Ishq Mian Gahyal Episode 03 عشق میں گھائل

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Episode 03
  • Language: Urdu
  • Author: Hamed Write
  • View : 7.9k
Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal Episode 02

عشق میں گھائل

تھپڑ کی شدت اتنی تیز تھی کہ وہ لڑکھڑا کر اس سے دو قدم دور ہوئی تھی اور بے یقینی سے چہرے پر ہاتھ رکھے آنکھوں میں نمی لیے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔

کیا ہوا یقین نہیں ہو رہا آریان شاہ تم پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے وہ اس کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ کے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

اس کی بات سنتی وہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔ 

ٹھیک اسی طرح مجھے بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ تم آریان شاہ کی ملکیت ہو کے کیسے کسی دوسرے کو اپنے قریب آنے دے سکتی ہو ۔۔۔۔۔

تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی اس انسان کے قریب جانے کی اسے خود کو چھونے دینے کی ۔۔۔۔۔ 

شاید تم بھول گئی ہوگی تم کس کے نکاح میں ہو اور کس کی ملکیت ہو تو چلو آج میں تمھیں یاد کروا ہی دیتا ہوں وہ ماتھے پر انگنت بل لیے ایک ہی جست میں اس تک پہنچا اور ایک بار پھر اسے بازو سے پکڑ کے جکڑا ۔۔۔۔۔۔

چھوڑو مجھے جنگلی انسان ۔۔۔۔۔ خود کو سمجھتے کیا ہو۔۔۔۔۔ جب خود کسی کے نکاح میں ہوتے زویا کے اتنے قریب تھے اس سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہے تھے تب کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔

تو پھر مجھے اسد کے ساتھ دیکھ کر اتنی تکلیف کیوں ہوئی ۔۔۔۔۔ تم اپنی لمٹ میں رہو اور آئیندہ مجھے ٹچ کرنے کی ہمت نہ کرنا وہ ایک بار پھر اس پر چینخی تھی اور اس کے غصے کو ہوا دے گئی تھی ۔۔۔۔۔۔

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ ورنہ تمھاری قینچی کی طرح چلتی اس زبان کو کاٹنے میں مجھے ذرا بھی دیر نہیں لگے گی اور نہ ہی کوئی افسوس ہوگا وہ اسے بالوں سے پکڑ کے چینخا تھا۔۔۔۔۔۔

تم تو بڑے ہی ہوس پرست انسان نکلے مسٹر آریان شاہ ۔۔۔۔۔ ایک خوبصورت لڑکی دیکھی نہیں کہ اپنی ہوس پوری کرنے آگئے درد کی شدت سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔۔۔۔

لیکن وہ بولنے سے پھر بھی بعض نہ آئی ۔۔۔۔۔ اس کی انا ہی اسے گوارا نہیں کر رہی تھی وہ آریان شاہ کے سامنے جھکے یا خود کو کمزور ثابت ہونے دے ۔۔۔۔۔

ہوس پرست جنگلی انسان ہوں نہ میں تو چلو آج پھر میں تمھیں اپنا جنگلی پن دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔۔

وہ اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب تر کرتے زور سے اس کے ہونٹوں پر جھکا اور زور سے اس کے نچلے ہونٹ پر کاٹا جس سے رواحہ کو اپنے منہ میں خون گھلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے ہونٹوں پر زخم دینے کے ساتھ ساتھ اس کی ساڑھی کی پن بھی کھولنے لگا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔۔۔۔۔۔

جس سے وہ گاڑی کے بونٹ پر جا کے گری ۔۔۔۔۔

وہ اس سے بدلہ لینے کے لیے ایک ہی جھٹکے میں پیچھے مڑی تھی اسی پل اس کی ساڑھی کا پلو کھسک کر نیچے گرا تھا ۔۔۔۔۔۔

ساتھ ہی ساڑھی کا گلا ڈیپ ہونے کی وجہ سے اس کا سینہ نمایاں ہونے لگا۔۔۔۔۔

اس کی نظر جیسے ہی سامنے کھڑے آریان پر پڑی جو ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتا اس کی طرف دیکھ کر استہزائیہ ہنسی ہنس رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ جلدی سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ گئی آریان نے اس کی طرف طنزیہ مسکراہٹ اچھالتے اپنا رخ بدلا تھا ۔۔۔۔۔

رواحہ کو اسی پل ڈھیروں شرم نے آن گھیرا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا ابھی کے ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔۔۔۔۔

وہ تو یہاں آریان شاہ سے بدلہ لینے آئی تھی لیکن یہاں تو اس کی خود کی عزت کا ہی جنازہ نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔

اب وہاں کھڑے کیا رہے ہو گھٹیا انسان اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے تھے نا تو آؤ اور کرو اپنی ہوس پوری وہ ویسے ہی سینے پر ہاتھ رکھے غصے کی شدت سے چلائی تھی ۔۔۔۔۔۔

اسے اس وقت کسی چیز کی بھی پرواہ نہیں تھی پرواہ تھی تو صرف اور صرف آریان شاہ سے بدلہ لینے کی وہ کسی بھی صورت اس کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔

جس کا بعد میں آریان شاہ اس کا مذاق اڑاتا یا پھر اسے نیچے دکھاتا ۔۔۔۔۔

رسی جل گئی لیکن بل نہیں گئے وہ ایک بار پھر غصے سے پلٹتا اس تک پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتی اس کی طرف بڑھی اور اسے کارلر سے پکڑ گئی ۔۔۔۔۔

تمھاری اتنی ہمت تم آریان شاہ کے گریبان تک پہنچو ۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ تھامتا حلق کے بل چلایا ۔۔۔۔

اور تمھاری اتنی ہمت کیسے ہوئی آریان شاہ تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ ۔۔۔۔۔ تمھیں کس نے یہ حق دیا تم میرے قریب آؤ مجھے چھوؤ ۔۔۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں میں تمھیں ۔۔۔۔۔۔

ہمت کی بات کر رہی ہو تو چلو آج تمھیں اپنی ہمت دکھا ہی دیتا ہوں  اس نے رواحہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا اور پھر نفرت سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اب کی بار وہ اس کی گردن پر اپنی شدتوں کے نشان دیتے ساتھ ہی ایک ہی جھٹکے میں اس کے بلاؤز کی ساری دوڑیاں کھول گیا جو اس کی کمر پر سانپوں کی طرح لہرانے لگیں ۔۔۔۔۔۔

اب صیح معنوں میں رواحہ کے چہرے کی ہوائیاں اڑیں تھیں جو آریان شاہ کو بہت مزہ دے رہی تھیں ۔۔۔۔۔

ادھر کمر پر ٹچ کیا تھا نہ اس نے تمھیں وہ اسے گھماتے اس کی کمر پر جھکا اور زور سے وہاں کاٹا درد کی شدت سے رواحہ اپنی آنکھیں میچ گئی ۔۔۔۔

اور یہاں بھی چھوا تھا نہ اس نے وہ اس کے بلاؤز کی دوڑیوں کو سائیڈ پر ہٹائے وہاں انگلیاں چلاتے اس سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر پوری شدت سے جھکے وہاں پر بھی اپنے ہونٹ گاڑھ گیا۔۔۔۔۔

یو ہرٹ می آریان ،،،، وہ آنکھوں میں نمی لیے خود کو اس سے چھڑواتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ میں یہاں تمھیں ہرٹ کرنے ہی تو آیاں ہوں مسز وہ اس کے بالوں کو سائیڈ پر کیے اب اس کی گردن پر جھکا اور جا بجا وہاں اپنا لمس بکھیرنے لگا۔۔۔۔۔۔

د۔۔۔ دی۔۔۔دیکھ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔۔آ۔۔۔ری۔۔۔آریان۔۔۔۔ تم۔۔۔۔یہ۔۔۔ٹھیک۔۔۔۔۔

ششششششش ایک دم چپ رہو وہ ایک بار پھر اسے گھمائے اس کا چہرہ اپنی طرف کیے بولا ۔۔۔۔۔

اور پھر اسے گود میں اٹھا کر گاڑی کے بونٹ پر بٹھاتا پیٹ سے اس کی ساڑھی کا پلو سائیڈ کیے وہاں بھی زور سے کاٹ گیا۔۔۔۔۔۔

یہ تو تم نے بتایا ہی نہیں اس نے تمھیں یہاں پر بھی کاٹا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ نفرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھے نفرت سے بولا ۔۔۔۔۔

وہ اسے پیچھے ہٹانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی لیکن اس کے سامنے رواحہ کی تمام تر مزاحمتیں بے سود تھیں ۔۔۔۔۔۔

آج کے بعد اگر تم کسی غیر مرد کے ساتھ پائی گئی اس نے تمھیں ٹچ کیا یا تم نے اس سے خود کو ٹچ کروایا تو اسی وقت تمھاری قبر میں اپنے ہاتھوں سے کھودوں گا وہ اس کے خود کو چھڑوانے کے چکروں میں چلتے ہاتھوں کو تھامے بولا ۔۔۔۔۔۔

میں تمھاری ملکیت نہیں ہوں آریان شاہ تو پھر تم اپنا یہ ڈھونس مجھ پر چلانے کی بجائے کسی اور پر چلاؤ۔۔۔۔۔۔۔

وہ خود کو کمپوز کرتی اس کی طرف دیکھے بغیر بولی ۔۔۔۔ 

کیا کہا ایک بار پھر سے کہنا وہ اس کے بالوں کو جکڑے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کر کے اس کی توڑی پر کاٹے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

می۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔نہ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ہوں۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ وہ اس کے ہونٹوں پر جھکے اس کے باقی کے الفاظوں کا دم اس کے منہ میں ہی توڑ گیا۔۔۔۔۔

تم صرف اور صرف آریان شاہ کی ملکیت ہو رواحہ بی بی اور تم پر تمھارے جسم پر تمھاری آنے جانے والی ہر سانس پر صرف اور صرف آریان شاہ کی ہی ملکیت ہے ۔۔۔۔۔۔

اس لیے دوبارہ سے یہ بولنے اور سوچنے کی ہمت بلکل بھی نہ کرنا کہ تم آریان شاہ کی ملکیت نہیں ہو وہ جنون بھرے انداز میں بولا ۔۔۔۔۔۔

اس کا جنونیت بھرا انداز دیکھ کے رواحہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔

تم جو مرضی کرو آریان شاہ میں تم سے نہیں ڈرتی نہ ہی میں تمھاری ملکیت ہوں ۔۔۔۔۔۔

ضدی تو ہوگی آخر کو آریان شاہ کی بیوی جو ہو وہ قہقہ لگاتے بولا ۔۔۔۔۔ رواحہ کو اس کا یہ قہقہہ اس وقت کسی زہر سے کم نہ لگا۔۔۔۔۔۔

تمھارے ماننے یا نا ماننے سے کچھ نہیں ہوتا رواحہ بی بی یہ بات تو پوری دنیا ہی جانتی ہے تم آریان شاہ کی ملکیت ہو۔۔۔۔۔

اس لیے آج کے بعد تم آریان شاہ کے کہنے پر ہی چلو گی اس کی ہر بات مانو گی ۔۔۔۔

اور تمھیں تمھارا شوہر لاسٹ وارننگ دے رہا ہے آج کے بعد تم نا اس قسم کی بیہودہ ڈریسنگ کرو گی ۔۔۔۔۔ نہ ہی کسی غیر مرد کے قریب جاؤ گی ۔۔۔۔۔

میری یہ بات جتنی جلدی اپنے ننھے سے دماغ میں بٹھا لو گی تمھارے لیے اتنا ہی زیادہ اچھا ہوگا ورنہ اگلی بار تمھیں آریان شاہ کے قہر سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔۔۔۔۔

آریان اپنی شرٹ اتار کر اسے پہناتے ہوئے سمجھانے لگا ۔۔۔۔۔

میں تم سے ہزار دفع کہہ چکی ہوں مسٹر آریان شاہ میں تمھاری ملکیت نہیں ہوں نہ ہی تمھارے کہے کی پانبد ہوں۔۔۔۔۔

میرا جیسی ڈریسنگ کرنے کو دل کرے گا میں کروں گی ۔۔۔۔۔ میرا جہاں مرضی آنے جانے کو دل کرے گا میں آؤں جاؤں گی ۔۔۔۔

میں پارٹیز میں جاؤں ،،، ہوٹلز میں جاؤں ،،، کلبز میں جاؤں ۔۔۔ کسی کی بانہوں میں جاؤں یا پھر کسی کے بیڈ پر۔۔۔۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔

اس کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب ایک بار پھر آریان نے پوری شدت سے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا ۔۔۔۔۔

کیا بکواس کی تم نے ہاں۔۔۔۔ ایک بار پھر سے بکواس کرنا۔۔۔۔۔

تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب بولنے کی ۔۔۔۔ اب تمھیں آریان شاہ کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔۔

بہت شوق ہے نہ تمھیں دوسروں کی بانہوں میں جانے کا دوسروں کے بیڈ پر جانے کا تو آج تمھاری یہ خواہش آریان شاہ ہی پوری کرے گا ۔۔۔۔۔۔

آج ساری رات تم آریان شاہ کی بانہوں میں رہ کر اس کی شدتوں کو برداشت کرو گی ۔۔۔۔۔ 

تم آریان شاہ کی شدتوں کو برداشت کرتے سونے کی کوشش کرو گی لیکن آریان شاہ تمھیں ایک سیکنڈ کے لیے بھی سونے نہیں دے گا۔۔۔۔۔

میں رات کا ایک ایک پل تمھارے لیے اتنا بھاری کر دوں گا کہ تم مجھ سے چھپنے کےاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم لیے مجھ میں ہی پناہ مانگو گی وہ اسے ایک آنکھ ونک کرتے کھینچ کر گاڑی سے نیچے اتار گیا۔۔۔۔۔۔

چلو پھر رواحہ بی بی بتاؤ شاہ ہاؤس کے بیڈ پر جانا پسند کرو گی یا پھر آریان شاہ کے فلیٹ کے بیڈ پر یہ چوز کرنے کا موقع آریان شاہ نے تمھیں دیا۔۔۔۔۔

آخر کو خواہش جو تمھاری پوری کرنے جا رہا ہوں تو مرضی بھی تو تمھاری ہی شامل ہوگی نا وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامے اس سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔

نو نیور آریان شاہ میں تمھارے ساتھ کہیں پر بھی نہیں جا رہی تم اپنی بکواس بند کرواچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم اور یہاں سے دفع ہو جاؤ اپنی منہوس شکل لے کر وہ اس کی گرفت سے نکلتے چلائی ۔۔۔۔۔

نہ ،نہ رواحہ بی بی آج یہ آریان شاہ تمھاری خواہش پوری کیے بغیر کہیں پر بھی نہیں جانے والا۔۔۔۔۔

اگر تم اپنی پسند کی جگہ نہیں بتاؤ گی تو پھر میں تمھیں اپنی پسند کی جگہ پر لے جاؤں گا۔۔۔۔۔

تمھیں ایک بار میں کہی گئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی دفع ہو جاؤ یہاں سے میںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم تمھاری شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتی اور تم کن سوچوں میں ہو میں تمھارے ساتھ کہیں پر جاؤں گی وہ نفرت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔

اور آریان کو اندر تک سلگا گئی۔۔۔۔۔ جائیں گے تو تمھارے اچھے اچھے بھی وہ اسے بازو سے پکڑ کے گاڑی کا دروازا کھول کے اس کے اندر دھکا دے گیا ۔۔۔۔۔

چپ چاپ یہاں پر بیٹھی رہو ورنہ اس کے بعد تمھارا جو انجام ہوگا اس کا زمہ دار میںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم نہیں ہونگا وہ اسے گاڑی سے نکلتا دیکھ واپس اندر کی طرف دھکا دیتے بولا ۔۔۔۔۔

اور پھر خود جلدی سے دوسری سائیڈ پر جاتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔۔ اور مسکرا کر ایک نظر اس پر ڈالتے گاڑی سٹارٹ کر گیا ۔۔۔۔۔۔

تم یہ سب کر کے اچھا نہیں کر رہے آریان شاہ ۔۔۔۔۔ تمھیں اس کی قیمت سود سمیت واپس کرنی پڑے گی ۔۔۔۔۔

تم مجھے زبردستی اپنے ساتھ تو لے جا سکتے ہو لیکن زبردستی مجھے چھو نہیں سکتے وہاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ دیکھ کے چلائی ۔۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا رواحہ تھوڑی دیر پہلے جو کچھ بھی ہوا تم اسے بھول گئی ہو کیا۔۔۔۔۔ اب تک اتنا بھی نہیں جانی آریان شاہ کیا کچھ کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

آریان شاہ تمھیں چھو تو کیا تمھاری روح تک پر قابض ہوسکتا ہے تم کن خوش فہمیوں میں جی رہی ہو وہ قہقہ لگاتے اسے اندر تک سلگا گیا۔۔۔۔

اللّٰہ کرے تم مر جاؤ آریان شاہ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔

تم دونوں ماں بیٹی کو مارے بغیر تو یہ آریان شاہ بلکل بھی نہیں مرنے والا۔۔۔۔۔وہ ایک نظر روتی ہوئی رواحہ پر ڈالے بولا ۔۔۔۔۔

خبردار جو تم نے میری ماما کو کچھ کرنے کے بارے میں سوچا بھی تو جان سے مار ڈالوں گی میں تمھیں وہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی تھی ۔۔۔۔۔

تبھی آریان نے جلدی سے گاڑی کو بریک لگاتے اس کے دونوں ہاتھ رومال سے باندھے تھے۔۔۔۔۔

چلو اب اپنے ان بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ کبڈی کبڈی کھیلو ۔۔۔۔۔ پھر جب ہم تھوڑی دیر بعد میرے فلائیٹ پر پہنچ جائیں گے نااچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم تو میں بھی تمھارے ساتھ ساری رات کبڈی کبڈی کھیلوں گا وہ اس کے دونوں ہاتھ رومال کے ساتھ باندھنے کے بعد اس کا منہ بھی اس کی ساڑھی کا پلو پھاڑ کے اس کے ساتھ باندھ گیا ۔۔۔۔۔

وہ کیا ہے نہ کب سے تمھاری چک چک سن رہا ہوں اور آگے بھی ساری رات سننی ہے تواچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم سوچا تھوڑی دیر اپنے ان معصوم کانوں کو بھی سکون لے لینے دوں۔۔۔۔۔

آریان نے اسے ایک آنکھ ونک کرتے دوبارا سے گاڑی سٹارٹ کر ڈالی ۔۔۔۔۔  جبکہ اس کی حرکت پر رواحہ کلس کے رہ گئی۔۔۔۔۔۔

اس کی حالت آریان کو بہت مزہ دے رہی تھی وہ بار بار آریان کو گھور کر دیکھتی اور خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔۔

اف رواحہ بی بی میں تمھیں بتا نہیں سکتا اس وقت میں تمھیں یوں اپنے سامنے بے بس دیکھ کر کتنا خوش ہوں۔۔۔۔۔

اس نے ایک بار پھر رواحہ کی طرف مسکراہٹ اچھالتے اسے تپایا ۔۔۔۔۔ جو سوائے اسے گھورنے کے کچھ نہ کر سکی ۔۔۔۔۔

مجھے پتا ہے اب تم دل میں سوچ رہی ہوگی ایک دفع میری ہاتھ اور منہ کھولو پھر تمھیں بتاؤں گی لیکن تم بلکل بھی ٹینشن نہ لو میں فلیٹ پر پہنچتے ہی سب کچھ کھول دوں گا ۔۔۔۔۔۔

تمھاری اس ساڑھی کو بھی تمھارے جسم سے وہ ایک بار پھر اسے تپانے لگا اسے رواحہ کو تپانا اور اس کے فیش ایکسپریشنز دیکھنا مزہ دے رہے تھے ۔۔۔۔۔ 

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 03 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more