Ishq Mian Gahyal Episode 02 عشق میں گھائل

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Episode 02
  • Language: Urdu
  • Author: Hamed Write
  • View : 5.9k
Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal  Episode 02

عشق میں گھائل

ارے بچہ پارٹی آپ سب لوگ وہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ محفل کو چار چاند لگائیں ۔۔۔۔

کوئی ڈانس گانا ہوجائے مسز صدف ہال کے بیچ و بیچ کھڑی ہوکر تالی بجاتی مائک میں بولیں ۔۔۔۔۔

کیوں نہ ایک زبردست سا ڈانس ہوجائے بیبز ؟؟ اسد نے رواحہ کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔۔

آرو ہم بھی ڈانس کریں پلیز ۔۔۔۔۔ ہم کونسا کسی سے کم ہیں ۔۔۔۔

ہم بھی ایسا ڈانس کریں گے کہ پوری محفل پر چھا جائیں گے زویا نے بھی ہاتھ آریان کی طرف بڑھایا تو وہ مسکراتے ہوئے اس کے چکس کھینچتا اس کے ہاتھ میں ہاتھ تھما گیا۔۔۔۔۔

ان چاروں کے سٹیج کی طرف جاتے ہی تمام لائیٹس آف کر دی گئیں اور ان چاروں کو سپاٹ لائٹ کی روشنی کے فوکس میں لیا گیا ۔۔۔۔۔

ایک طرف اسد رواحہ جبکہ دوسری طرف آریان زویا ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ایک ادا سے چلتے سٹیج پر پہنچے ۔۔۔۔۔

ان کے سٹیج پر پہنچتے ہی ہر طرف  سے ہوٹنگ کی آواز گونجنے لگی ۔۔۔۔۔

عون نے غصے سے آریان اور زویا کو گھورا جو اسے مکمل اگنور کیے ڈانس کرنے چلے گئے ۔۔۔۔۔ جھوٹے منہ ہی صلح نہیں ماری۔۔۔۔۔

آریان تجھے کیڑے پڑیں بیوی کے ہوتے ہوئے کیسے زویا کے ساتھ ہنس ہنس کر ڈانس کر رہا ہے ۔۔۔۔۔

جیسے ہی میوزک کی آواز گونجی اور گانے کے بول شروع ہوئے دونوں جوڑیوں نے اپنے اپنے سٹیپس لینے شروع کیے ۔۔۔۔۔

احساس یہ گہرا سا ہے

کھو جاؤں اس میں ابھی

کل کا بھلا کس کو پتا

لمحے یہی ہیں ابھی

رواحہ نے ایک ہاتھ اسد کے کندھے پر رکھا جبکہ دوسرا اس کے ہاتھ میں تھما گئی۔۔۔۔۔

اسد بھی کمینگی سے مسکراتے ہوئے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ گیا اور اس کے بلاؤز پر موجود تاروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا ۔۔۔۔

رواحہ کا دل کیا وہ ابھی کے ابھی اس غلیظ انسان کا ہاتھ توڑ ڈالے اور ساتھ ہی منہ نوچ ڈالے ۔۔۔۔۔

لیکن آریان کی نظریں خود پر ٹکے دیکھ کر چپ چاپ برداشت کرتی رہی ۔۔۔۔۔ آخر اسے اپنا انتقام بھی تو لینا تھا جس مقصد کے لیے وہ یہاں آئی تھی ۔۔۔۔۔

رواحہ اس کا کندھا چھوڑے جلدی سے ڈانس کا سٹیپ بدل گئی ۔۔۔۔۔

آریان نے جیسے ہی زویا کو کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اسد بھی اسے کمر سے پکڑ کر اوپر اٹھا گیا۔۔۔۔۔

آریان نے زویا کو گھماتے ہوئے جبکہ رواحہ نے اسد کی گود میں گھومتے ہوئے ایک دوسرے کو نفرت بھری نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔۔

ہے زمیں تو میری

آسمان بھی ہے تو 

اور تو ہی ہے جنت میری

آریان نے زویا کو نیچے اتارا اور خود تھوڑے فاصلے پر جا کر بیٹھ گیا زویا بھاگتے ہوئے آئی اور نیچے کو جھک کر اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔۔

جبکہ زویا کو آریان کے گلے لگے دیکھ رواحہ کے دل میں کسک سی اُٹھی تھی ۔۔۔۔۔

اسد اسے آریان کی طرف تکتا دیکھ اسے کھینچ کر اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔ اس کی کمر اسد کے پیٹ کے ساتھ ٹچ ہونے لگی ۔۔۔۔

اور وہ خباثت سے اس کے بالوں میں چہرہ چھپائے اس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔۔۔

یہیں پر آریان کی بس ہوئی تھی اس نے زویا کو گول گول گھماتے اسد کی طرف پاس کیا تھا جبکہ خود جلدی سے آگے بڑھ کے رواحہ کو کمر سے تھام گیا۔۔۔۔۔

عشق میں گھائل میں بھی

عشق میں گھائل تو بھی

درد کیسا ہم کو ملا

آریان غصے سے اس کی کمر میں انگلیاں دھنسا گیا اس کا غصہ کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔۔

کیسے وہ انسان اس کی بیوی کے اتنے قریب جاسکتا تھا اسے چھو سکتا تھا ۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے جاہل انسان درد ہو رہا ہے رواحہ خود کو اس سے چھڑواتے ہوئے غصے سے چینخی ۔۔۔۔۔

جب اس اسد کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی اس کے اتنے قریب تھی تب تو بہت خوش تھی ۔۔۔۔

تب تو تمھیں ذرا بھی درد نہیں ہوا ۔۔۔۔ اب بڑا درد ہو رہا ہے آریان نے اسے گھماتے ہوئے اس کی پیٹھ اپنے ساتھ لگائی اور ساتھ ہی زور سے اس کے پیٹ پر چٹکی کاٹی ۔۔۔۔۔

عشق میں گھائل میں بھی

عشق میں گھائل تو بھی

عشق کا یہی ہے صلہ 

اوہ ،،،تو آریان شاہ جسے میرے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا اسے مجھے کسی اور کے قریب دیکھ کے تکلیف ہوئی ۔۔۔۔۔

مطلب میرا یہاں آنے کا مقصد پورا ہوا ۔۔۔۔۔ میں آریان شاہ کو تڑپانے میں کامیاب ٹھہری ۔۔۔۔۔ میرا یہاں آنے کا مقصد پورا ہوا آریان شاہ جل رہا ہے۔۔۔

رواحہ نے اپنی ہائی ہیل اس کے پاؤں پر مار کے خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کی لیکن آریان درد برداشت کیے اسے ویسے ہی مضبوطی سے تھامے رہا ۔۔۔۔۔۔

قطرہ قطرہ جذباتوں کا

عشق میں ہوا گھائل 

آریان شاہ تم سے نفرت کرتا تھا نفرت کرتا ہے اور ہمیشہ نفرت کرتا رہے گا ۔۔۔۔۔ لیکن آریان شاہ کسی انسان کو اس چیز کی بھی اجازت نہیں دیتا کوئی اس کی ملکیت کی طرف دیکھے ۔۔۔۔ 

وہ اسے اپنے قریب تر کرتے اس کے کان میں سرگوشی کرتے گویا ہوا اور لوگوں کی پرواہ کیے بغیر زور سے اس کے کان کی لو کو کاٹا ۔۔۔۔۔۔۔

درد کے مارے اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی وہ آریان کو دھکا دیتی آنکھوں میں نمی لیے سٹیج سے نیچے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔۔

عشق میں گھائل میں بھی

عشق میں گھائل تو بھی عشق کا یہی ہے صلہ

قطرہ قطرہ جذباتوں کا

عشق میں ہوا گھائل

اسے بھاگتا دیکھ آریان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔ اس نے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرے بھاگتی ہوئی رواحہ کو دیکھا ۔۔۔۔۔ 

جو اب دور ایک ٹیبل پر جا بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ ان دونوں کو ڈانس کرتا دیکھ اسد زویا پہلے ہی سٹیج سے نیچے اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

عون مجھے اگلے ایک منٹ میں اسد پول سائیڈ پر چاہیے ۔۔۔۔۔ آریان نے پاکٹ سے موبائل نکالتے سامنے بیٹھے عون کو کال کرتے حکم دیا ۔۔۔۔۔

پر اتنی جلدی کیسے ؟؟؟ عون کال پر ہی اس کی طرف دیکھتے منمنایا۔۔۔۔۔

پر ور میں کچھ نہیں جانتا مجھے وہ انسان پول سائیڈ پر چاہیے تو مطلب چاہیے ۔۔۔۔۔ اس نے آریان شاہ کی عزت پر گندی نگاہ اٹھائی ہے ۔۔۔۔۔

جس کا انعام تو اسے دینا بنتا ہی ہے ۔۔۔۔۔ اب اگر اگلے ایک منٹ میں وہ انسان مجھے پول سائیڈ پر نہ ملا تو جو حشر میں نے اس کا کرنا تھا وہ حشر میں تمھارا کروں گا آریان عون کو حکم دیتے اس کی ایک بھی بات سنے بغیر جلدی سے کال کاٹ گیا۔۔۔۔۔۔

اور ایک نظر دور بیٹھی رواحہ پر ڈال کے مین سوئچ کی طرف بڑھ گیا  ۔۔۔۔۔۔

عون تمام لائیٹس آف ہوتے دیکھ جلدی سے چہرے پر رومال باندھے اور منہ میں چیونگم ڈالے اسد کے پاس آیا ۔۔۔۔۔

ایکسکیوز می!!!! جینٹل مین وہ جو لڑکی تھوڑی دیر پہلے آپ کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی وہ بہت رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

روتے روتے پول سائیڈ کی طرف گئی ہے اور آپ کو بھی وہاں پر بلایا ہے۔۔۔۔۔ عون نے آواز بدل کر اسے بتایا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔

ارے واہ یہاں تو بغیر محنت کے ہی اس نشیلی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل گیا ۔۔۔۔۔

مزہ آئے گا آج تو وہ خباثت سے خیالوں میں رواحہ کو لاتے کمینگی سے ہونٹوں پر زبان پیھرے منہ سے رال ٹپکائے جلدی سے پول سائیڈ کی طرف بھاگا ۔۔۔۔۔۔

ہیے بیوٹیفل لیڈی تم نے مجھے بلایا ۔۔۔۔ میں آگیا ہوں تم کدھر ہو اسد نے پول سائیڈ پر جاتے رواحہ کو آوازیں دینی شروع کر دیں ۔۔۔۔۔۔

یہاں پر بیوٹیفل لیڈی تو نہیں بیوٹیفل لیڈی کے شوہر ضرور موجود ہیں آریان پیچھے سے زور سے اس کی کمر کو جکڑتے ہوئے غصے سے چینخا۔۔۔۔۔۔

کون ہو تم چھوڑو مجھے اپنی گردن پر اس کے ہاتھوں کی گرفت سخت ہوتے دیکھ وہ دبی دبی آواز میں چلایا ۔۔۔۔۔

لو چھوڑ دیا آریان نے اسے پیچھے سے ہی دھکا دیا جو سیدھا نیچے زمین پر جا کے گرا۔۔۔۔۔ 

آریان نے جلدی سے آگے بڑھ کے اس کی کمر پر دو چار لاتیں رسید کیں ۔۔۔۔۔

اور اسے بالوں سے پکڑ کر سیدھا کیا ۔۔۔۔۔۔ اسی زبان سے تم نے رواحہ کے لیے گھٹیا الفاظ بولے تھے نا تو اب یہ زبان ہی تمھارے پاس نہیں رہے گی ۔۔۔۔۔

آریان نے پاکٹ سے چاقو سے نکالتے چٹکی بجائی تبھی عون پیچھے سے اس کی سامنے آیا اور اسد کی گردن پر پاؤں رکھ کے اس کا منہ کھولا ۔۔۔۔۔۔

آریان نے ایک ہی وار میں اس کی زبان کھینچ کر اس کے منہ سے الگ کر ڈالی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر عون نے جلدی سے چہرے سے رومال اتار کر اس کے منہ پر باندھ دیا۔۔۔۔۔۔

تاکہ اس ک غوں غوں کرنے کے شور سے وہاں کوئی آ ہی نہ جائے۔۔۔۔۔

تم نے اپنے انہی ہاتھوں سے رواحہ کو چھوا تھا نہ تو اب تمھارے یہ ہاتھ بھی سلامت نہیں رہیں گے آریان غصے سے وہ منظر یاداچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم کرتے چینخا جب اسد نے اس کے بلاؤز کے تاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کی تھی ۔۔۔۔۔۔

اور پھر ایک ہی وار میں تیز دھار چاقو سے اس کا ہاتھ اس کے بازو سے الگ کر ڈالا۔۔۔۔۔۔ 

امممم ،،، اگر میں نے تمھارا یہ ہاتھ سلامت چھوڑ دیا تو تم اس کے ساتھ میرے بارے میں لکھ کر کسی کو بتا سکتے ہو ۔۔۔۔۔

تمھارا یہ حشر میں نے کیا ہے ۔۔۔۔ ویسے بھیاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم تم اس ایک ہاتھ کے ساتھ کیا کر لو گے اسے بھی کاٹ ہی ڈالتے ہیں آریان ہونٹوں پر انگلی جمائے مسکراتے ہوئے بولا اور پھر اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا۔۔۔۔۔۔

تمھیں پتا ہے یہ سب کرتے ہوئے مجھے بلکل بھی تکلیف یا افسوس نہیں ہوا۔۔۔۔۔

بلکہ مجھے اندر تک سکون ملا ہے تم نے آریان شاہ کی ملکیت کو ہاتھ لگانے کی غلطی کی تھی اور آریان شاہ اپنی ملکیت پر کسی کی بھی غلط نظر برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔

وہ پھولی رگوں کے ساتھ بولا اور پھر ٹھوکراچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم سے اسے پول کے اندر پھینک کر دونوں سارے ثبوت ختم کرنے کے بعد وہاں سے جا کر سارے مہمانوں کے بیچ جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کے وہاں آتے ہی تمام لائیٹس واپس آچکی تھیں ۔۔۔۔۔۔ 

موبائل پر اپنی ماں کی کال آتی دیکھ وہ مسز صدف سے ایکسکیوز کرتی وہاں سے باہر پارکنگ ایریا کی طرف آئی تھی ۔۔۔۔۔

اسد لفنگے کو تو سزا دے دی اب باری ہے اساچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم لڑکی کو سزا دینے کی جس نے میری ملکیت کو کسی اور کو چھونے کا موقع دیا۔۔۔۔۔۔

آریان بھی اس کے پیچھے پیچھے پارکنگ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

ماما آپ ٹینشن نہ لیں میں بلکل ٹھیک ہوں اور کچھ وقت تک گھر آجاؤں گی۔۔۔۔۔

آپ داجی کو ٹائم پر ان کی میڈیسنز کھلا دیجیے گا۔ ۔۔۔

 اوکے اللہ حافظ ۔۔۔

رواحہ اپنی بات مکمل کر کے پیچھے پلٹی تو اسے اپنے پیچھے آریان پاکٹس میں ہاتھ ڈالے اسے گھورتے ہوئے نظر آیا ۔۔۔۔۔

وہ اسے اگنور کیے آگے بڑھنے لگی تھی تب ہی آریان جلدی سے دو قدم چلتا اس کے سامنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔

اور اسے بازو سے دبوچے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔

آہہہہ ،،، جاہل جنگلی انسان چھوڑو مجھے وہ حلق کے بل چلائی تھی ۔۔۔۔ تب آریان نے اسے دھکا دیا تھا جو نیچے زمین پر جا کر گری تھی ۔۔۔۔

بہت شوق ہے نہ تمھیں تیار ہوکر دوسروں کے سامنے خود کو پیش کرنے کا تو چلو آج تمھاری یہ خواہش میں ہی پوری کر دیتا ہوں۔۔۔۔

وہ نیچے بیٹھ کر انگھوٹا اس کے ہونٹوں پر رب کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

اور پھر اسے پکڑ کے کھینچ کے نیچے زمین سے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔۔اور اگلے ہی لمحے اساچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم کے ہونٹوں پر جھک کر اپنا سارا غصہ نکالنے لگا ۔۔۔۔

اس کی شدتیں برداشت کرتی وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔

اووو،،،، رواحہ بی بی تو ابھی سے رونے لگی ابھی تو میں نے رونے والا کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔

ابھی تو تمھیں میری شدتیں برداشت کرنی ہیں تو اپنے یہ آنسو بعد کے لیے بچا کر رکھو ،،،، اس نے زو معنی انداز میں کہا ۔۔۔۔

اور اسے کمر سے پکڑ کر گھمایا جس سے اس کی پیٹھ آریان کے ساتھ ٹچ ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔

وہ ہچکیوں سے روتے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ تو جیسے آج ظالم بنا کھڑا تھا ۔۔۔۔

پ۔۔۔۔لی۔۔۔پلیز آریان چھوڑ دو مجھے ۔۔۔۔۔وہ اب کی بار اس کی منت کرنے لگی تھی ۔۔۔

لیکن آریان نے اس کی ایک بھی سنے بغیر اس کی گردن سے بال ہٹا کر وہاں زور سے کاٹا جس سے اس کے منہ سے ایک سسکی سی برآمد ہوئی ۔۔۔۔۔

وہ ظالم بنا ایک کے بعد ایک اس کی گردناچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم پر زخم دیے جا رہا تھا اور وہ اس کے سامنے بے بس کھڑی خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے گھٹیا انسان ورنہ میں تمھارا منہ نوچ لوں گی وہ اچانک سے خود میں اتنی ہمت جمع کرتے خود کو اس سے چھڑوا گئی ۔۔۔۔۔

شوہر ٹچ کرے تو گھٹیا کوئی اور کرے تو کچھ نہیں واہ رواحہ بی بی کیا کہنے تمھارے ۔۔۔۔۔۔

آریان نے استہزائیہ ہنسی ہنستے کلیپنگ کی اور پھر جلدی سے آگے بڑھ کر اسے بازو سے تھام گیا۔۔۔۔۔۔

ہاؤ ڈیئر ٹو ٹچ می یو بلڈی باسٹرڈ ،،،،، رواحہ نے اس کے ہاتھ پر کاٹ کر خود کو اس سے چھڑوایا۔۔۔۔۔

 اور چینختے ہوئے تھپڑ مارنے کے ارادے سے ہاتھ اس کی طرف کیا تب ہی وہ راستے میں اس کا ہاتھ تھام گیا۔۔۔۔۔

اور گھما کر ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا ۔۔۔۔۔ تمھاری اتنی ہمت تم آریان شاہ کو تھپڑ مارو گی وہ غصے سے چینخا۔۔۔۔۔۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 02 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more