Ishq Mian Gahyal Episode 05 عشق میں گھائل

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Episode 03
  • Language: Urdu
  • Author: Hamed Write
  • View : 7.0k
Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal Episode 05

عشق میں گھائل

رواحہ بیٹا کیا ہوا ہے ؟؟ 

تم ایسے بھاگتے ہوئے کیوں آئی اور آتے ہی کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔۔۔ 

کچھ ہوا ہے تو بتاؤ میری جان نوشیبہ بیگم جو اسے بھاگ کر جاتے اور پھر کمرے میں بند ہوتا دیکھ چکی تھی اب اس کے کمرے کے باہر کھڑی دروازا بجا رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ جو فرش پر بیٹھی آنسو بہانے میں مگن تھی ماں کی آواز سن کر جلدی سے دروازا کھول کر ان کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔

کیا ہوا میری جان کچھ بتاؤ تو سہی نوشیبہ بیگم اسے خود سے الگ کرتی اس کا چہرہ تھامے ماتھے پر بوسہ دیئے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔۔

ماما وہ بہت برا ہے ۔۔۔۔ اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے لگا تھا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن اسے مجھ سے بلکل بھی محبت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

آئی ہیٹ ہم،،، ماما میں اسے کبھی بھی معاف نہیں کروں گی رواحہ نے روتے ہوئے اپنی ماں کو بتایا ۔۔۔ 

میری جان میں نے تو تمھیں پہلے ہی کہا تھا اگر آگ سے ٹکراؤ گی تو خود بھی اس میں جل کر راکھ ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔

تم سب کچھ اللہ پر چھوڑ دو وہ بہتر کرے گا لیکن تم نے میری ایک بات بھی نہیں سنی اور آریان سے بدلہ لینے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔

وہ ماں تھی اچھی طرح سے سمجھ گئی تھی وہ کس کی بات کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

میری جان وہ بھی تم سے محبت کرتا ہے بس تم دونوں ایک دوسرے سے بدلے کی آڑ میں اپنی زندگی برباد کر رہے ہو۔۔۔۔۔

چھوڑ دو یہ بدلہ ودلہ اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشی بھری زندگی گزارو ،،، نازیہ بیگم نے بیٹی کو سمجھایا ۔۔۔۔۔

وہ ماں تھیں وہ چاہتی تھیں اس کے دونوں بچے آپس میں ہنسی خوشی رہیں جیسے وہ سب پہلے رہتے تھے۔۔۔۔۔

لیکن اس ایک حادثے نے شاہ ہاؤس کو برباد کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

نہیں ماما میں اسے کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔ وہ میرے بابا کے بارے میں غلط بولتا ہے انہیں برا بھلا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے خود سے بھی زیادہ اپنے بابا پر یقین ہے وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ میں بہت جلد آریان شاہ کی غلط فہمی دور کروں گی ۔۔۔۔۔

اور اپنے بابا کو سہی ثابت کر دوں گی اور پہلے طلاق کے پیپرز اس کے منہ پر ماروں گی اور اس رشتے سے آزاد ہو جاؤں گی وہ رونے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھوں کو بے دردی سے رگڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

یہ کیسی باتیں کر رہی ہو رواحہ خدا کا خوف کھاؤ کچھ تم کیسے اپنے ہی منہ سے اپنے گھر برباد کرنے کی باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔۔

میں تمھیں ایسا کچھ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی نوشیبہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئے تھوڑے سخت لہجے میں بولیں۔۔۔۔۔

اور ماما جو وہ کر رہا ہے اس کا کیا ؟؟؟ رواحہ نے شکوہ کناں نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔

ایک دن وہ بھی سمجھ جائے گا سارا سچ اس کے سامنے بھی آجائے گا تو وہ بھی بلکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔

اور اس ایک دن کے انتظار میں ، میں ہر دن اس کی زیادتیاں برداشت کروں یہی چاہتی ہیں آپ ؟؟؟ اس نے سنجیدگی سے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔

جو اس کے پوچھنے پر   سر جھکا گئی ۔۔۔۔۔

نو ماما ایسا بلکل بھی نہیں ہوگا میں آریان شاہ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گی ۔۔۔۔۔

آریان شاہ کی نفرت کے ساتھ رواحہ شاہ کی نفرت ٹکرائے گی ۔۔۔۔

آپ جلدی سے میرے لیے ایک کپ چائے کا بھیجوا دیں میں تب تک فریش ہوکر آفس جانے کی تیاری کر لوں ،،،، رواحہ نے اٹھ کر کھڑے ہوتے اپنی ماں کو بتایا اور پھر خود کبرڈ سے اپنے لئے ڈریس نکلنے لگی ۔۔۔۔۔۔

آفس میں تو آریان بھی ہوگا نہ ۔۔۔۔۔ اگر تم دونوں ایک ساتھ ایک ہی جگہ پر کام کرو گے تو پھر ایک دوسرے کو تنگ کرو گے۔۔۔۔ بدلے لو گے ۔۔۔۔ 

ایسے بات اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی اس لیے میں چاہتی ہوں تم آفس نہ جاؤ ۔۔۔۔۔

آفس جانا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔ اگر جاب کرنا ہی چاہتی ہو تو کوئی اور ڈھونڈ لو۔۔۔۔

آفس کو آریان سنبھال لے گا نوشیبہ بیگم اس کے راستے میں حائل ہوتی اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔

ٹھیک کہا آپ نے ماما وہ سب سنبھال لے گا یہاں تک کہ آفس میں جو ہمارے ففٹی پرسینٹ شیئرز ہیں وہ بھی اور میں ایسا بلکل بھی نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔۔۔

اور جس کی آپ اتنی فکریں کر رہی ہیں جس کے لیے اتنا کچھ سوچ رہی ہیں وہ یہاں آپ سے بدلہ لینے کے لیے آیا ہے ۔۔۔۔

شاید آپ یہ بات بھول گئی ہیں لیکن میں نہیں بھولی وہ اپنی بات ختم کرتی راستہ بنا کر جلدی سے واشروم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔۔

جبکہ پیچھے سے نوشیبہ بیگم بھی پریشانی سے باہر کو چل دیں ۔۔۔۔۔

کیا ہوا نوشیبہ بیٹا پریشان کیوں ہو؟؟؟ نوشیبہ بیگم باہر لاؤنج میں گئیں تو وہاں بیٹھے داجی نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔

داجی میں کیا کروں میرے دونوں بچے اپنی بے وجہ کی نفرت میں اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں ۔۔۔۔ 

نہ ہی رواحہ ہماری بات سمجھنے کو تیار ہے نہ ہی آریان بس دونوں کو ایک دوسرے سے بدلہ لینا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں ۔۔۔۔۔

نوشیبہ بیگم نے آنکھوں میں نمی لیے داجی کو اپنی پریشانی کی وجہ بتائی ۔۔۔۔۔

نوشیبہ بیٹا تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں تو خود ان دونوں کو ایسے دیکھ کر بہت پریشان ہوں مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا میں کیا کروں ۔۔۔۔ 

دونوں ہی میرے جگر کے ٹکڑے ہیں میں دونوں کو ہی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں وہ دونوں آپس میں ہنسی خوشی رہیں ۔۔۔۔۔

جیسے پہلے رہتے تھے پتا نہیں میرے گھر کو کس کی نظر لگ گئی ۔۔۔۔ سب کچھ برباد ہو کر رہ گیا ۔۔۔۔۔

میرے بیٹے بہو مجھے چھوڑ کر چلے گئے ایک ان کی نشانی تھی میرے پاس میرا پوتا میرا آریان جس کے سہارے میں زندہ تھا۔۔۔۔۔

لیکن وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔ اب تو ایسے لگتا ہے میں بھی اپنے بیٹوں کے پاس چلا جاؤں۔۔۔۔۔ 

داجی اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرائے بے بسی سے بولے ۔۔۔۔۔

اللّٰہ نہ کرے داجی آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ ہمارے بڑے ہیں ہمیں آپ کا ساتھ تا عمر چاہیے ہمارے پاس آپ کے علاؤہ اب ہے ہی کون ۔۔۔۔۔۔

آپ مایوس نہ ہوں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا نوشیبہ بیگم نے داجی کو حوصلہ دیا۔۔۔۔۔

بیٹا ہم سب کچھ ٹھیک ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے اب ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا اور میں نے سوچ لیا ہے مجھے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔

تم بس اس الو کے پٹھے عون کا نمبر ڈھونڈو ڈائری میں سے اور اس سے میری بات کرواؤ داجی نے کچھ سوچتے ہوئے نوشیبہ بیگم سے کہا۔۔۔۔۔

وہ ان کے حکم کی تکمیل کرتی ملازمہ کو چائے بنانے کا کہتی خود داجی کے کمرے میں ڈائری میں سے نمبر ڈھونڈنے کے ارادے سے چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔

شاور لینے کے بعد وہ جینز شرٹ پہنے گلے میں سکارف ڈالے ۔۔۔۔۔ بالوں کی ٹیل پونی کیے ۔۔۔۔۔ ہلکی پنک لپسٹک ہونٹوں پر لگائے۔۔۔۔ آنکھوں پر سن گلاسز لگائے ۔۔۔۔پاؤں میں ہائی ہیل پہنے۔۔۔۔۔ہاتھ میں واچ پہنے ۔۔۔۔ فائل لیپ ٹاپ اور اپنا موبائل اٹھائے وہ آفس جانے کے لیے بلکل تیار تھی۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر شیشے میں اپنی تیاری کو دیکھا اور پھر ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتی گاڑی کی کیز اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی 

رواحہ میں نے تمھیں کل بھی کچھ نہیں کہا تھا جب تم وہ بیہودہ قسم کی ساڑھی پہن کر پارٹی میں گئی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن آج پھر تم اتنی گھٹیا ڈریسنگ میں آفس جا رہی ہو اپنی نہیں تو کم از کم ہماری عزت کے بارے میں ہی سوچ لو ،،، نوشیبہ بیگم نے اس کی ڈریس کی فٹنگ پر ٹونٹ کیا جس میں اس کے جسم کی رعنائیاں واضع ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

داجی تو اسے دیکھتے ہی اپنی گردن جھکا گئے تھے ۔۔۔۔ پتا نہیں ان کے بچوں کو آخر ہو کیا گیا تھا کیسے وہ ایک دوسرے سے بدلے کی آڑ میں اپنی ہی عزتوں کو برباد کرنے پر لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

وہ اپنی ماں کی بات اگنور کیے جلدی سے باہر کو بھاگی تھی اسے اس کی سیکرٹری کی کال آچکی تھی آج اس کی امپورٹنٹ میٹنگ تھی اپنے بزنس پارٹنرز کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔

اور آریان وہاں اس سے بھی پہلے پہنچ چکا تھا وہ لیٹ جا کر اپنی انسلٹ نہیں کروا سکتی تھی اس لئے انہیں کوئی جواب دے کر بحث میں پڑنے کی بجائے جلدی سے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔

پیچھے سے نوشیبہ بیگم داجی کو ڈائری پکڑائے اپنا سر پیٹ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔

وہ جیسے ہی آفس میں داخل ہوئی ایک ادا سے چلتے میٹنگ روم کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔ 

ہر کوئی منہ کھولے اپنی میم کو دیکھ رہا تھا لیکن وہ سب کو اگنور کیے اور بھی تیز قدم لیتی میٹنگ روم میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔

اور سب کو سلام کرتی اپنی چیئر کی طرف بڑھی لیکن اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اس سے پہلے کہ آریان جس کی نظریں اس پر ہی ٹکی ہوئی تھیں وہ آگے بڑھ کر اسے بچاتا ۔۔۔۔۔

اس کی ساتھ والی چیئر پر بیٹھا روباص اسے تھام چکا تھا ۔۔۔۔ آریان کی نظریں ان دونوں پر کم تھیں اور روباص کی چلتی انگلیوں پر تھیں۔۔۔۔۔

جو رواحہ کو کمر پر بچانے کے بہانے جگہ جگہ ٹچ کر رہا تھا اس سے پہلے کہ رواحہ روباص کے منہ پر ایک تھپڑ جڑتی آریان غصے میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے کھینچ کر روباص سے دور کر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

مسٹر روباص آپ اپنے کام پر توجہ دیں اور اپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھیں میں یہاں پر موجود ہوں اپنی بیوی کو سنبھالنے کے لیے آریان رواحہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے نزدیک کرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

جو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

آریان صاحب میں نے تو بس آپ کی بیوی کو بچایا ہے اگر آپ خود جلدی سے آگے بڑھ کر بچا لیتے تو مجھے بچانے کی نوبت ہی نہ آتی ۔۔۔۔۔

اور ویسے بھی آریان صاحب آپ دونوں میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک ساتھ آئیں اگر ایکاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم گرے تو دوسرا اسے گرنے سے بچا لے روباص نے بھی اس پر ٹونٹ کیا ۔۔۔۔۔

آپ کو ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے ویسے بھی رات ہم رات کافی دیر تک ساتھ ٹائم سپینڈ کرتے رہے تھے ۔۔۔۔۔

اور میری بیوی کافی تھکی ہوئی تھی میں نے سوچا وہ آرام کر کے بعد میں آجائے گی ابھی میں جاتا ہوں ۔۔۔۔۔

فلحال ہم دونوں میں سے کسی ایک کا جلدی آنا ضروری تھا سو میں آگیا ۔۔۔۔۔

آریان نے رواحہ کو مزید اپنے قریب تر کرتے اسے سلگایا ۔۔۔۔۔

دور ہٹو مجھ سے میں بھولی نہیں ہوں کل تم نے میرے ساتھ جو کیا تھا وہ اس سےاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم دور ہوتی جا کر روباص کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے لگی تبھی آریان جلدی سے وہاں آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

جبکہ رواحہ اسے گھورتی اس کی چیئر پر جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

میٹنگ سٹارٹ کریں روباص صاحب آریان نے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا جس پر وہ ہاں میں سر ہلاتا نظریں رواحہ کے سراپے کی طرف کر گیا۔۔۔۔۔

روباص کیا وہاں موجود سب لوگوں کی نظروں کا مرکز رواحہ ہی تھی سب کی نظریں بار بار بھٹک کر رواحہ کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔۔

جو آریان کا خون خولانے کا کام کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔ روباص صاحب اپنی نظروں کو کنٹرول میں رکھیں ورنہ زندگی بھر دیکھنے سے محروم ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔

آریان صاحب یہاں تو سب کی ہی نظریں بار بار بھٹک کر آپ کی بیوی پر جا رہی ہیںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم کس کس کو روکیں گے آپ اگر روکنا ہی ہے تو اپنی بیوی کو روکیں ۔۔۔۔ 

اسے کنٹرول میں رکھیں ہم پر غصہ کرنے کی بجائے ۔۔۔۔۔

پہلے تم خود کی آنکھوں کو کنٹرول میں رکھو اسے بھی میں کنٹرول کر لوں گا وہ غصے سے لال انگارا ہوتی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

اسد نہیں آیا آنٹی رواحہ نے اپنے ساتھ بیٹھی مسز صدف سے پوچھا ۔۔۔۔۔ 

رواحہ کے پوچھنے پر مسز صدف کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پارٹیاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم میں کی گئی اسد کی حالت کے بارے اسے بتایا جسے سنتے ہی رواحہ کی نظریں سب سے پہلے آریان پر گئیں ۔۔۔۔۔

جو پرسکون انداز میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ 

آپ لوگوں نے تفتیش نہیں کی آنٹی ؟؟ رواحہ نے ایک بار پھر سے آریان پر نظریں ٹکائے مسز صدف سے پوچھا ۔۔۔۔۔

بیٹا جس نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے اس نے ایک ثبوت بھی نہیں رہنے دیا سب کے سب ثبوت ختم کر دیے ہیں ہمیں تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔

آنٹی مجھے تو یہ کسی پروفیشنل کلر کا کام لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔ 

مس رواحہ آپ یہاں پر میٹنگ کے لیے آئی ہیں یا پھر اپنی گھریلو لائف کو ڈسکس کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔

یہاں پر سب لوگ میٹنگ کے انتظار میں اچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کومبیٹھے ہوئے ہیں آپ یہ سب باتیں باہر جا کر کر لیجیے گا فلحال ہم میٹنگ سٹارٹ کرتے ہیں آریان ان کی باتوں سے بیزار ہوتے بولا ۔۔۔۔۔۔

تم سے مطلب میں جو بھی کروں ؟؟؟ رواحہ غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔

بی پروفیشنل مس رواحہ یہ آپ کا گھر نہیں ہے آفس ہے آریان تھوڑے نرم لہجے میں بولا فلحال وہ کوئی بھی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

لیکن بعد میں اسے مزہ چکھانے کا پورا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 05 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more