کراچی کے پرانے علاقے صدر میں ایک بوسیدہ، خستہ حال عمارت تھی — رومی مینشن۔ کبھی یہ عمارت برطانوی دور میں افسران کی رہائش ہوا کرتی تھی، مگر اب صرف گندگی، تنہائی اور ٹوٹی ہوئی اینٹیں اس کی پہچان تھیں۔
اسی عمارت کی تیسری منزل پر ایک کمرہ تھا — دروازہ نمبر 313۔
یہ دروازہ کبھی کھلتا نہیں تھا، اور کبھی کسی نے بند کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا۔
لوگوں کا کہنا تھا، جو بھی اس دروازے کے اندر گیا، وہ واپس تو آیا… لیکن بدل کر۔ جیسے اس کی آنکھوں میں کچھ اور آ گیا ہو۔ جیسے وہ کسی اور کی باتیں سننے لگا ہو۔
عمار ایک 21 سالہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ تھا، جو فوٹوگرافی اور پرانی عمارتوں کا دیوانہ تھا۔ جب اسے رومی مینشن کے بارے میں سنا، تو اس نے کیمرہ اٹھایا اور فوراً نکل پڑا۔
“ایسی جگہوں کی تصویریں نیشنل جیوگرافک کے معیار کی ہوتی ہیں،” وہ دوستوں سے کہتا۔
جب وہ پہلی بار عمارت کے اندر داخل ہوا، ایک ٹھنڈی سی بو نے اس کا استقبال کیا۔ سیڑھیاں ٹوٹی ہوئی، در و دیوار پر پرانی اردو تحریریں، اور ہر طرف اداسی کا سایہ۔
مگر جب وہ تیسری منزل پر پہنچا، تو اسے کچھ عجیب محسوس ہوا۔ جیسے زمین ہلکی سی کانپ رہی ہو۔ اور سامنے… دروازہ نمبر 313 بند تھا — مگر نیچے فرش پر تازہ مٹی تھی۔
اور دروازے کے نیچے سے… کوئی سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔
عمار نے باقی وقت عمارت کی تصویریں لیتے گزارا، مگر دماغ میں 313 کا دروازہ گھومتا رہا۔
اسی رات، اپنے کمرے میں لیٹے ہوئے، وہ دروازے کی تصویر کو مسلسل دیکھتا رہا۔ جب اچانک — تصویر کی روشنی کم ہونے لگی، اس کے موبائل کی اسکرین جھپکنے لگی۔
پھر اسکرین پر وہی دروازہ نظر آیا… مگر کھلا ہوا۔
اور اندر، زینے… جو نیچے کی طرف جا رہے تھے۔ ختم ہوتے دکھائی نہیں دیتے تھے۔
اچانک اس کے فون سے ایک سرگوشی آئی:
“واپس مت آنا…”
اگلی صبح عمار دوبارہ رومی مینشن گیا۔ دروازہ 313 اب بھی بند تھا… مگر اس بار، بغیر کسی کوشش کے، خودبخود کھل گیا۔
اندر مکمل اندھیرا تھا، مگر بیچ میں لکڑی کا ایک زینہ نیچے جاتا ہوا نظر آ رہا تھا — جیسے زمین کے اندر کوئی تہہ ہو۔
عمار نے کیمرہ نکالا، فلیش آن کیا، اور قدم بڑھایا۔
ہر قدم کے ساتھ درجہ حرارت کم ہوتا گیا۔ دیواروں پر نمی، سانسوں میں بھاپ… اور نیچے سے کچھ آوازیں، جیسے کوئی بچے ہنس رہے ہوں… اور رو بھی رہے ہوں۔
پھر وہ نیچے پہنچا — ایک گول کمرہ، جس کی دیواروں پر خون سے بنے ہوئے ہاتھوں کے نشان تھے۔
اور درمیان میں ایک کرسی — جس پر ایک عورت کی لاش بیٹھی تھی۔
آنکھیں کھلی ہوئی۔ اور چہرے پر مسکراہٹ۔
عمار نے فوراً پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن زینہ غائب ہو چکا تھا۔ کمرے کی دیواروں پر سرگوشیاں ہونے لگیں — جیسے دیواریں باتیں کر رہی ہوں۔
“تم آ گئے… تم نے وعدہ توڑا…”
عمار کی نظر عورت کے چہرے پر ٹھہر گئی — وہ لاش اب آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ پھر، اس کی گردن دائیں طرف مڑی، اور وہ سیدھا عمار کو دیکھنے لگی۔
“تمھیں وہی بننا ہو گا… جو میں بنی تھی…”
کئی دن بعد، عمار کا کیمرہ کسی کو عمارت کے باہر سیڑھیوں پر ملا۔ کیمرے میں صرف ایک تصویر محفوظ تھی۔
ایک عورت، سیاہ لباس میں، پرانی کرسی پر بیٹھی، اور اس کی آنکھوں میں عمار کی آنکھیں جھلک رہی تھیں۔
لوگ کہتے ہیں — اب جب بھی کوئی دروازہ نمبر 313 کے قریب سے گزرتا ہے، تو اندر سے ایک فلیش کی روشنی جھلکتی ہے۔
اور دروازے کے نیچے سے کسی نئے مہمان کی سانس سنائی دیتی ہے۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Darwaza No 313 Door no 313 Horror story” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.