Ishq Mian Gahyal Episode 07 عشق میں گھائل

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Episode 07
  • Language: Urdu
  • Author: Hamed Write
  • View : 12.9k
Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal Episode 07

عشق میں گھائل

دونوں ریسٹورنٹ پہنچ کر اپنی ٹیبل پر بیٹھے اب آرڈر آنے کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

بقول آریان عون نادیدوں کی طرح ارد گرد لڑکیوں کو گھورنے میں مصروف تھا جبکہ آریان اپنے موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔

اللّٰہ بچائے ان حسین ظالماؤں سے کیسے اپنے آپ میں مگن ہیں ارد گرد کا ہوش بھی نہیں ہے کہ کوئی حسین منڈا ان کے ارد گرد بیٹھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔

مجال ہے اتنی حسیناؤں میں سے کسی ایک حسینہ نے بھی نظر گھما کر میری طرف دیکھا ہو عون نے اپنا کوٹ سیٹ کرتے جلے بھونے انداز میں کہا ۔۔۔۔۔

لگتا ہے سب کی سب اندھی ہیں آنکھوں پر موتیا چڑھا ہوا ہے جو اس حسین منڈے کو دیکھ نہیں پا رہیں عون نے وہاں سے اٹھ کر جاتی ایک لڑکی کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔

عون کو لگا تھا وہ اٹھ رہی ہے تو ایک نظر اس پر ڈال کر ہی جائے گی لیکن وہ اسے اگنور کیے ہی وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔

مجھے ایک بات بتاؤ عون تمہیں آخر کس بات سے اعتراض ہے اپنے اگنور ہونے پر یا لڑکیوں کے اپنے آپ میں مگن ہونے پر بار بار اسے ایک ہی بات کو الاپتے دیکھ آریان نے تپ کر اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

افکورس مجھے اپنے اگنور ہونے پر برا لگ رہا ہے وہ ساری کی ساری نہ دیکھتی لیکن وہ لمبی چوٹی والی تو ایک پیار بھری نظر سے دیکھ لیتی ۔۔۔۔۔

باقی سب نے تو لگتا ہے گدھوں کے بال اتار کر لگا رکھے ہیں لیکن اس چوٹی والی کے نیچرل لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔

اس لیے میرا چوٹی کے ساتھ ساتھ چوٹی والی پر بھی دل آگیا ہے عون نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔۔۔

عون بیٹا تیرا کچھ نہیں بن سکتا اپنے اس نادیدے پن کی وجہ سے ہی تو آج تک سنگل ہے کوئی لڑکی تیری طرف نہیں دیکھتی ۔۔۔۔۔

آریان نے اس کے نادیدے پن پر طنز کیا ،،،،،

او ہیلو مسٹر آریان شاہ کیا میرے منہ پر لکھا ہوا ہے میں نادیدہ ہوں جو لڑکیاں میری طرف نہیں دیکھتی عون نے جل کر آریان سے پوچھا ۔۔۔۔۔

اس کے پوچھنے پر آریان نے معصومیت سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔

اب تو مجھے پکا یقین ہوگیا ہے تو میرا دوست نہیں دشمن ہے اللّٰہ پوچھے تجھے اب دیکھ میں کیسے اس لمبی چوٹی والی کو امپریس کرتا ہوں۔۔۔۔۔

عون نے کشوہ کی طرف اشارہ کیا جس کی پیٹھ عون کی طرف تھی ۔۔۔۔

اوئے لمبی چوٹی والی پورے پانچ گھنٹے مرر کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو لش پش  کر کے آیا ہوں تمھاری ایک نظر کرم کا تو حق دار ہو نا میں میری طرف بھی دیکھ لو عون تھوڑی اونچی آواز میں ایک سٹائل سے بولا ۔۔۔۔۔۔

وہاں پر ان سب لڑکیوں میں صرف ایک کشوہ کی ہی لمبی چوٹی تھی اس لیے عون کے اونچی آواز میں کہنے پر مڑ کے عون کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر شاکڈ ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ اوئے چھوٹے کاکے تم۔۔۔۔ جسے ٹھیک سے کھانا کھانا بھی نہیں آتا کشوہ جلدی سے ہوش میں آتی اس دن والے لڑکے کو یاد کرتے ہوئے اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔۔

اب کی بار دھیان کرنے پر عون کو یاد آیا یہ تو اس دن والی لڑکیاں ہی ہیں ۔۔۔۔

اوئے شٹ یار اس دن والے ڈیمو سے پنگا لے بیٹھا ہوں یار اب کچھ کر عون نے جلدی سے آریان کو کہا ۔۔۔۔۔

چھوٹے کاکے تمھاری شکل دیکھ کر تو بلکل بھی نظر نہیں آ رہا تم لش پش کر ریے ہو ایسا ضرور لگ رہا ہے جیسے ابھی گھر پر جھاڑو پوچا لگا کر آئے ہو ۔۔۔۔۔

کشوہ نے اس کے پاس آکر اس کی لش پش والی بات پر ٹونٹ کیا ۔۔۔۔۔

اوئے لمبی چوٹی اب کیا تمھاری طرح اسی کلو پاؤڈر منہ پر تھوپ کر آتا ۔۔۔۔۔ الحمدللہ سے ایسے ہی بہت حسین ہوں مجھ تمھاری طرح اسی کلو میک اپ کرنے کی ضرورت نہیں ہے عون بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا حساب برابر کیا۔۔۔۔۔

جبکہ آریان سائیڈ پر بیٹھا ان کا جھگڑا انجوائے کر رہا تھا عون نے جان بوجھ کر ڈیمو کے چھتے میں پتھر مارا تھا اب یہ سب تو ہونا ہی تھا ۔۔۔۔۔۔

آلے آلے چھوٹے کاکے کو بھی لش پش کرنا ہے پہلے ٹھیک سے کھانا کھانا تو سیکھ لو پھر لش پش کرنا بھی سیکھا دیں گے کشوہ نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں چیکس کھینچے۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے میں تمھیں سچ میں کوئی چھوٹا بچہ نظر آ رہا ہوں جو تم بچوں کی طرح میرے چیکس کھینچ رہی ہو عون نے اس کے ہاتھ جھٹکے ۔۔۔۔۔

اب اگر تم نے مجھے چھوٹا کاکا کہا تو میں تمھاری یہ جو تیل چوری کر کر کے چوٹی لمبی کی ہے اسے کاٹ ڈالوں گا عون نے اس کی چوٹی ہاتھ میں پکڑے دھمکی دی ۔۔۔۔۔۔

تمھاری اتنی ہمت چھوٹے کاکے تم میری چوٹی پکڑو گے ،،، کشوہ نے غصے سے جو ان کے بیچ دو قدموں کا فاصلہ تھا وہ بھی طے کیا ۔۔۔۔۔

اور آگے بڑھ کر عون کے بال ہاتھوں میں جکڑ لیے۔۔۔۔۔ میرے بال چھوڑو جاہل لڑکی تمھیں نظر نہیں آ رہا ہم ریسٹورنٹ میں ہیں ۔۔۔۔

اور یہاں ارد گرد بہت سارے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں عون  ارد گرد لوگوں کو خود کی طرف دیکھتے ہلکی سی آواز میں غرایا ۔۔۔۔

جب تم نے میری چوٹی پکڑی ہوئی تھی تب کوئی نہیں دیکھ رہا تھا اب خود پر بن آئی تو سب دیکھ رہے واہ چھوٹے کاکے واہ۔۔۔۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی تو لو دیکھو پھر میرے اکیلے کی ہی انسلٹ کیوں ہو تمھاری بھی ساتھ ہی ہو عون بھی اس کے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ گیا۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کو ہاتھا پائی پر اترتا دیکھ جلدی سے آریان اور کشوہ کی فرینڈز ان کے پاس آئیں ۔۔۔۔ 

عون یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو اس کے بال آریان نے جلدی سے آگے بڑھ کر عون کے ہاتھوں میں سے کشوہ کے بال چھڑوائے ۔۔۔۔۔

ڈائن چڑیل اگلی دفع میرے سامنے آئی تو میں تمھاری یہ چوری کے تیل سے بڑھائی ہوئی چوٹی کاٹ دوں گا عون جسے آریان نے پکڑا ہوا تھا اور اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا جاتے جاتے بھی اسے دھمکی دینا نہ بھولا۔۔۔۔۔

چھوٹے کاکے تم اگلی بار مجھے ضرور نظر آنا میں تمھارے لیے فیڈر لے کر آؤں گی اور ساتھ چوسنی بھی پھر سارا دن اپنے اس چوسنی جیسے منہ میں ڈال کر گھومنا وہ کشوہ تھی کہاں کسی کا ادھار رکھتی تھی ۔۔۔۔۔۔

ہاں تو جسے کھانا نہ کھانا آتا ہو وہ چھوٹا کاکا ہی تو ہوتا ہے کشوہ اپنی مسکراہٹ ضبط کیے بولی ۔۔۔۔۔

یار کشوہ تم یہاں کھانا کھانے آئی تھی یا جھگڑنے ؟؟؟ کشوہ کی ایک دوست نے غصے سے اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔

اب اس چھوٹے کاکے نے جھگڑا شروع کیا تو اس میں میرا کیا قصور وہ کندھے اچکاتے اپنا بیگ اٹھاتی باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔

تم یہاں کھانا کھانے آئے تھے یا دوسروں سے جھگڑنے ۔۔۔۔ تو نے تو قسم کھا لی ہے ہر جگہ اپنے ساتھ ساتھ میری بھی انسلٹ کروانے کی ۔۔۔۔۔

اسی لیے میں تیرے ساتھ کھانا کھانے نہیں آتا تو باہر آکر یا تو چھچھوری حرکتیں شروع کر دیتا ہے یا تو کسی سے جھگڑنے لگ جاتا ہے باہر لاکر آریان نے اس کی کلاس لے ڈالی ۔۔۔۔۔

یار تو مجھے ایسے کیوں کھینچ لایا اس چوٹی والی کی چوٹی تو کاٹنے دیتا عون اس کی بات کو اگنور کیے بولا ۔۔۔۔۔

تو نے اس کی چوٹی بعد میں کاٹنی تھی پہلے اس نے تیری یہ قینچی کی طرح تیز چلتی زبان کاٹنی تھی ۔۔۔۔۔۔

آیا بڑا اس کی چوٹی کاٹنے والا ۔۔۔۔  اللّٰہ نہ کرے یار کیسا دوست ہے توں بد دعائیں دے رہا ہے ۔۔۔۔۔

چل اب گھر چلتے ہیں وہاں جا کر کچھ آرڈر کریں گے عون اسے پکڑ کر اپنی گاڑی کے پاس لے گیا۔۔۔۔۔

آریان نے جا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اتنے میں ایک بچہ عون کے پاس سے آئسکریم لے کر گزرا جسے وہ جلدی سے کھینچ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

چل جلدی کر سٹارٹ اب کیا بچے کی ماں سے بھی مار کھلوانے کا ارادہ ہے عون آریان کو منہ کھولے دیکھ آئسکریم کا چمچ منہ میں ڈال کر بولا ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ بچہ روتے ہوئے اپنی ماں کو لے کر ان تک پہنچتا آریان نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور دونوں وہاں سے نکل گئے۔۔۔۔۔۔

کمینے بغیرت انسان لاکھوں کا تو مالک ہے اور حرکتیں دیکھ اپنی چوروں سے بھی بڑھ کے ہیں ۔۔۔۔۔

تجھے ذرا بھی شرم نہیں آئی ایک چھوٹے بچے سے آئسکریم کھینچتے ہوئے آریان نے اسے آئسکریم کا خالی ڈبہ باہر پھینکتے دیکھ ایک دھموکہ اس کی کمر میں جڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔

اب بھوک لگی تھی تو کیا کرتا کچھ تو کھانا ہی تھا بچے کے ہاتھ میں آئسکریم دیکھی تو سوچا اس پر ہی گزارا کر لیتا ہوں وہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑے بولا ۔۔۔۔۔

آریان بس نفی میں سر ہلا کے رہ گیا اب وہ اسے کیا کہتا ۔۔۔۔۔

ایسے ہی دونوں باتوں باتوں میں فلیٹ میں پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔۔

میں بہت تھک گیا ہوں اب میرا تیرے ساتھ مغز ماری کا کوئی ارادہ نہیں ہے اس لیے جلدی کر اور دو پزے آرڈر کر ۔۔۔۔۔

میرا میرے روم میں پہنچا دینا وہ اسے حکم دیتا اپنے کمرے میں چلا گیا پیچھے سے عون بھی پزے کا آرڈر 

کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد پزا آیا تو عون ایک پزا آریان کو اس کے کمرے میں دیتا دوسرا اپنے کمرے میں لے کے بند ہوگیا ۔۔۔۔۔۔

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

رواحہ نیند کی وادیوں میں گم تھی جب کھڑکی سے ایک ہیولہ اس کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔

وہ دبے قدموں سے چلتا اس تک پہنچا اور پھر اس کے ناک پر کلوروفام والا رومال رکھنے کے بعد اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔۔۔۔

اپنا کام مکمل ہو جانے کے بعد وہ جیسے کمرے میں آیا تھا رومال اٹھاتے ویسے ہی کھڑکی سے واپس چلا گیا۔۔۔۔۔

اب بس اسے صبح ہونے کا انتظار تھا ۔۔۔۔

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀

صبح رواحہ کی آنکھ کافی دیر بعد کھلی تھی صبح کے نو بج چکے تھے جب وہ اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

اف اللّٰہ میرے سر میں اتنا درد کیوں ہے اور یہ سر اتنا بھاری کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے کل ٹائم سے سوگئی تھی اور اب بھی لیٹ اٹھی ہوں اس لیے ایسا فیل ہو رہا ہے اس نے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے سوچا۔۔۔۔۔

او مائی گاڈ نو بج چکے ہیں میں تو آفس کے لیے لیٹ ہو رہی ہوں اٹھ رواحہ جلدی کر فریش ہو اور جلدی سے آفس پہنچ ورنہ آریان شاہ کو تجھے ذلیل کرنے کا ایک اور موقع مل جائے گا ۔۔۔۔۔

وہ خود سے بڑبڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھی اور کبرڈ کی طرف بھاگی لیکن وہاں پر خالی کبرڈ اس کا منہ چڑا رہی تھی ۔۔۔۔۔

میرے کپڑے کہاں گئے ۔۔۔۔ رات کو تو تھے۔۔۔۔ تو پھر اب وہ جلدی سے ہوش میں آتی ادھر ادھر نظریں گھماتے بڑبڑائی۔۔۔۔

لیکن پھر نظر بیڈ کی رائیٹ سائیڈ پر گئی جہاں اس کے کپڑوں کا ڈھیر نیچے زمین پر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

وہ فلحال کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتی تھی اس لئے جلدی سے ان کپڑوں کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔

لیکن یہ کیا کپڑے تو پہننے والے تھے ہی نہیں سارے کے سارے پھٹے ہوئے تھے اور ان کے اوپر ایک چٹ پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

جسے رواحہ نے جلدی سے اٹھا کر پڑھنا شروع کیا جس کے اوپر ہیپی والی گڈ مارننگ ڈیئر وائفی لکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ہنسنے والی سمائلی بنائی گئی تھی۔۔۔۔۔۔

آہہہہہہہہہ ،،، آریان شاہ آئی ول کل یو وہ چٹ کو مٹھی میں جکڑے چینخی ۔۔۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس وقت آریان شاہ اس کے سامنے ہو اور وہ اس کا گلا ہی دبا ڈالے ۔۔۔۔۔

یو ول پے فار دس آریان شاہ ،،، وہ واپس سے آکر بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

اف یار اب کیا کروں آفس بھی جانا ہے اس نائیٹ ڈریس میں بھی نہیں جا سکتی جانا بھی ضروری ہے آج پھر وہ جاہل انسان مجھ سے پہلے پہنچ چکا ہوگا ۔۔۔۔۔۔

بس ایک دفع آفس پہنچ جاؤں آریان سود سمیت تم سے بدلہ لوں گی وہ خیالوں میں ہی آریان شاہ کو مخاطب کرتے بڑبڑائی ۔۔۔۔۔

وہ کچھ سوچتے ہوئے اٹھ کر نوشیبہ بیگم کے کمرے کی طرف گئی تھی ۔۔۔۔۔

ماما آپ کے پاس اس وقت کوئی ایسا ڈریس ہے جو میں پہن سکوں ،،، اس نے نوشیبہ بیگم کے کمرے میں جا کر پوچھا ۔۔۔۔۔

لیکن تمھیں کیوں ڈریس کی ضرورت آن پڑی تمھارے پاس ہیں تو سہی بہت سارے نوشیبہ بیگم نے تھوڑا حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

تھے تو سہی ماما لیکن آپ کے گھٹیا بھتیجے نے سارے خراب کر دیے ہیں آریان کی حرکت یاد کرتے غصے سے ناک پھلائے اس نے اپنی ماما کو بتایا۔۔۔۔۔۔

کیا کہہ رہی ہو میرے بھتیجے نے کیسے ؟؟؟ نوشیبہ بیگم کو کچھ سمجھ میں ہی نہ آیا وہ کیا کہہ رہی ہے اور آریان اس کے کپڑے کیسے خراب کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

جبکہ وہ تو یہاں پر ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا رواحہ تم کیا کہہ رہی ہو کلیئر بتاؤ ؟؟؟ نوشیبہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

ماما رات کو وہ چور پتا نہیں کیسے چھپ چھپا کر میرے کمرے میں آیا تھا اور پھر میرے سارے کے سارے ڈریسز کا ستیاناس کر کے چلا گیا جو کہ اب پہننے کے لائق بلکل بھی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔

رواحہ نے اپنی ماں کو بتایا جن کے چہرے پر اب رواحہ کی بات سن کر مسکراہٹ پھیل چکی تھی ۔۔۔۔

ماما آپ کو ہنسی آ رہی ہے اس نے اپنی ماں کو ہنستے دیکھ صدمے سے پوچھا ۔۔۔۔۔

آریان شاہ مینشن میں آیا تھا رواحہ ۔۔۔۔۔ اس نے کتنے سالوں بعد اس گھر میں قدم رکھے یہ تو خوشی کی بات ہے نا مجھے داجی کو بھی بتانا چاہیے وہ تو سن کر بہت خوش ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔

نوشیبہ بیگم رواحہ کی اگلی کوئی بھی بات سنے بغیر جلدی سے داجی کے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔

یہ ماما کو کیا ہوگیا ہے ؟؟؟ اس کے بارے میں سن کر ایسے بھاگی ہیں جیسے ان کی کوئی لاٹری نکل آئی ہو ۔۔۔۔۔۔

وہ کندھے اچکاتی واپس سے اپنے کمرے میں جانے لگی تھی جب اسے باہر دروازے پر ہوتی بیل سنائی دی ۔۔۔۔۔

ماما تو گئیں داجی کے کمرے میں لگتا ہے اب مجھے ہی دروازا کھولنا پڑے گا وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے مین گیٹ کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

جی آپ کون ؟؟؟ رواحہ نے جیسے ہی گیٹ کھولا اسے باہر ایک لڑکا ہاتھ میں بہت سارے شاپنگ بیگز پکڑ کر کھڑے نظر آیا ۔۔۔۔۔

یہ مس رواحہ کے لیے ہیں سامنے کھڑے ڈیلیوری بوائے نے جلدی سے بتایا ۔۔۔۔۔

لیکن میں نے تو کچھ بھی آرڈر نہیں کیا ؟؟؟ اور ہاں ویسے ان بیگز میں ہے کیا ؟؟؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

جی اس میں ڈریسز ہیں ،،، اس لڑکے نے مؤدبانہ انداز میں جواب دیا ۔۔۔۔

میں نے ڈریسز کا کوئی آرڈر نہیں دیا اس لیے آپ یہ واپس لے کر جا سکتے ہیں وہ کہہ کر واپس پلٹنے لگی۔۔۔۔۔

جب ڈیلیوری بوائے نے اسے روک کر جلدی سے گھر کا ایڈریس اور نام دکھایا تھا جسے دیکھ کر رواحہ خود بھی حیران تھی ۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ ڈریسز کا آرڈر میں نے نہیں دیا تو پھر کس نے دیا اس نے ایک بار پھر سے ڈیلیوری بوائے سے کہا۔۔۔۔۔

میم شاید آپ کے گھر میں سے کسی نے دیا ہو ،،،، 

نہیں میرے گھر میں سے کسی نے نہیں دیا ،،، ابھی بھی وہ ڈیلیوری بوائے سے پوچھنے میں مگن تھی جب اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔

میں نے دیا ہے ڈریسز کا آرڈر اس نے پیچھے مڑ کر بولنے والی شخصیت کی طرف دیکھا  ۔۔۔۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 07 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more