔
جادوگر قہقہہ مار کر بولا:
“اب آلہ دین کی طاقت بھی تمہیں نہیں بچا سکتی! تم میری قیدی ہو، اور اس شہر کا مستقبل میرے ہاتھ میں ہے!”
جادوگر فوراً اپنے جادوئی کلمات پڑھتا ہے، اور ایک سیاہ دھوئیں کی لپیٹ میں شہزادی کو چھپا لیتا ہے۔ لمحہ بھر میں شہزادی اس کے جادوئی صندوق میں قید ہو جاتی ہے۔
محل کے لوگ سمجھتے ہیں کہ شہزادی عبادت کے کمرے میں گئی ہے، لیکن حقیقت میں وہ جادوگر کی قید میں ہوتی ہے۔
جادوگر ہنستا ہے:
“ہا ہا ہا! اب دیکھتا ہوں آلہ دین تم اسے کیسے چھڑاتے ہو۔”
یہی وہ موڑ ہے جب آلہ دین کو چراغ اور جن کی اصل طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے۔
رات کا وقت تھا، اور محل میں سب سو رہے تھے۔ الہ دین چراغ کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا، سوچ رہا تھا کہ کیسے اپنی دولت اور شہزادی کی خوشی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرے۔
اچانک، چراغ ہلکا سا لرزنے لگا۔ علاءالدین نے دیکھا کہ جن اپنے معمول سے زیادہ محتاط ہے۔
الہ دین: “جن! یہ کیا ہے؟ چراغ کیوں لرز رہا ہے؟”
جن: “میرے مالک! خطرہ قریب ہے۔ وہ جادوگر واپس آ گیا ہے، اور
“اے آقا! جادوگر نے شہزادی بدرالبدور کو اپنی جادوئی قید میں ڈال دیا ہے۔ وہ قلعۂ سیاہ میں ہے، جہاں روشنی کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔”
آلہ دین کے دل پر ایک بجلی سی گری، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔
آلہ دین:
“جن! مجھے وہاں لے چلو۔ اگر میرا چراغ اور تمہاری طاقت میرے ساتھ ہے تو دنیا کی کوئی جادوگری مجھے روک نہیں سکتی!”
جب آلہ دین جن کی مدد سے قلعۂ سیاہ پہنچا تو اُس کے چاروں طرف بلند و بالا دیواریں تھیں۔ آسمان پر بادل گرج رہے تھے، زمین پر سانپ بل کھا رہے تھے، اور دروازے پر لوہے کے دیو پہرہ دے رہے تھے۔
آلہ دین نے جن سے کہا:
“ان دیووں کو ختم کرو!”
جن نے ایک گرجدار آواز نکالی اور دیو راکھ میں بدل گئے۔
آلہ دین اندر گیا تو شہزادی ایک بڑے آئینے کے اندر قید تھی۔ جادوگر ہنستے ہوئے بولا:
جادوگر قہقہہ لگاتا ہوا بولا:
“آلہ دین! اگر تُجھے واقعی شہزادی بدرالبدور چاہیے، تو یہ جادوئی چراغ مجھے دے دے۔ تبھی میں اُسے آزاد کروں گا، ورنہ وہ ہمیشہ اس قید میں سسکتی رہے گی۔”
آلہ دین نے اپنی آنکھوں میں اعتماد کی چمک پیدا کی اور دل ہی دل میں کہا:
*”یہ چراغ تو میری جان ہے، اسے دینا ناممکن ہے۔ مجھے اپنی عقل سے کوئی تدبیر نکالنی ہوگی۔”*
جن نے آلہ دین کو آہستہ سے بتایا:
“اے میرے مالک! شہزادی کو جادوگر نے قید نہیں کیا، بلکہ ایک طلسمی آئینے میں مقید کر رکھا ہے۔ اس آئینے کی طاقت چراغ کی روشنی سے ہی ٹوٹ سکتی ہے۔”
یہ سنتے ہی آلہ دین نے جادوگر کی طرف دیکھا اور بظاہر چراغ دینے کے لیے آگے بڑھا۔ جادوگر خوشی سے ہاتھ بڑھانے ہی والا تھا کہ اچانک آلہ دین مڑا اور سیدھا اس قید خانے میں جا پہنچا جہاں شہزادی بدرالبدور طلسمی آئینے میں نظر آ رہی تھی
جادوگر قہقہہ لگاتے ہوئے بولا:
“آلہ دین! اگر تمہیں شہزادی بدرالبدور چاہیے تو یہ چراغ مجھے دے دو۔ ورنہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے قابو میں رہے گی۔”
آلہ دین نے دل ہی دل میں اللہ کا نام لیا اور چالاکی سے بولا:
“ٹھیک ہے جادوگر! لیکن مجھے شہزادی کی ایک جھلک دکھاؤ تاکہ یقین ہو جائے کہ وہ تمہارے قبضے میں ہے۔”
جادوگر ہنسا اور ہاتھ کی جنبش سے ایک بڑا آینہ ظاہر کیا۔ آینے کے اندر بدرالبدور قید دکھائی دی، آنکھوں میں آنسو، چہرے پر خوف۔
آلہ دین نے لمحہ بھر سوچا، پھر چراغ مضبوطی سے پکڑا اور اچانک پوری قوت سے آینے پر دے مارا۔
آینے کے ٹوٹتے ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا، قید کی زنجیریں ٹوٹ گئیں اور بدرالبدور آزاد ہو کر آلہ دین کے پاس آ گئی۔
جادوگر چیخنے لگا:
“نہیں! یہ ناممکن ہے…!”
جن بھی نمودار ہوا اور بولا:
“اے بدبخت جادوگر! تو نے معصوم دلوں کو دکھ دیا ہے، اب تیرا انجام قریب ہے۔”
جن کی طاقت اور آلہ دین کی بہادری سے جادوگر کمزور پڑ گیا، اور آخرکار زمین پھٹ گئی اور وہ ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں دفن ہو گیا۔
آلہ دین نے بدرالبدور کو سہارا دیا، اُس نے شکر گزار نظروں سے کہا:
“میری جان بچانے والے، تم ہی میرے حقیقی محسن ہو۔”
یوں عقل، بہادری اور چراغ کی طاقت سے آلہ دین نے شہزادی کو آزاد کرا لیا۔
جادوگر کے ختم ہوتے ہی محل میں ایک نور کی لہر دوڑ گئی۔ بادل چھٹ گئے، پرندے پھر سے چہچہانے لگے، باغ کے چشموں سے پانی کی لہریں خوشبو بکھیرنے لگیں، اور پورا شہر ایک نئے سکون میں ڈوب گیا۔
محل کے باغوں میں روشنی پھیل گئی، پرندے آسمان پر دائرے میں اُڑنے لگے، اور شہر کے لوگ خوشی سے نعرے بلند کرنے لگے۔ اب نہ جادوگر باقی تھا، نہ خوف۔ امن قائم ہو گیا تھا
یوں الہ دین اور شہزادی قصر واپس آئے، جہاں سب نے اُن کا استقبال پھولوں اور خوشی کے نعرے لگا کر کیا۔ 🌹✨
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “AlaDeen Aur Jadu Chrag الہ دین جادوئی چراغ” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.