Description
عشق میں گھائل
Episode 01
مجھے ابھی ابھی پتا چلا ہے آج کی پارٹی میں وہ بھی آنے والی ہے اسے بھی انوائیٹ کیا گیا ہے ۔
عون اس کے کیبن میں داخل ہوتا جلدی سے اسے بتانے لگا۔
کون؟؟؟ اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
او کم آن یار ،،،، جیسے توں تو جانتا ہی نہیں ہے میں کس کی بات کر رہا ہوں عون نے اسے انجان بنتے دیکھ دانت پیستے ہوئے کہا ۔
جانتا بھی ہوں تو؟؟؟ بے تاثر لہجے میں کہا گیا ۔
اور تیرا میرے سامنے اس کا بار بار ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے جب توں اچھی طرح جانتا ہے مجھے اس کے بارے میں بات کرنا بلکل بھی پسند نہیں ہے۔
وہ ناگواری سے بولا اور پھر گاڑی کی کیز اٹھاتے تیز تیز قدموں سے چلتا اپنے کیبن سے باہر نکلا تھا ۔
عون بھی جلدی سے اس کے پیچھے ہی بھاگا تھا ۔
مجھے لگا تم تین سال کے لمبے عرصے کے بعد اپنی بیوی سے ملو گے اسے دیکھو گے اس لیے تم خوش ہوگے اس لیے ہی پوچھا تھا ۔
ویسے بھی میں بہت دفع دیکھ چکا ہوں تم بھابھی کے قیامت خیز حسن کے سامنے زیر ہو ہی جاتے ہو عون بھی کہاں چپ رہنے والا تھا اسے ایک بار پھر سے آئینہ دکھایا,
اس پوری دنیا میں اگر وہ آخری لڑکی بھی بچی ہوئی تو بھی آریان شاہ کبھی بھی اس کے سامنے زیر نہیں ہوگا ۔۔۔۔
توں میرا دوست ہے اس لیے میں تجھے لاسٹ ٹائم وارن کر رہا ہوں آج کے بعد توں اس لڑکی کا میرے سامنے ذکر نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔
نہ ہی اسے میری بیوی کہے گا وہ میری کچھ بھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔
وہ صرف اور صرف میرے ماں باپ کے قاتل کی بیٹی ہے جن کی وجہ سے میں یتیم ہوا ہوں ۔۔۔ اگر اس لڑکی کے ساتھ میرا کوئی رشتہ ہے تو صرف اور صرف دشمنی کا۔۔۔۔
میرے دشمنوں کی بیٹی میری دشمن ہوئی ۔۔۔۔ میں یہاں اس سے بدلہ لینے آیا ہوں اسے اور اس کی ماں کو تڑپانے آیا ہوں ۔۔۔۔
میں ان لوگوں کو پل پل اذیت ناک موت دوں گا ۔۔۔۔ جو ان کے لیے موت سے بھی بڑی سزا ہوگی ۔۔۔۔۔ اس کے ماں باپ نے مجھ سے میرا سب کچھ چھینا تھا نہ تو اب میں بھی ان سے ان کا سب کچھ چھین لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر جب میں نے ان کی قبریں کھود دیں تو میں واپس لوٹ جاؤں گا کیونکہ اس وقت میرا انتقام مکمل ہوگا۔۔۔۔۔
اور اب اگر تم نے کبھی میرے سامنے ان کا ذکر کیا تو تیرا بھی وہی حال کروں گا جو میں ان لوگوں کا کرنے آیا ہوں یہاں ۔۔۔۔
اس کی بات کے اختتام پر عون نے اس کی طرف دیکھا جس کا چہرہ غصے کی شدت سے لال بھبوکا ہوچکا تھا اور چہرے پر کافی خطر ناک حد تک تاثر تھے ۔۔۔
جیسے ابھی کسی نہ کسی کا قتل کر دے گا ۔۔۔۔۔
مگر آریان میں تو بس ۔۔۔۔۔ شٹ اپ عون جسٹ شٹ اپ ورنہ اس پسٹل میں جتنی بھی گولیاں ہیں میں تیری چھوٹی سی کھوپڑی کے آر پار کر دوں گا جس میں میری کہی گئی چھوٹی سی بات نہیں گھستی آریان نے اسے دوبارا منہ کھولتے دیکھ اچانک ہی پسٹل نکال کر اس کے سینے پر تانی تھی۔۔۔۔۔
ارے میرے یار میں تھوڑی نہ ہمارے دشمنوں کے بارے میں بات کرنے والا تھا مجھے تو تجھ سے کوئی اور بات کرنی تھی توں بھی نہ کتنی جلدی سیریس ہوجاتا ہے۔۔۔۔
اب مذاق تجھ سے نہیں تو کس سے کروں گا ۔۔۔۔گھر پر تھوڑی نہ میری بیوی بیٹھی ہے جس سے جاکر مذاق کروں گا ۔۔۔۔
سمجھا کر یار وہ آریان کو سیریس انداز میں خود پر پسٹل تانے دیکھ تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
ہمارے دشمن سیریسئلی ،،،، آریان نے پسٹل واپس پاکٹ میں رکھتے ایک آئبرو اچکائے پوچھا ۔۔۔۔۔
جس پر وہ زور و شور سے ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔
چل اب بیٹھ گاڑی میں جانا نہیں ہے آریان نے گاڑی میں بیٹھتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے وہیں بت بنے کھڑے عون سے پوچھا ۔۔۔۔۔
توں جا پاگل انسان مجھے نہیں جانا تیرے ساتھ ،،،، تیرا کیا پتا راستے میں ہی کہیں مجھے ٹپکا کر میری لاش اٹھا کر لے جائے اور اسے پارٹی کی زینت بنا دے ۔۔۔۔۔
عون نے اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی جس پر آریان کندھے اچکاتا اپنی گاڑی سٹارٹ کر گیا ۔۔۔۔۔۔
عون بیٹا توں بھی کتنا بڑا پاگل ہے کس بیوقوف کو سمجھانے نکلا تھا جس نے آج تک اپنے باپ کی نہیں سنی اس نے تیری کیا سننی تھی ۔۔۔۔۔
اس کو گاڑی بھگاتے دیکھ عون نے تاسف سے سوچا اور پھر خود بھی گاڑی اس کے پیچھے ہی بھگا لے گیا۔۔۔۔۔
اندر پارٹی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔۔۔
ہائی سوسائٹی کے تمام بزنس مینز اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ وہاں موجود تھے ۔۔۔۔۔
پارٹی کو دیکھ کر ہی لگ رہا تھا یہاں سب اپر کلاس سوسائٹی کے لوگ انوائیٹڈ ہیں ۔۔۔۔
ہر کوئی برانڈڈ ڈریس زیب تن کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔ کچھ آپس میں ڈرنک کرتے ہوئے باتیں کرنے میں مصروف تھے تو کچھ سٹیج پر لگے گانوں پر جھول رہے تھے ۔۔۔۔۔
اتنے میں دو گاڑیاں باہر ایک ساتھ ہی آمنے سامنے آکر رکیں تھیں ۔۔۔۔۔
ایک گاڑی سے آریان جبکہ دوسری گاڑی سے رواحہ نکلی تھی ۔۔۔۔۔
آریان بلیک تھری پیس پہنے ،،، ہاتھوں میں برانڈڈ واچ ،،، آنکھوں پر گلاسز لگائے ،،،،بالوں کو جیل سے سیٹ کیے چہرے پر سنجیدگی سجائے اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف رواحہ جو کہ بلیک نیٹ کی ساڑھی زیب تن کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔ جس کے بلاؤز پر تارے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ بازو سلو لیس۔۔۔۔۔جس کی بیک سائیڈ ساری دوڑیوں سے بنی ہوئی تھی یا یوں سمجھا جائے دوڑیوں کے رحم و کرم پر ہی تھی ۔۔۔۔۔ پاؤں میں ہائی ہیل پہنے ،،، کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس جبکہ ہونٹوں پر ڈارک کلر کی لیپ سٹک لگائے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس کو اس طرح کی ڈریسنگ میں دیکھ کے آریان کا خون خول اٹھا اور چہرے پر ناگوار تاثرات سجے تھے۔۔۔۔۔
رواحہ اس کی طرف دیکھتے طنزیہ مسکراہٹ اچھالتے خوبصورتی سے چلتے اندر کی طرف بڑھ گئی جبکہ آریان بھی ایک ادا کے ساتھ اپنی جیکٹ سیٹ کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
دونوں نے ایک ساتھ اندر قدم رکھے تو مسٹر اینڈ مسز صدف جو گیٹ پر کھڑے ان کا ہی انتظار کر رہے تھے ۔۔۔
جلدی سے ان کی طرف بڑھے اور بڑی خوبصورتی سے دونوں کا استقبال کیا کیونکہ وہ دونوں ہی ان کی پارٹی کی جان تھے ۔۔۔۔۔
آج کی پارٹی کے مین گیسٹ بھی وہی دونوں تھے ۔۔۔۔۔
ہے آرو تم آگئے میں کب سے تمھارا انتظار کر رہی تھی زویا جلدی سے بھاگتے ہوئے آئی اور آکر آریان کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔
زویا کا اس طرح سے اس کے ساتھ چپکنا آریان کو ناگوار گزرا تھا لیکن وہ رواحہ کو جلانے کی خاطر برداشت کرتا رہا ۔۔۔۔۔
سچی زویا میں بھی تمھارے لیے ہی اتنی جلدی یہاں آیا ہوں چلو پھر پارٹی انجوائے کرتے ہیں وہ اس کی بانہوں میں بانہیں ڈالتے اسے اپنے ساتھ لے کر اندر جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
رواحہ نے ناگواری سے ان دونوں کو جاتے دیکھا اور پھر خود بھی اندر کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
کتنا بڑا جھوٹا ہے یہ انسان میں اسے اتنی مشکل سے پارٹی میں لے کر آیا ہوں اور یہاں کیسے زویا کو مکھن لگا رہا ہے ۔۔۔۔۔
صرف اور صرف اس کی وجہ سے ہی میں سنگل ہوں میری طرف آتی ہر لڑکی کو اپنی طرف لے جاتا ہے۔۔۔۔۔
عون جو کے رواحہ اور آریان کے ساتھ ہی وہاں ہہنچا تھا اور ان کے پیچھے پیچھے ہی تھا زویا اور آریان کو ایک ساتھ دیکھ کے جلے دل سے بولا۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم!! ایوری ون مائیک میں سے مسز صدف کی آواز گونجی تو سب لوگ ان کی جانب متوجہ ہوگئے ۔۔۔۔۔
مسز صدف کی ایک سائیڈ پر ان کے شوہر جبکہ دوسری سائیڈ پر ان کا بیٹا اسد کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ جس کی نگاہیں بار بار بھٹک کر رواحہ کی جانب جا رہی تھیں اور آریان شاہ کے غصے کو ہوا دے رہی تھیں ۔۔۔۔۔
جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں ہماری کمپنی کے ساتھ دو اور بزنس پارٹنرز شامل ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔
تو آج کی پارٹی بھی خاص ان دونوں کے لیے ہی رکھی گئی ہے تو وقت نہ ضائع کرتے ہوئے میں ان دونوں کا انٹروڈکشن کرواتی ہوں ۔۔۔۔۔
سو لیٹ می انٹروڈیوس آل آف یو مائی فرسٹ بزنس پارٹنر آریان شاہ۔۔۔
آریان بیٹا ادھر میرے پاس آئیں آپ سٹیج پر مسز صدف نے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔۔
اس نے ٹیڑھی آنکھیں کر کے دیکھا تو رواحہ کو خود کو اور زویا کو تکتے پایا ۔۔۔۔۔ چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے زویا کے چکس کھینچتے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اپنی چیئر سے اٹھ کر کھڑا ہوا تمام لائیٹس آف کر دی گئیں۔۔۔۔۔ اور وہ سپاٹ لائٹ کی روشنی میں اپنی خوبصورت سی پرسنیلٹی کے ساتھ چہرے پر سنجیدگی سجائے چلتے ہوئے ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔
اس کی شاندار پرسنیلٹی وہاں موجود ہر لڑکی کا دل دھڑکا رہی تھی لیکن وہ سب کو اگنور کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم! ایوری ون اس نے سٹیج پر کھڑے ہوکر چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے سب کو سلام کیا ۔۔۔۔۔
اس کے مسکرانے پر اس کی لیفٹ سائیڈ پر ایک خوبصورت سا ڈمپل نمودار ہوا جو اس کی طرف دیکھتی رواحہ کی ایک بیٹ مس کر گیا۔۔۔۔۔
مسٹر آریان شاہ کے ساتھ تو آپ لوگوں کا انٹروڈکشن ہوگیا ہے تو چلیں اب میں آپ سب کو اپنی بہت ہی پیاری دوسری بزنس پارٹنر سے ملواتی ہوں ۔۔۔۔۔
مسز صدف مسکراتے ہوئے بولیں اور ساتھ ہی رواحہ کو سٹیج پر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
ان کا اشارہ سمجھتے رواحہ اپنے بالوں کو جھٹکتی اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی ایک دفع پھر سے تمام لائیٹس آف کر دی گئیں اور اسے سپاٹ لائٹ کے فوکس میں لیا گیا ۔۔۔۔۔
وہ جیسے جیسے چل کر آ رہی تھی ہر کسی کو اپنا دل اس کے سامنے دوبٹا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے۔۔۔۔۔ بالوں کو پیچھے کی طرف جھٹکتی ہائی ہیل کو ٹک ٹک کرتی وہ جیسے جیسے سٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی آریان کا دل دھڑکا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
واٹ آ بیوٹیفل لیڈی!!!!! لگتا ہے دنیا جہاں کا سارا حسن اس حسینہ پر ہی آگیا ہے ۔۔۔۔۔ اگر یہ میرے ساتھ رات گزارے گی تو مجھے کسی نشے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔۔۔۔۔
کیا پتلی کمر ہے اس کی پوری کی پوری نشیلی ہے مجھے تو لگتا ہے جو ایک دفع اس کا نشہ کرے گا واپس سے دوبارا ہوش میں نہیں آئے گا اسد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے تھنڈی آہ بھرتے کمینگی سے بولا ۔۔۔۔۔۔
اس کے بولنے پر آریان جو مکمل طور پر رواحہ کے حسین سراپے میں کھو چکا تھا ہوش کی دنیا میں واپس آیا ۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی مسز صدف کی دوسری سائیڈ پر اسد کے ساتھ جا کر کھڑی ہوئی آریان نے غصے سے گردن موڑے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔
اسی پل رواحہ نے بھی آنکھوں میں نفرت لیے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے صرف اور صرف نفرت تھی جیسے ابھی دونوں ایک دوسرے کو جلا کر بھسم کر دیں گے ۔۔۔۔۔۔
آریان شاہ کی نظروں میں موجود غصہ صاف بتا رہا ہے میرا تیر نشانے پر لگا ہے وہ اپنا مکمل جائزہ لے کر مسکرائی اور پھر ہاتھ کے اشارے سے سب کو ہائے کیا ۔۔۔۔۔۔
اس کے ہائے کرنے پر وہاں موجود بہت سے لڑکوں نے دل پر ہاتھ رکھ کے خود کو گرنے سے بچایا ۔۔۔۔۔
رواحہ نے نخوت سے ان سب کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے موبائل پر مصروف ہوگئی جیسے اسے وہاں کسی کے ہونے یا نا ہونے سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔۔۔۔۔
دوسری طرف موجود آریان کا بھی یہی حال تھا جیسے وہ دونوں وہاں پارٹی اٹینڈ کرنے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو جلانے کے ارادے سے آئے ہوں ۔۔۔۔۔۔
لیٹس انجوائے بیوٹیفل لیڈی!!! اسد نے کمینگی سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اسد کا ہاتھ جھٹکتی اس کی نظر سامنے آریان پر گئی جو غصے سے اسد کو گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔
لیٹس گو ،،،، رواحہ نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تو وہ مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام گیا۔۔۔۔۔۔r
پھر دونوں مسکراتے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے سٹیج سے نیچے اتر گئے ۔۔۔۔۔
ان دونوں کو جاتا دیکھ آریان نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں ۔۔۔۔۔
وہ ماتھے پر بل سجائے ان کی طرف بڑھتا اس سے پہلے ہی عون اسے غصے میں دیکھ کے جلدی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے ریلیکس رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔
واٹ ربش عون!!! یہ لڑکی اس قدر بیہودہ لباس میں پارٹی میں کیسے آسکتی ہے وہ اسے اسد سے ہنس ہنس کے باتیں کرتا دیکھ عون سے مخاطب ہوا۔۔۔۔۔
وہ اس طرح کے لباس میں یہاں کیوں ہے یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو آریان ۔۔۔۔۔ عون کے بولنے پر اس نے لال انگارا آنکھیں لیے ایک دفع پھر ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔
اور غصے سے سٹیج سے نیچے اترا عون بھی اس کے پیچھے ہی نیچے اترا تھا ۔۔۔۔۔
عون مجھے یہ لڑکا کسی بھی حالت میں اکیلے میں چاہیے اور اب یہ تمہارا کام ہے تم اسے اکیلے کیسے لے کر آتے ہو۔۔۔۔۔
آریان شاہ کوئی بغیرت نہیں ہے جو اپنی بیوی کے لیے کہے گئے غلیظ الفاظ چپ چاپ برداشت کر جائے ۔۔۔۔۔۔
اس گھٹیا اسد کو تو میں چھوڑوں گا نہیں وہ عون کو کہتے ان دونوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
لیکن راستے میں ہی اسے زویا نے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔ آریان کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔ ادھر آؤ مجھے تمھیں اپنی دوستوں کو دکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔
زویا اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی اسی وقت رواحہ نے بھی ان دونوں کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
ارے زویا میں کوئی شو پیس تھوڑی نہ ہوں جسے تمھیں اپنی دوستوں کو دکھانا ہے وہ مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔
یہ مذاق تھا یا پھر۔۔۔۔ زویا نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کے گھور کر آریان کی طرف دیکھ کے پوچھا ۔۔۔۔۔
افکورس مذاق تھا آریان نے قہقہہ لگاتے اس کی ناک دبائی اور ترچھی نظروں سے رواحہ کی طرف دیکھا جو غصے سے ان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
عون نے تاسف سے دونوں کی طرف دیکھا جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے چکر میں ہر حد پار کرنے کو تیار تھے ۔۔۔۔۔۔
دونوں اپنے غصے اور نفرت میں سب کچھ بھول چکے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں انہیں اس وقت کسی چیز سے مطلب تھا تو صرف اور صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں ۔۔۔۔۔
آریان کے کانوں میں کسی کے کھلکھلانے کی آواز گونجی تو اس نے گردن گھمائے اسد اور رواحہ کی طرف دیکھا جہاں رواحہ ایک ہاتھ سے مسکراتے ہوئے اسد کی کارلر ٹھیک کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
تو دوسرا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا وہ جانتی تھی اس کی کھلکھلاہٹ کی وجہ سے آریان بھی اس کی طرف متوجہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔
اسد نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کے سینے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ۔۔۔۔۔۔
رواحہ کا دل چاہا وہ اسی وقت تین چار تھپڑ اسد کے جڑ دے لیکن آریان کو تپانے کے لیے چپ رہی ۔۔۔۔۔۔
رواحہ کو اسد کے اتنا قریب دیکھ آریان کا غصے سے برا حال ہوگیا ۔۔۔۔۔ اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ رواحہ ویسے ہی اس کے اتنے قریب کھڑی اس سے ہنس ہنس کے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
آریان کا دل کر رہا تھا وہ اس وہاں موجود سب لوگوں کو آگ لگا دے ۔۔۔۔۔ کیسے اس کی بیوی اس کے سامنے کسی اور کے قریب کھڑے ہوکے باتیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔
کیا اسے پتا نہیں تھا وہ کسی کے نکاح میں ہے کسی کی منکوحہ ہے ۔۔۔۔۔
کھڑا تو وہ خود بھی تھا ایک غیر لڑکی کا ہاتھ تھامے ۔۔۔۔۔۔کیا وہ خود بھی بھول گیا تھا کوئی لڑکی اس کے نکاح میں ہے ۔۔۔۔۔





Reviews
There are no reviews yet.