کیا بات ہے؟ ۔۔ عمران نے قدرے پریشانی اور حیرت سے پوچھا۔ جناب ۔۔ صاحب ۔۔۔۔ اور پھر سلمان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔ عمران ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا ۔ اُسے خیال گزرا کہ کہیں سلیمان کوئی شرارت نہ کر رہا ہو۔ مگر دوسرے لمحے اس نے یہ خیال ترک کر دیا کیونکہ رات کے دو بجے سلیمان، عمران کو اس طرح جھنجوڑ کر اٹھانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا ۔ دوسرا وہ بےاختیار رو رہا تھا۔ یہ کم از کم عمران کے نزدیک اداکاری نہیں ہو سکتی تھی ۔
کیا ہوا ؟ کیا بات ہوگئی۔ کچھ بتاؤ تو سہی؟ ۔۔۔ عمران نے بے اختیار پوچھا.
جناب ہم لٹ گئے جناب ۔۔۔۔ سلیمان نے بے اختیار نکلتی ہوئی سسکیوں کے درمیان بڑی مشکل سے جواب دیا ۔
ارے کیا ہوا ہے۔ کیا چوری ہوگئی ہے؟ ۔۔۔۔ عمران کا لہجہ اب تلخ ہوگیا۔۔ خواہ مخواہ سسپنس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہو ۔ جلدی بتاو کیا بات ھے ؟ ۔۔
بڑے صاحب کا انتقال ہو گیا ہے ۔۔۔ سلیمان نے رک رک کر بات مکمل کی۔
عمران ایک منٹ تک تو سمجھ نہ سکا۔ مگر دوسرے لمحے اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے سر پر بم پھٹ پڑا ہو۔
کک ۔۔۔ کیا ابا جان ۔۔۔ عمران سے فقرہ مکمل نہ ہو سکا۔ یہ وہی عمران تھا جو دنیا کے بڑے سے بڑے غم کو مسکرا کر ٹال دیا کرتا تھا ہکلا کر رہ گیا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا ۔
جی ہاں ۔۔ ابھی ابھی کوٹھی سے فون آیا ہے کہ بڑے صاحب حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے ہیں ۔۔۔ سلیمان نے جو اب قدرے سنبھل گیا تھا تفصیل سے بتلایا۔
ابا جان ۔۔۔ عمران نے بمشکل کہا اور پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ایک لمحے تک وہ سر پکڑے بیٹھا رہا۔ دوسرے لمحے وہ چونک کر اٹھا اور پھر بغیر کپڑے تبدیل کیے صرف سلیپنگ گاؤن پہن کر تیزی سے سیڑھیاں اترتا چلا گیا ۔ چند لمحے بعد اس کی کار اپنی پوری رفتار سے کوٹھی کی طرف اڑی چلی جا رہی تھی۔ جلد ہی وہ کوٹھی کے پھاٹک پر جا پہنچی ۔
کوٹھی کا پھاٹک کھلا ہوا تھا۔ عمران کار سیدھی پورچ کی طرف بڑھاتا چلا گیا۔ کوٹھی کی بتیاں روشن تھیں اور کوٹھی پر گہرا سکوت طاری تھا۔ وہ تیزی سے کار سے اترا اور پھر بغیر کار کا دروازہ بند کیے بھاگتا ہوا اندر چلا گیا۔
ہال میں داخل ہوتے ہی دہ ایک جھٹکے سے رک گیا۔ وہاں ملازموں کے علاوہ ڈاکٹر بھی کھڑا نظر آیا ۔ درمیان میں اُسے اپنی والدہ اور ثریا نظر آئیں جو دونوں بے ہوش پڑی تھیں اور ڈاکٹر ثریا کی نبض تھامے کھڑا تھا۔
ہال میں گہرا سکوت تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی انجانی قوت نے سب کو بت کی شکل میں تبدیل کر دیا ہو۔ عمران کے رکتے ہی سب چونک کر مڑے اور پھر دو ملازم عمران کو دیکھ کر بے اختیار اس کی طرف بڑھے مگر عمران ان کی پرواہ کئے بغیر مشینی انداز میں قدم بڑھاتا ہوا والدہ کی طرف بڑھتا چلا گیا ۔ ڈاکٹر ایک طرف ہٹ گیا عمران ایک لمحے کے لیے بغور والدہ اور ثریا کی طرف دیکھتا رہا اور پھر قریب موجود ڈاکٹر کی طرف مڑ گیا ۔
اب وہ حیرت انگیز طور پر سنبھل گیا تھا۔ اچانک خبر سے پیدا ہونے والے اعصاب شکن صدمے کی گرفت سے نکل آیا تھا۔ فاروقی صاحب ! یہ سب کیسے ہوا؟ ۔۔۔ عمران نے قدرے گلوگیر آواز میں اپنے خاندانی ڈاکٹر فاروقی سے پوچھا ۔
بیٹا مجھے افسوس ہے۔ لیکن خدا کی قدرت میں کسے دخل ہے۔ تقریباً آدھ گھنٹہ پہلے مجھے ثریا کا ٹیلیفون ملا کہ ابا جان کی طبیعت سخت خراب ہے ۔ فوراً آئیے ۔ میں فوراً پہنچا مگر جب یہاں پہنچا تو رحمان صاحب انتقال کر چکے تھے اور آپ کی والدہ اور ثریا دونوں بے ہوش تھیں ۔۔
اب ان کی کیا پوزیشن ہے ؟ ۔۔۔ عمران نے پوچھا ۔
خطرے والی کوئی بات نہیں۔ اچانک صدمے سے بیہوش ہو گئی ہیں میں نے انجکشن لگا دیئے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہوش میں آجائیں گی ۔۔
ابا جان ؟ ۔۔۔ عمران نے سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ۔
میرے ساتھ آیئے ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا دوسرے کمرے کی طرف مڑ گیا ۔ عمران اس کے پیچھے تھا۔
یہ کمرہ رحمان صاحب کی خواب گاہ تھا۔ پلنگ پر رحمان صاحب چت لیٹے ہوئے تھے اور ان کی لاش سفید کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر فاروتی نے رحمان صاحب کے چہرے سے کپڑا ہٹا دیا ۔ رحمان صاحب کی آنکھیں بند تھیں چہرے پر گہرا سکون طاری تھا ۔
ابا جان ۔۔۔ عمران کے منہ سے بے اختیار نکلا اور دوسرے لمحے وہ رحمان صاحب کی لاش پر سر رکھے بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بےاختیار نکل رہے تھے ۔ ڈاکٹر فاروقی نے شفقت سے عمران کے سر پر ہاتھ رکھا اور عمران کو کندھے سے پکڑ کر اٹھا لیا۔
انہوں نے رحمان صاحب کا چہرہ دوبارہ کپڑے سے ڈھانپ دیا اور پھر عمران کو سہارا دیگر کمرے سے باہر لے آئے ۔ رونے سے عمران کا غم کچھ ہلکا ہوگیا تھا۔ اور پھر اسے اپنی پوزیشن کا بھی احساس تھا ۔ والدہ اور ثریا دونوں بے ہوش تھیں۔ اب اس نے انہیں دلاسہ دینا تھا ۔ اگر وہ خود ہی روتا رہا تو ہو سکتا ہے کہ والدہ اُسے روتا دیکھ کر غم برداشت نہ کر سکیں اور یہ دوسرا صدمہ وہ جھیلنے کی اپنے اندر طاقت نہیں رکھتا تھا اس لیے اس نے رومال سے آنسو پونچھ لیے اور آکر والدہ کے سربانے بیٹھ گیا۔
چند لمحوں بعد ثریا کو ہوش آنے لگا ۔ ہوش میں آتے ہی وہ چند لیے بھنچی بھنچی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھتی رہی جیسے اُسے چاروں طرف کچھ بھی نظر نہ آرہا ہو۔ پھر اس کی آنکھیں عمران پر مرکوز ہو گئیں اور دوسرے لمحے وہ اٹھ کر عمران سے لیٹ گئی ۔
بھائی جان ۔۔ اباجان ۔۔۔ اور ثریا کی آنکھوں سے آنسو طوفانی بارش کی طرح برسنے لگے ۔ عمران کی آنکھیں بھی نم آلود ہو گئیں۔ وہ آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ روتی ہوئی بہن کے سر پہ پھیرنے لگا ۔ جیسے اُسے دلاسہ دے رہا ہو ۔
بھائی جان ! خدا کے لیے ابا جان کو واپس بلاو بھائی جان ۔۔۔ ثریا نے روتے روتے کہا اور پھر بے تابی سے سر پٹکنے لگی۔
ثریا صبر سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہیں روتا دیکھ کے والدہ کو کچھ ہو جائے؟ ۔۔۔ عمران نے بہن کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔ اور ثریا عمران کو چھوڑ کر اپنی بیہوش والدہ سے لپٹ کر چیخنے لگی ۔ اور پھر عمران نے اُسے آہستہ سے علیحدہ کر لیا۔
ثربا کی سسکیاں بند نہیں ہو رہی تھی۔ عمران پھر والدہ کی طرف متوجہ ہو گیا جنہیں ہوش آ رہا تھا۔ اور انہیں ہوش میں آتے دیکھ کر ثربا نے بھی اپنی سسکیوں پر قابو پالیا۔ والدہ نے آنکھیں کھولتے ہی عمران کی طرف دیکھا اور بازو اس کی طرف بڑھا دیئے ۔
عمران تمہارے ڈیڈی ۔۔
عمران بے اختیار ہو کر والدہ سے لیٹ گیا۔
امی ۔۔۔ عمران شدت غم سے صرف اتنا کہہ سکا۔ ثریا بھی بے اختیار والدہ سے لیٹ گئی ۔ پاس کھڑے ہوئے ملازم بھی یہ منظر دیکھ کر رو رہے تھے۔ ڈاکٹر فاروقی کی آنکھیں بھی غم آلود ہو گئیں سلیمان بھی آگیا تھا ۔ اور وہ بھی ایک طرف کھڑا آنسو بہا رہا تھا۔
عمران کی والدہ کی آنکھیں بری طرح اشکبار تھیں۔ ڈاکٹر نے انہیں روتا دیکھ کر اطمینان کا سائنس لیا۔ کیونکہ اب اُسے تسلی تھی کہ حالت خطرناک نہیں ہوگی ورنہ اسے خطرہ تھا کہ اگر انہوں نے چپ سادھ لی تو یقینا وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔
اس طرف سے مطمئن ہو کر اس نے بال کمرے میں آکر ٹیلی فون اٹھایا اور سر سلطان کو ٹیلیفون کرنے لگا۔ کیونکہ وہ رحمان صاحب کے انتقال کی اطلاع سرسلطان کو فوری طور پر پہنچانا چاہتا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام اعلی حکام سر رحمان کی کوٹھی پر پہنچ گئے ۔ صبح ہوتے ہی اخباروں کے ھاکر گلیوں میں چیخ رہے تھے۔
” انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل سر رحمان حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے “
۔۔۔۔۔۔۔
سر رحمان کو آج ان کے خاندانی قبرستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ جنازے میں اعلی احکام سے لیکر انٹیلی جنس کے ادنی ملازم تک موجود تھے ۔ صدر مملکت نے بھی عمران سے ٹیلیفون پر تعزیت کی تھی ۔ اس کے علاوہ کوٹھی پر تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اور عمران کو سخت وحشت ہو رہی تھی۔ وہ یہاں بےبس ہو کر رہ گیا تھا۔ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔
آہستہ آہستہ تعزیت کرنے والوں کی تعداد میں کمی آتی گئی اور اب عمران کے پاس سرسلطان اور ٹیم کے ممبران جولیا ۔ صفدر – کیپٹن شکیل ۔ تنویر ۔ چوہان ، نعمانی جوزف اور بلیک زیرو رہ گئے تھے۔
بلیک زیرو اپنی اصلی شکل میں وہاں موجود تھا۔ ٹیم کے تمام ممبران اسے عمران کا کوئی دوست وغیرہ سمجھ رہے تھے۔ سر سلطان بھی تھوڑی دیر بعد رخصت ہو گئے ۔ اور ان کے رخصت ہوتے ہی عمران نے جوزف سے کہا ۔ جوزف دروازه بند کر دو اور اب کسی کو اندر نہ آنے دینا۔ اور جوزف سر ہلا کر ہال سے باہر نکل گیا۔ اس کے چہرے پر گہری اداسی کے بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ٹیم کے تمام مہران خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ کیونکہ وہ ایک اجنبی کے سامنے کوئی بات کرنے سے کترا رہے تھے ۔ اور وہ اجنبی تھا بلیک زیرو یعنی ایکسٹو ۔۔۔
جسے ایک نظر دیکھ لینے کی شدید خواہش ہر ممبر کے دل میں موجود تھی ۔ بلیک زیرو نے بھی پوزیشن کو محسوس کیا اور پھر اس نے اٹھتے ہوئے عمران سے کہا ۔
اچھا عمران صاحب! مجھے اجازت دیجئے اور میری طرف سے اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو بھی صبر کی تلقین کیجئے ۔۔۔ بلیک زیرو نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
شکریہ ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر وہ عمران سے ہاتھ ملا کر باہر نکل گیا۔
عمران ہمیں افسوس ہے ۔۔۔ بلیک زیرو کے باہر جاتے ہی جولیا نے پہل کی.
کسی بات کا ؟ ۔۔۔ عمران نے سر اٹھا کر حیرت سے پوچھا۔ عمران اب پوری طرح سنبھل چکا تھا۔ اور صبح سے سوگوار بیٹھے بیٹھے وہ بور ہو گیا تھا۔ اس کی طبیعت ایسی تھی کہ وہ زیادہ دیر تک سنجیدہ نہیں رہ سکتا تھا ۔ اب اس کی شوخی دوبارہ لوٹ آئی تھی ۔
آپ کے والد صاحب کے انتقال فرمانے کا ۔۔۔ جولیا نے حیرت سے بھر پور لہجیے میں کہا ۔
اس میں آپ کو کس بات کا افسوس ہونے لگا ؟ ۔۔۔ والد میرے فوت ہوئے ہیں اور افسوس آپ کو ہونے لگا ہے ۔۔۔ عمران نے قدرے سخید گی سے کہا .
جولیا ہکا بکا رہ گئی۔ باقی ممبران بھی حیرت سے عمران کی طرف دیکھ رہے تھے۔ سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گونجا کہ کیا عمران اپنا زہنی توازن تو نہیں کھو بیٹھا اور اگر ایسا ہے تو یہ رحمان صاحب کی وفات سے بھی بڑا المیہ ہے .
ارے تم سب کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ ۔۔۔ عمران نے ان سب کو یوں آنکھیں پھاڑے خاموش دیکھ کر کہا ۔
ہم تمہارے والد کی وفات کا افسوس کرنے آئے ہیں ۔۔۔ صفدر نے سکوت تو توڑا ۔ ۔ –
اس کا تو مجھے پتہ ہے ۔ اب میرا دماغ تو خراب نہیں کہ میں سمجھوں تم اپنی شادی کی اطلاع دینے آئے ہو۔ پھر اس فقرے کا مطلب ؟ عمران نے ٹیم کو مزاحیہ انداز میں کہا ۔
عمران صاحب ۔۔۔۔ تنو پر نے کچھ کہنا چاہا۔
اب آپ کی باری ہے افسوس کرنے کی۔ بھٸی بہت ہو چکا افسوس ۔ میں تنگ آگیا ہوں اس بات سے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ کسی مجرم کو پانی پینے سے زیادہ خوفناک سزا سے یہ دی جا سکتی ہے کہ اس کے والد کو ختم کر کے اس سے تعزیت کرنے بیٹھ جائیں ۔ شام تک وہ یقینا خود کشی کر لے گا۔ بھئی کوئی اور بات کرو بہت ہو چکی تعزیت ۔۔۔۔ عمران نے خوش دلی سے کہا ۔
پھر ہمیں اجازت دیجئے ۔۔۔ کیپٹن شکیل پہلی دفعہ بولا ۔
ارے کیوں کیا ناراض ہو گٸے ہو ۔۔۔ عمران نے حیرت سے پوچھا۔ نہیں یہ بات نہیں ۔ آپ واقعی تھک گٸے ہوں گے اور دوسرے اس وقت کوئی اور بات کرنے کو جی نہیں چاہتا ۔ اس لیے ہمیں اجازت دیجئے اور آپ بھی آرام فرماٸیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے جواب دیا اور سب نے تائید کی ۔
اچھا تمہاری مرضی ۔۔۔ عمران بھی اب واقعی کچھ ریسٹ کرنا چاہتا تھا۔ سب نے ہاتھ ملایا اور چل دیٸے ۔ اور عمران اندر والدہ اور ہمشیرہ کے پاس چلا گیا ۔
رات کا پرہول سناٹا چاروں طرف چھایا ھوا تھا۔ ہر طرف ایک بھیانک خاموشی مسلط تھی ۔دارالحکومت سے دس میل دور احمد نگر کے ایک کچے مکان کے صحن میں البتہ کچھ چہل پہل محسوس ہو رہی تھی ۔ دو تاریک سائے اندھیرے میں ادھر ادھر چل پھر رہے تھے ۔
مارٹن ۔۔۔ ایک کرخت آواز اندھیرے میں گونجی ۔
یس باس ۔۔۔ بائیں طرف کے کونے سے منحنی سی آواز نے جواب دیا ۔
سلامو ابھی تک کیوں نہیں آیا ؟ ۔۔۔ دوبارہ وہی کرخت آواز سنائی دی ۔
کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا باس ۔۔ اب تک تو انہیں آجانا چاہئے تھا۔ منحنی آواز والے مارٹن نے جواب دیا ۔
موڑ پر کتنے آدمی موجو د ہیں ؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا۔
تین باس ۔۔
ہوں ۔۔
اور پھر دوبارہ خاموشی چھا گئی ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد باس نے دوبارہ کہا ۔۔ مارٹن میں آپریشن روم میں جا رہا ہوں ، جیسے ہی کیس آئے۔ فوراً میرے پاس لے آنا ۔۔
او کے باس ۔۔۔ مارٹن نے مودبانہ انداز میں جواب دیا اور پھر ایک سایہ سا صحن سے ہوتا ہوا اندر تاریکی میں گم ہو گیا ۔
تقریباً آدھے گھنے بعد مکان سے باہر دبے دبے قدموں کی آواز گونجی اور مارٹن چوکنا ہو گیا ۔ چند لمحے بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔
کون ہے ؟ ۔۔۔ مارٹن نے پوچھا ۔
سلامو ۔۔۔ باہر سے ایک سنجیدہ آواز نے نے جواب دیا۔ ۔
کوڈ ؟ ۔۔۔ منحنی آواز نے سوال کیا ۔ ۔
لاش زندہ ہے ۔۔۔ سنجیدہ آواز والے سلامو نے کہا ۔ اور پھر دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور باہر رکے ہوتے سائے اندر داخل ہو گئے ۔
پاس کہاں ہے؟ ۔۔۔ سلامو نے پوچھا ۔
آپریشن روم میں ۔۔۔ مارٹن نے جواب دیا ۔ اور سلامو نے بغیر کوئی جواب دیئے برآمدے کی طرف قدم بڑھا دیٸے۔ اس نے کاندھے پر کوئی بوجھ سا اٹھایا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ آنے والے دو آدمی وہیں رک گئے ۔ مارٹن بھی اس کے پیچھے اندر کی طرف لپکا۔
تاریک برآمدے سے ہوکر وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں آئے ، کمرہ بھی تاریک تھا ۔ کمرے کے ایک کونے میں دروازہ تھا جس کی دوسری طرف سے روشنی چھن چھن کر ادھر آرہی تھی ۔ سلامو نے ایک ہاتھ سے بوجھ سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے دروازہ کھول دیا ۔ یہ ایک بڑا کمرہ تھا جس میں کوڑا کرکٹ اور کاٹھ کباڑ بھرا ہوا تھا۔ گندے برتن میلے کپڑے اور ٹوٹی ہوئی جھلنگا سی چارپائیاں چاروں طرف بکھری پڑی تھیں ۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کمرے میں بھکاریوں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہو۔ کمرےمیں مٹی کے تیل کا دیا جل رہا تھا جس کی ملگجی سی روشنی نے کمرے کی گندگی کو اور بھی نمایاں کر دیا تھا ۔
سلامو تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ایک چارپائی کی طرف بڑھا اور پھر اس نے چارپائی کو پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچ کر چھوڑ دیا۔ سامنے کی دیوار ایک ہلکی سی گڑ گڑاہٹ سے ایک طرف ھٹ گئی اور اس میں ایک کافی بڑا خلا نظر آنے لگا۔ سلامو اور مارٹن دونوں اس خلا میں گھس گئے۔
ان کے اندر جاتے ہی دیوار دوبارہ برابر ہوگئی، دیوار کی دوسری حرف ایک طویل راہداری تھی جس میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برقی بلب جل رہے تھے ۔ راہداری ختم ہوتے ہی ایک فولادی دروازہ تھا جو اس وقت بند تھا ۔
سلامو نے دروازے کے قریب پہنچ کر اس پر لگا ہوا ایک چھوٹا سا بٹن دو بار دپایا تو بند دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ چند لمحوں بعد دروازہ پوری طرح کھل چکا تھا۔ اندر ایک خاصا بڑا ہال تھا جو روشنی میں جگمگا رہا تھا۔ ہال میں مختلف میزیں اس طرح فٹ تھیں جیسے آپریشن روم میں ہوتی ہیں ۔ وہیں ایک طرف ایک چوڑے کندھوں والا آدمی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے ڈاکٹروں والا سفید گاؤن پہنا ہوا تھا۔ سر پر سفید ٹوپی اور چہرے پر سفید نقاب لگایا ہوا تھا، صرف آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جن کا رنگ گہرا سرخ تھا اور ایسے لگتا تھا جیسے ان میں سے وقفے وقفے کے بعد چنگاریاں سی پھوٹ رہی ہوں ۔
سلامو اور مارٹن دونوں دروازے میں داخل ہو کر رک گئے۔ سلامو ایک دبلا پتلا نوجوان تھا ۔ داڑھی بڑھی ہوئی تھی ۔ جسم دبلا پتلا ہونے کے باوجو و خاصا طاقتور نظر آرہا تھا۔ اس نے کاندھے پر ایک سفید سی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی ۔
مارٹن سلامو کے مقابلے میں لحیم شحیم جسامت کا مالک تھا۔ چہرہ انتہائی مکروہ تھا۔ سارے چہرے پر داغ ہی داغ تھے ۔ بائیں کان کی لو سے لے کر نیچے گردن تک زخم کا ایک طویل نشان تھا جس نے اس کی بدصورتی میں مزید چار چاند لگا دیئے تھے اور پھر ستم بالائے ستم یہ تھا جس سے اس اتنے لحیم شحیم جسم کے ساتھ آواز بالکل منحنی سی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی گینڈے کے منہ سے چڑیا کی آواز نکل رہی ہو ۔
لے آٸے ہو ؟ ۔۔۔ سفید نقاب پوش نے کرخت آواز میں پوچھا ۔
یس باس ۔۔۔ سلامو نے مودبانہ انداز میں جواب دیا ۔
کوئی رکاوٹ تو پیش نہیں آئی ؟ ۔۔۔ باس بولا –
نہیں پاس ! ۔۔ سب کام ٹھیک ٹھاک ہو گیا ہے؟ ۔۔۔ سلامو نے جواب دیا .
اوکے ۔۔ اسے سنٹرل ٹیبل پر ڈال دو اور تم جاؤ اور صبح اپنی مقرہ جگہ پر پہنچ جانا ۔۔۔ باس نے حکم دیا۔ وہ اب کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوا گیا تھا۔
سلامو نے آگے بڑھ کر وہ سفید سی گٹھڑی ہال کے درمیان میں پڑی ہوئی بڑی میز پر ڈال دی اور پھر مڑ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔
مارٹن ! دروازہ بند کر دو ۔۔۔ باس نے مارٹن کو حکم دیا اور مارٹن نے مڑ کر دروازہ بند کر دیا۔
باس قدم بڑھا کر میز کے قریب آیا اور پھر اس نے اس گھڑی کو سیدھا کر دیا ۔ یہ دراصل لاش تھی جو سفید کفن میں لپٹی ہوئی تھی ۔ باس نے ہاتھ بڑھا کر کفن پھاڑ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اب لاش بالکل عریاں میز پر پڑی ہوئی تھی ۔
مارٹن ! سامان تیار کر کے لے آؤ ۔۔۔ باس نے لاش کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے مارٹن کو حکم دیا اور مارٹن ایک طرف کونے میں رکھی ہوئی بڑی سی الماری کی طرف بڑھ گیا ۔
چند لمحوں بعد مارٹن ایک ٹرے میں مختلف ادویات اور سرنجیں وغیرہ رکھتے ہوئے آیا اور قریب ہی پڑی ہوئی ایک تپائی پر وہ ٹرے رکھ دی۔ پھر ٹرے رکھ کر وہ دوسرے کونے کی طرف بڑھا اور کونے میں رکھی ہوئی ایک بہت بڑی مشین کو جس کے نیچے چھوٹے چھوٹے پہیے لگے ہوئے تھے گھسیٹ کر میز کے قریب لے آیا۔
مشین کے اوپر ایک راڈ پر پتلی سی جالی لگی ہوئی تھی۔ مارٹن نے راڈ کے نیچے لگے ہوئے ایک چھوٹے سے ہینڈل کو گھمایا اور جالی آہستہ آہستہ نیچے آنی شروع ہو گئی ۔ حتی کہ وہ جالی لاش کے منہ پر فٹ آ گئی ۔ لاش کا چہرہ جالی سے ڈھک گیا۔
پھر اس نے مشین کا سوٸچ آن کر دیا مشین پر لگے ہوئے مختلف ڈائل روشن ہو گئے اور سوئیاں تھرتھرانے لگیں ۔
پھر باس نے ٹرے میں پڑی ہوئی ایک بڑی سرینج اٹھائی اور ساتھ ہی رکھے ہوئے ایک پیالے میں جو کہ ہلکے نیلے رنگ کے سیال سے بھرا ہوا تھا، ڈبو دی۔ پھر دستے کو کھینچنے لگا سیال تیزی سے سرینج میں بھرنا شروع ہوگیا۔ جب سرنچ بھر گئی تو پیالہ آدھا ہو چکا تھا۔
باس نے ایک لمحے کے لیے سرینج کو بغور دیکھا اور پھر اس کے منہ پر باریک سی سوئی فٹ کی اور پھر لاش کے پیٹ پر عین ناف کے قریب اس نے سوئی گھونپ دی۔ سرینج میں بھرا ہوا سیال مادہ آہستہ آہستہ مردہ جسم میں منتقل ہونا شروع ہو گیا ۔ سرینج خالی کر کے اس نے ایک دفعہ پھر پیالے سے باقی ماندہ سیال اس میں بھرا اور دوبارہ سرینج خالی کر کے اس نے دوبارہ ٹرے میں ڈال دی اور مشین کے ڈائلوں کو بغور دیکھنا شروع کر دیا ۔ ڈائلوں کی سوئیاں تیزی سے تھرتھرا رہی تھیں، اور پھر درمیان میں لگے ہوٸے بڑے سے ڈائل کی سوئی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی مخالف سمت میں بنے ہوئے سرخ نشان کی طرف بڑھنے لگی ۔
چند لمحے بعد وہ اس سرخ نشان تک پہنچ گئی اس کے وہاں پہنچتے ہی باس نے ٹرے میں سے ایک بوتل اٹھائی اور اس کا ڈھکن کھول اس میں بھرے ہوٸے پتلے سے مادے کو مردہ جسم کے عین دل کے اوپر ڈال دیا اور پھر آہستہ آہستہ وہاں ہاتھ سے مالش شروع کردی ۔ چند منٹ بعد وہ پتلا سا مادہ جسم میں جذب ہو گیا ۔
باس ابھی مالش کر رہا تھا کہ مارٹن نے ایک اور سرینج اٹھا کر اس میں ایک دوا بھری اور باس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑا دی. مالش کرتے کرتے باس نے رک کر پھرتی سے سرنج کے ساتھ لگی ہوئی سوئی اسی جگہ پر گھونپ دی جہاں ایک لمحے پہلے وہ مالش کر رہا تھا۔ سرینج میں بھری ہوئی دوا آہستہ آہت جسم کے اندر جانے لگی۔ سرینج کے خالی ہوتے ہی اس نے اُسے واپس کھینچا اور پھر ایک طویل سانس لے کر ایک طرف ہٹ گیا ۔
مارٹن ! تم اس کا خیال رکھو اور مجھے وقتا فوقتا اس کے متعلق رپورٹ دیتے رہنا۔ میں روم نمبر تھری میں جا رہا ہوں ۔۔۔ باس نے مارٹن سے مخاطب ہوکر کہا۔
او کے باس ۔۔۔ مارٹن نے سر جھکاتے ہوئے منحنی سی آواز میں جواب دیا اور باس دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
مارٹن دروازہ بند کر کے دوبارہ لاش کی طرف آیا اور پھر بغور لاش کی طرف دیکھنے لگا۔ ساتھ ساتھ اس کی نظریں مشین کے ڈائلوں پر بھی تھیں جن کی سوئیاں اب مختلف ہندسوں کے درمیان تھرتھرا رہی تھیں ۔
لاش جو شروع میں کافی اکڑی ہوئی تھی اب آہستہ آہستہ نرم پڑتی جا رہی تھی ۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد مارٹن نے لاش کو ایک اور انجکشن لگایا ۔ اور پھر انجکشن کے پانچ منٹ بعد اس نے مشین کا بٹن آف کر کے جالی لاش کے منہ سے ہٹا لی اور لاش کو چادر سے اچھی طرح ڈھانپ دیا۔ پھر اس نے ایک کونے کی طرف بڑھ کر ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر اٹھایا اور اس پر باس کو رپورٹ دینے لگا ۔
عمران آجکل عجیب مصیبت میں پھنسا ہوا تھا۔ ایک تو تعزیت کرنے والوں کا ابھی تک تانتا بندھا ہوا تھا اور عمران چاہتے ہوئے بھی ان کے سامنے سنجیدہ ہونے پر مجبور تھا۔
ویسے اب عمران کی سمجھ میں آیا تھا کہ زندگی میں بعض ایسے موقعے بھی آجاتے ہیں جہاں آدمی کو مجبوراً سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔ دوسرا والدہ کی طبیعت والد کی وفات کے بعد مسلسل خراب رہنے لگی تھی اور وہ بھی اب چند دنوں کی مہمان نظر آتی تھیں اور سب سے بڑا مسئلہ جو اسے درپیش تھا وہ یہ کہ والدہ نے اُسے سختی سے حکم دے دیا تھا کہ وہ اب فلیٹ چھوڑ کر کوٹھی میں رہائش رکھے ، باقی تو سب مسئلے وقت کے ساتھ حل ہو جاتے مگر یہ آخری بات عمران کو ٹیڑھی کھیر نظر آتی تھی کیونکہ کوٹھی میں مستقل رہائش رکھنا اس کے لیے تقریباً ناممکن تھا ۔
سب سے بڑا مسئلہ تو ایکسٹو والے پرائیویٹ ٹیلیفون کا تھا۔ دوسرا یہ کہ کوٹھی میں اُسے آزادی میسر نہیں آسکتی تھی۔ اب والدہ کے حکم کو بھی موجودہ پوزیشن میں ٹالا نہیں جا سکتا تھا ۔ وہ عجیب مخمصے میں پھنسا ہوا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا۔ یہاں آکر اس کی ریڈی میڈ کھوپڑی بھی جواب دے گئی تھی ۔
آج بھی عمران بڑی مشکل سے جان چھڑا کر دانش منزل آیا تھا اور دانش منزل میں اپنے مخصوص کمرے میں بیٹھا وہ اس مسئلے پر غور کر رہا تھا کہ اس کا کوئی مناسب حل نکل آئے۔ بلیک زیرو بھی سامنے والی کرسی پر خاموش بیٹھا تھا۔ کافی دیر غور کرنے کے بعد جب اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو تنگ آکر وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
اچھا طاہر ۔۔ میں چلتا ہوں ۔۔۔ عمران نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا۔
واپس کوٹھی جا رہے ہو ۔۔۔ بلیک زیرو نے پوچھا ۔
نہیں فی الحال تو کوٹھی جانے کا ارادہ نہیں ہے ۔ ذرا شہر کی مٹر گشت کروں گا۔ بعد میں کوٹھی کا رخ کروں گا ۔۔۔ عمران نے جواب دیا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ چند لمحے بعد اسکی سرخ سپورٹ کار دھیمی رفتار سے شہر کی بارونق سڑک پر سے گذر رہی تھی ۔
کافی دیر تک وہ یونہی شہر کی مٹر گشت کرتا رہا۔ پھر اس نے کار کا رخ ہوٹل تھری سٹار کے کمپاؤنڈ میں موڑ دیا ۔ پارکنگ سٹیڈ پر کار کھڑی کرکے وہ با ہر نکلا اور ہوٹل کے مین گیٹ کی طرف بڑھا۔
اور پھر وہ اچانک ٹھٹھک کر رک گیا۔ اس نے ایک مجہول صورت بھکاری کو کمپاؤنڈ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے دیکھا تھا بھکاری ہر لحاظ سے بھکاری ہی نظر آرہا تھا پھر نجانے عمران کے ٹھٹکنے کی وجہ کیا تھی ۔
بھکاری دیوار سے ٹیک لگائے مسلسل مین گیٹ کی طرف دیکھے جارہا تھا اس لیے اس نے عمران کو ٹھٹھکتے یا رکتے نہیں دیکھا ۔ عمران بھکاری کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ گیٹ کے قریب پہنچا اور بھکاری کے پاس جا کر رک گیا۔ بھکاری نے چونک کر عمران کی طرف دیکھا اور دوسرے لمحے اس نے ہاتھ بڑھا دیا۔
بابا کہاں رہتے ہو ؟ ۔۔۔ عمران نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا.
لیکن بھکاری نے کوئی جواب دیا ۔
بھکاری کی نظریں عمران کے ہاتھ پر لگی ہوئی تھیں جو ابھی تک جیب میں تھا۔ بھکاری کا خیال تھا کہ کوئی بھاری اسامی ہے ۔ موٹی رقم ملے گئی۔ مگر دوسرے لمحے جب عمران نے جیب سے ہاتھ باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں چیونگم کا پیکٹ تھا ۔ عمران نے بڑے اطمینان سے وہ پیکٹ کھولا اور اس میں سے دو پیس نکال کر منہ میں ڈال لیے اور ایک پیس بھکاری کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر رکھ کر اسے یوں فخریہ انداز میں دیکھا جیسے بھکاری کی سات پشتوں پر احسان کر دیا ہو۔ بھکاری کی آنکھوں میں آنے والی چمک ماند پڑ گئی ۔
ہاں بابا ! یہ تو بتاؤ کہ دن میں کتنے کما لیتے ہو۔ میں بھی آجکل بیروزگار ہوں ۔ کیوں نہ میں بھی یہی دھندا شروع کردوں ۔ نہ کام کرنا پڑا نہ کاج ۔ بس ہاتھ آگے بڑھا دیا ۔ رقم نہ ملی تو کم از کم چیونگم تو مفت مل جائیگی ۔۔۔ عمران بولتا چلا جارہا تھا ۔ لیکن بھکاری خاموش کھڑا تھا۔ البتہ اس کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی الجھن عمران کو صاف دکھائی دے رہی تھی۔ آنے جانے والے لوگ غور سے عمران کو دیکھتے اور پھر مسکرا کر آگے بڑھ جاتے۔
بابا کچھ تو بولو کہ آج غالب غزل سرا نہ ہوا ۔۔۔۔ اب بتاؤ ، شاعر بھی کتنے احمق ہیں۔ غزل غالب نے نہیں پڑھی اور رعب ہم پر ہے کہ تم کچھ بولو۔ نہیں بولتے کوئی کسی کی دھونس ہے ۔۔
آں آں ۔۔۔ اوں اوں ۔۔۔ آخر بھکاری نے تنگ آکر اپنے گونگے ہونے کا اعلان کر دیا ۔
ارے تم تو گونگے ہو ۔۔۔ چچ چچ ۔۔۔ گونگا ہونے میں بھی کتنا فائدہ ہے ۔ نہ سٹیج پر تقریر کرنی پڑی ۔ نہ بیوی کو سکھڑ پن پر لیکچر دینا پڑا۔ نہ بچوں کو جھوٹ سچ کی تمیز پر مثالیں دینی پڑیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ منکر نکیر کے سوال جواب سے بچ گئے ہیں ۔۔ اوں آں میں ہی کام چل گیا۔ آؤ بابا ! تمہیں ہوٹل میں لے چلوں ، میری تو یہاں کھڑے کھڑے ٹانگیں دکھنے لگی ہیں ۔ واقعی بھکاری بننا بھی بڑا محنت طلب کام ہے ۔۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر بھکاری کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً اسے گھسیٹتا ہوا ہوٹل کی طرف سے چلا ۔
ھنکاری نے بہت اُوں آں کی اور عمران کی گرفت سے آزاد ہونا چاہا۔ لیکن وہ عمران ہی کیا جو ہاتھ ڈال کر یوں چھوڑ دے ۔ بھکاری شور مچاتا تقریبا گھسٹتا ہوا عمران کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ اس نے بہت ہاتھ پیر مارے مگر عمران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اُسے بدستور گھسیٹتے ہوٸے ہوٹل کے مین گیٹ تک لے آیا لیکن آگے چوکیدار نے بھکاری کو اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔
ارے کیوں ؟ کیا یہ ملک کا معزز شہری نہیں ؟ تم سے تو زیاد کما لیتا ہوگا ۔۔۔ عمران چوکیدار پر چڑھ دوڑا ۔ –
نہیں جناب! یہ فقیر اندر نہیں جا سکے گا ۔۔۔ چوکیدار نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔
منہ سنبھال کر بات کرو ۔۔ خبردار ! جو اسے فقیر کہا ۔ بھکاری کے معزز لفظ سے یاد کیا کرو اور سن لو کہ میں اسے ضرور اندر لے کر جاؤں گا۔ یہ ہوٹل ہے کوئی پینڈو خانہ نہیں کہ جہاں صرف شریف آدمی ہی جا سکیں ۔۔۔ عمران نے چوکیدار کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔
اور چوکیدار عمران کو یوں حیرت سے دیکھنے لگا جیسے اس کی صحیح الدماغی پر شک کر رہا ہو۔
ایک دفعہ کہہ دیا کہ بابا فقیر اندر نہیں جا سکتا پھر خوامخواہ تم شور مچائے جا ربا ہے ۔۔ اکھڑ مزارج چوکیدار نے بڑی رکھائی سے کہا اور دوسرے لمحے عمران کا ایک زوردار تھپڑ چوکیدار کے گال پر پڑا ۔ تھپڑ ا تنا زور دار تھا کہ چوکیدار الٹ کر ایک طرف جا پڑا ۔
پھر تم نے فقیر کہا تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔ عمران غصے سے دھاڑا۔ اور اس سے پہلے کہ چوکیدار اٹھ کر کھڑا ہوتا۔ وہ دروازہ کھول کر بھکاری کو گھسیٹتا ہوا ہوٹل کے اندر لیتا چلا گیا ۔
بھکاری نے شائد اب خاموشی میں ہی عافیت جانی تھی اس لیے اس نے بھی کوئی جدوجہد نہ کی ۔ ویسے اس کے چہرے پر حیرت پھٹی پڑ رہی تھی ۔
اندر ہال میں دارالحکومت کا وہ طبقہ تشریف فرما تھا جسے اصرار تھا کہ مہذب اور معزز ہونے کا حق اسی کو ہی حاصل ہے ۔
چوکیدار اٹھ کر غصے سے پھنکارتا ہوا عمران اور بھکاری کے پیچھے لپکا ۔ اور پھر ہال میں بھکاری کو داخل ہوتے دیکھ کر سب لوگ حیرت سے یوں خاموش ہو گئے ۔ جیسے یہ جانور انہوں نے پہلی بار دیکھا ہو۔
چوکیدار نے بھاگ کر عمران کا گریبان پکڑ لیا ۔
خاموشی سے واپس چلے جاؤ ورنہ ۔۔۔ عمران سانپ کی طرح پھنکارا اور چوکیدار نے ایک جھٹکے سے گریبان چھوڑ دیا۔
نجانے عمران کے لہجے میں کیا بات تھی۔ چوکیدار کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے اعصاب سن ہو گئے ہوں اور وہ حرکت کرنے کے قابل بھی نہ رہا ہو۔
عمران بھکاری کو لیے ایک خالی میز کی طرف بڑھنے لگا کہ اتنے میں ایک بیرے نے راستہ روک لیا ۔
تم باہر نکلو تم ہوٹل میں نہیں بیٹھ سکتے ۔۔۔ بیرے نے انتہائی حقارت سے بھکاری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
اب ہال میں موجود لوگوں نے بھی شور مچانا شروع کر دیا کہ اس بھکاری کو باہر نکالا جائے ۔ یہ شریف لوگوں کا ہوٹل ہے۔ لیکن عمران نے بھکاری کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر حماقتوں کی جلوہ گری تھی ۔ ۔
ہٹ جاؤ راستے سے یہ یہیں بیٹھے گا ۔۔۔ عمران نے بیرے کو ڈانٹ دیا اور پیرا ڈانٹ سن کر ایک طرف ہو گیا۔
عمران خالی میز کے قریب پہنچ گیا ۔ اور پھر اس نے ایک کرسی پر بھکاری کو زبردستی بٹھا دیا اور دوسری کرسی پر خود بیٹھ گیا ۔ اور آس پاس موجود شرفا نے ناک بھوں چڑھا لیا ۔
شور سن کر مینیجر اپنے آفس سے باہر نکل آیا۔ جب اُسے صورتحال کا علم ہوا تو وہ تیر کی طرح عمران کی طرف لپکا۔
یہ بھکاری یہاں نہیں بیٹھ سکتا ۔ اسے باہر نکلنا ہو گا ۔۔۔ منیجر نے سخت لہجے سے عمران کو کہا اور بھکاری کا بازو پکڑ کر اٹھانا چاہا ۔
مینجر صاحب ایک منٹ ٹھہرہے۔ پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیجئے ۔۔۔ عمران نے سنجیدگی سے کہا اور منیجر سوالیہ نظروں سے عمران کی طرف دیکھنے لگا۔ بال میں بیھٹے ہوئے تمام لوگ بھی عمران کی طرف متوجہ تھے ۔
بھکاری کے کہتے ہیں؟ ۔۔۔ عمران نے سوال کیا ۔
بھیک مانگنے والوں کو ۔۔۔ منیجر نے عمران کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔
اور بھیک کسے کہتے ہیں؟ ۔۔۔ عمران نے دوسرا سوال کیا ۔
خیرات کو ۔۔۔۔ مینجر کو اس سوال کا جواب دینے کے لیے ایک لمحہ سوچنا پڑا۔
اور خیرات کسے کہتے ہیں ؟ ۔۔۔ عمران نے تیسرا سوال کیا .
میرے سر کو ۔۔۔ منیجر نے پےدرپے سوالوں پر جھنجھلا کر جواب دیا۔
بس ثابت ہوا کہ جس کے پاس آپ کا سر ہو۔ وہ بھکاری ہے۔ اب آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ بھکاری کون ہے ۔۔۔ عمران نے نکتہ نکالا اور آس پاس موجود لوگ جو بڑی دلچسپی سے یہ سوال جواب سن رہے تھے بے اختیار ہنس پڑے ۔
مینجر کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا۔
آپ دونوں برائے مہربانی باہر تشریف لے جایئے ۔۔۔ مینجر نے بھکاری کے ساتھ ساتھ اب عمران کو بھی باہر نکالنے کا فیصلہ کر کرلیا۔ لیکن ایک کاروباری آدمی ہونے کی کی وجہ سے اس کا لہجہ اتنے غصے کے باوجود اخلاق کی حدود کے اندر ہی تھا ۔
کس خوشی میں؟ ۔۔۔ عمران نے حیرت آمیز لہجے میں پوچھا ۔
ہمارے ہوٹل کے حقوق داخلہ محفوظ ہیں۔ ہماری اجازت کے بغیر کوئی شخص اس ہوٹل میں داخل نہیں ہو سکتا ۔۔۔ مینیجر نے رعب جھاڑا ۔
تو کیا یہ تمام لوگ تم سے اجازت لیکر یہاں بیٹے ہوئے ہیں ۔۔۔ عمران بحث پر اتر آیا ۔
یہ شریف لوگ ہیں۔ بھکاری نہیں مینجر نے تلملا کر جواب دیا ۔
تمہاری نظر میں شرافت کا معیار کیا ہے ؟ اگر صرف سوٹ پہننے والا ہی شریف آدمی ہو سکتا ہے تو یہ رقم لو اور کسی آدمی کو بھیج کر اس کے سائز کا ایک ریڈی میڈ سوٹ منگوا لو۔ باقی رقم تم خود رکھ لینا ۔۔۔ عمران نے جیب سے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر مینجر کے سامنے پھینک دی ۔
منیجر اور دوسرے لوگ حیرت سے نوٹوں کی گڈی کی طرف دیکھنے لگے ۔ رقم یقیناً پانچ ہزار سے کم نہ ہو گی ۔
ہاں ۔۔ یہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ سوٹ پہن لے تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا ۔۔۔ مینجر نے نرم پڑتے ہوئے کہا۔ شائد وہ عمران کی دولت مندی اور فیاضی سے مرعوب ہو گیا تھا۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ بھکاری نے پہلی دفعہ زبان کھولی اور وہ سوٹ پہننے کے خلاف احتجاج کر رہا تھا ۔
تم خاموش رہو ۔ میں تمہیں آج ہر قیمت پر شریف بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ عمران نے اُسے جھڑک کر خاموش کر دیا ۔
مینجر نے نوٹوں کی گڈی سے تین نوٹ نکال کر بیرے کو دیٸے اور اُسے سٹینڈرڈ سائز کا ریڈی میڈ سوٹ لے آنے کو کہا اور باقی رقم ادب سے عمران کے سامنے رکھ دی ۔
بیرا سوٹ لینے چلا گیا۔ لوگ عمران کو کوئی دولت مند خبطی سمجھنے پر مجبور ہو گئے لیکن اب بھکاری کی نظروں سے گہری پریشانی کا اظہار ہو رہا تھا ۔ وہ بار بار پہلو بدل رہا تھا جیسے بھاگنے کے لیے پرتول رہا ہو مگر اسے بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔
اتنے میں بیرا ساتھ والی مارکیٹ سے سوٹ لے کر آگیا ۔ تمام لوگ حیرت اور دلچسپی سے یہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے ۔
جاؤ اور ساتھ والے کیبن میں سوٹ پہن کر آؤ ۔۔۔ عمران نے بھکاری کو سخت لہجے میں کہا۔ مگر بھکاری خاموشی سے بیٹھا رہا ۔
اور ہاں بیرے ۔۔۔ اپنے ہوٹل کے باربر کو بلاؤ تاکہ اس کی شیو اور کٹنگ بھی کر دے ۔۔۔ عمران نے بیرے کو حکم دیا ۔
بھکاری اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ اور دوسرے لمحے اس نے چھلانگ لگائی اور مین گیٹ کی طرف بڑھا۔
رک جاؤ ورنہ گولی مار دوں گا ۔۔۔ عمران نے یکدم جیب سے ریوالور نکال لیا اور بھکاری رک گیا ۔
ہال میں موجود تمام لوگ خوفزدہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔
واپس آئیے عمران نے بھکاری کو حکم دیا ۔
اُسی لمحے کہیں قریب ہی سے فائر ہوا اور بھکاری ایک چیخ مار کر الٹ گیا۔ اس کے سینے سے خون نکلنے لگا۔ اور وہ فرشی پر تڑپنے لگا ۔
ہال میں افراتفری مچ گئی اور لوگ خوفزدہ ہو کر سائیڈ گیٹ کی طرف بڑھے۔ ایک ادوھم مچ گیا اور چیخ و پکار سے ھال گونجنے لگا ۔
بھکاری ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔
لوگ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے گیٹ سے باہر نکل رہے تھے کہ بیروں نے منیجر کی ہدایت پر انہیں روک کر زبردستی دروازے بند کر دیئے مگر پھر بھی کافی سے زیادہ لوگ باہر نکل جانے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔
عمران ابھی تک اپنی میز کے قریب کھڑا صورت حال کا جائزہ لے رہا تھا اس کی عقابی نظریں چاروں طرف گردش کر رہی تھیں لیکن اُسے کوئی ایسا مشتبہ آدمی نظر نہیں آرہا تھا جس پر وہ فائر کرنے کا شک کر سکے ۔
مینجر کے بار بار اعلان کرنے کے بعد اب قدرے ہوٹل میں سکون ہوا تھا ۔ ویسے ہوٹل کا کافی سے زیادہ نقصان ہو گیا تھا اور منیجر خونخوار نظروں سے کبھی عمران کی طرف دیکھتا اور کبھی مردہ بھکاری کی طرف ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دونوں کو کچا چبا جاٸے ۔
تھوڑی دیر بعد دروازے کھلے اور پھر پولیس اندر داخل ہو گئی عمران یہ دیکھ کر چونک پڑا کہ پولیس انسپکٹر کے ساتھ سپرنٹنڈنٹ فیاض بھی تھا۔ اس کی نظر جب عمران پر پڑی تو وہ تیر کی طرح اس کی طرف بڑھا۔
عمران اپنی کرسی پر بڑے اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔
ھیلو سوپر کیا حال ہیں؟ ۔۔۔ عمران فیاض کے قریب آتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
عمران یہ سب کیا ہنگامہ ہے؟ ۔۔۔ فیاض نے حیرت سے بھکاری کی لاش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے ہوٹل کی رونق ۔۔۔ عمران نے چہک کر مصرعہ پڑھا.
مگر اتنے بڑے ہوٹل میں یہ بھکاری کیسے آ گیا؟ ۔۔۔ فیاض ابھی تک دریائے حیرت میں غوطہ زن تھا ۔
جیسے کسی جوئے خانہ میں تم پہنچ جاتے ہو ۔۔۔ عمران نے جواباً طنز کیا ۔ ۔ اور سوپر نے نے منہ بنا لیا ۔
مینیجر سے پوچھ گچھ کر کے انسپکٹر اب عمران کی طرف بڑھا۔ اور اس نے قریب آتے ہی عمران سے سوالات شروع کر دیئے ۔
آپ اس بھکاری کو اس ہوٹل میں لائے تھے ؟ ۔۔۔ انسپکٹر نے قدرے نرم لہجے میں سوال کیا۔ شائد وہ فیاض کا لحاظ کر رہا تھا ۔
نہیں ۔۔ وہ اپنے پیروں سے چل کر آیا تھا ۔۔۔ عمران نے انسپکٹر کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔
آپ سیدھی طرح میرے سوالوں کا جواب دیں ۔ میں قانون کے معاملے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ۔۔۔ انسپکٹر جو شائد نیا تھا۔ عمران کے جواب پر ہتھے سے ہی اکھڑ گیا ۔
بڑا اچھا کرتے ہو۔ بالکل لحاظ نہیں کرنا چاہیے ۔ پولیس کو ہونا ہی بدلحاظ چاہیے ۔۔۔ عمران نے معصومیت سے کہا اور پولیس انسپکٹر کے ساتھ ساتھ فیاض بھی برا سامنہ بنا کر رہ گیا کیونکہ چوٹ اس پر بھی کی گئی تھی ۔
میں ایک بار پھر سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ ہی اس بھکاری کو اس ہوٹل میں لے آنے کے ذمہ دار ہیں ؟ ۔۔۔ انسپکٹر نے سخت لہجے میں پوچھا ۔
جی ہاں ! یہ گناہ کبیرہ مجھ سے ہی سر زد ہوا ہے۔ خدا جانے عاقبت میں میرا کیا حشر ہو گا ۔۔۔ عمران نے مسخرے پن سے جواب دیا ۔
آپ اسے ہوٹل میں کیوں لے آئے تھے ؟ ۔۔۔ پولیس انسپکٹر جو اب سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا، عمران سے دوسرا سوال کیا۔
سچ سچ بتا دوں انسپکٹر صاحب ۔۔۔ عمران نے یوں کہا جیسے سچ بولنے سے شرما رہا ہو۔
بالکل ۔۔۔ پولیس انسپکڑ نے کہا ۔
مجھے سپرنٹنڈنٹ فیاض نے کہا تھا کہ اس بھکاری کو ہوٹل میں لے جاؤ ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔
اور پولیس انسپکٹر کے ساتھ ساتھ فیاض بھی اپنی جگہ سے اچھل پڑا ۔
میں نے کہا تھا؟ ۔۔۔ فیاض نے حیرت سے بھرپور لہجے میں کہا ۔
اتنی جلدی بھول گئے سپرنٹنڈنٹ صاحب ! میرے خیال میں تمہیں کشتہ مردارید دس تولے ، عرق گاؤ زبان کے ساتھ نہار منہ کھانا چاہیے تا کہ تمہاری یادداشت قائم رہے ۔۔۔ عمران نے یوں نسخہ بتایا جیسے جدی پشتی حکیم حاذق رہا ہو۔
بکواس مت کرو ۔۔۔ اب تمہارے والد نہیں رہے جن کا میں لحاظ کیا کرتا تھا ۔۔۔ فیاض اس سفید جھوٹ پر بری طرح جھنجلا گیا ۔
فکر نہ کرو والد نہیں رہے۔ تب بھی تمہیں ڈائریکٹر جنرل کوئی نہیں بنائے گا۔ تم تمام عمر اسی طرح سپر نٹنڈنٹ ہی رہو گے ۔۔۔ عمران نے پیش گوئی کر دی ۔
کیا مطلب؟ کیا یہ ڈائریکٹر جنرل سر رحمان مرحوم کے لڑکے ہیں ؟ ۔۔۔ انسپکٹر شائد کافی ذہین تھا کہ اس نے فوراً ا ہی نتیجہ نکال لیا ۔
ہاں فیاض نے مختصر سا جواب دیا اور انسپکٹر کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا ۔ شائد وہ عمران کی حیثیت سے مرعوب ہو گیا تھا ۔
آپ کی تعریف ۔۔۔ اب انسپکٹر نے انتہائی نرم اور با اخلاق لہجے میں پوچھا ۔
تعریف اس خدا کی جس نے مجھے علی عمران ایم ایس سی ڈی ۔ ایس۔ سی (اکسن) بنایا ۔۔۔ عمران نے اپنا تعارف کرا دیا ۔
اوہ ۔۔۔ کیا آپ اس سلسلے میں کوئی بیان دینے پر رضامند نہیں ۔۔۔ انسپکٹر نے سوال کیا۔
بیان کیا دینا ہے۔ بس میں بھکاری کو لیکر ھال میں آیا کہ کہیں سے گولی چلی اور بھکاری صاحب مجھے اکیلا چھوڑ کر اللہ میاں کے فردوس ہوٹل میں تشریف لے گئے ۔۔۔ عمران نے بیان دے دیا اور انسپکٹر نے خاموشی سے اٹھ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔
فیاض نجانے کیوں خاموش بیٹھا تھا ۔ شائد وہ بگڑا بیٹھا تھا۔
سوپر فیاض ۔۔ تمہیں ایک راز بتاؤں ؟ ۔۔۔ عمران نے آگے جھکتے ہوئے رازدارانہ لہجے میں فیاض کو مخاطب کیا ۔ اور فیاض نہ چاہتے ہوئے بھی پر اشتیاق طریقے سے آگے جھک گیا ۔
یہ بھکاری میک اپ میں ہے ۔۔۔ عمران نے انکشاف کیا ۔
نہیں ۔۔۔ فیاض بھونچکا رہ گیا۔ اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے عمران نے کوٸی انہونی بات کہہ دی ہو ۔
نہیں تو نہ سہی ۔ جب پوسٹ مارٹم ہو گا تو راز کھل جائے گا اور پھر تمہاری ذہانت کا رعب اس انسپکٹر پر نہ پڑ سکے گا ۔۔۔ عمران نے سادہ سے لہجے میں کہا اور فیاض تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
فیاض نے مردہ بھکاری کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور دوسرے لمحے اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی ۔ اس نے انسپکٹر کو بلایا ۔
انسپکٹر ! اس بھکاری میں تم نے کوئی خاص بات نوٹ کی؟ ۔۔۔ اس نے بڑے رعب سے انسپکٹر سے پوچھا ۔
خاص بات کیا ہونی ہے سر۔ بس بھکاری ہے ۔ انسپکڑ نے حیرت سے جواب دیا ۔ جیسے بھکاری کے متعلق کوئی خاص بات ہونا ناممکنات میں شامل ھے۔
نہ جانے کن گدھوں نے تمہیں انسپکٹر بنا دیا ہے ۔۔۔ فیاض نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا اور انسپکٹر تلملایا تو بہت لیکن فیاض کی آفیسری کا خیال کر کے خاموش رہا۔
تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ بھکاری میک اپ میں ہے۔ اس کا میک اپ صاف کراؤ ۔۔۔ فیاض نے یوں انکشاف کیا جیسے کل کائنات کی ذہانت صرف اسی کے حصے میں آئی ہو۔
انسپکٹر اس انکشاف پر اچھل پڑا ۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔ انسپکڑ نے انتہائی حیرت اور پریشانی کے عالم میں پوچھا ۔
عمران ان سب سے لا تعلق ہو کر اپنی میز پر بیٹھا انگلیوں سے میز بجا رہا تھا جیسے وہ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہو ۔
اس کا میک اپ صاف کراؤ ۔۔۔۔۔ فیاض نے قدرے سخت لہجے میں کہا اور انسپکٹر نے ایک سپاہی کو ایمونیا کی بوتل لانے کو کہا۔
تھوڑی دیر بعد ایمونیا کی بوتل آگئی اور پھر مرد بھکاری کا منہ دھویا گیا۔ لیکن اب انسپکٹر اور سپرنٹنڈنٹ فیاض کے ساتھ عمران بھی چونک پڑا کیونکہ بھکاری کسی سفید فام قوم کا باشندہ نکلا ۔
انسپکٹر ، سپرنٹنڈنٹ فیاض کو یوں تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ ذہانت کا پتلا ہو اور فیاض کا سینہ غرور سے تین انچ اور پھول گیا ۔۔۔
جیسے ہی ٹیلیفون کی گھنٹی بجی، جولیا نے رسیور اٹھایا ۔
یس ۔۔ جولیا سپیکنگ ۔۔۔ اس نے قدرے نرم آواز میں کہا ۔
ایکسٹو ۔۔۔ دوسری طرف سے ایکسٹو کی مخصوص آواز ابھری ۔
یس سر ۔۔۔ اب جولیا کا لہچہ مودہانہ تھا ۔
جولیا ! تمام ممبروں کو حکم دو کہ وہ شہر میں پھیل جائیں اور شہر میں گھومنے والے ہر قسم کے بھکاریوں پر نظر رکھیں ۔ خاص طور پر ان کے چہروں کو نزدیک سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ اگر انہیں کسی بھکاری پر میک آپ کا گمان ہو تو اس کی کڑی نگرانی کی جائے اور مجھے فوری رپورٹ دی جائے ۔۔۔ ایکسٹو نے حکم دیتے ہوئے کہا ۔
بھکاری اور میک آپ؟ ۔۔۔ جولیا کی شدید حیرت سے آواز لڑکھڑا گئی۔ کیونکہ اس کا ذہن ان دونوں میں ربط نہیں نکال سکا تھا۔ ہاں جولیا ۔ کل ہی ایک بھکاری ہوٹل تھری سٹار میں قتل ہو گیا ہے۔ اور وہ ایک سفید فام تھا۔ جس نے میک آپ کیا ہوا تھا ۔۔۔ ایکسٹو نے وضاحت کی ۔
مگر سر ایک بھکاری کا ہوٹل تھری سٹار میں کیا کام ؟ ۔۔۔ جولیا کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا ۔
اُسے وہاں لے جانے والا عمران تھا ۔۔۔ ایکسٹو نے مختصر سا جواب دیا اور جولیا ایک نارمل سانس لے کر رہ گئی ۔
” تو یہ ان حضرت کا کارنامہ ہے ” ۔۔۔ جولیا نے سوچا ۔
بہتر سر میں ابھی احکام جاری کرتی ہوں ۔۔۔ جولیا نے جواب دیا ۔
اوکے ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا اور پھر ایکسٹو کے رسیور رکھنے کی آواز سن کر جولیا نے بھی رسیور رکھ دیا ۔
تو کیا کوئی نیا کیس شروع ہو گیا ہے؟ مگر یہ بھکاری والی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ یہ کیسے مجرم ہیں جو بھکاریوں کا روپ دھارے پھر رہے ہیں ۔ بہر حال کچھ بھی ہو۔ دیکھا جائے گا ۔۔۔۔ جولیا نے سر جھٹکا اور پھر رسیور اٹھا کر باری باری سب ممبروں کو ایکسٹو کا نیا حکم پہنچانے لگی۔ سب سے آخر میں اس نے صفدر کو رنگ کیا ۔
صفدر سپیکینگ ۔۔۔ دوسری طرف سے صفدر کی آواز سنائی دی ۔
میں جولیا بول رہی ہوں صفدر ۔۔۔ جولیا نے کہا ۔
او ھو کیا حال ہیں مس جولیا ؟ کیسے یاد کیا؟ ۔۔۔ صفدر کی زندگی سے بھرپور آواز سنائی دی ۔
ایکسٹو کا پیغام سن لو ۔۔۔
اور پھر جولیا نے تفصیل سے صفدر کو ایکسٹو کے حکم سے مطلع کر دیا ۔
یہ کوئی نیا چکر چل پڑا ہے ؟ ۔۔۔ صفدر نے تفصیل سن کر پوچھا ۔
معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ جولیا نے جواب دیا۔
مگر عمران صاحب کو بھکاری کو ہوٹل میں لے جانے کی کیا سوجھی؟ ۔۔۔ صفدر نے پوچھا ۔
بس دماغ میں کیڑا رینگ گیا ہوگا ۔۔۔ جولیا نے قدرے بیزاری سے جواب دیا ۔
لیکن جولیا ۔ ایک بات ہے کہ عمران کی ہر بظاہر اوٹ پٹانگ حرکت اپنے اندر کچھ معنی لیے ہوئے ہوتی ہے۔ اب دیکھو۔ عمران بھکاری کو لے کر ہوٹل میں گیا اور وہاں ایک تو بھکاری قتل ہو گیا۔ دوسرا وہ میک آپ میں پایا گیا ۔۔۔ صفدر نے عمران کا دفاع کرتے ہوئے کہا ۔
ہاں ہے تو ایسا ہی ۔۔۔ جولیا نے جواب دیا۔
اچھا اجازت ۔۔ میں بھکاریوں کے سروے کے لیے جا رہا ہوں ۔۔۔ صفدرنے ہنستے ہوئے کہا اور رسیور رکھ دیا ۔
جولیا نے بھی رسیور رکھا اور پھر وہ بھی تیار ہو کر فلیٹ سے باہر نکلی۔ اس نے ٹیکسی روکی اور اسے گول مارکیٹ چلنے کو کہا ۔ وہ بذات خود بھی بھکاریوں کو چیک کرنا چاہتی تھی ۔
گول مارکیٹ شہر کا معروف ترین علاقہ تھا۔ اور وہاں بھکاریوں کی کثرت بھی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ٹیکسی وہاں پہنچ گئی۔ جولی نے کرایہ دیا اور پھر پیدل ہی ایک طرفہ چلنے لگی۔ سامنے اُسے ایک لحیم شحیم بھکاری اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ جب وہ جولیا کے قریب آیا تو جولیا نے بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا لیکن جولیا کو اس کے چہرے پر میک آپ کے کوئی آثار نظر نہ آئے اور پھر بھکاری آگے بڑھتا چلا گیا ۔
جولیا اسی طرح بھکاریوں کو چیک کرتی رہی۔ کہیں اُسے خیرات دینے پر بھی مجبور ہو جانا پڑا ا لیکن دو گھنٹے کی اس چیکنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا ۔ اور اسے کسی بھی بھکاری پر شک نہ گزرا – آخر کار وہ تھک ہار کر واپس آنے لگی۔
ابھی وہ ٹیکسی کی انتظار میں سڑک کے کنارے کھڑی تھی کہ اچانک اُسے کاندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباؤ محسوس ہوا ۔
جولیا نے بے اختیار مڑ کر دیکھا تو دو سرخ آنکھیں اُسے گھور رہی تھیں۔ اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے بدن میں بجلی کی لہر دوڑ گئی ہو۔
یہ ایک بدصورت اور بدہیت بھکاری کی نظریں تھیں جو سر سے گنجا تھا ۔ چہرے سے شیطانیت اور مکاری نمایاں تھی ۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے وہ خاموشی سے جو لیا کو گھور رہا تھا۔ نجانے اس کی آنکھوں میں کیا بات تھی کہ جو لیا کو اپنے جسم سے بےاختیار پسینہ پھوٹتا محسوس ہوا ۔
مادام کیا آپ میرے ساتھ چلیں گی ؟ ۔۔۔۔ بھکاری کی کرخت سی آواز جولیا کے کانوں سے ٹکرائی اور بےاختیار جولیا کے منہ سے ”ہاں” کا لفظ نکل گیا۔ بعد میں اُسے سخت حیرت ہوئی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے منہ سے ہاں کیسے نکل گیا ۔
دوسرے لمحے ایک کار ان کے قریب آکر رک گئی ۔ ڈرائیور نے اتر کر دروازہ کھولا اور پھر جولیا کو نہ چاہتے ہوٸے بھی اس میں بیٹھنا پڑا۔ بھکاری بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور پھر کار تیزی سے سڑکوں پر بھا گئے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا دیکھ رہے ہو سر رحمان ؟ ۔۔۔ سر رحمان کے کانوں سے دوبارہ آواز ٹکرائی اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے کمرے کے ہر ذرے سے آواز نکل رہی ہو۔ وہ سمجھ نہیں سکتے تھے کہ اس وقت وہ کہاں ہیں ۔
کہاں سے بول رہے ہو؟ اور میں کہاں ہوں ؟ تم کون ہو؟ ۔۔۔ سر رحمان حیرت سے بھر پور لہجے میں بولے ۔
ھاھاھا ۔۔ سر رحمان اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ تم مرنے کے بعد زندہ ہوئے ہو تو تم یقین کر لو گے ؟ ۔۔۔ آواز تمسخر سے بھرپور تھی۔
ہشت ۔۔۔ تم نے مجھے کیا پاگل سمجھ رکھا ہے ؟ ۔۔۔ سر رحمان نے حقارت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں سر رحمان ! تم قانوناً مر چکے ہو۔ اور تمہارے عزیز و اقارب تمہیں باقاعدہ دفن کر چکے ہیں ۔ لیکن تمہیں میرا ممنون ہونا چاہیے کہ تم زندہ ہو ۔۔
یا میرا دماغ خراب ہے یا تم پاگل ہو ۔۔ بھلا مر کر بھی کوئی زندہ ہوا ہے ۔۔۔ سر رحمان قدرے پریشان لہجے میں بڑبڑائے ۔
انہیں وہ واقعات یاد آرہے تھے جب وہ دفتر سے واپس آئے تو رات کو ایک نیا ملازم ان کے لیے دودھ لے کر آیا ۔ پوچھنے پر اس نے بتلایا کہ وہ پرانے ملازم کا بھائی ہے اور وہ ایک نہایت ضروری کام کی وجہ سے ایک دن کے لیے باہر گیا ہوا ہے اس لیے وہ اس کی جگہ آج صبح سے کام کر رہا ہے ۔ اور سر رحمان مطمئن ہو گئے ۔ دودھ پینے کے بعد وہ لیٹ گئے۔ کافی دیر تک انہیں نیند نہ آئی لیکن پھر وہ سو گئے۔
اچانک ان کے سینے میں زور کا درد ہوا اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے ۔ درد لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا گیا. انہوں نے ڈاکٹر کو ٹیلیفون کرنا چاہا مگر درد کی بے انتہا شدت کی وجہ سے رسیور ان کے ہاتھوں سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا ۔ اور دھماکے سے ساتھ والے کمرے سے عمران کی والدہ اٹھ کر آگئیں ۔ انہوں نے جب سر رحمان کو اس حالت میں دیکھا تو گھبرا کر ثریا کو آواز دی۔
سر رحمان کو اتنا یاد ہے کہ انہوں نے ثریا کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھا پھر انہیں کچھ یاد نہیں کہ ان پر کیا گزری اور اب ان کی آنکھ اس نامانوس کمرے میں کھلی جہاں ایک پراسرار آواز انہیں یقین دلا رہی ہے کہ وہ مر کر زندہ ہوئے ہیں ۔
سر رحمان کس سوچ میں ڈوب گئے؟ ؟ تم واقعی مر چکے ہو۔ اگر یقین نہیں آ رہا تو میز کی دراز کھول کر اخبار نکال لو اور خود اپنی آنکھوں سے اپنے جنازے اور اپنی لاش کی تصویر دیکھ لو ۔۔
سر رحمان نے پھرتی سے میز کی دراز کھولی ۔ وہاں مختلف اخبارات کا ایک بنڈل موجود تھا۔ سر رحمان نے جب اخبارات پر نظر ڈالی تو ان کی آنکھیں پریشانی خوف اور حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ واقعی وہاں اخباروں نے ان کی موت کی خبریں شہ سرخیوں سے شائع کی ہیں، پھر ان کی لاش کے فوٹو اور جنازے کے فوٹو بھی موجود تھے۔ جنازے میں عمران ، سر سلطان اور دیگر افسران صاف پہچانے جاتے تھے ۔
یہ کیا چکر ہے؟ ۔۔۔ سر رحمان کا دماغ چکرانے لگا ۔ انہوں نے اپنی ران پر چٹکی بھری کہ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔
نہیں سرحمان ! تم خواب نہیں دیکھ رہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تم قانونا مر چکے ہو۔ مگر اب زندہ ہو ۔۔۔ پراسرار آواز نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا۔
لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ سرحمان کواب تک یقین نہیں آ رہا تھا۔
میرے لیے یہ سب کچھ بالکل آسان ہے ۔ تمہیں رات کو سونے سے پہلے دودھ دینے والا میرا آدمی تھا۔ دودھ میں تمہیں ایک مخصوص دوا دی گئی تھی جس سے تمہارے دل کی حرکت بند ہو گئی ۔ تمہیں سرکاری طور پر مردہ قرار دیکر دفن کر دیا گیا۔ ہم نے تمہاری لاش قبر سے نکال لی اور اس دوا کا اثر دور کر دیا۔ تمہارا دل پھر کام کرنے لگا اور اب تم زندہ ہو ۔۔
لیکن ایسا کیوں کیا گیا ؟ ۔۔
اس کی تہہ میں میرا ایک خاص مقصد ہے جس کا تمہیں خود بخود پتہ چل جائے گا۔ ابھی میں کچھ نہیں بتا سکتا ۔۔
لیکن تم کون ہو؟ ۔۔
یہ بھی تمہیں پتہ چل جائے گا۔ فی الحال تم مجھے باس کہہ کر پکار سکتے ہو ۔۔
مگر میں کسی کو باس کہنے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔ سرحمان کا چنگیزی خون جوش میں آگیا ۔
اب تمہیں عادی ہونا پڑے گا سر رحمان ۔۔۔ پراسرار باس کی کرخت آواز سنائی دی ۔
سررحمان کو اچانک اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ کمرہ نیلے رنگ کی گیس سے بھرنا شروع ہو گیا تھا۔ انہوں نے سانس روکنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ چند ہی لمحوں بعد وہ بے ہوش ہو کر دوبارہ میز پر گر گئے ۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور مارٹن کمرے میں داخل ہوا ۔ اس نے بیہوش سر رحمان کو اپنی کمر پر لادا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔ اور مختلف کمروں سے گزرتا ہوا وہ ایک کمرے کے سامنے رک گیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور پھر کمرے کے درمیان موجود ایک پلنگ پر سر رحمان کو لٹا دیا اور کمرے سے باہر نکل کر دروازہ بند کر دیا۔
اور پھر وہ مختلف کمروں سے ہوتا ہوا دوبارہ اسی کمرے میں داخل ہوا جہاں اس کا پُراسرار باس موجود تھا ۔
پہنچا آئے ؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا ۔
یس باس۔۔۔۔ مارٹن نے سر جھکا کر مودبانہ لہجے میں جواب دیا۔
ٹھیک ہے ۔۔ آپریشن کے انتظامات کر لیے گئے ہیں یا نہیں؟ ۔۔۔ باس نے دوسرا سوال کیا ۔
“جی ہاں باس ۔۔ سب انتظامات مکمل ہیں ۔ ایک ہزار آدمی آپریشن کے لیے تیار ہیں ۔۔
انہیں اسلحہ دے دیا گیا ہے یا نہیں؟ ۔۔
جی ہاں باس ۔۔ انہیں زیرو تھری دے کر اس کا طریقہ استعمال بھی سمجھا دیا گیا ہے ۔۔
ٹھیک ہے ۔ کل یہ آپریشن کامیابی سے انجام پذیر ہونا چاہیئے ۔۔ ایسا ہی ہو گا باس ۔۔۔ مارٹن نے اسی طرح مودبانہ لہجے میں جواب دیا ۔
عمران کے متعلق کیا رپورٹ ہے؟ ۔۔۔ باس نے سوال کیا ۔
نمبر الیون اس کی طرف گیا ہوا ہے۔ امید ہے کہ اسے کامیابی ہو گی ۔۔۔ مارٹن نے جواب دیا ۔
مارٹن ۔۔ اگر نمبر الیون کامیاب ہو جائے تو سمجھو کہ ہم آدھی کامیابی حاصل کر چکے ہیں ۔۔۔ باس کے لہجے میں اشتیاق تھا ۔
باس اگر اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں؟ ۔۔۔ مارٹن کی منحنی سی آواز التجا سے بھرپور تھی ۔
پوچھو ۔۔۔۔ باس نے اجازت دیتے ہوئے کہا ۔
باس ۔۔ عمران کی اس ملک میں کیا پوزیشن ہے ؟ اور صرف ایک آدمی ہماری تنظیم کے لیے کیسے خطر ناک ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔ مارٹن نے سوالیہ لہجے میں کہا .
مارٹن ! تم اس ملک میں پہلی بار آئے ہو۔ اس لیے تم عمران کو نہیں جانتے۔ میرا ایک بار پہلے بھی عمران سے واسطہ پڑ چکا ہے۔ میں اُسے اچھی طرح جانتا ہوں ۔ بظاہر عمران کی ایک مسخرے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں لیکن وہ ہماری تنظیم کے لیے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے میں نے آپریشن شروع کرنے سے پہلے عمران کا بندوبست کرنا مناسب سمجھا ہے۔ میں نے عمران کے والد سر رحمان کو قانونی طور پر مروا کر دوبارہ زندہ کر لیا ہے اب سر رحمان ہمارے پاس بطور یرغمال موجود ہیں۔ جہاں بھی عمران ہمارے لیے خطرناک ثابت ہونے لگا۔ وہاں ہم اس کے والد کو بطور چارہ استعمال کریں گے ۔۔۔۔ باس نے مارٹن کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
لیکن کیا عمران کو قتل نہیں کرایا جا سکتا؟ یا سر رحمان کو ویسے اغوا کر لیا جاتا ؟ ۔۔۔ مارٹن نے مزید سوال کئے ۔
مارٹن ۔۔ اگر سر رحمان کو اغوا کیا جاتا تو اب تک عمران ہمارے اڈوں تک پہنچ چکا ہوتا۔ اب تو عمران مطمین ہے ۔ رہی بات عمران کے قتل کرنے کی تو وہ تمہارے ذمے ہے۔ تم اُسے قتل کرو گے ۔۔۔ باس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا ۔
شکر یہ باس ۔۔ آپ نے یہ کام میرے ذمے لگا کر مجھے دلی مسرت بخشی ہے۔ اب عمران میرے ہاتھوں سے نہیں بچے سکتا ۔۔۔ مارٹن نے خوشی سے کلکاری مارتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے ۔ اب تم جاؤ اور کل کے آپریشن کو آخری شکل دو۔ اس آپریشن کو ہر قیمت پر کامیاب ہونا چاہیئے ۔۔۔ باس نے حکم دیا اور مارٹن سر جھکاٸے باہر نکل گیا ۔
باس نے میز پر لگا ہوا ایک بٹن دبایا اور دروازہ بند ہو گیا۔ اور پھر اس نے منہ اور سر پر لپٹا ہوا نقاب اتارا اور پھر اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کپٹن شکیل، جولیا کا ٹیلیفون ملتے ہی عام آدمی کے لباس میں اپنے فلیٹ سے نکلا اور تھوڑی دیر بعد وہ کابل مارکیٹ میں گھوم رہا تھا۔ اس نے پتلون اور قمیض پہن رکھی تھی اور اس کی عقابی نظریں وہاں گھومنے والے بھکاریوں کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں لیکن ابھی تک اسے کسی بھکاری پر بھی کوئی شک نہیں پڑا ۔
کافی دیر تک گھومنے کے بعد وہ ایک چھوٹے سے کیفے میں جا کر بیٹھ گیا اور اس کی کرسی دروازے کے بالکل سامنے تھی ۔ جہاں سے وہ بازار کے سامنے کے رخ کا اچھی طرح نظارہ کر سکتا تھا ۔
کیپٹن شکیل نے چائے کا آرڈر دیا اور خود بیٹھ کر بازار کا نظارہ کرنے لگا۔ بیرے نے چائے کا ایک کپ لاکر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے چائے کا ایک گھونٹ لیا ۔ اُسے اس چائے کا ذائقہ کچھ عجیب سا لگا ۔ اس نے کپ میز پر رکھا اور خود اس کیس پر غور کرنے لگا جس کے تحت وہ بھکاریوں کا جائزہ لیتا پھر رہا تھا۔ اسے اس کیس کی ابجد بھی معلوم نہیں تھی۔
بس اچانک ہی جولیا کا ٹیلیفون آیا کہ بھکاریوں کو چیک کیا جائے اور اگر کوئی بھکاری میک اپ میں محسوس ہو تو اس کا تعاقب اور نگرانی کی جائے لیکن اُسے ابھی تک ایسا کوئی بھکاری نظر نہیں آیا تھا جس پر وہ میک اپ کا شک کرتا ۔
اگر آپ چائے نہیں پیتے تو میں پی لوں ؟ ۔۔۔ اچانک کیپٹن شکیل کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی اور اس نے بے اختیار سر اٹھا کر دیکھا۔ ایک قبول صورت نوجوان اس کی کرسی کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
تشریف رکھیئے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے سپاٹ لہجے میں اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور وہ نوجوان بیٹھ گیا
مجھے رضوی کہتے ہیں ۔۔۔ اس نے اپنا تعارف کرایا ۔
میرا نام فیروز ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے اپنا فرضی نام بتلایا ۔ کیپٹن شکیل نے بیرے کو بلا کر رضوی کے لیے چائے کا آرڈر دیا ۔
آپ کیا شغل کرتے ہیں ؟ ۔۔۔ رضوی نے قدرے بےتکلف ہوتے ہوئے پوچھا۔
انڈے بیچا کرتا ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے اکتا کر جواب دیا اور نوجوان کا بے اختیار قہقہہ نکل گیا۔
آپ ہنس کیوں رہے ہیں ؟ ۔۔۔ کیپٹین شکیل نے سپاٹ چہرہ لیٸے ہوئے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور وہ نوجوان ہنستے ہنستے یک لخت یوں خاموش ہو گیا جیسے چابی ختم ہونے پر الارم رک جاتا ہے ۔
آپ مذاق کر رہے ہیں ۔۔۔ نوجوان نے کیپٹن شکیل کے پر وقار چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
اس میں مذاق والی کونسی بات ہے ؟ کیا انڈے بیچنا بری بات ہے ؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے اپنے لہجے میں مزید سنجیدگی پیدا کرتے ہوئے کہا ۔
اور وہ نوجوان گومگو کے عالم میں کیپٹن شکیل کے منہ کو دیکھتا رہ گیا کہ اب کیا کہے اور کیا نہ کہیے۔ اتنے میں بیرے نے چائے کی ٹرے لا کر رکھ دی۔ کیپٹن شکیل چائے بنانے میں مصروف ہوگیا اور اسی نوجوان نے بات ٹلتے دیکھ کر اطمینان کی طویل سانس لی۔
لیجئے چائے پیچیے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے چائے کی پیالی اس کی طرف سرکاتے ہوئے کہا ۔
شکریہ ۔۔۔ نوجوان نے قدرے جھینپتے ہوئے کہا اور پیالی لے لی۔
تھوڑی دیر تک خاموشی طاری رہی۔ کیپٹن شکیل سوچ رہا تھا کہ اس نوجوان کا حدود اربعہ کیا ہے ۔ اور کیا اس کا میری میز پر آکر بیٹھنے کی کوئی خاص وجہ ہے یا ویسے بانی دی وے آ کر بیٹھ گیا ہے۔
فیروز صاحب ۔۔ ایک بات پوچھوں ۔ اُمید ہے کہ آپ صحیح جواب دیں گے ۔۔۔ نوجوان نے اچانک چاتے پیتے پیتے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
پوچھئے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے چونکتے ہوئے کہا ۔
آپ صبح سے بھکاریوں کو غور سے دیکھتے پھر رہے ہیں ۔۔ کیا میں اس کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟ ۔۔۔ نوجوان نے بڑے پراسرار انداز میں پوچھا اور کیپٹن شکیل کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے الجھن تیر گئی ۔
آپ کے دماغ میں یہ خیال کیسے آگیا ؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل کا لہجہ قدرے سخت تھا۔
میں نے بازار میں خود دیکھا ہے ۔۔۔ رضوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیپٹن شکیل کو اچانک نا معلوم خطرے کا احساس ہونے لگا اور اس نے آہستہ آہستہ جیب میں ہاتھ ڈالنا چاہا ۔
فیروز صاحب ۔۔ جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ ذرا اپنے چاروں طرف ایک نظر دوڑائیں ۔۔۔ نوجوان کا لہجہ انتہائی پراسرار تھا۔
کیپٹن شکیل نے غیر ارادی طور پر ادھر ادھر دیکھا اور اسے ساتھ والی میزوں پر خطرناک شکلوں والے چار پانچ آدمی نظر آئے جو اسے بڑی کڑی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ کیپٹن شکیل پھنس چکا تھا لیکن اس کا چہرہ بدستور سپاٹ تھا۔
اس نے ایک طویل سانس لی اور رضوی کو دیکھنے لگا۔ رضوی کی نظروں میں تمسخرانہ جھلک نمایاں تھی ، جیسے وہ کیپٹن تشکیل کو پھنسا کر لطف اندوز ہو رہا ہو ۔
اب تم میرے سوالوں کا جواب دو ۔۔۔ رضوی نے قدرے تحکمانہ لہجے میں کہا ۔
اگر نہ دوں تو؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل کے لہجے میں اطمینان تھا۔
تم جانتے ہو کہ ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔ رضوی نے کیپٹن تشکیل کے خلاف توقع اطمینان پر جھلا کر کہا ۔
کیا کر سکتے ہو ۔۔۔ کیپٹن شکیل کا لہجہ سخت ہو گیا۔
صرف ایک گولی کافی ہوگی ۔۔۔ رضوی نے کہا ۔
گولی مجھ پر اثر انداز نہیں ہوتی مسٹر رضوی ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے رضوی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔
تم خاموشی سے اٹھ کر ہمارے ساتھ چلو ۔۔۔ رضوی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اب اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ریوالور نظر آرہا تھا۔ اس کے اٹھتے ہی ارد گرد کی میزوں سے چار آدمی بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔
کیپٹن شکیل بڑے اطمینان سے کھڑا ہو گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ساتھ جاٸے یا لڑ بھڑ کر حساب برابر کر دے ۔ لیکن پھر اس نے فیصلہ کیا کہ ساتھ جانا زیادہ بہتر رہے گا تاکہ ان کے کسی اڈے کا پتہ چل سکے ۔
چلو ۔۔۔ اس نے اطمینان سے کہا.
کیپٹن شکیل کے اٹھتے ہی اردگرد والے لوگ اس کے پہلو سے آ لگے ۔
باہر چلو ۔۔۔ ان میں سے ایک نے سخت لہجے میں کہا ۔ اور کیپٹن شکیل چپ چاپ باہر کی طرف مڑ گیا ۔ کیفے سے نکل کر تھوڑی دور ہی فٹ پاتھ کے ساتھ ایک ہلکے سبز رنگ کی کار موجود تھی ۔ کیپٹن شکیل کو اس میں سوار کر دیا گیا ۔ اور اس کی جیب سے ریوالور بھی نکال لیا گیا ۔ اور پھر کار تیزی سے سڑکوں پر بھاگئے لگی ۔۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔ قسط نمبر 4 ۔۔
بات سنو مسٹر ۔۔۔ ایک کرخت کی آواز گونجی اور جانے والے ایک ادھیڑ عمر شخص نے مڑ کر دیکھا ۔ اُسے اپنے پیچھے ایک نوجوان مگر انتہائی مجہول صورت بھکاری نظر آیا جس کے سر کے بال بُری طرح بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے پر پھوڑوں کے نشان تھے کپڑے پھٹے ہوتے تھے اور آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی سی تیر رہی تھی ۔
اسے شدید حیرت ہوئی کہ بھکاری کیا کہنا چاہتا ہے ۔
کیا بات ہے؟ ۔۔۔ اس کی آواز میں حیرت کے ساتھ ساتھ قدرے سختی بھی نمایاں تھی۔
کیا تم خدا کو مانتے ہو؟ ۔۔۔ بھکاری کا لہجہ بدستور کرخت تھا ۔ بالکل مانتا ہوں ۔۔۔ اب اُدھیڑ عمر آدمی کے لہجے میں صرف حیرت ہی تھی ۔
نہیں ۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم خدا کو نہیں مانتے ۔۔۔ بھکاری کا لہجہ مزید کرخت ہو گیا ۔
تمہارا مطلب کیا ہے ؟ ۔۔۔ اس نے بھکاری کو ڈانٹ دیا ۔
اگر تم خدا کو مانتے ہو تو خدا کی ضمانت پر ایک روپیہ دو۔ آخرت میں تمہیں ستر مل جائیں گے ۔۔۔ بھکاری نے سوال کیا ۔
یہ بھیک مانگنے کا کونسا طریقہ ہے؟ ۔۔ ادھیڑ عمر شخص چڑ گیا۔
جدید نفسیات کی رو سے یہ بھیک مانگنے کا بہترین طریقہ ہے ۔۔۔ بھکاری نے جواب دیا۔
تم پڑھے لکھے ہو؟ ۔۔۔ وہ شخص بھکاری کے الفاظ سے مرعوب ہو گیا ۔
اور کیا تمہیں جاہل نظر آرہا ہوں ۔۔۔ بھکاری اکڑ گیا۔۔ اگر جاہل ہوتا تو آج لوگوں کو بھیک دیتا پھرتا ۔ نہ کہ وصول کرتا ؟ ۔۔
ادھیڑ عمر کا شخص اس چوٹ پر تلملا گیا ۔ اس نے جان چھڑانے کے لیے جیب سے روپیہ نکالا اور بھکاری کی طرف بڑھا دیا ۔ بھکاری روپیہ لینے کی بجائے دوسری طرف مڑ کر چلنے لگا۔ جیسے اس نے کوئی بات ہی نہ کی ہو ۔ دہ شخص حیرت سے بت بنا روپیہ ہاتھ میں لیے اسے دیکھتا رہا اور پھر اس نے روپیہ جیب میں ڈالا اور بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ وہ یقینا بھکاری کو پاگل سمجھ رہا تھا۔ کیونکہ اب بھکاری نے ایک اور نوجوان کو گھیر لیا تھا ۔
اچانک بھکاری کی نظر پاس سے گذرنے والی ایک سبز رنگ کی کار پر پڑی اور وہ یکدم مڑا اور دوسرے لمحے وہ ایک گلی میں مڑ گیا۔ گلی تاریک تھی گلی میں مڑتے ہی وہ بھاگنے لگا۔
چند لمحے بعد وہ بھکاری اندھیری گلی میں کھڑے ہوئے ایک موٹر سائیکل کے پاس پہنچ کر رک گیا۔ موٹر سائیکل کے ساتھ لٹکے ہوئے بیگ میں سے اس نے پھرتی سے اوور کوٹ نکال کر پہنا اور پھر ھیٹ نکال کر سر پر پہن لیا ۔ اور کوٹ کے کالر کھڑے کیے اور موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کیا اور دوسرے لمحے موٹر ساٸیکل طوفانی رفتار سے بھاگتی ہوئی گلی سے نکلی اور سٹرک پر دوڑنے لگی ۔
اب موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ کر کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی مجہول صورت بھکاری ہو گا ۔ یہ سڑک شہر سے باہر جانے والی تھی اور بیس میل تک سیدھی چلی گئی ملتی ۔ موٹر سائیکل طوفانی رفتار سے اُڑی چلی جا رہی تھی ۔ تقریباً بیس منٹ بعد موٹر سائیکل سوار کو وہ سبز رنگ کی کار دور جاتی ہوئی نظر آئی ۔ اب اس نے رفتار آہستہ کر دی اور کار کا تعاقب کرنا مشروع کر دیا ۔
کار اب شہر سے نکل کر مضافات سے گذر رہی تھی . کار کی رفتار اچھی خاصی تیز تھی۔ تھوڑی دور جاکر کار ایک بائی روڈ پر مڑ گئی یہ سڑک ایک چھوٹے سے قصبے میں جاتی تھی ۔ سڑک سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر وہ قصبہ تھا۔
موٹر سائیکل سوار نے سڑک کے موڑ پر ایک درخت کے نیچے پہنچ کر موٹر سائیکل روک دی ۔ اس نے اوور کوٹ اور ہیٹ اتار کر دوبارہ تھیلے میں ڈالا اور اور پھر قصبے کی طرف چل پڑا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک ایک کتا بھونکتا ہوا اس کی طرف لپکا اور اور پھر تو جیسے کتوں کا ہجوم الٹ پڑا ہو ۔ قسم قسم کے کتے بھونکتے ہوئے اس کے گرد اکٹھے ہو گئے ۔ اور وہ ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا ۔ اس کے رکتے ہی کتے بھی اس کے قریب آکر رک گئے ۔ اور پھر انہوں نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا۔
کتوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا اور بھکاری کی آنکھوں میں الجھنیں تیر رہی تھیں۔
ارے کم بختو میں نے کوئی تم سے خیرات مانگی ہے جو تم یوں شور مچا مچا کر اپنی فیاضی کا رعب مجھ پر جھاڑ رہے ہو ۔۔۔ بھکاری نے ہاتھ نچا نچا کر انہیں ڈانٹنا شروع کر دیا ۔
اتنے میں دو چار کسان وہاں سے گذرے تو انہوں نے کتوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور ڈنڈے مار کر بھکاری کو کتوں سے نجات دلائی ۔
کہاں جانا ہے بھائی؟ ۔۔۔ ایک کسان نے پوچھا ۔
اپنی خالہ کے گھر ۔۔۔ بھکاری نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے جواب دیا۔
کونسی ہے تمہاری خالہ؟ ۔۔۔ کسان نے حیرت آمیز لہجے میں پوچھا ۔
بالکل تمہاری ہم شکل ہے ۔۔۔ بھکاری نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔
اور دوسرے کسانوں نے زور دار قہقہہ مارا ۔ اور پوچھنے والا جھینپ گیا۔
پاگل ہے بیچارہ ۔۔۔ جھینپ مٹانے کی خاطر کسان نے کہا اور وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
خس کم جہاں پاک ۔۔ کتوں سے نجات ملی تو انہوں نے انٹرویو لینا شروع کر دیا ۔۔۔ بھکاری بڑبڑا رہا تھا۔ پھر وہ کچی سڑک پر کار کے ٹائروں کے نشان دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
مختلف گلیوں سے گزرنے کے بعد اس نے کچے سے مکان کے ساتھ وہ کار کھڑی دیکھی۔ مکان کا دروازہ بند تھا۔ گلی سنسان تھی ۔
بھکاری نے مکان کے ارد گرد کی پوزیشن کا اندازہ لگایا مگر اس مکان کے اردگرد تینوں طرف دوسرے مکان ملے ہوئے تھے۔ اب صرف سامنے کی دیوار اور دروازہ تھا جس کے ذریعے اگر وہ اندر جانا چاہتا تو جا سکتا تھا۔
بھکاری نے ایک لمحے کے لیے ادھر ادھر دیکھا اور وہاں کسی کو نہ پاکر اس نے ایک آنکھ دروازے کی جھری کے ساتھ لگا دی ۔ سامنے ایک کچا سا صحن تھا۔ اور صحن کے آگے برآمدہ اور برآمدے کے پار اُسے کسی کمرے کا دروازہ نظر آ رہا تھا جو بند تھا۔ اس نے دیوار کی بلندی کا اندازہ لگایا اور پھر ایک لمحے کے لیے رک کر دروازے کا کنڈا پکڑ کر بندروں کی طرح دروازے پر چڑھتا ہوا دیوار پر پہنچ گیا۔
اس وقت بھکاری انتہائی پھرتیلا نظر آرہا تھا۔ جیسے اس کے جسم میں پارہ پھرا ہوا ہو۔ دوسرے لمحے ایک ہلکا سا دھماکا ہوا اور وہ بھکاری اندر کود گیا۔ چند لمحے ایک جگہ وہ دم سادھے کھڑا رہا ۔ لیکن جب اس دھماکے کا کوئی ردعمل نہ ہوا تو وہ دبے قدموں صحن پار رد نہ وہ کر کے برآمدے سے گذر کر دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ۔ لیکن دوسری خاموشی پا کر اس نے دروازے کو دبایا تو دروازے کے دونوں پیٹ بغیر کوئی آواز پیدا کئے کھلتے چلے گئے۔
یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو ہر قسم کے سامان سے بے نیاز تھا ۔ بھکاری اندر داخل ہو گیا۔ اس نے بغور چاروں طرف دیکھا۔ سامنے ہی ایک اور دروازہ تھا۔ وہ بھی صرف دبانے سے کھل گیا اور پھر جب بھکاری کمرے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کمرے میں ٹوٹی پھوٹی چارپائیوں ، اردگرد گندے کپڑے اور میلی رضائیاں بکھری پڑی تھیں۔ یہ کمرہ ہر لحاظ سے بھکاریوں کا مسکن نظر آ رہا تھا اور پھر اس کمرے میں اور کوئی دروازہ نہ تھا۔
وہ حیرت سے چاروں طرف دیکھتا رہا کہ اب کہاں جائے ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا وہ کسی غلط مکان میں آگیا ہے ۔ آخر وہ کار والے کہاں غائب ہو گئے ؟
اچانک اُسے ایک ہلکا سا کھٹکا سنائی دیا اور وہ پھرتی سے ایک ٹوٹی ہوئی چارپاتی کے نیچے گھس گیا ۔ پھر سامنے والی دیوار کا کچھ حصہ ایک طرف ہٹتا چلا گیا ۔ اب وہاں خلا تھا ۔
دوسرے لمحے ایک دیو ہیکل، لمبا تڑنگا اور انتہائی قابل رشک صحت کا مالک نوجوان باهر آیا …
چار پائی جس کے نیچے بھکاری چھپا ہوا تھا۔ ۔ اس خلا کے عین سامنے تھی ۔ وہ قوی ہیکل نوجوان جیسے ہی باہر نکلا، اچانک اس کی نظر سامنے پڑی ہوئی چارپائی کے نیچے پڑی ۔ وہ ایک لمحے کے لیے حیرت زدہ رہ گیا ۔ دوسرے لمحے اس نے پھرتی سے جیب سے ریوالور نکال لیا ۔
کون ہو تم؟ با ہر نکل آؤ ۔۔۔ اس کی آواز اس کے جسم کے برعکس باریک اور منحنی سی تھی ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی چوبا چیں چیں کر رہا ہو۔
بھکاری نے دیکھ لیے جانے پر ایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر چارپائی سے باہر نکلنے لگا مگر ٹوٹی ہوئی چارپائی کے بازو سے اس کا کپڑا پھنس گیا ۔ اس نے باہر نکلنے کے لیے زور لگایا تو چار پاٸی بھی ساتھ گھسٹتی چلی آئی ۔
وہ محمنی آواز والا قوی ہیکل نوجوان اس مضحکہ خیز پوزیشین پر بے اختیار ہنس پڑا۔ بھکاری نکلنے کے لیے جتنا زور
لگاتا، چارپائی اتنی ہی گھسٹ کر آگے آجاتی ۔ اپنی بےکسی پر بھکاری کا چہرہ رونے کے قریب ہو گیا۔
اب چارپائی کمرے کے درمیان پہنچ چکی تھی اور ظاہر ہے کہ چار پائی کے ساتھ بھکاری بھی ۔ اور پھر اس سے پہلے کہ وہ نوجوان کچھ کرتا ۔ بھکاری نے ہاتھ بڑھا کر اچانک نوجوان کی ایک ٹانگ کھینچ لی اور وہ دھڑم سے فرش پر آ گرا ، اور ریوالور اس کے ہاتھ سے نکل کر ایک طرف جا گرا۔
اب بھکاری اچانک سیدھا کھڑا ہوگیا ۔ چارپائی پیچھے الٹ گئی تھی۔ اور پھر بھکاری نے پھرتی سے ریوالور اٹھا لیا ۔
اب خاموشی سے کھڑے ہو جاؤ ۔۔۔ بھکاری نے سرد لہجے میں نوجوان کو حکم دیا ۔ جو اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
بھکاری نے چارپائی میں کپڑا اچانک پھنس جانے سے پورا پورا فائدہ اٹھایا تھا۔ وه نوجوان اب بےبسی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
مگر دوسرے لمحے ریوالور بھکاری کے ہاتھ سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہنگائی ختم کرو ۔۔۔
ہمیں روٹی کپڑا مہیا کرو ۔۔۔
موجودہ حکومت مرده باد ۔۔۔
انقلاب – انقلاب ۔۔۔
ہم اپنی غربت کا انتقام لیں گے ۔۔۔
لوٹ لو ۔۔ مار ڈالو ۔۔۔
ھاٸے ۔ ھائے ۔۔۔۔۔
دارالحکومت کا مین بازار اچانک ان خوفناک تخریبی نعروں سے گونج اٹھا، اور مین بازار میں سے نکلنے والی ہر گلی سے بھکاریوں کے گروہ کے گروہ مین بازار میں جمع ہونے لگے اور چند ہی لمحوں بعد عجیب وضع کے بھکاریوں سے تمام بازار بھر گیا ۔
یہ ایک بہت بڑا جلوس تھا جس کے تمام تر شرکا بھکاری تھے۔ عجیب و غریبہ ہیت – ننگے ۔ پیوند زده – وحشت زدہ پاگلوں کی طرح اچھل اچھل کر یہ خوفناک نعرے لگا رہے تھے ۔ ۔
مین بازار بڑی بڑی دکانوں پر مشتمل تھا۔ جن کے اندر کروڑوں روپے کا سامان بھرا ہوا تھا ۔ بازار گاہکوں سے بھرا ہوا تھا ۔ تمام لوگ سائیڈوں میں ہٹ گئے اور دکانداروں سمیت تمام لوگ دلچسپی سے اس منفرد جلوس کو دیکھنے لگے۔
لوٹو مارو آگ لگا دو ان سرمایہ داروں کو ۔۔۔ اچانک جلوس سے ایک زور دار نعرہ گونجا .
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بازار میں بھاگ دوڑ مچ گئی ۔
بھکاری دیوانہ وارد کانوں میں گھس گئے اور انہوں نے لوٹ مار شروع کر دی ۔ لوٹ مار کے ساتھ ہی اچانک چند بھکاریوں نے ہاتھ میں پکڑے ہوتے قبیلوں میں سے ریوالور نکال لیے اور پھر پورا بازار فائرنگ سے گونج اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی چیخوں اور کراہوں کا ایک طوفان اٹھا۔ اور پھر دکانوں سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔ سارے بازار میں ایک خوفناک اودهم مچ گیا تھا ۔
نجانے کس کو اس افراتفری میں بھی پولیس کو فون کرنا یاد رہا۔ اور پھر تقریبا پندرہ منٹ بعد مین بازار کے ارد گرد پولیس کی گاڑیوں کے سائرن چیخ چیخ کر اپنی آمد کا اعلان کرنے لگے۔ اور پھر پولیس کے دستے رائفلیں اٹھاٸے مین بازار میں گھس آئے ۔ سائرنوں کی آواز آتے ہی بازار میں ہونے والی بے تحاشہ فائرنگ اچانک رک گئی اور لوٹ مار کرنے والے بھکاری نزدیکی گلیوں میں بھاگنے لگے ۔
اس وقت جب پولیس کے دستے مین بازار میں گھسے بازار میں کوئی بھکاری نظر نہ آرہا تھا۔ ہر طرف مردہ اور زخمی مرد، عورتیں اور بچے پڑے ہوئے ملتے۔ تمام سڑک پر خون پھیلا ہوا تھا اور آگ پوری تیزی سے مختلف دکانوں کو اپنی پیٹ میں لے رہی تھی ۔
چند لمحوں بعد وہاں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس گاڑیاں پہنچ گئیں اور زخمیوں اور لاشوں کو تیزی سے ایمبولینس گاڑیوں میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا جانے لگا۔ مین بازار میں پولیس ہی پولیس پھیل گئی ۔ پولیس کے بہت سے دستے مختلف گلیوں میں بھکاریوں کے پیچھے بھاگنے لگے۔ مگر بھکاری تو اس طرح غائب ہو گئے تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔
فائر بریگیڈ والے آگ کے غضب ناک دیوتا سے لڑائی میں مصروف ہو گئے تھے۔ چاروں طرف ایک عجیب خوفناک سماں تھا۔
پھر وہاں پولیس کے اعلی افسران ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور اعلی سرکاری حکام کا ایک جمگھٹا لگ گیا۔ پریس رپورٹروں کے قلم اور پریس فوٹو گرافروں کے کیمرے تیزی سے اپنا کام کرنے لگے۔
اس لوٹ مار اور ہنگامے کی خبر تمام شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور سارے شہر کے لوگ یہ خوفناک اور روح فرسا منظر دیکھنے کے لیے مین بازار کی طرف الٹ پڑے ۔
بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کا جو بازار میں شاپنگ کے لیے آئے ہوئے تھے پتہ کرنے کے لیے آئے تھے ۔ چاروں طرف رونا پیٹنا پڑا ہوا تھا۔ پولیس کو ان لوگوں کا روکنا بھی ایک عذاب بن گیا ۔ لوگوں کے جذبات بھکاریوں کے خلاف شدید ہو گئے۔
شہر میں موجود تمام بھکاری اپنے انجام کے متعلق سوچ کر نجانے کن کونوں کھدروں میں چھپ گئے تھے ۔ لوگ بھکاریوں کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ اس لوٹ مار کا انتقام لیا جائے اور پھر بعض جگہ پر کسی اپاہج اور غریب بوڑھے بھی اندھے انتقام کی لپیٹ میں آگئے۔ اور لوگوں نے انہیں بھکاری سمجھ کر خوب مارا پیٹا ۔ یہ انتقامی قتل و غارت پھر بڑھنے لگی ۔ چنانچہ حکام نے فوری طور پر دار الحکومت میں کرفیو نافذ کر دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ، جولیا کا فون سنتے ہی فلیٹ سے نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑی دیر بعد وہ مین بازار میں پہنچ گیا۔ مین بازار دار الحکومت کا اہم شاپنگ سنٹر تھا۔ اس لیے وہاں گاہکوں کی کثرت کے ساتھ ساتھ بھکاریوں کی تعداد بھی کافی تھی ۔
صفدر مین بازار میں آہستہ آہستہ گھومتا ہوا پاس سے گذرنے والے بھکایوں کو بغور دیکھنے لگا لیکن ابھی تک اُسے کسی پر بھی شک نہ پڑا۔ دوپہر کو اس نے مین بازار میں موجود ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور دوبارہ چیکنگ شروع کر دی ۔ شام چار بجے کے قریب جب صفدر مایوس ہو کر واپسی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مین بازار میں نکلنے والی مختلف گلیوں سے خستہ حال بھکاریوں کے گروہ کے گروہ نکل کر مین بازار میں جمع ہونے لگے ۔ اتنی تعداد میں بھکاریوں کو وہاں دیکھ کر صفدر حیرت زدہ رہ گیا۔
چند لمحوں بعد بھکاریوں کے اس جلوس نے تخریبی نعرے لگانے شروع کر دیتے اور پھر بازار میں لوٹ مار ، فائرنگ اور آتشزدگی کی وارداتیں شروع ہو گئیں ۔
صفدر کی جیب میں اتفاق سے ریوالور بھی نہیں تھا۔ اس لیے وہ فائرنگ سے بچنے کے لیے ایک کونے میں سکڑ گیا۔ تقریبا پندرہ منٹ تک بازار میں قتل و غارت اور لوٹ مار ہوتی رہی ۔ بھکاری وحشیانہ انداز میں لوٹ مار اور فائرنگ کر رہے تھے ۔
صفدر بےبسی سے ایک کونے میں کھڑا یہ دل سوز نظارہ دیکھ رہا تھا اور پھر اس کی نظریں ایک ایسے بھکاری پر جم گیٸں جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ چہرے پر وحشت اور بربریت کا دور دورہ تھا۔ آنکھیں سرخ اور خوفناک انداز میں چمک رہی تھیں ۔ اور وہ بھکاری سر سے گنجا تھا ۔
اس وقت وہ گنجا بھکاری دونوں باتھوں میں ریوالور پکڑے بڑے وحشیانہ انداز میں چاروں طرف فائرنگ کر رہا تھا ۔ ۔ صفدر دیکھ چکا تھا کہ یہ وہی بھکاری ہے جس کے نعرے پر بازار میں لوٹ مار شروع ہوگئی تھی ۔ اس لیے وہ سمجھ گیا کہ یہ بھکاری ضرور اس جلوس کا کرتا دھرتا ہوگا ۔ اور اب صفدر کی آنکھیں صرف اسی کی حرکات پر جمی ہوئی تھیں ۔
پھر پولیس کی گاڑیوں کے سائرن بجنے کی آوازیں سنتے ہی بھکاری لوٹ مار چھوڑ کر تیزی سے گلیوں میں گھس کر بھاگنے لگے۔ صفدر کے ساتھ ہی ایک تنگ سی گلی تھی اور بھکاری اس میں گھس کر غائب ہو رہے تھے ۔
صفدر کی نظریں گنجے بھکاری پر جمی ہوتی تھیں ۔ وہ اس کا تعاقب کرنا چاہتا تھا اور پھر صفدر کی خوش قسمتی تھی کہ وہ گنجا بھکاری بھی اُسی گلی میں گھس گیا ۔ صفدر بھی خاموشی سے اس کے پیچھے گلی میں گھس گیا۔ گلی قدرے تاریک تھی ۔ گنجا بھکاری گلی میں بڑی تیزی سے بھاگ رہا تھا ۔ صفدر بھی اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔
بھاگتے بھاگتے صفدر کے ذہن میں ایک خیال آیا اور دوسرے لمحے اس نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور گریبان پھاڑ دیا ۔ اور سر کے بال پریشان کر دیٸے ۔ پھر وہ بھاگتے بھاگتے ایک لمحے کے لیے رکا اور دوسرے لمحے اس نے اپنی پتلون کا ایک پاٸنچہ بھی پھاڑ دیا ۔ اب وہ بھی ایک بھکاری معلوم ہوتا تھا ۔
گلی کافی تنگ ثابت ہوئی تھی۔ اور پھر اچانک صفدر کے آگے بھاگنے والا گنجا ایک مکان کے دروازے پر رکا اور پھر غراپ سے اندر گھس گیا ۔ صفدر بھی بغیر جھجکے اس مکان کے اندر گھس گیا۔ دروازہ چونکہ کھلا ہوا تھا۔ اس لیے اُسے اندر جانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی ۔ صفدر کے پیچھے بھی چند اور بھکاری بھی اس مکان میں گھس آئے ۔
دروازے کے اندر ایک طویل راہداری تھی راہداری کے آخری کونے میں ایک اور دروازہ تھا۔ صفدر بھی گنجے بھکاری کے پیچھے بھاگتا ہوا اس دروازے میں غائب ہو گیا ۔ اور پھر وہاں کا ماحول دیکھے کہ صفدر کی عقل دنگ رہ گئی ۔
یہ ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں بھکاری ہی بھکاری جمع ہو گئے تھے۔ ان کی تعداد تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب ہو گی ۔ صفدر بھی ایک کونے میں گھس گیا۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ بند کر دیا گیا ۔
گنجا بھکاری ہال میں گھستے ہی ایک کونے کی طرف بڑھتا چلا گیا اور اس کونے میں بنے ہوئے ایک دروازے کو کھول کر اندر چلا گیا ۔ سب بھکاری بری طرح ہانپ رہے تھے۔ شائد یہ بھاگنے کی وجہ تھی ۔ بہت سے بھکاری فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے وحشت سے سرخ ہو رہے تھے ۔ ہال میں خاموشی طاری تھی ۔ صرف بھکاریوں کے ہانپنے کی آوازیں ہی گونج رہی تھیں۔
چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور گنجا بھکاری باہر نکلا اور ہال کے ایک کونے میں بنے ہوئے چبوترے پر چڑھ گیا .
کیا سب ممبرز آگئے ہیں ۔۔۔ گنجے بھکاری کی گرجدار آواز گونجی۔ جی ہاں ۔۔۔ آ تو گئے ہیں شائد ۔۔۔ بھکاریوں میں سے ایک نوجوان نے ھال پر نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا ۔
دوستو ! ہمارا پہلا آپریشن کامیاب ہو گیا ہے اور اس کے لیے میں تمام ممبروں کی ہمت اور محنت کی داد دیتا ہوں ۔ اب آپ اپنا اسلحہ واپس جمع کرا دیں ۔ اس کے بعد میں دوسری ہدایات دوں گا ۔۔۔ گنجے بھکاری نے تمام بھکاریوں کی کارکردگی کی داد دیتے ہوتے کہا ۔
اس کے بعد ایک نوجوان نے چبوترے پر چڑھ کر آوازیں لگانا شروع کر دیں ۔
نمبر ایک ۔۔۔۔ اور پھر ایک بھکاری نے آگے بڑھ کر اپنا ریوالور چبوترے پر رکھ دیا ۔
نمبر دو ۔۔۔ اور پھر دوسرے نے ریوالور رکھ دیا ۔
اس طرح وہ نوجوان چبوترے پر کھڑا نمبر پکارتا چلا گیا اور بھکاری اپنے اپنے نمبروں پر اسلحہ چبوترے پر رکھتے چلے گئے ۔ صفدر سوچ رہا تھا کہ اب وہ کیا کرے؟
اور پھر جب گنتی ایک سو پچیس پہ پہنچی تو کوئی بھکاری آگے نہیں بڑھا۔
تم ادھر آو ۔۔۔ بھکاری جو پاس کھڑا بڑی تیز نظروں سے ایک ایک کو گھور رہا تھا۔ صفدر کو اپنی طرف بلایا ۔ ۔
صفدر نے سوچا کہ اب اس کی قلعی کھل جائے گی۔ بہر حال وہ آگے بڑھ آیا۔ تمام بھکاریوں کی نظریں اس پر مرکوز ہو گئیں ۔ صفدر چبوترے کے پاس آکر رک گیا ۔ تمہارا کیا نمبر ہے ؟ گنجے بھکاری نے تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے صفدر سے پوچھا ۔
پانچ سو دس ۔۔۔ صفدر نے بغیر رکے جواب دیا ۔ اس نے سوچا تھا کہ اس بال میں ایک سو پچیس بھکاری ہیں ۔ اس طرح دوسری گلیوں میں بھی بھکاری گئے تھے۔ تو یقینا ان کے بھی نمبر ہوں گے اور صفدر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ دراصل کسی اور اڈے سے تعلق رکھتا ہے اور غلطی سے اس اڈے میں آگیا ہے ۔
بہر حال اس پوزیشن میں یہ ایک نادر ترکیب تھی۔ جو ذہن میں آئی تھی ۔
تم یہاں کیسے آگئے؟ ۔۔۔ گنجے بھکاری نے گرجتے ہوئے پوچھا ۔
بس جلدی میں ادھر آ گیا ہوں ۔۔۔ گلی بھول گیا تھا ۔۔۔ صفدر نے وضاحت آمیز لہجے میں جواب دیا ۔
تمہارا سیکٹر نمبر کیا ہے؟ ۔۔۔ گنجے بھکاری نے ایک اور سوال کیا ۔ اب صفدر پھنس گیا تھا ۔ جواب دینا بھی ضروری تھا۔ اس لیے اس نے فوری طور پر اندازہ لگایا کہ یہ سیکٹر نمبر ایک ہے اور یہاں کی تعداد سوا سو ہے تو پانچسو نمبر یقینا سیکٹر نمبر چار ہو گا ۔ اس لیے اس نے فوری طور پر جواب دیا۔
نمبر چار ۔۔۔ شائد جواب ٹھیک تھا اس لیے گنجا بھکاری ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا ۔ ایک لمحہ سوچنے کے بعد اس نے کہا ۔
تمہارا اسلحہ کہاں ہے ؟ ۔۔
وہ گر گیا تھا ۔۔۔ صفدر نے آہستہ سے کہا ۔
ہوں ۔۔۔ تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔ اس نے مشکوک نظروں سے صفدر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اور پھر وہ ایک چھوٹے سے دروازے کی طرف چل پڑا۔ جہاں سے وہ باہر آیا تھا ۔ صفدر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ صفدر جب دروازے کے اندر گھسا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ کمرہ نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی راہداری ہے جس میں مختلف کمروں کے دروازے تھے۔
گنجا بھکاری ایک دروازے پر رکا۔ پھر اس نے ہلکا سا دھکا دیکر دوازہ کھولا اور صفدر کو اندر چلنے کے لیے کہا ۔ صفدر خاموشی سے اندر چلا گیا۔ یہ ایک خاصا وسیع کمرہ تھا۔ گنجا بھکاری صفدر کے اندر آنے کے بعد خود بھی اندر آیا اور پھر اس نے دروازہ بند کر دیا ۔ صفدر خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہو گیا ۔
اب بتاؤ تم کون ہو؟ ۔۔۔ گنجا بھکاری اچانک ریوالور نکال کر بولا ۔
بتا تو چکا ہوں ۔۔۔ صفدر نے لا پرواہی سے کہا ۔ اُسے اب اطمینان ہو گیا تھا کہ اب وہ اکیلے ہیں ۔ وہاں مسئلہ دوسرا تھا۔ وہاں سوا سو آدمیوں سے لڑنا ناممکن تھا ۔
بتاؤ ورنہ گولی مارو دوں گا ۔۔۔ گنجے بھکاری نے کرخت لہجے میں کہا۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے ۔
بتا تو چکا ہوں اور کیا بتاؤں ۔۔۔ صفدر کے لہجے میں بدستور لاپرواہی تھی۔
بکواس ہے ۔۔۔ گنجا بھکاری دھاڑا ۔
تم کیا چاہتے ہو ؟ ۔۔۔ صفدر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ۔
تم شرافت سے اپنی اصلیت بتلا دو ورنہ ۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری غصے سے اپنا فقرہ مکمل نہ کر سکا۔
ورنہ تم کیا کر لو گے؟ ۔۔۔ صفدر اب کھل گیا ۔
تم نے شائد اردگرد نظر نہیں ڈالی۔ اسی لیے اکڑ رہے ہو ۔۔۔ گنجے بھکاری نے استفہامیہ انداز میں کہا ۔
صفدر نے چونک کر ادھر اُدھر نظر ڈالی۔ اُسے چاروں طرف دیواروں سے راٸفلوں کی نالیں نکلی ہوئی نظر آئیں ۔
میرے ایک اشارے پر تمہارے جسم میں کٸی سوراخ ہو جائیں گے ۔۔۔ گنجے بھکاری کا لہجہ چڑانے والا تھا۔
صفدر شش و پنج میں پڑ گیا کہ اب کیا کیا جائے ؟
لیکن تم نے اپنے پیچھے نظر نہیں ڈالی ۔۔۔ صفدر نے بھی جواباً وار کیا اور گنجا بھکاری غیر اختیاری طور پر چونک کر پیچھے دیکھنے لگا۔
یہ پرانی چال کارگر ہو گئی۔ اور گنجا بھکاری مار کھا گیا۔ اور اس کی نظر ہٹتے ہی صفدر اچھل کر بھکاری پر آ گرا ۔ اس نے پھرتی سے اس کی گردن کے گرد بازو ڈال کر اسے جکڑ لیا اور خود اس کے پیچھے آگیا ۔
مگر دوسرے لمحے گنجے بھکاری نے اپنے جسم کو ایک جھٹکا دیا اور اُڑتا ہوا عین کمرے کے درمیان میں آ گرا ۔ گنجے بھکاری کے جسم میں گینڈے جیسی قوت تھی ۔ اور دوسرے لمحے اس نے گولی چلا دی ۔ صفدر نے بچنے کی بے انتہا کوشش کی لیکن وہ بچ نہ سکا ۔۔
اس کے منہ سے ایک خوفناک چیخ نکلی اور پھر اس کی آنکھوں میں اندھیرا پھیلتا چلا گیا۔ شائد موت کا اندھیرا ۔۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔ قسط نمبر 5 ۔۔
کمرے میں ناگوار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ وہ چاروں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے گہری سوچوں میں غرق تھے ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے کمرے میں چار بت رکھ دیئے ہوں ۔
چاروں افراد سیاہ لباسوں میں ملبوس تھے اور غیر ملکی تھے ۔ ان کے درمیان پڑی ہوئی میز پر ایک گلدان رکھا ہوا تھا جو گلاب کے مصنوعی پھولوں پر مشتمل تھا۔ اچانک ایک پھول کی پنکھڑیاں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں اور وہ چاروں چونک کر اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ اور پھر دوسرے لمحے اس پھول میں سے ایک بھاری آواز آئی ۔
فرسٹ آپریشن کامیاب ہو چکا ہے باس ۔۔۔ نمبر ون نے جواب دیا ۔ کوئی دقت یا پریشانی تو نہیں ہوئی ؟ ۔۔۔ باس کی آواز میں قدرے اطمینان شامل تھا ۔
نو سر ۔۔۔ نمبر ون نے ہی جواب دیتے ہوئے کہا ۔ باقی تینوں خاموش بیٹھے رہے ۔
او کے ۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام دیا ہے ۔۔۔ باس کی آواز تحسین آمیز تھی ۔
نمبر ٹو ۔۔۔ باس کی آواز آئی ۔
یس باس ۔۔۔ نمبر ٹو نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا ۔
کیا پرو گرام ہے؟ ۔۔
آج آپریشن شروع ہو گا باس ۔۔
تیاریاں مکمل ہیں ؟ ۔۔
یس باس ۔۔
آپریشن ہر قیمت پر کامیاب ہونا چاہیئے ۔۔
کامیابی ہو گی باس ۔۔ آپ بے فکر رہیں ۔۔۔ نمبر ٹو کی آواز میں اعتماد تھا۔
اوکے وش یو گڈ لک ۔۔
نمبر تھری ۔۔ تمہارے پروگرام کا کیا بنا ؟ ۔۔
باس میرے آدمی عمران کی تلاش میں ہیں لیکن وہ مل نہیں رہا ۔۔
تم کچھ ڈھیلے جا رہے ہوں نمبر تھری ۔۔۔ باس کی آواز میں کرختگی آ گئی ۔
بب ۔۔ باس ! میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں ۔ – نمبر تھری کا چہرہ زرد ہو گیا اور اس کی زبان بھی ہکلاہٹ کا شکار ہو گئی ۔ شائد یہ باس کی آواز میں ابھرنے والی کرختگی کا اثر تھا ۔
ہوں ۔۔ میں جلد از جلد کامیابی کی خبر سننا چاہتا ہوں ورنہ ۔۔۔ باس نے جان بوجھ کہ فقرہ نامکمل چھوڑ دیا ۔ اور نمبر تھری کو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے جسم میں سردی کی تیز لہر دوڑ گئی ہے ۔
نمبر فور ۔۔ تمہاری کیا پوزیشن ہے ۔۔۔ باس اب نمبر فور سے مخاطب تھا ۔
سر میرا مشن کامیابی کے بالکل قریب ہے ۔ میں نے قاتل کے محل وقوع کا پتہ چلا لیا ہے ۔ امید ہے ایک دو روز میں کامیابی ہوگی ۔۔۔ نمبر فور کی آواز خوفزدہ تھی ۔
اوکے ۔۔۔ اب میٹنگ برخواست ۔۔ نمبر ون ، آئندہ ہدایت تمہارے پاس پہنچ جائے گی۔ گڈ بائی ۔۔۔ باس کی آواز آنی بند ہو گئی اور پھول کی پتیاں دوبارہ کھلنا شروع ہو گئیں ۔
ان چاروں نے ایک طویل سانس لی اور ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور پھر خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور باری باری کمرے کے دروازے سے باہر نکل گئے ۔
کمرے سے باہر نکل کر نمبر ٹو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا برآمدے سے ہو کر پورچ تک پہنچا۔ اور پھر پورچ میں کھڑی کار میں بیٹھ گیا ۔ اور دوسرے لمحے کار تیزی سے چلتی ہوئی اس عمارت سے باہر نکل گئی ۔ اب کار کا رخ شہر کی طرف تھا . نمبر ٹو کار چلاتے ہوئے کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔
تھوڑی دیر بعد کار آفتاب کالونی کے ایک بنگلے کے سامنے جا کر رک گئی ۔
بنگلے کا پھاٹک بند تھا۔
نمبر ٹو نے ہارن دیا۔ چند ہی لمحوں بعد جھانک کھل گیا اور نمبر ٹو کار اندر لیتا چلا گیا ۔ پورچ میں کار روک کر وہ نیچے اترا اور برآمدے سے ہوتا ہوا ایک کمرے میں آیا .
یہ کمرہ ساز و سامان کے لحاظ سے خواب گاہ معلوم ہوتا تھا۔ نمبر ٹو نے کمرے میں پڑی ایک مسہری کے نیچے ہاتھ ڈالا ۔ ایک ہلکی سی کھٹک کی آواز آٸی اور کمرے کا فرش بائیں کونے سے ہٹتا چلا گیا ۔ اور وہاں سیڑھیاں نمودار ہو گیٸں۔
اس نے خواب گاہ کا دروازہ اندر سے لاک کیا اور پھر سیڑھیاں اترنے لگا۔ پھر جیسے ہی اس نے چوتھی سیڑھی پر قدم رکھا ۔ خلا خودبخود بند ہو گیا ۔ سیڑھیاں تقریباً بیس کے قریب تھیں اور جہاں سیڑھیاں ختم ہوتی تھیں وہاں ایک دروازہ تھا ، اس نے جیب سے چابیاں نکال کر لاک کھولا اور پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں چاروں طرف مختلف قسم کی پیچیدہ مشینیں نصب تھیں ۔ نمبر ٹو ایک مشین کے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس مشین پر ایک چھوٹی سی سکرین نصب تھی ۔ اس نے ایک سرخ رنگ کا بٹن دبایا تو مشین میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ مشین پر لگے ہوئے مختلف رنگوں کے چھوٹے چھوٹے بلب جلنے بجھنے لگے اور مشین سے زوں زوں کی آوازیں نکلنے لگیں۔
اس نے مشین کے ساتھ لگا ہوا ہیڈ فون اٹھایا اور اسے کانوں پر چڑھا لیا۔ پھر ایک اور بٹن دبا دیا۔ سکرین پر روشنی ہو گئی اور زوں زوں کی آواز تیز ہو گئی بلب اور زیادہ تیزی سے جلنے بجھنے لگا۔ سکرین ابھی تک سپاٹ تھی اس پر باریک باریک لہروں کا جال بچھا ہوا تھا جو برق کی طرح کوند رہی تھیں ۔ ایک لمحے تک وہ بغور مشین پر لگے ہوئے ایک بڑے ڈائل کو دیکھتا رہا۔ جیس میں لگی ہوئی سرخ سوئی آہستہ آہستہ صفر کے ہندسے سے آگے بڑھ رہی تھی۔ پھر جب سوئی پچیس کے ہندسے پر پہنچی تو اس نے مشین کی سائیڈ پر لگی ہوئی ایک چوک کھینچ لی۔ سوئی وہیں رک گئی اور اب سکرین پر ایک کمرے کے وسیع ہال کا منظر ابھر رہا تھا۔ منظر لمحہ بہ لمحہ واضح ہوتا چلا گیا ۔
یہ ایک بہت بڑا ھال تھا جس میں بے شمار مشینیں فٹ تھیں اور تقریباً بیس آدمی ان مشینوں کے سامنے بیٹھے کام کر رہے تھے۔ ان سب کو کام میں لگا دیکھ کر نمبر ٹو کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
اس نے میر کی دراز کھول کر ایک نقشہ نکالا اور پھر نقشے کو سامنے پھیلا کر اسے بغور دیکھنے لگا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے ایک جگہ پر سرخ پنسل سے گول دائرہ بنایا اور پھر مشین کا ایک بٹن دبا دیا ۔ بٹن دبتے ہی اس نے دیکھا کہ ھال میں کام کرنے والے تمام افراد چونک پڑے۔ پھر ان میں سے ایک آدمی نے جو بائیں کونے پر ایک مشین کے سامنے بیٹھا تھا۔ پھرتی سے اپنے سامنے رکھی ہوئی مشین کا بٹن دبا دیا ۔
ہیلو باس ۔۔ نمبر ٹو سپیکنگ ۔۔۔ ھال میں موجود نوجوان نے کہا۔
باس سپیکینگ ۔۔ دس اینڈ ۔۔۔ نمبر ٹو نے جواب دیا۔
یس باس ۔۔۔ وہ نوجوان جس نے اپنے آپ کو نمبر ٹو کہا تھا، نے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
آپریشن کس سٹیج پر ہے ؟ ۔۔۔ باس نے سخت لہجے میں پوچھا۔
تمام تیاریاں مکمل ہیں باس ۔۔ اب آپ کے حکم کی دیر ہے ۔۔۔ نمبر ٹو نے مودبانہ لہجے میں کہا ۔
تیاریوں کی تفصیل بتلاٶ ؟ ۔۔۔ باس کا لہجہ قدرے نرم تھا ۔
یس باس ۔۔۔ دارالحکومت میں بھکاریوں کی لوٹ مار کے خلاف ایک بہت بڑا جلوس نکلے گا جو حکومت کی بد نظمی ، نا اہلی ، سرمایہ داروں کی لوٹ کھسوٹ ، مہنگائی اور غربت کے خلاف نعرے لگائے گا۔ اور پھر جب یہ جلوس ہاشم مارکیٹ کے پاس پہنچے گا تو ہمارے آدمی پولیس کی وردیوں میں اس پر فائرنگ کریں گے جس سے جلوس وہاں پر موجود پولیس پر الٹ پڑے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے آدمی اس تصادم کا سہارا لیکر پورے دارالحکومت میں قتل و غارت کا طوفان برپا کر دیں گے۔ تمام بڑی بڑی سرکاری عمارتوں ، سفارت خانوں کو آگ لگا دی جائے گی اور اس طرح ہمارا آپریشن کامیاب ہو جائے گا ۔۔۔ نمبر ٹو نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
جلوس کی تمام تیاریاں مکمل ہیں ؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا۔
یس باس ! تمام آدمی تیار ہیں اور اس وقت سیکٹر نمبر 1 پر موجود ہیں۔ انہیں اسلحہ دے دیا گیا ہے ۔۔۔ نمبر ٹو نے جواب دیا ۔
کرفیو کس وقت ختم ہو رہا ہے ؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا ۔
اب سے دو گھنٹے بعد ۔۔۔ نمبر ٹو نے جواب دیا ۔
ٹھیک ہے کرفیو ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد آپریشن شروع ہو جائے۔ اس کے لیے اب مزید آرڈر کی ضرورت نہیں ۔۔۔ باس نے کہا ۔ اوکے پاس ۔۔۔ نمبر ٹو بولا ۔
وش یو گڈ لک ۔۔ گڈ بائی ۔۔۔ باس نے کہا اور پھر بٹن دبا دیا۔ مشین بند ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی سکرین بھی تاریک ہو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریوالور ہاتھ سے نکلتے ہی اس نے چونک کر دیکھا تو اُسے بائیں کونے میں بھی خلا نظر آیا جس میں ایک شخص ہاتھ میں ریوالور لیے کھڑا تھا ۔
اپنے ہاتھ اوپر کر لو ۔۔۔ اس نے بھکاری کو حکم دیا ۔
بھکاری نے خاموشی سے ہاتھ اٹھا دیئے۔ اب اس منحنی آواز والے قوی ہیکل شخص نے بھی آگے بڑھ کر ریوالور اٹھا لیا۔
مارٹن ۔ اسے لیکر فوراً روم نمبر فور میں پہنچو ۔۔۔ نو وارد نے قوی ہیکل شخص کو حکم دیا۔
اوکے باس ۔۔۔ مارٹن نے جواب دیا .
چلو اندر ۔۔۔ مارٹن نے ریوالور بھکاری کی کمر سے لگا کر اسے خلا کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔
بھکاری خاموشی سے اندر گھس گیا ۔ یہ ایک طویل گیلری تھی ۔ اور پھر ایک دروازے پر پہنچ کر مارٹن نے بھکاری کو رکنے کا حکم دیا۔ بھکاری رک گیا ۔
دروازے پر دستک دو ۔۔۔ مارٹن نے حکم دیا .
بھکاری نے حکم کی تعمیل کی اور دستک دیتے ہی دروازہ کھل گیا ۔
چلو اندر ۔۔۔ مارٹن نے کہا۔ اور پھر بھکاری کے اندر جانے کے بعد مارٹن بھی ندر داخل ہو گیا ۔
بھکاری نے اندر داخل ہوتے ہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھا۔ سامنے ہی دو ستونوں سے ایک عورت اور ایک مرد رسیوں سے بندھے کھڑے تھے۔ یہ جولیا اور کیپٹن شکیل تھے۔ وہاں ان دو کے علاوہ دو اور شخص بھی منہ پر نقاب چڑھائے موجود تھے۔
اسے سامنے والے ستون سے باندھ دو ۔۔۔ ان میں سے ایک نقاب پوش نے مارٹن کو حکم دیا ۔
یہ وہی آواز تھی جس نے پہلے کمرے میں بھکاری کا ریوالور گرا دیا تھا ۔
لیکن میرا جرم کیا ہے ۔۔۔ بھکاری نے پہلی دفعہ زبان کھولی ۔
ابھی پتہ چل جائے گا ۔۔۔ نقاب پوش نے جواب دیا ۔
چلو بھئی باندھ لو تمہاری مرضی ۔۔۔ بھکاری نے کہا اور پھر مارٹن نے اسے ایک ستون سے رسیوں سے اچھی طرح کس کر باندھ دیا ۔
تم بھکاریوں کو بغور کسی لئے دیکھ رہے تھے ؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے کیپٹن شکیل سے پوچھا۔
میں خود بھکاری بننا چاہتا تھا اس لیے بھکاریوں کی نفسیات کا مطالعہ کر رہا تھا۔ کیپٹن شکیل نے اطمینان سے جواب دیا .
اور تم لڑکی کیا تم بھی بھکاری بننا چاہتی تھی ۔۔۔ نقاب پوش اب جولیا کی طرف مڑ گیا ۔
جولیا خاموش رہی ۔
جواب دو لڑکی ورنہ ۔۔۔۔۔ نقاب پوش جولیا کی خاموشی سے جھنجلا گیا تھا ۔
کیا جواب دوں ۔ تم خوامخواہ کسی غلط فہمی میں مجھے پکڑ لاٸے ہو میرا بھکاریوں سے کیا تعلق ؟ ۔۔۔ جولیا نے لا پرواہی سے جواب دیا .
اور تم اس عمارت میں کیوں گئے تھے ؟ ۔۔۔ اب نقاب پوش بھکاری سے مخاطب ہوا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ تینوں کا انٹرویو لے رہا ہو۔
ظاہر ہے بھیک مانگنے آیا ہوں گا ۔۔۔ بھکاری نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ۔
کیا تمہارے نزدیک بھیک مانگنے کا یہی طریقہ ہے؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
اگر اس سے اچھا طریقہ تم جانتے ہو تو وہ بتا دو ۔۔۔ بھکاری نے جواب دیا ۔ ظاہر ہے چوٹ براہ راست نقاب پوشش پر کی گئی تھی ۔ اس لیے وہ غصے سے دھاڑتا ہوا بولا.
شٹ اپ ۔۔ اب تک میں شرافت سے پوچھ رہا تھا۔ اب میں دیکھوں گا کہ تم صحیح بات کسی طرح نہیں اگلتے ۔ مارٹن کوڑا لاٶ ۔۔۔ نقاب پوش نے مارٹن کو حکم دیا جو ایک طرف خاموشی سے کھڑا تھا۔
یس باس ۔۔۔ مارٹن نے کہا اور پھر وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ نقاب پوش غصے کے عالم میں وہیں ٹہلنے لگا۔ دوسرا نقاب پوش خاموشی سے ایک طرف کھڑا تھا۔
چند لمحے بعد مارٹن ہاتھ میں کوڑا لئے واپس آگیا۔ اور اس نے کوڑا بڑے مودبانہ انداز میں نقاب پوش کی طرف بڑھا دیا ۔
کیا اب بھی تم نہیں بتاؤ گے کہ تم لوگ کون ہو ؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے ہاتھ میں کوڑا لہراتے ہوئے ان تینوں سے پوچھا ۔
کم از کم میں تو بتا دیتا ہوں ۔۔۔ بھکاری نے خوفزدہ لہجے میں کہا .
بتاٶ ۔۔۔ نقاب پوش نے کوڑا فضا میں لہرایا۔ ایک زوردار آواز نکلی۔
مم ۔۔ مم ۔۔ میں ۔۔۔ بھکاری خوف کی وجہ سے ہکلا رہا تھا ۔
ہاں ہاں بتاٶ ۔۔ ڈرو مت ۔۔ اگر تم صحیح بتا دو گے تو میں نرمی بھی برت سکتا ہوں ۔۔۔ نقاب پوش کی آواز بیحد نرم تھی .
مم ۔۔ مم ۔۔ میں ۔۔۔ بھکاری ابھی تک خوف زدہ تھا ۔
کیا۔ میں میں ۔ لگا رکھی ہے ۔ جلدی بتاٶ ۔۔۔ نقاب پوش کو اب غصہ آ گیا تھا۔
میں بھکاری ہوں ۔۔۔ بھکاری نے فقرہ پورا کر دیا ۔
اوہ تم میرا مذاق اڑا رہے ہو ۔۔۔ نقاب پوش غصے کی شدت سے دھاڑا۔ اور پھر اس سے پہلے کہ وہ کوڑا لہراتے ہوئے بھکاری کی طرف بڑھتا کمرہ سیٹی کی تیز آواز سے گونج اٹھا۔ نقاب پوش نے چونک کر ہاتھ روک لیا۔
دوسرے لمحے وہ کونے میں رکھی ہوئی ایک میز کی طرف بڑھا۔ میز پر ایک ٹرانسمیٹر نما مشین رکھی ہوئی تھی اور سیٹی کی آواز اس میں سے نکل رہی تھی ۔ نقاب پوش نے کوڑا ایک طرف رکھا اور خود مشین کے سامنے پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ اور اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک بٹن دبا دیا۔ سیٹی کی آواز ایک دم رک گئی اور اس کے ساتھ ہی ایک تیز آواز گونجنے لگی ۔
ہیلو ہیلو ۔۔ بی بی ۔۔ ہیلو بی بی ۔۔ اوور ۔۔
یس ۔۔ بی بی سپیکینگ ۔۔ اوور ۔۔۔ نقاب پوش نے کرخت آواز میں کہا ۔
باس ! ایک اہم پرابلم در پیش ہے ۔۔۔ دوسری طرف سے آنے والی آواز میں پریشانی نمایاں تھی ۔
ایک منٹ ہولڈ آن کرو ۔۔۔ نقاب پوش نے فورا کہا اور پھر اس نے پلٹ کر مارٹن کو حکم دیا ۔
مارٹن ۔۔ ان تینوں کو فی الحال روم نمبر تھری اور ٹو میں بند کر دو میں بعد میں ان سے نپٹوں گا ۔۔
اوکے باس ۔۔۔ مارٹن نے مودبانہ انداز میں جواب دیا ۔ اور پھر اس نے جولیا کو کھولا اور ریوالور کی نالی اس کی پشت سے لگا کر اسے باہر لے گیا۔ چند منٹ بعد وہ واپس آیا اور اس نے کیپٹن شکیل کو کھولا اور باہر لے گیا۔ اور پھر اس نے بھکاری کو بھی کھول کر اس کی پشت سے ریوالور لگایا اور باہر لے گیا۔
گیلری میں آکر اس نے ایک دروازہ کھولا اور بھکاری کو اندر چلنے کا اشارہ کیا ۔ اور بھکاری خاموشی سے اندر چلا گیا۔ بھکاری کے اندر جاتے ہی اس نے دروازہ باہر سے. بند کر دیا ۔
بهکاری جیسے ہی اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ کمرہ تو بالکل خالی ہے۔ اور باہر کا دروازہ بھی بند ہو گیا ۔ دروازہ بند ہوتے ہی ایک کھٹکا ہوا اور سامنے کی دیوار میں خلا پیدا ہو گیا ۔ بھکاری اس خلا میں داخل ہو گیا۔ اس کے داخل ہوتے ہی خلا دوبارہ برابر ہو گیا ۔
یہ ایک وسیع کمرہ تھا جس میں اس سے پہلے تین آدمی موجود تھے ۔ بھکاری جیسے ہی اندر داخل ہوا۔ اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کا دماغ ٹوٹ کر ہزار ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس کی آنکھیں حیرت کی شدت سے پھٹ گئیں اور وہ سامنے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس نے اپنی زندگی کی سب سے حیرت انگیز چیز دیکھ لی ہو۔ اس کے ذہن میں لگاتار دھماکے ہو رہے تھے۔
کک ۔۔۔ کیا ۔۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ ۔۔۔۔ بھکاری کے منہ سے حیرت کی شدت سے یہ الفاظ نکلے۔ اور اُسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ حیرت کی زیادتی کی وجہ سے بے ہوش ہو رہا ہو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سر رحمان کو اس کمرے میں بند ہوٸے آج دوسرا دن تھا۔ اب انہیں یقین آگیا تھا کہ وہ کسی خطرناک مجرم کے پھندے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ جس نے قانونی طور پر پہلے انہیں مردہ قرار دلوایا اور پھر اپنے قبضہ میں کر لیا۔ لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مجرم کا اس ڈرامے سے آخر کیا مقصد ہے اور وہ ان سے کیا کام لینا چاہتا ہے ۔ وہ شدت سے چاہ رہے تھے کہ کسی طرح سے عمران یا سرسلطان کو اپنے زندہ ہونے کی خبر پہنچا دیں۔ لیکن اول تو ان کے پاس اس کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور اگر کوئی ذریعہ ہوتا بھی تو وہ اس اطلاع پر کیسے یقین کر لیتے جس کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا اور جنہیں حکومت نے پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا ہو اور دفن کرتے وقت سرسلطان اور عمران خود موجود ہوں ۔ تب وہ کیسے یقین کر لیتے کہ سر رحمان مرے نہیں زندہ ہیں۔
سارا دن اور ساری رات وہ اسی ادھیر بن میں رہے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے؟ مجرم نے انہیں عجیب صورتحال میں پھنسا دیا تھا۔ جس پر وہ جتنا غور کرتے اتنا ہی الجھ جاتے۔ اس وقت بھی وہ اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھے کہ دروازہ کھلا اور محمنی آواز والا قوی ہیکل مارٹن مشین گن تھامے اندر داخل ہوا ۔
چلو تمہیں باس بلا رہے ہیں ۔۔۔ اس نے بڑے اکھٹر پن سے سر رحمان کو مخاطب کیا ۔
تمیز سے بات کرو ۔۔۔ سر رحمان کے چنگیزی خون کو جوش آگیا . شٹ اپ ۔۔ خاموشی سے چلے چلو ورنہ ۔۔۔ مارٹن نے مشین گن کے ٹریگر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ اور سر رحمان خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہو گئے ۔ اور پھر مارٹن انہیں لیے ہوئے گیلری سے ہوتا ہوا ایک وسیع ھال میں لے آیا ۔ یہاں ایک بہت بڑی میز کے گرد دو کرسیاں رکھی ہوٸی تھیں جن میں سے ایک پر ایک قومی ہیکل نقاب پوش بیٹھا تھا ۔
بیٹھو سررحمان ۔۔۔ نقاب پوش نے دوسری کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سر رحمان سے کہا ۔
سر رحمان خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئے۔ اب نقاب پوش اور سر رحمان کے درمیان ایک بہت بڑی میز حائل تھی۔ اور مارٹن مشین گن لیے سر رحمان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ۔
کیا حال ہیں سر رحمان؟ کوئی تکلیف تو نہیں ہوٸی؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے بڑی نرمی سے پوچھا ۔
اپنے مقصد کی بات کرو ۔۔۔ سر رحمان نے اکھڑے سے لہجے میں جواب دیا۔
سر رحمان ! میں آپ کی دلی طور پر عزت کرتا ہوں ۔ کیو نکہ آپ بہرحال ایک معزز آدمی ہیں اور اب کیونکہ آپ کلی طور پر میرے قبضہ میں ہیں اس لیے آپ اپنا اکڑ پن چھوڑیئے اور جو میں کہوں اس پر خاموشی سے عمل کریں ورنہ ہو سکتا ہے کہ میں آپ کو واقعی موت کے حوالے کر دوں . پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کو زندہ نہ کر سکے گی ۔۔۔ نقاب پوش کی آواز میں دھمکی تھی۔
باقی باتیں چھوڑیں ۔ یہ بتائیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ ۔۔۔ سررحمان کا لہجہ بھی اب نرمی پذیر تھا۔
میں سب سے پہلے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کا صحیح صحیح جواب دیں گے ۔۔۔ نقاب پوش نے کہا ۔
سر رحمان نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ خاموشی سے بیٹھے رہے ۔ عمران آپ کا بیٹا ہے؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے سوال کیا ۔
ہاں ۔۔۔ سر رحمان نے مختصر سا جواب دیا۔
وہ کس عہدے پر کام کرتا ہے؟ ۔۔۔ نقاب پوش کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
کاش وہ کسی عہدے پر کام کرتا ۔۔۔ سر رحمان نے ایک ٹھنڈی سائنس لیتے ہوئے کہا ۔
کیا مطلب؟ ۔۔۔ نقاب پوش حیرت زدہ لہجے میں بولا ۔
مطلب یہ کہ نقاب پوش ! وہ کسی عہدے پر کام نہیں کرتا ۔ آوارہ گردی کرتا ہے اور پولیس انفارمر ہے ۔۔۔ سر رحمان کا لہجہ شکست خوردہ تھا ۔
آپ غلط کہہ رہے ہیں ۔ میری اطلاع کے مطابق وہ اس ملک کا کوئی بہت بڑا عہدیدار ہے ۔۔۔ نقاب پوش کے لہجے میں تیزی تھی ۔
نہیں ۔۔ یہ جھوٹ ہے۔ میں نے اس کی آوارہ گردی سے مجبور ہو کر اسے گھر سے نکال دیا تھا۔ میں تو چاہتا تھا کہ وہ کوئی اچھا عہدہ سنبھال کر میرا نام روشن کرے مگر ۔۔۔۔ سر رحمان نے فقرہ نامکمل چھوڑ دیا۔
کمال ہے۔ اب میں کسی بات کو سچ سمجھوں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف پولیس انفارمر ہے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ کوئی بہت بڑا عہدے دار ہے ۔ میری اطلاع بھی سچی ہے اور آپ کا چہرہ بھی بتلا رہا ہے کہ آپ جھوٹ نہیں بول رہے ۔۔۔ نقاب پوش کا لہجہ عجیب سا تھا ۔
آپ کا اصل مقصد کیا ہے وہ بتائیں ؟ بلکہ بہتر یہ ہے کہ پہلے آپ اپنا تعارف کرا دیں تاکہ میں صورت حال کو سمجھ سکوں ۔۔۔ سر رحمان اب ماحول سے سمجھوتہ کر چکے تھے۔
فی الحال میں اپنے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا اور آپ بھی اس پر اصرار نہ کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عمران سے میں ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ نقاب پوش نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
کیوں ؟ ۔۔۔ سر رحمان نے بے اختیار پوچھا۔
یہ بھی نہیں بتا سکتا ۔۔۔ نقاب پوش بولا.
پھر تم کیا بتا سکتے ہو ؟ ۔۔۔ سر رحمان کو پھر غصہ آگیا ۔
صرف اتنا کہ میں عمران سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ نقاب پوش نے اسی طرح دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
پھر اتنا لمبا چکر چلانے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کے فلیٹ پر چلے جاتے اور مل لیتے ۔۔۔ سر رحمان جھنجھلا گئے۔
آپ کو یہاں لانے کا مقصد کچھ اور ہے۔ عمران کی بات تو میں ویسے ہی کر رہا تھا ۔ باقی اب عمران کافی دن ہوئے فلیٹ سے غائب ہے ۔۔۔ نقاب پوش نے کہا۔
میرے یہاں لانے کا کیا مقصد ہے ؟ ۔۔۔ سر رحمان نے اس کی باقی بات نظر انداز کرتے ہوئے سوال کیا ۔
صرف اتنا کہ اگر کسی وقت عمران سے ٹکراٶ ہو جائے اور حالات ہمارے خلاف ہو جائیں تو ہم آپ کی زندگی کا سودا کر کے اس سے اپنی بات منوا سکیں ۔۔۔ نقاب پوش نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔
تم عمران سے اتنے خوفزدہ کیوں ہو؟ ۔۔۔ سر رحمان کے لہجے میں قدرے مسرت جھلک رہی تھی ۔ انہیں واقعی اتنے بڑے مجرم کو عمران سے خوفزدہ دیکھ کر دلی مسرت ہورہی تھی ۔
میں خوفزدہ نہیں ہوں بلکہ میں اپنے کمزور سے کمزور دشمن کو بھی نظر انداز نہیں کرتا ۔ یہ میری فطرت ہے اور اسی وجہ سے میں آج تک کسی مشن میں بھی ناکام نہیں ہوا ۔۔۔ نقاب پوش نے بتلایا ۔
تمہارا اس ملک میں کیا مشن ہے ؟ ۔۔۔ سر رحمان نے سوال کیا ۔
آپ کو کیسے علم ہوا کہ میں غیر ملکی ہوں؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے پوچھا۔
کیوں بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ کیا تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو کہ میں تمہارے لہجے سے اتنا بھی پتہ نہ چلا سکوں کہ تم مقامی ہو یا غیر ملکی ۔۔۔ سر رحمان نے برا سامنہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔
ہوں ۔۔۔ میں بھول گیا تھا کہ آپ کوئی عام آدمی نہیں بلکہ انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے ۔۔۔ نقاب پوش نے لفظ تھے ، پر خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا۔
تم نے اپنا مشن نہیں بتایا ۔۔۔ سر رحمان نے دوبارہ اصل موضوع پر آتے ہوئے پوچھا۔
اب آپ نے بچوں والی بات کہہ دی ہے ۔ آپ نے کیسے تصور کر لیا کہ میں آپ کو اپنا مشن بتا دوں گا ۔۔۔ نقاب پوش نے جواب دیا ۔
اس لیے کہ بقول تمہارے اب میں تمہارے قبضہ میں ہوں ۔۔۔ سر رحمان نے جواب دیا ۔
آپ کو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں کمزور سے کمز ور دشمن کو بھی نظر انداز نہیں کیا کرتا ۔ اور آپ بہر حال دشمن ہیں دوست نہیں ۔۔۔ نقاب پوش نے کہا اور سر رحمان خاموش ہو گئے۔
چند لمحے تک خاموشی طاری رہی۔ پھر نقاب پوش نے مارٹن کو جو سر رحمان کی پشت پر مشین گن تھامے خاموشی سے کھڑا تھا مخاطب کیا ۔
” مارٹن ٹیلیفون یہاں لے آؤ ” نقاب پوش نے کہا اور اس کے ساتھ ہی نقاب پوش نے جیب سے ریوالور نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مارٹن کے ایک طرف ہٹتے ہی سر رحمان کوئی حرکت کریں۔
مارٹن نے کمرے کے کونے میں رکھی ہوئی ایک میز پر سے ٹیلیفون سیٹ اٹھایا اور لا کر نقاب پوش کے سامنے رکھ دیا اور دوبارہ وہی پہلے والی پوزیشن اختیار کرلی ۔
نقاب پوش نے ریوالور دوبارہ جیب میں رکھ لیا اور پھر رسیور اٹھا کر نمبر ڈائل کرنے شروع کر دیئے ۔ سر رحمان کی طرف چونکہ ٹیلیفون سیٹ کی پشت تھی ۔ اس لیے وہ نہیں دیکھ سکے کہ نقاب پوش نے کس کے نمبر ڈائل کیے ہیں۔ اور پھر نمبر ڈائل کر کے نقاب پوش نے رسیور کانوں سے لگا لیا ۔
ہیلو کون بول رہا ہے ؟ ۔۔۔ رابطہ قائم ہوتے ہی نقاب پوش نے پوچھا۔
میں سلیمان بول رہا ہوں ۔۔۔ دوسری طرف سے سلیمان کی آواز آئی۔
عمران کہاں ہے؟ ۔۔۔ نقاب پوش نے پوچھا۔
میری جیب میں ہے ۔ فرمایٸے ؟ ۔۔۔ سلیمان نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا ۔
شٹ اپ ۔۔ تمیز سے بات کرو ۔۔۔ نقاب پوش کو غصہ آگیا ۔
تو آپ تمیز صاحب کو بلا لیں۔ میں ان سے بات کر لیتا ہوں ۔۔۔ سلیمان باز نہیں آیا ۔
تم شرافت سے بات نہیں کرو گے بدتمیز ۔۔۔ نقاب پوش غصے میں دھاڑا ۔
اب بتاٶ میں کیا کروں ؟ کبھی تم کہتے ہو تمیز صاحب سے بات کرو اور کبھی کہتے ہو شرافت صاحب سے بات کرو ۔۔۔ سلیمان نے کہا ۔ اس کا لہجہ بدستور معنی خیز تھا۔
میں تمہارا بندو بست کرتا ہوں ۔۔۔ نقاب پوش نے بےبس ہو کر کہا اور پھر ایک جھٹکے سے رسیور رکھ دیا ۔
نقاب پوش ایک لمحے تک خاموش بیٹھا رہا۔ شائد غصہ ضبط کر رہا تھا پھر اس نے مارٹن کو حکم دیا ۔
مارٹن سر رحمان کو روم نمبر تھری میں لے جاؤ ۔۔۔ نقاب پوش کا لہجہ اب تک غضب ناک تھا۔ سر رحمان خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر مارٹن انہیں روم نمبر تھری تک پہنچا آیا ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔ قسط نمبر 6 ۔۔
کرفیو ہٹنے کے ایک گھنٹے بعد دارالحکومت میں ایک بہت بڑا جلوس حکومت کے خلاف نکلا۔ جس کی رہنمائی ایک مشہور سیاسی پارٹی کے صدر کر رہے تھے اور پھر اس جلوس کا تصادم پولیس سے ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی دارالحکومت آتش زنی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں گھر گیا ۔
یہ دن دارالحکومت کی تاریخ میں ہمیشہ ایک بھیانک دن کے نام سے پکارا جاٸے گا۔ بے پناہ قتل عام ہوا ۔ حکومت کو فوری طور پر کرفیو نافذ کرنا پڑا اور تمام دارالحکومت کا انتظام فوج نے سنبھال لیا ۔ سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں۔ لیکن رات گئے تک کہیں نہ کہیں خنجر زنی یا فائرنگ ہوتی رہی ۔ فوج کی بے پناہ سختی کے بعد کہیں جا کر دارالحکومت میں امن قائم ہوا ۔
اس ایکا ایکی جلوسوں اور وارداتوں سے حکومت بوکھلا گئی ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سب کچھ کیسے ہوا اور کیوں ہوا ۔ ؟ اس تصادم کی اطلاع جب دوسرے شہروں میں پہنچی تو وہاں بھی ماحول میں کشیدگی پیدا ہو گئی ۔ اس اچانک واقع ہونے والے فسادات پر ایک سراسیمگی پھیلی ہوتی تھی۔ اور صدر مملکت نے فوری طور پر کابینہ اور اعلی سرکاری افسروں کی میٹنگ طلب کر لی۔ اس میٹنگ میں دارالحکومت کی صور تحال پر غور کیا گیا ۔ آخر یہی فیصلہ ہوا کہ صدر مملکت فوری طور پر قوم سے خطاب کریں اور صورت حال کی وضاحت کریں تاکہ بپھرے ہوئے عوام کچھ سکون پذیر ہو جائیں ورنہ ہو سکتا ہے کہ عوام اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔
تمام انٹیلی جنس کے سربراہوں کو مطلع کر دیا گیا تھا کہ وہ صورت حال پر کڑی نظر رکھیں اور ان فسادات اور شورشوں کی جڑ تلاش کریں ۔
اس میٹنگ میں بلیک زیرو بھی بطور ایکسٹو شامل ہوا تھا۔ صدر مملکت نے خصوص طور پر ایکسٹو کو حکم دیا کہ وہ ملک دشمن عناصر کو فوراً منظر عام پر لے آئیں۔ ایکسٹو نے اس بات کا وعدہ کیا اور پھر یہ میٹنگ برخواست ہو گئی . صدر مملکت نے قوم سے خطاب کیا اور ان فسادات کی تمام تر زمہ رداری غیر ملکی جاسوسوں اور ملک دشمن عناصر پر ڈال دی۔ اور اپیل کی کہ انہیں منظر عام پر لے آنے کے لیے حکومت سے تعاون کریں.
اس مدبرانہ تقریب سے بپھرے ہوئے عوام کافی حد تک سکون پذیر ہو گئے لیکن حکومت نے دار الحکومت میں بدستور کرفیو لگائے رکھا اور فوجی سپاہی سڑکوں اور گلیوں کا گشت کرتے رہے ۔
۔۔۔۔۔
بلیک زیرو میٹنگ سے فارغ ہو کر سیدھا دانش منزل میں گیا۔ وہ اس وقت دانش منزل کے آپریشن روم میں بیٹھا گہری سوچ میں غرق تھا۔ عمران یک بیک کہیں غائب ہو گیا تھا اس کے ساتھ ہی صفدر ، کیٹین شکیل اور جولیا بھی گم تھے بلیک زیرو کو کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ عمران نجانے اچانک کہاں غاٸب ہو گیا تھا ۔
ادھر صدر مملکت نے ہر گھنٹے بعد رپورٹ مانگی تھی۔ کیونکہ ان فسادات کی وجہ سے ملک کی حالت نازک ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ خود بھی اس کیس پر فوری طور پر کام شروع کرنا چاہتا تھا۔ لیکن عمران کی اچانک گمشدگی نے اُسے مفلوج کر کے رکھ دیا تھا ۔ ویسے اسے پوری امید تھی کہ عمران ضرور مجرموں کی راہ پر لگ گیا ہے کیونکہ صفدر، جو لیا اور کیپٹن شکیل کی گمشدگی اس بات کی دلیل تھی کہ عمران نے انہیں بطور ایکسٹو کسی کام پر لگایا ہوگا ورنہ وہ اطلاع کئے بغیر کیسے جا سکتے تھے ۔ اس وقت بھی بلیک زیرو عمران کی طرف سے کسی اطلاع کے انتظار میں آپریشن روم میں بیٹھا تھا لیکن تاحال اسے عمران کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی تھی ۔
چند لمحوں بعد مخصوص نمبروں والے ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی، بلیک زیرو نے پھرتی سے رسیور اٹھایا۔
اہکسٹو ۔۔۔۔ بلیک زیرو نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
میں سر سلطان بول رہا ہوں دوسری طرف سے سر سلطان کی آواز بلیک زیرو نے پہچان لی ۔
میں طاہر بول رہا ہوں جناب ۔۔۔ بلیک زیرو نے مودیانہ لہجے میں کہا ۔
طاہر ۔۔ عمران کہاں ہے؟ ۔۔۔ سرسلطان کی آواز میں پریشانی جھلک رہی تھی .
جناب! مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ میں خود پریشان ہوں۔ عمران صاحب کے ساتھ ہی تین ممبر بھی غائب ہیں ۔۔۔ طاہر نے جواب دیا۔
کمال ہے۔ اس وقت ملک کو اس کی اشد ضرورت ہے اور وہ غائب ہو گیا ہے ۔۔۔ سر سلطان کا لہجہ قدرے برہم تھا۔
جناب ۔۔ جہاں تک میرا خیال ہے وہ مجرموں کی راہ پر لگ چکے ہیں ۔۔۔طاہر نے اپنا عندیہ ظاہر کیا۔
خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اچھا دیکھو جب بھی عمران آئے یا اس کی کوئی اطلاع آئے ۔ اسے کہہ دینا کہ مجھ سے رابطہ قائم کرے ۔۔۔ سرسلطان نے کہا۔
بہت بہتر جناب ۔۔۔ طاہر نے کہا اور پھر دوسری طرف سے رسیور رکھنے کی آواز سن کر اس نے بھی رسیور رکھ دیا اور عمران کی کال کی انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر کی چیخ کے ساتھ ہی گنجے بھکاری کا زور دار قہقہہ کمرے میں بلند ہوا۔ صفدر تڑپتے تڑپتے ساکن ہو گیا تھا۔ گولی اس کے پہلو میں لگی تھی ۔
صفدر کے ساکن ہوتے ہی گنجے بھکاری نے دیوار پر لگا ہوا ایک بٹن دبایا تو فورا ہی ایک دیوار سرک گئی اور ایک نوجوان اس میں سے نکل کر اندر آگیا ۔
نمبر الیون ۔۔ لاش کو فورا گٹر میں بہا دو ۔۔۔ گنجے بھکاری نے صفدر کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوتے حکم دیا ۔
نوجوان نے پھرتی سے صفدر کے لاش کو اٹھا کر اپنی کمر پے لادا اور کمرے سے باہر نکل گیا اور پھر تیزی سے مختلف کمروں سے گزرتا ہوا ایک کمرے میں جا کر رک گیا اس نے صفدر کو فرش کے درمیان میں لٹا دیا اور پھر ایک طرف ہٹ کر سوٸچ بورڈ پر لگا ہوا ایک بٹن دبا دیا۔ دوسرے لمحے فرش کا وہ حصہ جہاں صفدر پڑا ہوا تھا، گھوم کے برابر ہو گیا اور صفدر نیچے بہنے والے گٹر میں جا پڑا ۔
صفدر کا جسم پانی میں گرا تو اسے اچانک ہوش آنے لگا۔ وہ دراصل ختم نہیں ہوا تھا بلکہ بیہوش ہوگیا تھا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ گنجے بھکاری نے اس کے مردہ ہونے کی تسلی نہیں کی تھی بلکہ صرف گولی پر اعتماد کر کے اُسے مردہ سمجھ لیا تھا یا شاید اس وقت اسے جلدی تھی، اس لئے اس نے سوچا کہ صفدر مر چکا ہے.
پانی میں تین چار غوطے کھانے سے صفدر کو ہوش آگیا اور پھر ہوش میں آتے ہی اسے سب سے پہلے تو اپنی بے پناہ نقاہت کا احساس ہوا۔ دوسرے لمحے اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ماحول کو سمجھنا چاہا لیکن گھپ اندھیرے کی وجہ سے اُسے کچھ دکھائی نہیں دیا تھا۔ ادھر گندے پانی سے اٹھنے والی سڑانڈ اس کے حواس کو معطل کیے دے رہی تھی ۔ اور پھر اس کے ڈگمگاتے ہوئے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ اس وقت کسی زیر زمین بہنے والے گٹر میں موجود ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی ساتھ اسے تمام سابقہ حالات یاد آگئے ۔
اس نے تیزی سے پہلو پر ہاتھ پھیرا ۔ اب چونکہ وہ گٹر میں کھڑا ہوا تھا اس لئے پانی اس کی ناف سے نیچے بہہ رہا تھا۔ پہلو پر اسے چکناہٹ سی محسوس نہیں ہوٸی۔ وہ سمجھ گیا کہ پانی میں ہونے کی وجہ سے خون نکلنا بند ہو گیا ہے اور یہ قدرت کی بہت بڑی رحمت تھی کہ اسے مردہ سمجھ کر پانی میں ڈال دیا گیا تھا ۔ ور نہ ہو سکتا تھا کہ خون زیادہ نکل جانے کی وجہ سے وہ بے ہوشی کے عالم میں ہی عالم بالا کی طرف سدھار جاتا .
حالات کا احساس ہوتے ہی اس نے ہاتھ پھیلا کر گٹر کی دیوار کو پکڑنا چاہا اور پھر جدوجہد کے بعد وہ دیوار کے قریب پہنچ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ایک ہاتھ ناک اور منہ پر رکھا ہوا تھا۔ اسے خطرہ تھا کہ گٹر میں موجود زہریلی گیس کہیں اس کا خاتمہ نہ کر دے۔
دوسرے ہاتھ سے وہ ٹٹول ٹول کر آگے بڑھ رہا تھا۔ پھر اس کی خوش قسمتی تھی کہ جلد ہی اوپر جانے والی سیڑھیوں کا ایک ڈنڈا اس کے ہاتھ میں آگیا اور وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر اس نے ہاتھ سے اوپر رکھے ہوئے ڈھکن کو اٹھانا چاہا لیکن ڈھکن کافی وزنی تھا۔ دوسرا صفدر کافی سے زیادہ نقابت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے اپنے پیر مضبوطی سے سیڑھی پر جماٸے اور پھر دونوں ہاتھوں سے ڈھکن اٹھانے کی کوشش کی ۔
ڈھکن ذرا سا ہلا مگر صفدر اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور سر کے بل دوبارہ پانی میں آ گرا اور پھر ایک آدھ غوطہ کھانے کے بعد وہ دوبارہ سنبھلا اور ایک بار پھر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ ڈھکن کے قریب پہنچ کر اس نے سر بھی ڈھکن کے ساتھ لگایا اور پھر سر کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے بھی ڈھکن اٹھانے کے لئے زور لگایا ۔ ایک جھٹکا لگا اور پھر وزنی ڈھکن الٹ کر دوسری طرف جا گرا، صفدر ایک بار پھر توازن بگڑنے کی وجہ سے نیچے گرتا گرتا ہچا ۔ مگر اس نے پھرتی سے سیڑھی کے ڈنڈے کو پکڑ لیا تھا۔ تازہ ہوا اندر آنے کی وجہ سے صفدر کو اپنے جسم میں تازگی اور نئی طاقت کا احساس ہوا اور دوسرے لمحے وہ اس ڈھکن کے سوراخ سے ہوتا ہوا باہر نکل آیا۔
زور لگانے کی وجہ سے صفدر پر نقاہت کا شدید حملہ ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس کے پہلو سے دوبارہ خون نکلنا شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے وہ چند لمحے تک سوراخ کے قریب زمین پر لیٹا لمبے لمبے سانس لیتا رہا۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ اس پہلو پر رکھا ہوا تھا جہاں گولی لگی ہوئی تھی ۔
چند لمحے بعد وہ گرتا پڑتا ہوا اٹھا اور آگے بڑھنے لگا۔ یہ ایک گلی تھی اور اس وقت گلی بالکل سنسان پڑی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ گلی طے کرنے لگا،
گلی سے نکلتے ہی وہ ایک بڑی سڑک تک پہنچ گیا۔ سڑک بھی اس وقت سنسان تھی تکلیف اور نقاہت کی وجہ سے اس کے دماغ پر اندھیرے اپنا ڈیرہ جمانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ اپنی بےپناہ قوت ارادی کی وجہ سے ان اندھیروں کو بار بار جھٹک رہا تھا۔ کیونکہ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر اب وہ بیہوش ہو گیا تو پھر وہ کبھی بھی ہوش میں نہ آسکے گا۔ اب چلنے کی اس میں طاقت نہیں رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھکاری نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا اور پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھا۔
سامنے ایک کرسی پر سر رحمان بیٹھے پریشان نظروں سے بھکاری کو دیکھ رہے تھے۔ وہ سمجھ نہیں سکے تھے کہ یہ بھکاری یہاں کیوں آیا ہے؟ کیسے آیا ہے ؟ اور اندر آتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے کیوں پھٹ گئی ہیں ؟
آ ۔۔ آپ سر رحمان ہیں ؟ ۔۔۔ بھکاری نے ہکلاتے ہوٸے لہجے میں پوچھا۔ اُسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ سر رحمان سے مخاطب ہے۔
سر رحمان ایک بھکاری کے منہ سے اپنا نام سن کر چونک پڑے ۔
تم مجھے کیسے جانتے ہو ؟ ۔۔۔ اب حیرانی کی سر رحمان کی باری تھی ۔
آپ پہلے آپ تسلیم کریں کہ در حقیقت آپ ہی سر رحمان ہیں ۔۔۔ بھکاری نے اپنے سوال پر اصرار کیا ۔
ہاں میں ہی سر رحمان ہوں ۔۔
الٰہی تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔۔۔ بھکاری کے منہ سے بےاختیار کلمہ شکر نکلا۔ سر رحمان خاموشی سے بیٹھے اُسے دیکھ رہے تھے ۔
لیکن آپ تو مر چکے تھے ۔۔۔ بھکاری نے اب سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
ہاں دنیا کی نظروں میں مرچکا ہوں سر رحمان نے افسردہ لہجے میں جواب دیا.
لیکن تم کون ہو؟ ۔۔۔ سر رحمان نے اب اس سے پوچھا ۔
آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ ۔۔۔ بھکاری کی آنکھوں میں اب شرارت عود کر آئی تھی ۔
نہیں ۔۔۔۔ سر رحمان نے اُسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
پہلے وعدہ کریں کہ اگر پہچان لیا، آپ ماریں گے تو نہیں ۔۔۔ بھکاری ایک دوسرے لہجے میں بولا ۔
عمران تم ۔۔۔ سر رحمان کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے کہیں نزدیک ہی دھماکا ہوا ہو۔ وہ عمران کی آواز پہچان گئے تھے اور پھر وہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہاں ڈیڈی میں عمران ہوں ۔۔۔ بھکاری جو دراصل عمران ہی تھا اس نے سر جھکا کر جواب دیا۔
عمران ۔۔۔۔ سر رحمان کی آواز عمران کو یوں اچانک سامنے دیکھ کر گلو گیر ہوگئی اور انہوں نے بےاختیار ہو کر بازو کھول دیئے ۔
عمران کی اپنی حالت بھی پتلی ہو رہی تھی ۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ اپنے باپ سے ایک طویل مدت کے بعد مل رہا ہو۔
عمران ایک جھٹکے سے آگے بڑھا اور باپ کے سینے سے لگ گیا ۔ سر رحمان بڑی محبت سے اپنے بیٹے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔ ان کے پدرانہ جذبات ان کی آنکھوں کے راستے سے اُمڈنے کے لئے بیتاب تھے لیکن وہ ضبط کر گئے۔ شائد یہ ان دونوں کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ دونوں باپ بیٹا یوں بغل گیر ہوٸے تھے ورنہ کہاں سر رحمان اور کہاں یہ لاڈ پیار ۔ بس وقت اور موقع کی بات تھی۔
جب امڈتے ہوتے جذبات کو تسکین مل گئی تو وہ علیحدہ ہو گئے ۔ اب رحمان صاحب کی نظر عمران کے حلیے پر تھی ۔
یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے ؟ کچھ تو باپ کے وقار کا بھی خیال رکھا کرو ۔۔۔ سر رحمان کے لہجے میں پرانی سختی عود کر آئی ۔
کیا کروں ڈیڈی ؟ جیب بالکل خالی تھی ۔ میں نے سوچا چلو اسی طرح کچھ جیب خرچ اکٹھا کر لوں ۔۔۔ عمران بھی اب پرانے موڈ میں آگیا ۔
اس سے پہلے کہ سر رحمان کوئی جواب دیتے ۔ ایکدم دروازہ کھلا اور مارٹن اور ایک نقاب پوش اندر داخل ہوئے ۔ مارٹن کے ہاتھ میں بدستور مشین گن تھی ۔ دونوں باپ بیٹا ان کے یوں اچانک اندر داخل ہونے پر چونک پڑے ۔
ہوں ۔۔ تو باپ بیٹے کا ملاپ ہو رہا ہے ۔۔۔ نقاب پوش نے تمسخر سے بھر پور لہجے میں کہا۔
عمران ایک بار پھر چونک پڑا۔
حیران کیوں ہو گئے ہیں آپ دونوں ؟ میں آپ دونوں کی ملاقات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں ۔۔۔ نقاب پوش نے کہا ۔
عمران جھلا گیا۔ کیونکہ اس نے جذبات میں آکر یہ خیال بھی نہیں رکھا کہ وہ دشمن کے نرغے میں ہیں اور وہ ابھی اپنی شخصیت کا اظہار کرنا نہیں چاہتا تھا ۔
ہاں تو رحمان صاحب! دیکھیے کس طرح عمران جال میں آ پھنسا ۔۔۔ نقاب پوش نے سر رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
ہوں ۔۔۔ سر رحمان نے صرف ” ہوں” پر ہی اکتفا کیا۔
مارٹن ۔۔ عمران صاحب کو شوٹ کر دو۔ میں دشمن کو زیادہ دیر زندہ رکھنے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔ نقاب پوش نے مارٹن کو حکم دیتے ہوئے کہا اور مارٹن نے مشین گن کا رخ عمران کی طرف کر دیا۔
مارٹن کی انگلی نے ٹریگر پر ابھی حرکت نہیں کی تھی کہ عمران اڑتا ہوا اس پر آگرا۔ عمران نے یہ حملہ یوں اچانک اور اتنی پھرتی سے کیا تھا کہ مارٹن سنبھل نہ سکا مشین گن اس کے ہاتھ سے نکل کر ایک طرف جاگری اور وہ عمران سمیت فرش پر آگرا ۔ نقاب پوش نے پھرتی سے مشین گن اٹھانی چاہی، مگر سر رحمان کی بھرپور لات اس کے پہلو میں پڑی اور وہ کراہتا ہوا ایک طرف جا گرا۔
ادھر عمران ابھی تک مارٹن سے بھڑا ہوا تھا۔ مارٹن انتہائی سخت جان اور لڑائی کے فن میں ماہر معلوم ہوتا تھا۔ فرش پر گرتے ہی وہ یوں اٹھ کھڑا ہوا جیسے اس کے جسم میں سپرنگ لگے ہوٸے ہوں اور دوسرے لمحے اس کا زوردار مکا اٹھتے ہوئے عمران کی کنپٹی پر پڑا۔ مکا واقعی بہت زور دار تھا۔ عمران کا دماغ ایک لمحے کے لئے سن ہو گیا اور لڑکھڑا کر ایک طرف جاگرا۔
پھر مارٹن نے عمران کے سینے پر لات مارنی چاہی مگر اب عمران کے سر پر خون سوار ہو گیا تھا ۔ وہ پھرتی سے پہلو بچا گیا اور مارٹن اپنے زور پر لڑکھڑا گیا ۔ دوسرے لمحے عمران تیزی سے اٹھا اور اٹھتے ہی مارٹن پر جھپٹ پڑا۔ اس نے مارٹن کو یوں اپنے دونوں ہاتھوں پر اٹھا لیا جیسے بچہ کسی کھلونے کو اٹھاتا ہے۔ ایک بار اس نے تیزی سے اُسے سر پر گھمایا اور پھر زور سے دیوار پر دے مارا ۔ مارٹن کے منہ سے ایک باریک چیخ نکلی۔ اس کے سر سے خون بہنے لگا لیکن نجانے اس میں کتنی قوت برداشت تھی کہ اتنی زبردست چوٹ لگنے کے باوجود وہ پھرتی سے اٹھا اور ایک بار پھر عمران کے مقابل آگیا ۔
ادھر سر رحمان اور نقاب پوش کے درمیان جنگ جاری تھی ، سر رحمان کی بوڑھی ہڈیوں میں اب بھی بےحد دم خم تھا آخر عمران کے والد تھے۔ وہ عمران ، جسے دشمن تک ناقابل تسخیر سمجھتے تھے ۔ انہوں نے نقاب پوش کو ٹھڈے مار مار کر بےحال کر دیا تھا۔ ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح اس کے منہ سے نقاب اتار لیں لیکن ہر بار نقاب پوش بچ جاتا۔ سر رحمان نے اس کے سینے پر فلائنگ کک مارنی چاہی مگر اس نے تیزی سے پہلو بچایا اور دوسرے لمحے وہ اچھل کے دروازے کی دوسری طرف جا گرا۔
ادھر مارٹن جس کا منہ اپنے ہی خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ ابھی تک عمران کے مقابل ڈٹا ہوا تھا۔ ایک بار پھر عمران کے ہاتھ میں اس کی گردن آگئی ۔ اس نے ایک زور دار جھٹکا دیا۔ مارٹن کے منہ سے کراہ نکلی ۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی ۔ اس کے منہ سے بھی خون بہنے لگا اور وہ فرش پر گر کر ہاتھ پیر مارنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔
مارٹن کے ٹھنڈے ہوتے ہی عمران نے جھپٹ کر مشین گن اٹھائی اور پھر سر رحمان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں تقریباً گھسیٹا ہوا باہر نکل آیا ۔ دوسرے کمرے کا دروازہ باہر سے بند تھا۔ عمران نے تالے پر مشین گن کی گولیوں کی بارش کر دی۔ دروازہ کھل گیا۔ دونوں لپک کر باہر نکل آئے لیکن باہر آتے ہی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ دونوں پھرتی سے زمین پر لیٹے گئے ایک گولی سر رحمان کے بازو کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔
دوسرے لمحے عمران نے مشین گن کا دھانہ کھول دیا ۔ اس نے ایک شخص کو سیڑھیوں کی اوٹ میں چھپے ہوتے دیکھ لیا تھا۔ گولیوں کی بوچھاڑ رک گئی اور وہ شخص مردہ چوہے کی طرح اڑتا ہوا نیچے فرش پر آ گرا ۔
ڈیڈی ! آپ ادھر جائیں۔ میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔ عمران نے گیلری کے بائیں طرف جانے کا کہا اور پھر جھک کر پنڈلی پر بندھا ہوا ریوالو نکال کر ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔
مگر تم ۔۔۔۔ رحمان صاحب نے شائد کچھ اعتراض کرنا چاہا مگر عمران آگے بڑھ چکا تھا۔
رحمان صاحب ریوالور لیے آگے بڑھ گئے جس طرف عمران نے اشارہ کیا تھا۔
عمران نے اگلے بند دروازے پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، دروازہ کھل گیا ۔ دروازہ کھلتے ہیں اُسے سامنے جولیا اور کیپٹن شکیل نظر آئے۔ عمران کو یقین تھا کہ دونوں اس کمرے میں ہوں گے
کیونکہ اس نے کمرے کے اوپر نمبر دو لکھا ہوا دیکھ لیا تھا ۔
باہر نکلو ۔۔۔ عمران نے اپنی اصلی آواز میں کہا۔
عمران تم ۔۔۔ کیپٹن شکیل اورجولیا نے کہا مگر عمران پیچھے مڑ گیا تھا۔ وہ دونوں پھرتی سے باہر نکل آئے پھر وہ عمران کے پیچھے گیلری کی باٸیں ساٸیڈ پر بھاگنے لگے۔
گیلری کے اختتام پر رحمان صاحب دیوار کے ساتھ کھڑے تھے ۔ عمران نے وہاں پہنچتے ہی تیزی سے ادھر ادھر دیکھا لیکن خفیہ دروازے کا بٹن اُسے کہیں بھی نظر نہ آیا ۔
شکیل تم پیچھے کی طرف خیال رکھنا ۔۔۔ عمران نے مشین گن شکیل کے ہاتھ میں پکڑا دی اور خود دیوار پر ہاتھ مار کر دیکھنے لگا۔ مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ اس وقت ایک ایک لمحہ قیمتی تھا۔
اچانک عمران کو ایک خیال آیا اور اس نے سر پر لگی ہوئی بلب بریکٹ کو کھینچا تو ایک دیوار میں دروازہ نمودار ہوگیا۔
وہ چاروں جھپٹ کر باہر نکلے ۔
اب وہ اسی کمرے میں تھے جہاں ٹوٹی ہوئی چارپائیاں اور گندے بستر پڑے ہوئے تھے۔ اسی وقت ان کے پاؤں کے نیچے زمین زور زور سے ہلنے لگی۔
باہر نکلو ۔۔۔ عمران زور سے چیخا لیکن اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتے ۔ ایک سماعت شکن دھماکہ ہوا اور کچے کمرے کا ملبہ ان پر آگرا ۔ وہ چاروں اس کے نیچے دب گئے۔ جولیا کے منہ سے زور دار چیخ نکلی تھی۔
مکان منہدم ہو چکا تھا۔ ہر طرف گرد و غبار چھا گیا ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔
رات محبوب کی زلفوں سے بھی زیادہ سیاہ تھی ۔ آج شام سے ہی سرد ہواؤں کے جھکڑ چلنے شروع ہو گئے تھے اور اس وقت رات کے دو بچے تھے ۔ تمام بازار اور گلیاں سنسان تھیں۔ رات کو گشت کرنے والے محافظ بھی سردی کی شدت سے ہار کر نامعلوم کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے تھے ۔
شہر میں ابھی تک کشیدگی تھی ۔ گو حکومت نے کرفیو کی پابندی ہٹا لی تھی اور فوج کو بھی واپس بلا لیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام اور حکومت کے درمیان ایک سرد جنگ جاری تھی ۔ عوام ان اچانک برپا ہونے والے فسادات سے خوف زدہ تھے اور حکومت بھرے ہوئے عوام کے جذبات سے بظاہر نظر نہ آنے والی اسی کشمکش سے۔
رات ہوتے ہی لوگ گھروں سے باہر نکلنا بھول جاتے۔ ورنہ یہ وہی دارالحکومت تھا جس کی راتیں دنوں سے زیادہ پر رونق اور دلکش ہوا کرتی تھیں۔
رات کے اس گھمبیر سناٹے میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا اور ایک سیاہ رنگ کی بڑی سی کار جو اپنی رنگت کی وجہ سے تاریکی کا ہی ایک جز معلوم ہوتی تھی ، ہے آواز طور پر رینگتی ہوئی اگلے چوک پر واقع ایک قومی بینک کی عظیم الشان عمارت کے ساتھ واقع ایک گلی میں گھس گئی اور آگے جا کر رک گئی ۔
اس میں سے سیاہ لباسوں میں ملبوس چار افراد باہر نکلے۔ ان میں سے تین نے اپنی پشت پر بڑے بڑے پیکٹ بیلٹوں سے باندھ رکھے تھے ۔ اور ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی مشینیں تھامی ہوئی تھیں ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک دروازے کی طرف بڑھے۔ یہ اس عمارت کا دروازہ تھا جو بنک کی عمارت کے عین پشت پر واقع تھی۔ ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر دروازے پر ایک ہلکی سی دستک دی ۔ ایک لمحہ ٹھہر کر اس نے دوبارہ مخصوص انداز میں دستک دی۔ اور اس کے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا۔ اندر تاریکی چھاتی ہوئی تھی۔ اس لئے دروازہ کھولنے والا نظر نہ آسکا۔ صرف اس کی آواز سنائی دی۔
کوڈ ۔۔
بیگرز ۔۔۔ دستک دینے والے آدمی نے جواب دیا ۔ شائد وہ اس پارٹی کا لیڈر تھا۔
آپریشن نمبر ۔۔۔ دوبارہ سوال کیا گیا ۔
چار ۔۔۔ پہلے والے نے جواب دیا ۔
کم ان ۔۔۔ سوال کرنے والے نے کہا اور پھر وہ چاروں اندر داخل ہو گئے۔ دروازہ بند ہو گیا ۔
وہ چاروں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوتے برآمدے میں گھس گئے۔ دروازہ بند کرنے والا بھی پیچھے پہنچ گیا۔ برآمدے میں پہنچ کر وہ چاروں رک گئے ۔
میرے پیچھے آؤ ۔۔۔۔ دروازہ کھولنے والے نے کہا اور وہ چاروں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے میزبان کے پیچھے چلتے رہے ۔ مختلف کمروں سے گزرنے کے بعد وہ ایک کمرے میں آکر رک گئے۔ یہ کمرہ روشن تھا لیکن اس کے دروازے اور کھڑکیوں پر دبیز پردے پڑے ہوٸے تھے ۔
یہ کمرہ ہے ۔۔۔ میزبان جو ایک طویل القامت چھریرے بدن کا مالک تھا اس کمرے میں آکر رک گیا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ ان چاروں میں سے ایک نے جواب دیا، چاروں منہ پر نقاب چڑھائے ہوئے تھے اور پھر وہ میزبان کمرے سے باہر چلا گیا۔
نمبر سکس ۔۔۔ جلدی کرو ۔۔ وقت بہت تھوڑا ہے ۔۔۔ ایک نقاب پوش نے کہا۔
ابھی لو باس ۔۔ بس چند منٹ میں کام کر دیتا ہوں ۔۔۔ نمبر سکس نے جس کی کمر پر پیکٹ نہیں لدا ہوا تھا، کہا اور آگے بڑھ کر دیوار کے قریب بیٹھ گیا۔
اس نے ہاتھ میں پڑی ہوئی چھوٹی سی مشین کا بٹن دبایا تو اس میں سے ایک سوئی باہر نکلی۔ اس نے سوئی کو ایک جگہ سیمنٹ کی پلستر شدہ دیوار پر رکھا اور پھر ایک بٹن دبا دیا۔
سوئی تیزی سے گھومنے لگی اور اس کے ساتھ ہی جیگرڈ کا ہاتھ بھی چلتا رہا۔ سوئی سیمینٹ پر ایک لکیر بناتی ہوئی سیدھی نیچے آنے لگی اور پھر جب جیگرڈ نے سوئی دیوار سے ہٹائی تو وہاں کافی چھوٹا ایک مربع صاف نظر آرہا تھا۔ اس نے پھرتی سے مشین کا ایک اور بٹن دبایا تو سوئی واپس اندر چلی گئی ۔ اور اب اس کی جگہ ایک پچکاری کی نالی نما سلاح باہر نکل آئی۔ اس نے وہ نالی سوئی کی بنی ہوئی لکیر کے ساتھ لگا کر مشین کو تھوڑا سا ترچھا کیا اور پھر ایک چھوٹا سا بٹن دبا دیا۔
پانچ منٹ تک وہ نالی کو دیوار سے لگائے بیٹھا رہا۔ پھر اس نے نالی ہٹا لی اور مختلف بٹن بند کر کے اس نے مشین نیچے فرش پر رکھ دی اور خود دونوں ہا تھ اس نے مربع کے درمیان رکھ دیئے ۔
چند لمحے بعد ایک ہلکی سی چٹ کی آواز آئی اور اس مربع نما جگہ پر لگا ہوا سیمنٹ ایک سل کی طرح اکھڑ کر اس کے ہاتھوں میں آگیا۔ سیمنٹ کی یہ سل اس نے فرش پر ایک طرف رکھ دی ۔ اب اندر اینٹیں صاف نظر آرہی تھیں ۔ اس نے دوبارہ مشین اٹھائی اور پھر اس کا بٹن دبا دیا ۔ اب اس میں سے ایک باریک سی سلاخ باہر نکل آئی۔ سلاخ کو اس نے دو اینٹوں کے درمیان رکھا اور پھر دوبارہ ایک اور بٹن دبایا تو اینٹیں یک لخت ایک دوسرے سے تھوڑی سی مخالف سمت میں ہٹ گئیں ۔
اس نے مشین ہٹا کر اس خلا میں انگلی ڈالی اور ایک زور کا جھٹکا دیا۔ ایک اینٹ صحیح سالم باہر نکل آئی ۔ اب وہ پھرتی سے انیٹیں باہر نکال کر ایک طرف لگا رہا تھا۔ یہ دیوار خاصی چوڑی تھی، جب اس کے اندازے کے مطابق آگے صرف ایک اینٹ رہ گئی تو اس نے مشین کی سوئی سے پھر پہلے والا عمل دھرایا ۔ اور پھر اسی طرح دوسری طرف کی سیمنٹ کی سل بھی اس کے ہاتھوں میں آگئی ۔ لیکن اس بار اس سل کے ساتھ اینٹیں بھی چمٹی ہوئی تھیں۔ اب وہاں ایک کافی چھوڑا خلا تھا ۔
میرا کام ختم ہو گیا جناب ۔۔۔ نمبر سکس نے اٹھ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے ۔۔ تم یہیں رکو ۔۔ ہم اندر چلتے ہیں ۔۔۔ ایک نقاب پوش نے کہا اور پھر وہ تینوں جھک کر اس خلا میں سے ہوتے ہوٸے دوسری طرف چلے گئے ۔
یہ بنک کا کیش روم تھا۔ اس میں چاروں طرف الماریاں ہی الماریاں رکھی ہوئی تھیں ۔ ایک نقاب پوش ایک بڑی سی الماری کے قریب جا کر رک گیا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ریوالور نما مشین کا سرا الماری کے دونوں پٹوں کے درمیان رکھا اور پھر ٹریگر دبا دیا ۔ ریوالور کی نالی سے گولی کی بجائے دودھیا رنگ کا ایک غبار نکلا اور باریک سی لکیر سے ہوتا ہوا الماری کے اندر چلا گیا۔ چند لمحے بعد ایک ہلکی سی کھٹک کی آوداز نکلی اور الماری کے دونوں پٹ کھل گئے۔ یہ سب کچھ ایئر پریشر سے ہوا تھا۔ الماری میں نئے نوٹوں کی گڈیاں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں ۔ تمام ایک ہی قسم کے بڑے نوٹ تھے ۔
نمبر ٹو ۔۔ اپنا پیکٹ خالی کر دو ۔۔۔ ایک نقاب پوشش نے دوسرے نقاب پوش سے کہا اور اس نے فورا بیلٹ کھول کر اپنی کمر پر لادا ہوا پیکٹ اتارا اور پھر اس کا منہ کھول کر اس میں سے نوٹوں کے پیکٹ نکال کر باہر فرش پر رکھنے لگا ۔ یہ اسی قسم کے بڑے نوٹ تھے جیسے الماری میں تھے ۔
الماری میں رکھے ہوئے نوٹوں کے بنڈل نقاب پوش نے نکال نکال کر اپنے تھیلے میں بھر لیے اور اس کی جگہ اپنے تھیلے والے بنڈل اسی ترتیب اور قرینے سے وہاں رکھ دیٸے ۔ اس طرح انہوں نے تمام الماریوں سے نوٹ تبدیل کئے اور پھر الماریوں کے پٹ دوبارہ بند کر دیٸے ۔ پٹ بند ہوتے ہی کھٹک کے ساتھ تالے دوبارہ لگ گئے اور پھر چاروں نقاب پوش واپس خلا کی طرف آٸے اور پھر اس میں سے ہوتے ہوٸے دوبارہ روشن کمرے میں آگئے ۔
ہو گیا کام ۔۔۔ نمنر سکس نے جو روشن کمرے میں موجود ان کا منتظر تھا ان کے اندر آتے ہی پوچھا ۔
ہاں ۔۔۔ ایک نقاب پوش نے جواب دیا ۔
تو پھر میں بقیہ کام کروں؟ ۔۔۔ نمبر سکس نے پوچھا ۔
ہاں ۔۔ جلدی کرو ۔۔۔ نقاب پوش نے جواب دیا ۔
نمبر سکس نے جھک کر اینٹوں پر مشتمل سیمنٹ کی سل اٹھائی اور پھر خلا کی چوڑائی میں بیٹھ کر اس نے بڑے سلیقے سے وہ سل اپنی پرانی جگہ پرفٹ کی اور ایک ہاتھ سے اُسے تھام کر اس نے دوسرے ہاتھ سے ایک مشین اٹھائی اور اس کا بٹن دبایا۔
اب اس میں سے ایک پچکاری سی باہر نکلی۔ پچکاری کا سرا اس نے سل کی سائیڈوں پر لگایا اور انگوٹھے سے ایک لیور دبایا۔ پچکاری میں سے ایک گاڑھا سا ہےرنگ سیال سا باہر نکلنے لگا جہاں جہاں وہ سیال مادہ لگتا جاتا سل فوراً جڑ جاتی۔
چند لمحوں بعد وہ سل اپنی پرانی جگہ پر فٹ ہو گئی ۔ پھر اس نے بڑی پھرتی سے انیٹیں چننا شروع کر دیں۔ اس کے بعد اس نے انہیں بھی اسی مخصوص سیال سے جوڑ دیا۔ اور پھر اس
نے پہلے والی سیمنٹ کی سل کو بھی فٹ کر دیا۔ اب وہاں کوئی لکیر وغیرہ نظر نہیں آرہی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس جگہ کو کسی نے چھیڑا بھی نہ ہو۔ یہ واقعی عجیب و غریب مشین تھی۔
لیجئے جناب ۔۔۔ نمبر سکس ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا .
ویری گڈ ۔۔۔ نقاب پوشوں کے لیڈر نے کہا۔۔ اب نکل چلو ۔۔
اور پھر وہ چاروں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکل آئے۔ کمرے سے باہر میزبان موجود تھا۔
کام ہو گیا ؟ ۔۔۔ میزبان نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔
ہاں ۔۔ اب ہم چلتے ہیں ۔۔۔ نقاب پوش نے جواب دیا۔
اوکے ۔۔۔ میزبان نے کہا ۔
چاروں نقاب پوش تیز تیز قدم اٹھاتے ہوتے دروازہ کھول کر باہر نکلے اور تھوڑی بعد ان کی سیاہ کار سنسان سڑکوں پر تیزی سے دوڑتی چلی گئی ۔
باس! یہ کیا چکر ہے؟ ۔۔۔ ان میں سے ایک نقاب پوش نے کہا ۔
بہت لمبا چکر ہے نمبر الیون ۔۔ یہ تو تمہیں علم ہے کہ جو نوٹ ہم الماریوں میں رکھ کر آرہے ہیں وہ جعلی ہیں۔ جعلی نوٹوں کے بدلے ہم اصلی نوٹ وہاں سے لے آٸے ہیں آج رات کو ہماری طرح دار الحکومت کے ہر بڑے بنک میں اس رقم کا تبادلہ ہو چکا ہوگا ۔ اب کل سے دارالحکومت میں تمام جعلی نوٹ پھیل جائیں گے اور پھر تم دیکھو گے کہ چند دنوں بعد جب اس بات کا انکشاف ہوگا تو ملک میں شدید ترین مالی بحران پھیل جائے گا۔ اتنا شدید مالی بحران کہ حکومت کے پیر اکھڑ جائیں گے ۔۔۔ باس نے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔
اوہ واقعی لمبا چکر ہے ۔۔۔ سوال کرنے والے نے حیرت سے کہا ۔
ہاں ! ہمارا چیف باس چھوٹا موٹا چکر نہیں چلایا کرتا ۔۔۔ باس نے جواب دیا اور پھر ان کی کار ایک کو ٹھی کے پھاٹک پر جا کر رک گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے عمران نے ملبے سے نکلنے کے لیے ہاتھ پیر مارے ۔ اس نے محسوس کیا کہ اس پر کافی سے زیادہ مٹی پڑی ہوٸی ہے چند لمحے ہاتھ پیر مارنے کے بعد وہ باہر نکل آیا ۔ اب گرد و غبار قدرے کم ہو گیا تھا ۔
عمران نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اسے کیپٹن شکیل نظر آگیا ۔ وہ لمبے لیے سائنس لے رہا تھا ۔ خدا کا یہ شکر تھا کہ کمرے کا درمیانی شہتیر ایک طرف سے سے ٹوٹا ہوا تھا ۔ چنانچہ چھت کی کڑیاں وغیرہ کو اس نے روک لیا اور صرف مٹی ہی ان پر پڑی تھی ۔ اور پھر اور تھوڑی سی جدوجہد کے بعد اس نے جولیا اور سر رحمان کو بھی ملبے سے باہر نکال لیا ۔ جلد ہی وہ سب ہوش میں آگئے ۔
جولیا کے کاندھے پر شاید کسی کڑی کے لگنے سے چوٹ لگی تھی۔
جب سب کو ہوش آیا تو عمران نے اطمینان کا سانس لیا۔ مٹی پڑنے کی وجہ سے وہ سب اس وقت بھوت نظر آرہے تھے ۔ اور عمران کا حلیہ تو انتہائی عجیب و غریب ہو چکا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد اب عمران نے محسوس کیا کہ مکان کے گرد انتہائی شوروغل ہے اور وہ سمجھ گیا کہ بستی والے اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ اور چند لمحے بعد واقعی بہت سے لوگ باہر کی دیوار جو ابھی تک صحیح سالم کھڑی تھی۔ کود کر اندر آئے اور انہوں نے انہیں سہارا دینا چاہا مگر عمران چیخا ۔۔
ملبہ اٹھاؤ ابھی بہت سے لوگ اس میں دفن ہیں ۔۔۔ عمران نے چیخ کر کہا اور سب لوگ ان کا خیال چھوڑ کر ملبہ کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
یہ چال عمران نے اسی لیے کھیلی تھی کہ لوگوں کی توجہ ان سے ہٹ جائے اور وہ کامیاب رہا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ سب سڑک پر پہنچ گئے اور پھر جلد ہی ایک ٹیکسی انہوں نے روک لی۔
ٹیکسی ڈرائیور ان کے بھوتوں جیسےحلیے دیکھ کر حیران رہ گیا مگر عمران نے اس کی تسلی کر دی اور پھر سب سے پہلے سر رحمان کو ان کی کوٹھی پر اتارا گیا ۔ انہوں نے عمران کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا مگر عمران ٹال گیا۔
پھر ٹیکسی کیپٹن شکیل اور جولیا کو ان کے فلیٹوں پر چھوڑ کر سیدھی دانش منزل پر جا رکی ۔ ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ ادا کر کے عمران خود تیزی سے آپریشن روم کی طرف بڑھ گیا۔ پھر جیسے ہی اس نے آپریشن روم کا دروازہ کھولا ۔ اس کے سینے پر پستول کی خوفناک نالی آ لگی ۔
ہینڈز اپ ۔۔۔ یہ آواز بلیک زیرو کی تھی ۔
کیوں بھائی میں نے کیا جرم کیا ہے؟ ۔۔۔ عمران نے خوفزدہ لہجے میں کہا ۔
اوہ ۔۔ عمران صاحب آپ ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا اور دوسرے لمحے چٹ سے کمرہ روشن ہو گیا ۔
عمران صاحب ! آپ اس حلیے میں ۔۔۔ بلیک زیرو اس کا حلیہ دیکھ کر ششدر رہ گیا ۔
جی ہاں جناب کالے صفر صاحب ! مگر ایک بات بتاٶ ۔۔ جب تم مجھے پہچان نہیں سکے تھے تو تم نے مجھے آپریشن روم تک پہنچنے سے روکا کیوں نہیں ؟ ۔۔۔ عمران نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے قدرے سخت لہجے میں پوچھا۔
وہ دراصل بات یہ ہے کہ ویسے تو میں نے اسی وقت ہی آپ کو چیک کر لیا تھا جب آپ منزل میں داخل ہوٸے تھے۔ مگر آپ جس بےباک طریقہ سے بڑھے چلے آ رہے تھے اس پر میں تذبذب میں پڑ گیا ۔ پھر میں نے آپ کو آپریشن روم میں روکنے کا پروگرام بنایا ۔۔۔ بلیک زیرو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے۔ لیکن آئندہ میں اس قسم کی بے احتیاطی برداشت نہیں کروں گا ۔۔۔عمران کا لہجہ بےحد سنجیدہ تھا ۔
بلیک زیرو کیا جواب دیتا ۔ خاموش ہو گیا ۔
میں زرا باتھ روم ہو آؤں ۔ پھر تفصیل سے بات کروں گا ۔۔۔ عمران نے اٹھتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ بلیک زیرو کا لہجہ مودبانہ تھا اور عمران تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے نکل گیا ۔
عمران کے جانے کے بعد بلیک زیرو کرسی پر بیٹھا سوچ رہا تھا کہ عمران کی یہ حالت کیسے بنی ہو گی بہر حال اسے زیادہ دیر تک مغز ماری نہ کرنی پڑی۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد عمران اپنی اصلی شکل میں بلیو کلر کا دیدہ زیب سوٹ پہنے مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ اس وقت وہ اتنا وجیہہ اور خوب صورت لگ رہا تھا کہ بلیک نیرو کی نظریں بھی چند لمحے تک اس پر گڑھی رہ گئیں۔
ارے کیوں ٹکر ٹکر دیکھ رہے ہو؟ ۔۔ ہمیں شرم آتی ہے ۔۔۔ عمران نے بری طرح شرمانے کی اداکاری کی ۔ اور بلیک زیرو کا بےاختیار قہقہ نکل گیا۔
عمران صاحب ! کاش جولیا اس وقت یہاں ہوتی ۔۔۔ بلیک زیرو نے ہنستے ہوتے کہا۔
ارے ارے ۔۔ توبہ کرو۔ پرائی بیٹیوں کا نام کس بےغیرتی سے لے رہے ہو ۔۔۔ عمران نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ اور بلیک زیرہ ایک بار پھر ہنس پڑا۔
ہاں تو سناو طاہر کیا حالات ہیں آجکل ؟ ۔۔۔ عمران نے سنجیدگی سے پوچھا ۔ اور بلیک زیرو بھی یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
عمران صاحب ! ملک کے حالات انتہاٸی دگرگوں ہیں ۔۔
اور پھر وہ تفصیل سے کل کے فساد کا حال سنانے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے صدر مملکت کی میٹنگ کا حال بھی تفصیل سے سنا دیا ۔
ہوں تو یہ بات ہے ۔۔۔ عمران کا چہرہ بھتر کی طرح سخت ہو گیا۔۔ پھر تم نے اس سلسلے میں کیا قدم اٹھایا ہے؟ ۔۔۔ چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد عمران نے پوچھا ۔
میں کیا کر سکتا تھا۔ صفدر، کیپٹن شکیل اور جولیا تینوں آپ کے ساتھ ہی غائب ہو گئے تھے ۔۔۔ بلیک زیرو نے برا سا منہ بناتے ہوئے جواب دیا ۔
صفدر علی غائب ہو گیا ؟ ۔۔۔ عمران نے چونک کر پوچھا ۔ اس کی آنکھوں میں پریشانی ابھر آئی ۔
جی ہاں ۔۔ غائب ہو گیا تھا۔ ابھی دو گھنٹے پہلے وہ سخت زخمی حالت میں پہنچا ہے۔ ابھی تک بیہوش ہے۔ ڈاکٹر درانی نے اس کا آپریشن کیا ہے۔ اس کے پہلو میں گولی لگی تھی۔ ڈاکٹر درانی کہہ رہے تھے کہ صفدر کی سخت جان تھی کہ وہ اس حالت میں بھی یہاں پہنچ گیا اور اب تک زندہ ہے ورنہ گولی جس مقام پر لگی تھی عام آدمی کی تو موقع پر موت واقع ہو جاتی ۔۔۔ بلیک زیرو نے تفصیل بتائی ۔
” اوہ ۔۔۔ اب کیا حالت ہے اس کی ۔۔۔ عمران پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اب وہ خطرے سے باہر ہے۔ لیکن اُسے ابھی تک ہوش نہیں آیا ۔۔۔ بلیک زیرو نے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا ۔
چلو پہلے میں اُسے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے میڈیکل ایڈ روم کی طرف چل پڑے ۔
چند لمحے بعد وہ وہاں پہنچ گئے ۔ صفدر بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ ڈاکٹر درانی اس کے قریب کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔ صفدر کو گلوکوز دیا جا رہا تھا ۔ عمران اور بلیک زیرو کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر ڈاکٹر دورانی مودبانہ انداز میں اٹھ کھڑا ہوا ۔
کیا پوزیشن ہے ڈاکٹر ۔۔۔ عمران نے بغور بیہوش صفدر کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھا۔
اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔ میں نے انجکشن لگایا ہے۔ ابھی چند منٹ میں ہی ہوش میں آنے والے ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا ۔
” شکر ہے خدایا عمران نے اطمینان کی ایک طویل سانس لی ۔
اتنے میں صفدر ہلکا سا کسمایا ۔ اسے ہوش آرہا تھا۔ اسے ہوش میں آتے دیکھ کر بلیک زیرو مڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ اب وہاں ڈاکٹر درانی اور عمران رہ گئے تھے۔
ایک لمحے بعد صفدر نے آنکھیں کھول دیں اور اس نے ایک لمحے کے لئے ادھر اُدھر دیکھا، پھر اس کی نظریں عمران پر جم گئیں ۔
صفدر کیا حال ہے؟ ۔۔۔ عمران نے بڑی بڑی نرمی سے پوچھا۔
ٹھیک ہوں عمران صاحب ۔۔۔ صفدر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
ڈاکٹر نے صفدر کو ایک انجکشن لگایا اور پھر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اب عمران اور صفدر وہاں رہ گئے ۔
صفدر کیا تم حالات بتانے کی ہمت اپنے آپ میں پاتے ہو؟ ۔۔۔ عمران نے سوال کیا ۔
کیوں نہیں عمران صاحب ۔۔۔ صفدر نے کہا اور پھر وہ تفصیل سے عمران کو اپنے اوپر گذرے ہوئے حالات بتانے لگا ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔
۔۔ قسط نمبر 8 ۔۔
دوسرے روز کے اخبارں میں سرحمان کی زندگی اور پراسرار واپسی کی خبریں سرخ باشیوں میں شائع کی گئیں ۔ عمران بھی آج صبح کوٹھی جا پہنچا تھا ۔
سر رحمان کی اسی طرح اچانک واپسی سے ثریا اور عمران کی والدہ مبہوت رہ گئیں اور پھر ان پر شادی مرگ طاری ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ بہرحال عمران خوشش تھا کہ کوٹھی میں رہنے سے اس کی جان بچ گئی ، بڑی مشکل سے وہ اجازت لیکر کوٹھی سے نکلا اور پھر اس کی کار مختلف سڑکوں پر گھومتی ہوٸی ہوٹل تھری سٹار کے کمپاؤنڈ ہیں گھس گئی ۔
بھکاری کے قتل کا واقعہ اسی ہوٹل میں ہوا تھا۔ عمران دراصل ایک نظر دیکھتے ہی بھکاری کے میک آپ کو پہچان چکا تھا۔ پھر بھکاری کی پوزیشن دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ہوٹل میں موجود کس آدمی کے انتظار میں ہے وہ معاملے کو سمجھنے کے لیے اُسے زبردستی ہوٹل میں گھسیٹ کر لے گیا اور جب وہاں اس کا راز کھلنے لگا تو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قاتل کو وہ دیکھ تو نہیں سکا تھا لیکن اس کا اندازہ تھا کہ قاتل کا تعلق ہوٹل تھری سٹار کی انتظامیہ سے ہے۔
آج عمران کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے خیال کی سچائی کو چیک کرے چنانچہ اس کی کار ہوٹل کے کمپاؤنڈ میں مڑ گئی۔ اس نے گاڑی پارکنگ شیڈ میں روکی اور پھر نیچے اتر کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا ہوٹل کے مین گیٹ میں داخل ہو گیا ۔ ہوٹل کا ھال تقریباً خالی ہی تھا۔ کیونکہ دن کا وقت تھا اور ایسے ہوٹلوں کا بزنس رات کو ہی چکتا ہے ۔
عمران سیدھا کاؤنٹر گرل کی طرف بڑھ گیا۔ کاونٹر گرل کسی بڑے سے رجسٹر میں غرق تھی ۔ عمران کاونٹر کے پاس جا کر رک گیا ۔ اس کی موجودگی کا احساس کر کے کاؤنٹر گرل نے سر اٹھایا اور پھر کاروباری انداز میں مسکرا کر پوچھنے لگی۔ فرمایئے ! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں ؟ ۔۔
یعنی آپ مخدوم بننے کی کوشش کر رہی ہیں ۔۔۔ عمران نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
جی کیا مطلب؟ میں سمجھی نہیں ۔۔۔ کاؤنٹر گرل نے عمران کی بظاہر بےتکی بات پر حیرت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا ۔
تو پھر آپ خاک خدمت کریں گی جبکہ آپ مخدوم کا مطلب ہی نہیں سمجھتیں ۔۔۔ عمران کے چہرے پر احمکانہ پن کی جھلکیاں نمایاں تھیں۔
کاونٹر گرل شائد اس سوچ میں گم ہو گئی کہ وہ کیا جواب دے۔ آپ اگر گونگی بنی رہیں گی تو پھر میری کیا خدمت کریں گی؟ ۔۔۔ عمران نے کہا ۔
یہ بتائیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں ؟ فضول باتوں سے میرا وقت مت ضائع کریں ۔۔۔ کاونٹر گرل نے شائد پریشان ہو کر قدرے سخت لہجے میں جواب دیا ۔
جو میں چاہتا ہوں وہ آپ نہیں کر سکیں گی ۔۔۔ عمران نے قدرے سنجیدہ ہو کر کہا۔
آپ حکم تو دیجئے ۔۔۔ کاؤنٹر گرل دوبارہ کاروباری موڈ میں آگئی۔
اچھا ۔ اگر آپ خدمت کرنا ہی چاہتی ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ آپ گنجی ہو جائیں اور پھر ہم دونوں مل کر بازار میں بھیک مانگنا شروع کر دیں گے ۔۔۔ عمران نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔
کاؤنٹر گرل اس عجیب و غریب فرمائش پر ایک لمحے کے لیے بھونچکی رہ گئی ۔
شٹ آپ ۔ آپ کو مجھ سے مذاق کا کوئی حق نہیں ۔۔۔ کاؤنٹر گرل نے بری نے جھڑک دیا ۔
دیکھیئے مس ۔۔ حقیقت میں بڑا ہی خوبصورت منظر ہوگا۔ آپ گنجی ہوں گی اور آپ کا یہ چھوٹا سا سرکتنا خوبصورت لگے گا۔ واہ واہ انفرادیت ۔۔ یقین کیجئے تمام شہر میں آپ کا شہرہ ہو جائے گا اور پھر بھیک ۔۔۔۔
آپ تشریف لے جائیں تو بہتر ہے ورنہ میں ۔۔۔ کاونٹر گرل نے غصے سے سرخ ہوتے ہوئے عمران کی بات کاٹ دی ۔
بس یہی دعویٰ تھا خدمت کرنے کا . اچھا آپ مجھے منیجر کا کمرہ بتلا دیں ۔۔۔ عمران نے معصومیت سے کہا ۔
کاؤنٹر گرل خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی ۔ عجیب و غریب گاہک سے واسطہ پڑا تھا ۔
دوسری منزل پر پہلا کمرہ ۔۔۔ اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا اور عمران یک لخت مڑ گیا۔ جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو ۔
عمران کے سیڑھیوں کا موڑ مڑتے ہی کاؤنٹر گرل نے تیزی سے رسیور اٹھایا اور پھر ایک بٹن دبا کر بات شروع کی ۔
باس ۔۔ ایک نوجوان آپ کے پاس آرہا ہے اس نے گنجے پن اور بھکاری کا اشارہ ڈھکے چھپے لفظوں میں کیا ہے ۔۔۔ کاونٹر گرل نے شائد منیجر کو اطلاع دیتے ہوئے کہا۔
آئے دو ۔۔۔ مینجر کی کرخت آواز سنائی دی اور کاؤنٹر گرل نے خاموشی سے رسیور رکھ دیا۔
عمران جان بوجھ کر لفٹ کی طرف جانے کی بجائے سیڑھیوں کی طرف مڑا تھا اور مڑتے ہی وہ رک گیا۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو اور پھر اس نے کاؤنٹر گرل کی طرف جھانک کر دیکھا وہ کسی کو فون کر رہی تھی۔ عمران کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے جان بوجھ کر گنجے پن اور بھکاری کا حوالہ دیا تھا کیونکہ جولیا کے بیان کے مطابق اسے اغوا کرنے والا ایک گنجا بھکاری تھا۔ دوسری طرف صفدر کے بیان کے مطابق اُسے گولی مارنے والا بھی ایک گنجا بھکاری تھا ۔ اس لیے اس نے سوچا کہ گنجا بھکاری اس کیس میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اب وہ تیزی سے سیٹرھیاں چڑھ رہا تھا ۔ جلد ہی وہ دوسری منزل کے پہلے کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے ایک لمحے کے لیے رک کر جیب میں ریوالور کی موجودگی کا اطمینان کیا اور پھر دروازے پر دستک دے دی ۔
کم ان ۔۔۔ اندر سے ایک کرخت آواز آئی ۔
عمران دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
کمرے میں ایک بڑی مینز کے سامنے ایک قومی ہیکل بدصورت شکل والا ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا ۔ عمران بھی آگے بڑھ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
فرمایٸے ۔۔۔ مینجر نے اپنی چمکتی ہوئی نظریں اس کے چہرے پر جماتے ہوئے پوچھا ۔
فرماتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ذرا سانس تو لینے دیجئے ۔۔۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے سانس چڑھ گیا ہے۔ آپ سیڑھیوں کی تعداد ذرا کم نہیں کر سکتے ۔۔۔ عمران نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے سوال کیا ۔
آپ مطلب کی بات کیجئے مسٹر۔ میںرے پاس فضول وقت نہیں ہے ۔۔۔ مینیجر نے کرخت لہجے میں کہا .
آپ مجھے آرڈر دیجٸے۔ میں آپ کو کافی مقدار میں فضول وقت سپلائی کر سکتا ہوں ۔۔۔ عمران بدستور حماقت پر تلا ہوا تھا.
اب مینجر بھلا کیا جواب دیتا۔ اس نے خاموشی ہی میں عافیت جانی۔ چند لمحے تک کمرے میں خاموشی طاری رہی اور پھر عمران نے ہی یہ سکوت توڑا ۔ اور بولا .
منیجر صاحب! میں نے سنا ہے کہ بھکاریوں سے آپ کے اچھے خاصے تعلقات ہیں ۔۔۔ عمران نے منیجر کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا ۔
میرا اور بھکاریوں سے تعلق ۔۔ آپ گھاس تو نہیں کھا گئے ۔۔۔ مینجر نے غصے سے آنکھیں نکالیں ۔
اگر مہنگائی کا یہی عالم رہا تو ایک دن گھاس بھی کھانی پڑے گی۔ کیا کریں مجبوزی ہے ۔۔۔ عمران پھر پٹڑی ہے اتر گیا۔
افوہ ۔۔ کیا مصیبت ہے کسی پاگل سے واسطہ پڑ گیا ہے ۔۔۔ منیجر نے جھلاتے ہوئے کہا ۔ اور پھر اس نے میز کے کنارے پر لگا ہوا ایک بٹن دبا دیا ۔ عمران خاموش بیٹھا رہا۔
ایک لمحے بعد دروازہ کھلا اور ایک نوجوان اندر داخل ہوا ۔ اس کا چہرہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ شرافت کے دائرے سے دور ہو چکا ہے ۔
یس ۔۔۔ اس نے مودبانہ لہجے میں کہا ۔
ٹونی ان صاحب کو باہر کا راستہ دکھاؤ ۔۔۔ مینجر نے معنی خیز لہجے میں کہا اور دوسرے لمحے ٹونی نے اپنا وہ ہاتھ جو وہ پشت کی طرف کیے ہوئے تھا۔ پھرتی سے آگے کر دیا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور چمک رہا تھا۔
عمران نے مسکرا کر منیجر کی طرف دیکھا ۔ مگر اب منیجر کے ہاتھ میں بھی ریوالور نظر آ رہا تھا۔
چلو مسٹر ٹونی نے کرخت لہجے میں عمران کو حکم دیا ۔
بڑی جلدی کھل گئے دوست ۔۔۔ عمران نے سنجیدگی سے کہا ۔
مسٹر عمران ! ہم کافی عرصے سے آپ کی تلاش میں تھے۔ آج آپ خود بخود ہی جال میں آ پھنسے ہیں ۔۔۔ مینیجر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
یہ عمران ہے؟ ۔۔۔ ٹونی نے چونک کر پوچھا۔
“ہاں” ۔۔۔ مینجر نے جواب دیا ۔
پھر تو آپ اسے میرے حوالے کر دیں باس ! کافی عرصے سے میں اس کی تعریفیں سن رہا ہوں آج میں اس کے کس بل دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ٹونی نے مغرورانہ لہجے میں کہا ۔
ٹھیک ہے۔ تمہیں اجازت ہے ۔ میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمہارے بازوؤں میں کتنی طاقت ہے ۔۔۔ منیجر نے اُسے اجازت دیتے ہوئے کہا۔ اور ٹونی نے پھرتی سے ریوالور جیب میں رکھ لیا ۔ اب اس کی آنکھیں وحشیانہ انداز میں چمک رہی تھیں ۔
عمران مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
ہاں تو مسٹر ٹونی ! تمہارے بازوؤں میں کتنی ہارس پاور ہے ذرا میں بھی تو دیکھوں ۔۔۔ عمران نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔
ٹونی نے جواب دینے کی بجائے اچانک عمران پر چھلانگ لگا دی۔ عمران پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا اور ٹونی سنبھل نہ سکا اور وہ لڑکھڑاتا ہوا سامنے والی دیوار سے ٹکرایا ۔
اسی لمحے عمران اپنی جگہ سے اچھلا اور دوسرے لمحے مینجر اپنی کرسی سمیت پیچھے الٹ گیا۔
اب ٹونی جو عمران پر جھپٹ پڑنے کے لیے دوبارہ تیار تھا۔ ایک لمحے کے لیے جھجک گیا کیونکہ درمیان میں بڑی میز حائل تھی ۔ یہ تو عمران ہی تھا جو ایک پرندے کی طرح اڑتا ہوا میز کراس کر کے منیجر پر جا پڑا تھا۔ ٹونی اتنی ہمت نہ کر سکا ۔ عمران اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے ٹھوکر مار کر مینجر کے ہاتھ سے گرے ہوئے ریوالور کو ایک طرف کر دیا ۔ اور پھر دوسرے لمحے اس نے میز الٹا دی ٹونی جو مڑ کر اس کی طرف آرہا تھا ۔ بڑی مشکل سے بچا ۔
اسی لمحے سے فائدہ اٹھا کر عمران نے اٹھتے ہوئے مینجر کی کنپٹی پر مکا جڑ دیا ۔ مکا یا تو کسی مخصوص جگہ پر پڑا تھا یا اس میں اتنی قوت تھی کہ مینجر دوبارہ نہ اٹھ سکا۔ اور وہ ہاتھ پیر مارتے ہوئے بیہوش ہو گیا۔ اتنے میں ٹوٹی عمران پر آگرا اور وہ دونوں لڑھکتے ہوئے فرش پر جا گرے اور پھر دونوں ہی یکساں پھرتی سے ہی اٹھ کھڑے ہوتے۔ ٹونی یقینا کافی سے زیادہ چست اور طاقتور تھا۔
اب وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل تھے۔ اُسی لمحے ٹونی نے بایاں ہاتھ ہلا کر دایاں مکا مارنا چاہا مگر عمران بھلا ان حربوں میں کہاں آنے والا تھا۔ اس نے پہلو بچا کر ٹونی کا وار بچایا اور پھر اچھل کر ایک زور دار ٹکر ٹونی کی ناک پر ماری ۔ اور ٹونی کی چیخ نکل گئی۔ ٹکر کافی بھر پور پڑی تھی۔ وہ لڑکھڑا گیا۔ دوسرے لمحے عمران کی دونوں ٹانگیں اس کے سینے پر پڑیں اور وہ ڈکراتا ہوا زمین بوس ہو گیا۔ عمران نے گردن سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور پھر ایک مکا جڑ دیا۔ مگر ٹونی بھی اس دوران اپنا اپنا وار کر چکا تھا۔ اس کا زوردار مکا عمران کے پیٹ پر پڑا ۔
اب عمران کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اس نے ٹوٹنی کی گردن پر کھڑی ہتھیلی کا وار کیا۔ وار اتنا بھرپور پڑا کہ ایک چٹخ کی آواز آٸی اور ٹونی کی کریہہ چیخ سے کمرہ گونج اٹھا۔ اس کی گردن کی ھڈی ایک ہی وار سے ٹوٹ چکی تھی ۔ وہ فرش پر گر کر ایک لمحے کے لیے تڑپا اور پھر ٹھنڈا ہو گیا ۔
عمران نے لا پرواہی سے ہاتھ جھاڑے اور پھر دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ مینجر ابھی تک بیہوش پڑا تھا۔ عمران سوچنے لگا کہ اب بیہوش منیجر کو کس طرح ہوٹل سے اٹھا کر لے جائے۔ وہ اسے دانش منزل لے جانا چاہتا تھا تا کہ اس سے پوچھ گچھ کر کے مزید تفصیلات معلوم کر سکے لیکن بھرے ہوٹل سے بیہوش مینجر کو نکال کر لے جانا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔
عمران نے پہلا کام تو یہ کیا کہ دروازے کو اندر سے لاک کیا اور پھر وہ باہر کھلنے والی کھڑکی کی طرف بڑھا۔ اس نے کھڑکی کھول کر نیچے جھانک کر دیکھا ۔ یہ کھڑکی سامنے کمپاؤنڈ کی طرف کھلتی تھی ۔ روشن دن تھا اور کمپاؤنڈ میں خاصی چہل پہل تھی ۔ اُسے کوئی ترکیب سمجھ نہیں آرہی تھی۔
وہ ایک لمحے کے لیے سوچتا رہا پھر اس کی ریڈی میڈ کھوپڑی میں ایک ترکیب آ ہی گئی ۔ گو اس میں سو فیصد رسک تھا لیکن رسک لینا تو عمران کی ھابی تھی ۔ اس لیے اس نے زیادہ پرواہ نہ کی اور اپنی ترکیب پر عمل کرنے کا پورا فیصلہ کر لیا۔
اس نے تیزی سے بیہوش مینجر کو کاندھے پر لادا اور دوسرے لمحے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ گیلری بالکل خالی تھی ۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا ۔ ابھی وہ چند سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ سامنے سے ایک آدمی تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اوپر آرہا تھا اور عمران کو یوں کسی کو کاندھے پر اٹھاتے اترتا دیکھ کر وہ رک گیا ۔ مینجر کا منہ چونکہ عمران کی پشت کی طرف تھا اس لیے وہ سمجھ نہ سکا کہ کاندھے پر کون لدا ہوا ہے۔
کیا بات ہے؟ ۔۔۔ اس کے لہجے میں پریشانی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی۔
کچھ نہیں ۔۔۔ عمران نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا اور پھر وہ سیڑھیاں اترتا چلا گیا ۔ وہ شخص ایک لمحے کے لیے حیران کھڑا دیکھتا رہا۔
عمران سیڑھیاں اتر کر ہال میں پہنچ گیا۔ ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ اُسے اس حالت میں دیکھ کر چونک اٹھے ۔ لیکن اس نے کسی کی پرواہ نہ کی اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا مین گیٹ سے نکلتا چلا گیا ۔
مین گیٹ پر موجود دربان نے حیرت سے عمران کو دیکھا اور پھر وہ مینجر کو پہچان گیا۔ اس لیے وہ چنچا۔
مینجر صاحب کو کیا ہوا ؟ ۔۔
کچھ نہیں ۔۔ بیہوش ہو گئے ہیں ۔۔۔ عمران نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔
دربان حیرت زدہ کھڑا رہ کیا ۔
عمران تقریباً بھاگتا ہوا پارکنگ شیڈ کی طرف بڑھا۔ پھر اس نے پھرتی سے کار کا دروازہ کھولا اور بےہوش مینجر کو پچھلی سیٹ پر پھینک دیا۔ اسی لمحے ہوٹل میں شور مچا اور پھر کئی بیرے اور دوسرے لوگ شور مچاتے ہوتے مین گیٹ سے نکلے ۔
پکڑو ۔۔ اسے پکڑو پکڑو ۔۔۔ یہ قاتل ہے ۔۔۔ اور منیجر صاحب کو اغوا کر کے لیے جا رہا ہے ۔۔۔۔ لوگ شور مچاتے ہوئے پارکنگ شیڈ کی طرف بھاگ رہے تھے
مگر عمران اتنے میں کار سٹارٹ کر کر چکا تھا۔ اور پھر کار بیک ہوٸی اور دوسرے لمحے ہوا کی تیزی سے کمپاؤنڈ سے باہر نکل گئی ۔
عمران کی ترکیب کامیاب رہی ۔ ترکیب کیا تھی۔ ایک سیدھا سادھا طریقہ تھا۔ عمران نے لوگوں کی نفسیات سے فائدہ اٹھایا تھا اور مینجر کو لے اڑا تھا۔ گو اس میں بہت رسک تھا لیکن عمران نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی تھی ۔ جلد ہی اس کی کار دانش منزل کے گیٹ میں داخل ہو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعلی نوٹ لاکھوں کی تعداد میں پکڑے جانے لگے۔ پولیس نے دھڑا دھڑ جعلی نوٹ رکھنے والے لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ۔ لوگوں میں اس بے پناہ گرفتاریوں کے خلاف اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ گرفتار ہونے والے تمام لوگ معزز شہری تھے۔
اور پھر اچانک یہ افواہ جنگل کی آگ کی طرح تمام دارالحکومت میں پھیل گئی کہ ملک میں موجود تمام نوٹ جعلی ہیں اور تمام جعلی نوٹ مختلف بنکوں کے ذریعے بازار میں پھیل رہے ہیں۔ یہ افواہ تھی کہ ٹائم بم پھٹا ۔ اور تمام ملک کو شدید ترین مالی بحران میں مبتلا کر گیا ۔ قیمتیں یکدم آسمانوں پر چڑھ گئیں ۔ لوگوں کو ملکی کرنسی پر اعتبار نہ تھا۔ کاروبار ٹھپ ہو گئے ۔ پولیس نے بینکوں پر چھاپے مار کر تمام جعلی نوٹ برآمد کر لیے ۔ بحران روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ حکومت بوکھلا گئی ۔ یہ ایک کاری ضرب تھی ۔ اگر فوری طور پہ اس کا سد باب نہ کیا جاتا تو یہ ملک یقنیا دیوالیہ ہو جاتا ۔
چند ہی دنوں میں حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ حکومت کو ملکی کرنسی کی قیمت کم کرنی پڑی جس سے ملک کی تمام دنیا میں ساکھ ٹوٹ گئی ۔ یہ ایک زبردست دھماکہ تھا اور حکومت چیخ اٹھی۔ پولیس اور سی آئی ڈی اور تمام خفیہ محکمے اس کا سراغ لگانے کے لیے سرگرم ہو گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے سر رحمان صاحب زندہ ہو کر واپس آئے تھے۔ فیاض کچھ بجھا بجھا سا رہتا تھا۔ شائد ڈائریکٹر جنرل بننے کا خواب ادھورا رہ گیا گیا تھا۔ بہرحال اس مالی بحران کی وجہ سے سب سے زیادہ شامت اسی کی آئی ۔ رحمان صاحب نے اسے سختی سے جھاڑ دیا ۔ حتی کہ اعلی افسران نے اُسے فون پر حکم دیا کہ وہ فوراً مجرموں کا سراغ لگاٸے ۔ معاملہ واقعی بہت نازک تھا اور فیاض کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے تمام حکومت اس کی دشمن ہو گئی ہو۔
جب دباو حد سے زیادہ بڑھ گیا تو وہ بوکھلا کر عمران کے فلیٹ کی طرف بھاگا۔ عمران چند ہی لمحے پہلے دانش منزل سے ہوتا ہوا وہاں پہنچا تھا ۔ فیاض نے اپنی کار فلیٹ کے نیچے ہی روک دی اور پھر بغور ادھر اُدھر دیکھتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔ فلیٹ کی نئی تعمیر کے بعد وہ پہلی بار یہاں آیا تھا۔ اس لیے وہ سیڑھیاں چڑھنے کے ساتھ ساتھ امتحانی نظروں سے ادھر اُدھر کا جائزہ لیتا رہا .
چند لمحے بعد وہ دروازے کے سامنے موجود تھا۔ اس نے کال بیل کے بٹن پر انگلی رکھی اور پھر دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد جب دروازہ نہ کھلا تو اس نے جھنجھلا کر کال بیل کے بٹن پر انگلی رکھ کر پورا دباو دے دیا اور پھر اس وقت تک انگلی نہ ہٹائی جب تک دروازہ نہ کھلا۔ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان اُسے سلیمان کی جھنجھلائی ہوئی شکل دکھائی دی ۔
“کیا بات ہے؟ ۔۔۔ سلیمان یوں عزایا جیسے وہ انتہائی غصے میں ہو۔
پیچھے ہٹو ۔۔۔ فیاض کو بھی غصہ آگیا ۔ اس نے سلیمان کو ایک طرف دھکیلا اور بڑبڑاتا ہوا اندر داخل ہو گیا ۔ اور اس نے سلیمان کی طرف قطعی توجہ نہ دی جو اسے کھا جانے والی نظروں سے اُسے گھور رہا تھا ۔ ڈرائنگ روم خالی تھا۔
عمران کہاں ہے؟ ۔۔۔ ڈرائنگ روم خالی دیکھ کر فیاض غصے سے دھاڑا۔ سلیمان جو دروازہ بند کر کے اس کے پیچھے پیچھے آیا تھا۔ حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
ابھی تو یہیں تھے ۔۔۔ سلیمان نے حیرت زدہ لہجے میں کہا ۔
تو اب کہاں غائب ہو گیا؟ ۔۔۔ فیاض بدستور جھنجلایا ہوا تھا ۔ میری جیب میں ہو گا ۔۔۔ سلیمان کو بھی اس کے انداز تخاطب پر غصہ آگیا تھا ۔
شٹ اپ ۔۔۔ فیاض غصے سے پاگل ہو گیا۔ اور اس نے سلیمان کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔
ارے ارے ۔۔ ہائیں ۔۔ تم لوگ یہاں چیخنے کا مقابلہ کر رہے ہو ۔۔۔ عمران ایک بڑے صوفے کی پشت سے نکلتا ہوا بولا ۔ اور فباض کا ہاتھ اٹھے کا اٹھا رہ گیا۔
تمہیں شرم نہیں آتی بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہوئے ۔۔۔ فیاض اب عمران پر پلٹ پڑا۔
پہلے آتی تھی لیکن اب نہیں آتی ۔ ہائے اسی کے ہونے نے تو مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ کاش تم اسے اپنے ساتھ لے آتے مگر تم کیوں اپنے ساتھ لے آتے ۔ تم تو سپر نٹنڈنٹ ہو ۔ کمیشن ایجنٹ تو نہیں ۔۔ ہائے کوئی ہمارا ۔۔۔ عمران اپنی ترنگ میں بولتا چلا گیا ۔
بند کرو یہ بکواس ۔۔۔ فیاض کا دماغ آؤٹ ہو گیا۔ وہ غصے اور جھنجلاہٹ کی انتہا پر پہنچ گیا تھا۔
عمران نے ایک صوفے پر بیٹھتے ہوئے زور سے ہانک لگائی ۔ سلیمان ۔۔ ایک گلاس ٹھنڈا پانی لاو ۔۔ بھائی فیاضی کو دماغی بخار ہو گیا ہے ۔۔
فیاض جو غصے سے لرز رہا تھا اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ کیونکہ اُسے خیال آگیا تھا کہ اس نے عمران سے کام لینا ہے۔ وہ صوفے پر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں ۔ اس کا چہرہ جو سرخ ہو گیا تھا اب آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگا ۔
ارے ارے ۔۔ یار کہیں بے ہوش تو نہیں ہو رہے۔ اگر بے ہوش ہو رہے ہو تو بھائی پہلے بتا دو تمہیں کس چیز سے ہوش آتا ہے ۔۔ میں تو سات جوتے مارنے کا نسخہ استعمال کیا کرتا ہوں ۔۔۔ عمران بولتا رہا۔
فیاض نے آنکھیں کھول دیں اور اب وہ اپنے آپ پر قابو پا چکا تھا۔ پکے سور ہو تم آدمی کو اتنا زچ کر دیتے ہو کہ وہ پاگل ہو جاتا ہے ۔۔۔ فیاض کے چہرے پر اب ہلکی سی مسکراہٹ تھی ۔
تم تو میرے خیال میں بھٹی سے کچے ہی نکل گئے ہو گے ۔ اور ہاں دیکھی میرے نسخے کی تاثیر ۔۔ استعمال کرنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور تم ہوش میں آگتے ہو ۔۔۔ عمران ہاتھ نچا نچا کر کہنے لگا ۔
اب چائے بھی پلواؤ گے یا یونہی جی جلاتے رہو گے ۔۔۔ فیاض بےبسی سے بولا ۔
چائے بھی پلواؤں گا اور جی بھی جلاؤں گا ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر زور سے چیخا ۔۔ سلیمان -۔ او بھٸی سلیمان ! ذرا جلدی سے چائے بنا کر لے آؤ۔ اور ہاں ساتھ ہی ماچس اور مٹی کا تیل بھی لیتے آؤ۔ میں ذرا سوپر فیاض کا جی جلا دوں ۔۔
عمران ! بعض اوقات تم گھٹیا فقرے بازی پر اتر آتے ہو ۔۔۔ فیاض نے برا سامنہ بناتے ہوئے کہا۔
چلو تم کہتے ہو تو میں اعلی پیرا گراف بازی پر چڑھ جاتا ہوں ۔۔۔ عمران بدستور ایک ہی موڈ میں تھا ۔
فیاض جواب دینے کی بجائے خاموش رہا ۔
ایک لمحے بعد عمران رازدارانہ طور پر آگے کی طرف جھک کر آہستہ سے بولا ۔
فیاض ! جعلی نوٹوں کا دھندا کیسا چل رہا ہے؟ ۔۔
اور فیاض یوں اچھل پڑا جیسے کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو ۔
تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں اسی مقصد کے لیے آیا ہوں ؟ ۔۔۔ فیاض نے حیرت زدہ لہجے میں کہا ۔
مجھے الہام ہوتا ہے عمران مسکرایا ۔ اور پھر اس سے پہلے کہ فیاض کچھ کہتا۔ کال بیل زور زور سے بجنے لگی اور فیاض چونک پڑا ۔
سلیمان ! دیکھنا کون ہے ۔۔۔ عمران نے ہانک لگائی ۔
سلمان بڑبڑاتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔
ایک لمحے خاموشی طاری رہی اور پھر دوسرے لمحے سلیمان کی کراہ سے کمرہ گونج اٹھا اور اس کے ساتھ ہی کسی چیز کی دھم سے نیچے گرنے کی آواز سنائی دی تھی ۔
شائد سلمان ہی گرا تھا۔
عمران اور فیاض دونوں اچھیل کر کھڑے ہو گئے۔ مگر دوسرے لمحے چارے نقاب پوش دندناتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں میں سائلنسر لگے ریوالور تھے ۔
خبردار ۔ اگر تم دونوں اپنی جگہ سے ہلے ۔۔۔ ان میں سے ایک نقاب پوش نے چیخ کر کہا۔
تم نے سلمان کو گولی ماری ہے ۔۔۔ عمران کے چہرے پر بے پناہ سجیدگی تھی ۔
اگر تم اس شخص کے متعلق پوچھ رہے ہو جس نے دروازہ کھولا تھا تو وہ اب تک ملک عدم پہنچ چکا ہوگا اور اب تمہاری باری ہے ۔۔۔ نقاب پوش نے چیخ کر کہا۔
ہوں ۔۔ اس کا مطلب ہے کہ تم نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیئے ہیں ۔۔۔ عمران جو بےحد سنجیدہ تھا بولا ۔
فیاض ابھی تک حیرت بھری نظروں سے چاروں ریوالور بردار نقاب پوشوں کو دیکھے جا رہا تھا۔
اب مرنے کے لیے تیار ہو جاو عمران ۔۔۔ ان میں سے ایک نقاب پوش نے ٹریگر پر انگلی کو خفیف سی حرکت دیتے ہوئے کہا۔
چلاؤ گولی ۔۔۔ عمران نے سنجیدگی سے کہا ۔
اب نقاب پوش عمران کے اطمینان اور سنجیدگی سے ایک لمحے کے لیے جھجک گیا اور وہی لمحہ اس کے لیے خطرناک ثابت ہوا ۔ ۔
عمران اپنی جگہ سے برق کی طرح اچھلا اور دو نقاب پوشوں کے درمیان سے ہوتا ہوا دوسری طرف جا کھڑا ہوا۔ اس سے پہلے کہ وہ مڑتے۔ ایک زور دار لات ایک نقاب پوش کی کمر میں لگی اور پھر اس کی بھیانک چیخ سے کمرہ گونج اٹھا ۔ لات کھا کر وہ سیدھا دوسرے نقاب پوش سے جا ٹکرایا تھا جو ٹریگر پر انگلی دبا چکا تھا۔ گولی سیدھی نقاب پوش کے سینے میں پڑی تھی ۔
عمران نے دوسرے نقاب پوش کو ایک لمحے کے لیے بھی فرصت نہ دی اور اس نے اس کی گردن میں بازو ڈال کر سینے سے لگا لیا ۔ اب عمران محفوظ تھا۔ فیاض کو بھی ہوش آگیا تھا اور شکر ہے کہ اسے عین وقت پر ہوش آیا تھا کیونکہ وہ جیسے ہی جھکا تھا ایک نقاب پوش کے ریوالور سے نکلی ہوئی گولی عین اس کے سر کے اوپر سے گزرگئی ۔ اس نے بھی پھرتی دکھائی اور اس سے پہلے کہ وہ دوسری گولی چلاتا فیاض اچھل کر اس پر آگرا ۔
ادھر عمران نے پکڑے ہوئے نقاب پوش کو اٹھا کر چوتھے نقاب پوشش پر دھکیل دیا ۔ اب ان تینوں کے ہاتھ سے ریوالور نکل چکے تھے۔ جس نقاب پوش کو گولی لگی تھی وہ مر چکا تھا ۔ پھر وہاں بھیانک جنگ شروع ہوگئی ۔
اچانک عمران کو سلیمان کا خیال آگیا جس کی کراہ کمرے میں گونجی تھی اور پھر وہ بغیر آواز نکالے ڈھیر ہو گیا تھا۔ ادھر فیاض نے ایک نقاب پوش کو مار مار کر بیہوش کر دیا تھا چوتھا نقاب پوش اس کی حالت سے خوفزدہ ہو کر باہر کی طرف لپکا ۔
عمران اچھل کر باہر کی طرف جانے لگا ۔ اسی لمحے فیاض نے بھی ہھاگتے ہوٸے نقاب پوشش کو پکڑنے کے لیے چھلانگ لگائی اور پھر وہ عمران سے ٹکرایا اور وہ دونوں ٹکرا کر دروازے میں گر گئے ۔
دھت تیرے کی ۔۔ تمہیں کس حکیم نے چھلانگ لگانے کو کہا تھا ۔۔۔ عمران چنچا اور فیاض بھی کراہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
نقاب پوش وہاں سے جا چکا تھا لیکن عمران پھر بھی دوڑتا ہوا دروازے کی طرف لپکا ۔ نقاب پوش نے تو خیر وہاں کہاں ہونا تھا البتہ سلیمان دروازے کے قریب پڑا ہوا تھا اور اس کے ارد گرد خون ہی خون پھیلا ہوا تھا۔ وہ اوندھے منہ پڑا ہوا تھا ۔
عمران نے پھرتی سے اُسے سیدھا کیا تو وہ آخری سانسوں پر تھا۔ چہرے پر موت کی زردی چھا گئی تھی۔ دراصل خون بہت زیادہ نکل چکا تھا عمران کو زندگی میں پہلی دفعہ افسوس ہوا کہ اس نے نقاب پوشوں سے نپٹنے میں دیر کیوں لگائی۔ سلیمان کی حالت سخت خراب تھی اتنے میں فیاض بھی وہاں پہنچ چکا تھا ۔
یہ تو مر رہا ہے عمران ۔۔۔ فیاض نے انتہائی تیز لہجے میں کہا۔
عمران سلیمان کی نبض پکڑے بیٹھا تھا۔ نبض کی رفتار آہستہ آہستہ مدهم ہو رہی تھی ۔ ڈوب رہی تھی۔ سلیمان مر رہا تھا۔ اور عمران بے بس تھا ۔۔۔
پوسٹ لاٸک کم ھو رھے ہیں اسلیے میری سپیڈ آج سے کم ہو جاٸے گی ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 9 ۔۔۔
ٹیلیفون کی گھنٹی بجتے ہی کیپٹن شکیل کی آنکھ کھل گئی ۔ اس نے پھرتی سے رسیور اٹھا لیا۔
یس شکیل سپیکینگ ۔۔
ایکسٹو ۔۔۔ دوسری طرف سے ایکسٹو کی مخصوص آواز سنائی دی۔
یس سر ۔۔۔ کیپٹن شکیل کا لہجہ مودبانہ ہو گیا ۔
کیپٹن ۔۔ مین بازار کے مشرق میں تیسری گلی کے اندر بیسواں مکان مجرموں کا اڈہ ہے۔ صفدر کو وہیں زخمی کیا گیا تھا۔ تم نے آج اس اڈے کے متعلق پوری معلومات مہیا کرنی ہیں اور اگر وہاں کوئی گنجا قوی ہیکل سا شخص موجود ہو تو اس کو اغوا کر کے دانش منزل لے آؤ ۔۔۔ ایکسٹو نے کیپٹن شکیل کو حکم دیتے ہوئے کہا۔
بہت بہتر جناب ۔۔ میں ابھی جاتا ہوں ۔۔۔ کیٹین شکیل نے جواب دیا ۔
اوکے ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور پھر رسیور رکھ دیا ۔
کیپٹن شکیل نے میک آپ کیا اور پھر فلیٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی پکڑی اور مین بازار کے سرے پر اتر گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ تیسری گلی میں داخل ہو چکا تھا ۔ اس نے جیب میں موجود ریوالور کو ہاتھ لگا کر اپنا اطمینان کیا اور پھر بے پرواہی سے گلی سے گزرنے لگا۔ وہ مکان گنتا چلا جارہا تھا۔ گلی خالی تھی ۔ اور پھر وہ بیسویں مکان کے سامنے جا کر رک گیا ۔
یہ ایک خاصا بڑا مکان تھا اور اس کا سامنے والا دروازہ بند تھا۔ اس کے علاوہ اور کوئی ایسا راستہ نہیں تھا جس کے ذریعے کیپٹن شکیل مکان کے اندر داخل ہوتا ۔ کیپٹن شکیل شش و پنج میں پڑ گیا کہ اب کیا کرے ؟ کیونکہ اگر وہ دروازے پر دستک دیتا تو یقیناً مکان والوں کی نظر میں آ جاتا۔
اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ساتھ والے مکان کی چھت اُسے اس مکان سے ملی ہوئی نظر آٸی ۔ اس نے اس مکان کے ذریعے مطلوبہ مکان کے اندر داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس نے ساتھ والے مکان کے دروازہ پر دستک دے دی۔
چند لمحے کے توقف کے بعد دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک بوڑھے شخص نے سر باہر نکالا۔
فرمایٸے ۔۔۔ اس نے بغور کیپٹن شکیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔ میں پراپرٹی ٹیکس آفیسر ہوں اور ٹیکس کی تشخیص کے لیے آپ کے مکان کا جائزہ لینا چاہتا ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے ذہن میں آنے والی فوری ترکیب پر عمل کیا ۔
لیکن ہمارے مکان کا تو ٹیکسی تشخیص ہو چکا ہے ۔۔۔ بوڑھے نے بڑی حیرت سے جواب دیا ۔
اس کے خلاف شکایت پہنچی ہے کہ وہ تشخیص غلط ہے ۔ اب دوبارہ تشخیص کرنے کے لیے میں آیا ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے بڑے وقار سے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
بوڑھا شخص کیپٹن شکیل کی پروقار اور وجیہہ شخصیت سے شائد مرعوب ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ ایک طرف ہٹ گیا۔
تشریف لے آئے ۔۔۔ اس نے کیپٹن شکیل سے کہا .
آپ پردہ کروا لیجئے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا۔ اس وقت میں گھر میں اکیلا ہوں ۔ باقی لوگ شادی پر گئے ہوئے ہیں ۔۔۔ بوڑھے نے دانت نکالتے ہوئے کہا ۔
اوہ تب ٹھیک ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے کہا اور اندر داخل ہو گیا ۔ اسے مسرت ہوئی کہ قدرت خودبخود اس پر مہربان ہوگئی ۔ ورنہ اس کا خیال تھا کہ زیادہ تعداد میں موجود لوگوں سے نپٹنے میں اسے کافی دقت پیش آئے گی لیکن اب ایک بوڑھے سے تو وہ باسانی نپٹ سکتا تھا ۔
بوڑھا اُسے لے کر اندر آگیا۔
کتنے کمرے ہیں اس کے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
پانچ جناب ۔۔۔ بوڑھے نے جواب دیا.
چھت پر کوئی کمرہ ہے؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے پوچھا۔
جی نہیں ۔۔۔ بوڑھے نے جواب دیا۔
میں کمرے اندر سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا وہ پختہ ہیں یا غیر پختہ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے کہا ۔
آیٸے ۔۔۔ بوڑھے نے آگے بڑھتے ہوئے کہا ۔
اب کیپٹن شکیل نے نے دیر کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس نے جھپٹ کر بوڑھے کو پیچھے سے پکڑا اور پھر مضبوطی سے اس کے منہ اور ناک کو ہاتھ سے دبا دیا ۔ بوڑھے کے چہرے پر خوف اور حیرت کے ملے جلے تاثرات نمایاں ہو گئے۔ اس نے ادھر ادھر ہاتھ پیر مارے۔ لیکن کیپٹن شکیل کی مضبوط گرفت سے وہ آزاد نہ ہو سکا ۔
چند ہی لمحے بعد وہ بےہوش ہو چکا تھا۔ کیپٹن شکیل نے اُسے اٹھا کر ایک برآمدے میں ڈالا اور پھر پیچھے مڑ کر دروازہ اندر سے بند کر دیا ۔ اب اس نے ادھر اُدھر رسی کی تلاش کی ۔ اتفاق سے اسے کافی لمبی ریسی مل گئی ۔ اس نے بوڑھے کے ہاتھ پیر اس رسی سے اچھی طرح باندھ دیٸے ائے اور پھر وہاں سے کپڑا اٹھا کر اس نے بوڑھے کے منہ میں ٹھونس دیا ۔ اب اسے اطمینان ہو گیا کہ اگر بوڑھا جلد ہوش میں آ بھی گیا تو شور نہیں مچا سکے گا اور اسے کافی وقت مل جاٸے گا ۔
اس کام سے فارغ ہو کر وہ سیدھا سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور چند لمحے بعد وہ چھت پر موجود تھا ۔ چهت بالکل سپاٹ تھی اور اس کا بایاں کنارہ اس کے مطلوبہ مکان کی چھت سے ملا ہوا تھا ۔ وہ دیوار کی اوٹ لیتا ہوا ساتھ والے مکان کی چھت پر پہنچ گیا ۔ اور رینگتا ہوا آگے بڑھا ۔ جلد ہی اسے مشرقی کنارے پر سیڑھیاں نیچے جاتی ہوئی نظر آگئیں وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک نظر نیچے جاتی ہوئی سیڑھوں کی طرف ڈالی اور پھر سیڑھیوں کو خالی پا کر وہ احتیاط سے نیچے اترنے لگا۔
تقریباً بیس سیڑھیاں تھیں ۔ اور آگے سیڑھیوں کا دروازہ بند تھا۔ کیپٹن شکیل نے جیب سے ریوالور نکال کر ہاتھ میں لے لیا ۔ اور پھر دروازے کو ہلکا سا دبا دیا۔ دروازہ کھل گیا ۔ ایک لمحے کے لیے وہ رکا رہا تا کہ دروازہ کھلنے کا اگر کوئی رد عمل ہو تو وہ ظاہر ہو جاٸے لیکن کچھ نہ ہوا تو اس نے سر باہر نکال کر ادھر ادھر دیکھا۔
یہ مکان کا بڑا سا برآمدہ تھا۔ جو اس وقت خالی تھا ۔ وہ پھرتی سے باہر آ گیا ۔ برآمدے میں ایک ہی دروازہ تھا جو کھلا ہوا تھا۔ وہ اس دروازے کی طرف بڑھا۔ بڑے ہال میں پہنچ گیا ۔ ہال میں کسی قسم کا فرنیچر نہیں تھا اور ھال بالکل خالی تھا۔ اسے خدشہ ہوا کہ مجرم کہیں یہ مکان خالی تو نہیں کر گئے۔
بال کے کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا اب وہ اس کی طرف بڑھا اور پھر وہ دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ۔ اس کے ہاتھ سے ریوالور نکل گیا۔ ساتھ ہی آواز آئی ۔
” ہینڈز اپ “
اب کمرے کے چاروں طرف اسے رائفلوں کی نالی نکلی ہوئی نظر آنے لگیں۔ ساتھ ہی اس کی کمر سے ریوالور کی نالی لگ گئی ۔
کیپٹن شکیل نے خاموشی سے ہاتھ اٹھا دیٸے۔ اس کی پشت پر موجود آدمی نے اس کی جیبوں کی تلاشی لی اور پھر اُسے دھکا دے کر آگے دھکیل دیا ۔ وہ تیزی سے مڑا۔ اب اس کے سامنے ایک قوی ہیکل فرد موجود تھا جو سر سے گنجا تھا۔ اس نے سیاہ چست لباس پہنا ہوا تھا ۔ کیپٹن شکیل سمجھ گیا کہ کہ یہ گنجا وہی آدمی ہے جسے اس نے اغوا کر کے دانش منزل لے جانا ہے۔
کون ہو تم ۔۔۔ گنجے آدمی نے کرخت لہجے میں پوچھا۔
کیپٹن شکیل خاموش رہا ۔
جلدی بتاو ورنہ گولی مار دوں گا ۔۔ گنجے نے آواز میں مزید کرختگی پیدا کرتے ہوئے پوچھا ۔
اسی اثنا میں کیپٹن شکیل ایک فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ تمام رائفلوں کا رخ کمرے کے سنٹر میں ہے اور کسی بھی رائفل کا رخ اس طرف نہیں جدھر وہ گنجا آدمی کھڑا تھا۔ چنانچہ اس نے گنجے پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
فیصلہ کرتے ہی کیپٹن شکیل اچانک اچھل کر گنجے پر جا پڑا۔ گنجا شائد اس سے اس حملے کا متوقع نہیں تھا اس لیے وہ گولی نہ چلا سکا اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکرا کر دروازے کے قریب گرے ۔ اور گنجے کے ہاتھ سے ریوالور نکل گیا تھا۔
نیچے گرتے ہی دونوں اس طرح اچھل کر کھڑے ہوٸے جیسے ان کے جسموں میں سپرنگ لگے ہوئے ہوں ۔
کیپٹن شکیل نے اپنی طرف سے اٹھنے میں پھرتی دکھائی تھی لیکن گنجا بھی اتنا ہی پھرتیلا ثابت ہوا۔ دونوں بیک وقت اٹھے تھے۔ کیپٹن شکیل اٹھتے ہی نیچے جھک گیا۔ گنجا اس پر چھلانگ لگا چکا تھا اور عین اس کے سر پہ آیا۔ کیپٹن شکیل نے اسے پھرتی سے اچھال دیا اور وہ عین کمرے کے درمیان جا گرا۔ کیپٹن شکیل پھرتی سے ادھر لپکا جدھر ریوالور پڑا ہوا تھا۔
اسی لمحے وہ جگہ پھٹی جہاں گنجا گرا تھا اور دوسرے لمحے گنجا غائب ہو گیا۔ کیپٹن شکیل جیسے ہی ریوالور اٹھا کر مڑا، وہ گنجے کو وہاں نہ پا کر حیران رہ گیا ۔ کمرہ خالی تھا اور اس کے ساتھ ہی دیواروں میں سے نکلی ہوئی رائفلوں کی نالیں بھی غائب ہو گئیں تھیں۔
کیپٹن شکیل حیران و پریشان کھڑا رہ گیا ۔ ایک خیال آتے ہی اس نے مڑ کر دیکھا اور پھر توقع کے مطابق وہ دروازہ بھی غائب پایا جس سے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔ اب وہ اس چھوٹے سے کمرے میں قید ہو چکا تھا۔ اسے یہ تو یقین تھا کہ اس کمرے میں خفیہ بٹن ضرور لگے ہوں گے۔ ورنہ وہ گنجا کہاں سے آیا تھا۔ اور کہاں غائب ہو گیا تھا چنانچہ اس نے بغور ادھر ادھر ان خفیہ بٹنوں کی تلاش شروع کر دی لیکن کمرے کی تمام دیواریں بالکل سپاٹ تھیں، جہاں سے رائفلوں کی نالیں نکلی ہوئی تھیں وہ سوراخ بھی نظر نہیں آرہے تھے۔
کیپٹن تشکیل عجیب الجھن میں پھنس گیا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس جگہ کو بغور دیکھا جہاں وہ گنجا گرا تھا لیکن فرش بالکل سپاٹ تھا۔ معمولی سی لکیر بھی اسے نظر نہ آٸی اس نے اس جگہ کو پیر سے دبا کر دیکھا لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔
ابھی وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ ایک گڑگڑاہٹ کی آواز آئی اور چاروں دیواروں کے آگے فولادی چادریں نیچے آ گریں ۔ اب وہ چاروں طرف سے فولادی دیواروں کے درمیان مقید ہو گیا تھا۔
وہ سمجھ نہ سکا کہ مجرموں کا ان فولادی چادریں گرا دینے سے کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر ان دیواروں کو دیکھا تو یہ چادریں ٹھوس فولاد کی تھیں ۔
دوسرے لمحے وہ باٸیں کونے میں پیدا ہونے والے ایک دروازے کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے ریوالور کی نالی اس دروازے کی طرف کر دی ۔ لیکن کچھ بھی نہ ہوا ۔ اور کوئی شخص میں اس دروازے سے اندر داخل نہ ہوا ۔ کیپٹن شکیل ایک لمحے تک سوچتا رہا پھر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے دروازے کی دہلیز پر قدم رکھا اور اسی لمحے ایک اور تیز گڑگڑاہٹ پیدا ہوئی اور وہ یہ دیکھ کر مزید پریشان ہو گیا کہ اب فرشی اور چھت پر بھی فولادی چادریں چڑھ چکی تھیں ۔
دوسرے لمحے دروازہ زور سے بند ہوا اور کیپٹن شکیل دروازے کا دھکا کھا کر دوبارہ کمرے کے سنٹر میں آگرا ۔ اب وہ ایک مکمل فولادی کمرے میں بند ہو چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ دروازہ پیدا کر کے مجرموں نے ایک نفسیاتی چال چلی تھی۔ وہ دراصل اسے دہلیز پر چڑھانا چاہتے تھے تاکہ فرش پر بھی فولادی چادر بچھا دی جائے۔
اس فولادی کمرے میں نہ کوئی سوراخ تھا اور نہ ہی کوئی روزن ۔ صرف چاروں کونوں میں سے لائٹ اندر آرہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے لائٹ فولادی چادر سے نکل رہی ہو ۔ اس نے ایک لمحے کے لیے کچھ سوچا اور پھر اس لائٹ پر فائر کر دیا لیکن گولی فولادی چادر سے ٹکرا کر تیزی سے اس کی طرف آٸی ۔ وہ تو اس کی قسمت اچھی تھی ورنہ یقینا گولی اس کے جسم میں سوراخ کر جاتی۔
چند لمحے بعد کیپٹن شکیل کو اپنے پیروں کے نیچے فولادی فرش گرم ہوتا ہوا محسوس ہوا اور اب وہ سمجھ گیا کہ مجرم کیا چاہتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی اذیت ناک موت تھی جس کا
تصور بھی کیپٹن شکیل کو لرزا دیتا تھا۔ مجرم اس فولادی کمرے کو بجلی سے گرم کر رہے تھے ۔
جلد ہی کیپٹن شکیل کے پیر جلنے لگے۔ اور وہ تیزی سے ادھر ادھر پیر مارنے لگا لیکن کہاں جاتا ۔ چاروں طرف سپاٹ فولادی چادریں تھیں جو لمحہ بہ لمحہ گرم تر ہوتی چلی جارہی تھیں ۔ اور اب کافی سے زیادہ کمرہ گرم ہو چکا تھا۔ پھر حرارت اتنی بڑھی کہ کیپٹن تشکیل کے لیے ایک جگہ کھڑا رہنا محال ہو گیا ۔ وہ سارے کمرے میں ناچنے لگا۔ اس کے جسم سے بےتحاشہ پسینہ بہنے لگا۔ اس نے ریوالور بھی پھینک دیا تھا۔
اب اس کی یہ حالت تھی کہ وہ سارے کمرے میں بری طرح ناچتا پھر رہا تھا۔ اس کے جوتے بھی جل گئے تھے ۔ اور اب اس کے پیروں کی باری تھی ۔ کمرہ بری طرح گرم ہو چکا تھا۔ اُسے اپنے سامنے موت نظر آئی ۔ اور کمرہ گرم ہوتا چلا گیا۔
کیپٹن شکیل عجیب مصیبت میں پھنس چکا تھا جس سے نکلنے کی اسے کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔ گرمی اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ وہ کپڑے اتار پھینکنے پر مجبور ہو گیا اور اب اس کے جسم پر صرف انڈروئیر رہ گیا تھا ۔ اس کے پیر کے تلوے بھی جل گئے تو وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا۔ لیکن پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کیونکہ اس کا جسم جس جگہ سے بھی فرش کے ساتھ لگا وہاں آبلے پڑ گئے ۔ گرمی کی شدت سے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا ۔ وہ بیہوش ہو رہا تھا اور اسے اچھی طرح علم تھا کہ اگر وه بیہوش ہو کر گر پڑا تو وہ یقینا جل کر راکھ ہو جائیگا۔
وہ کٹھ پتلی کی مانند بری طرح اچھل رہا تھا۔ اس نے بیہوشی سے بچنے کے لیے اپنی پوری قوت ارادی صرف کر ڈالی مگر بے سود۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا چلا گیا اور پھر وہ ہاتھ پیر مارتا ہوا دھم سے گرم فرش پر گر گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران ! – کچھ کرو – سلیمان مر رہا ہے ۔۔۔ فیاض نے بے ساختگی سے کہا۔
اور عمران جو بت کی مانند بیٹھا تھا چونک اٹھا ۔ اس کا ذہن جو سلیمان کی موت کے تصور سے وقتی طور پر مفلوج ہو گیا تھا۔ جاگ اٹھا۔
عمران اٹھ کر تیر کی طرح اندر کمرے کی طرف بھاگا ۔ کمرے میں پڑی نقاب پوشوں کی لاشوں سے وہ الجھتے الجھتے بچا۔ اب وہ اپنے مخصوص کمرے میں تھا۔ اس نے ایک الماری کھولی اور اس میں سے ایمرجنسی ایڈ بیگ نکال کر ہوا کی طرح اڑتا ہوا واپس سلیمان کے قریب آیا ۔
سلیمان مر تو نہیں گیا ؟ ۔۔۔ عمران نے سخت لہجے سے فیاض سے پوچھا جو سلیمان کی نبض تھامے بیٹھا تھا ۔
نہیں ۔۔۔ فیاض نے مختصر سا جواب دیا ۔
تم یہ بیگ پکڑو میں اسے اٹھا کر لے جاتا ہوں ۔۔۔ عمران نے بیگ فیاض کو پکڑایا اور خون میں لت پت سلیمان کو اٹھا کر تیزی سے اندر لے گیا اور اُسے ایک مسہری پر لٹا دیا۔ اور پھر اس نے فیاض سے بیگ لیکر کھولا اور اس میں سے ایک گلوکوز کی بوتل نکالی اور پھر اُسے ایک ہک سے لٹکا کر اس نے سلیمان کے بازو کی ایک رگ میں سوئی اتار دی ۔ اور پھر جب اس نے گلوکوز کنٹرولر کھولا تو گلوکوز قطرہ قطرہ مرتے ہوئے سلیمان کے جسم میں جانے لگا ۔ عمران نے بیگ سے ایک سرنج نکال کر ایک انجکشن تیار کیا اور پھر سلیمان کے دوسرے بازو میں لگا دیا ۔ انجکشن لگانے کے بعد اس نے ایک بار پھر سلیمان کی نبض دیکھی تو اُسے نبض میں معمولی سی تیزی کا احساس ہوا ۔ اسے قدرے اطمینان ہوا کہ گلو کوز شاند کام کر جائے ۔
فیاض ایک طرف بیٹھا خاموشی سے عمران اور سلیمان کی طرف دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ عمران واقعی ہر فن مولا ہے اس نے جس پھرتی سے سلیمان کو گلو کوزہ لگایا اور پھر انجکشن لگاٸے ہیں جو مہارت دکھائی ۔ اسے کوئی بھی شخص دیکھ کر یقین کر لیتا کہ عمران ایک ماہر ڈاکٹر ہے۔
فیاض ! تم زرا سلیمان کا خیال رکھنا میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔ عمران نے فیاض کی طرف دیکھ کر کہا ۔
فیاض نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
دوسرے لمحے عمران مختلف کمروں سے ہوتا ہوا مخصوص ٹیلی فون والے کمرے میں آ پہنچا اور پھر ٹیلیفون پر بلیک زیرو کے نمبر ڈائل کرنے لگا ۔ چند ہی لمحوں بعد رابطہ قائم ہو گیا ۔
بلیک زیرو میں عمران بول رہا ہوں ۔۔۔ عمران نے رابطہ قائم ہوتے ہی کہا۔
فرمایٸے ۔۔۔ بلیک زیردکی مودبانہ آواز آٸی ۔
بلیک زیرو ! فوراً ڈاکٹر درانی کو میرے فلیٹ میں بھیجو۔ چند نقاب پوشوں نے ہم پر حملہ کیا تھا اور سلیمان گولی لگنے سے اس وقت موت کے دھانے پر ہے۔ تم جتنی جلدی ہو سکے ڈاکٹر درانی کو یہاں بھیج دو۔ وہ اپنا مخصوص بیگ بھی ساتھ لیتا آئے اور ہاں! یہاں فیاض بھی موجود ہے اس لیے اسے سمجھا دینا کہ کوئی غلط بات اس کے منہ سے نہ نکل جاٸے ۔۔۔ عمران نے بلیک زیرو کو حکم دیتے ہوتے کہا۔
میں ابھی بھیجتا ہوں سیکشن ۔۔۔ بلیک زیرو کا فقرہ نامکمل رہا۔ باقی باتیں بعد میں۔ تم جلدی سے ڈاکٹر درانی کو بھیجو ۔۔۔ عمران نے بلیک زیرو کا فقرہ کاٹ کر کہا اور پھر رسیور رکھ دیا ۔
عمران نے دروازہ کھولا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا واپس سلیمان کے کمرے میں آپہنچا۔ گلوکوز کے قطرے کنٹرولر کے ساتھ لگی ہوئی نلکی میں متواتر کر رہے تھے جھے دیکھ کر عمران کو اطمینان ہو گیا کہ سلیمان ابھی زندہ ہے کیونکہ نبض کی حرکت سے ہی قطره گرتا ہے۔ اگر نبض رک جاتے یعنی موت واقع ہو جائے تو گلو کوز کے قطرے گرنے بند ہو جاتے ہیں ۔
فیاض خاموشی سے سلیمان کے پاس بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی طاری تھی ۔ شائد یہ حالات کی بنا پر تھا ۔ یہ وہی فیاض تھا جو تھوڑی دیر پہلے سلیمان کی اوٹ پٹانگ باتوں سے جھنجلا اسے تھپڑ مارنے لگا تھا۔ اب پریشانی کے عالم میں بیٹھا سلیمان کو ہمدردی سے دیکھ رہا تھا۔ کہاں گئے تھے ؟ ۔۔۔ عمران جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا۔ فیاض نے اس سے سوال کیا ۔
ڈاکٹر کو ٹیلیفون کرنے گیا تھا ۔۔۔ عمران نے جواب دیا۔ نجانے اس کے لہجے میں کتنی شدید سنجیدگی ابھری ہوئی تھی کہ فیاض کو دوسرا سوال کرنے کی جرات ہی نہ ہوٸی ۔
عمران نے سلیمان کی نبض دیکھی اور پھر اسے روبہ ترقی دیکھ کر اسے مزید اطمینان ہو گیا۔
لیکن ابھی تک سلیمان خطرے سے باہر نہیں تھا ۔ اس کی نبض کسی بھی وقت ڈوب سکتی متی عمران بڑی بے چینی سے ڈاکٹر کا انتظار کر رہا تھا ۔ اُسے ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری معلوم ہورہا تھا اور پھر ڈاکٹر درانی ایک بڑا سا بیگ اٹھاٸے اندر داخل ہوا ۔ اس نے ایک نظر سلیمان کو دیکھا اور پھر بغیر کسی سے کچھ کہے اس نے اس کی نبض اور سینے کی حرکت چیک کی ۔
مریض شدید خطرے میں ہے۔ اسے فوری طور پر خون کی ضرورت ہے کیوں کہ خون کی کمی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے جو مریض کو کسی وقت بھی موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ ویسے آپ نے بروقت گلوکوز لگا دیا ہے ورنہ مریض کا اب تک بچنا شاند ناممکن ہوتا ۔۔۔ ڈاکٹر نے سلیمان کو چیک کرتے ہوئے کہا . –
پھر اس کا کیا انتظام ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ سلیمان اس حالت میں نہیں ہے کہ اسے ہسپتال لے جایا جائے ۔۔۔ عمران نے بےچینی سے کہا ۔
پہلے میں اس کے خون کا گروپ ٹیسٹ کر لوں ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا اور پھر اس نے سلیمان کی انگلی میں سوئی چبھو کر خون کا ایک قطرہ بڑی مشکل سے نکالا اور اسے شیشے کی پلیٹ پر ڈالا اور پھر بیگ سے مائیکروسکوپ نکال کر اسے کو بغور دیکھنے لگا۔ اس نے اس میں چند دیگر محلول بھی ملا کر چیک کیا اور پھر وہ فیصلہ پر پہنچ گیا۔
اس کے خون کا گروپ او ون ہے ۔۔۔ ڈاکٹر نے کہا ۔
میرے خون کا گروپ بی ٹو ہے ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔
میرا خون ٹیسٹ کریں شاندااو ون نکل آئے ۔۔۔ فیاض نے پیشکش کی ۔ اور عمران تحسین آمیز نظروں سے فیاض کو دیکھنے لگا ۔ ڈاکٹر نے فیاض کا خون ٹیسٹ کیا ۔ اب اسے اتفاق سمجھتے یا سلیمان کی خوش قسمتی کہ فیاض کے خون کا گروپ بھی او ون ہی تھا۔
ڈاکٹر نے جب فیاض کے خون کا گروپ بتلایا تو فیاض کا چہرہ خوشی سے سرخ ہو گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی دل کی گہرائیوں سے خوشی اور مسرت کے طوفان اتر رہے ہیں ۔ اس کا سر فخر سے بلند ہو گیا کہ اس کا خون سلیمان کی زندگی بچا لے گا ۔
فیاض کے چہرے پر مسرت دیکھ کر عمران دل ہی دل میں فیاض کے اعلیٰ کردار اور انسانیت کا قائل ہو گیا ۔ ۔
ڈاکٹر صاحب ! جلدی سے میرا خون نکال کر سلیمان کو دیجئے۔ جلدی کیجئے ۔۔ کہیں دیر نہ ہو جائے ۔۔۔ فیاض نے تیز لہجے میں کہا ۔
اور ڈاکٹر نے اسے صوفے پر لیٹ جانے کے لیے کہا اور پھر چند لمحے بعد فیاض کے جیتے جاگتے سرخ خون سے بوتل بھر گئی ۔ فیاض کا چہرہ نقاہت سے زرد پڑ گیا تھا۔ لیکن اس کی آنکھوں سے نکلنے والی مسرت کی چمک اس کے چہرے کو گلنار کر رہی تھی ۔
ڈاکٹر نے بوتل کے ساتھ نلکی فٹ کی اور پھر اسے دیوار کے ہک میں لگا کر سلیمان کے دوسرے بازو میں نلکی کے دوسرے سرے پر لگی ہوئی سوئی انجیکٹ کر دی ۔ اب فیاض کا خون قطرہ قطرہ سلیمان کے تقریبا مردہ جسم میں جانے لگا ۔ ڈاکٹر سلیمان کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس پر جھکا ہوا تھا ۔
فیاض جو اب صوفے سے اٹھ بیٹھا تھا۔ اُمید افزا نظروں سے دیکھ رہا تھا عمران کی نظریں ڈاکٹر پر لگی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر امید وہم کی پر چھائیاں لرز رہی تھی۔
خون کی آدھی بوتل جب ختم ہو گئی تو ڈاکٹر نے اطمینان کی طویل سانس لیتے ہوئے عمران کی طرف دیکھا اور عمران کے ساتھ ساتھ فیاض کا چہرہ بھی کھل اٹھا ۔
مبارک ہو عمران صاحب ! – مریض اب خطرے سے باہر ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر کی آواز میں مسرت کی لرزش تھی ۔ ۔
فیاض صاحب! میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ۔ آپ کے ایثار نے ایک انسان کی جان بچالی ہے ۔۔۔ ڈاکٹر اب فیاض سے مخاطب تھا ۔
عمران بےاختیار ہو کر آگے بڑھا اور پھر فباض سے چمٹ گیا۔ فیاض ! میں تمہارا یہ احسان زندگی بھر یاد رکھوں گا ۔۔۔ عمران کے دل کی گہرائیوں سے آواز نکلی .
اس میں احسان کی کون سی بات ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے خون سے سلیمان کی زندگی بچ گئی ہے ۔ یہ میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا ۔۔۔ فیاض کا لہجہ گلوگیر ہو گیا ۔
عمران اور فیاض دونوں علیحدہ ہو گئے ۔
حقیقت ہے فیاض ۔۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بعد تمہاری وجہ سے سلیمان کی زندگی بچ گئی ہے۔ عمران نے بے ساختہ کہا۔
اب مجھے شرمندہ نہ کرو ۔۔۔ فیاض نے جواب دیا ۔ ۔
اسی اثناء میں ڈاکٹر نے گلوکوز کی پہلی بوتل خالی ہونے پر ہٹا کر دوسری بوتل لگا دی۔ اب عمران اور فیاض ایک طرف اطمینان سے بیٹھ گئے۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر درانی نے گلوکوز اور خون کی خالی بوتلیں ایک طرف ہٹا دیں ۔
اب جلد ہی سلیمان کو ہوشش آجائے گا لیکن اس کا فوری آپریشن کرنا پڑے گا تاکہ اس کے جسم کے اندر موجود گولی کو باہر نکالا جا سکے۔ اب سیمان اس قابل ہے کہ اُسے ہسپتال لے جایا جائے ۔ چنانچہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے ہسپتال لے جاؤں ۔۔۔ ڈاکٹر نے اجازت طلب نگاہوں سے عمران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ضرور ضرور ۔۔ بھلا اس میں پوچھنے کی کیا کیا بات ہے ۔ چلیے میں سلیمان کو اٹھا کر نیچے آپ کی کار میں لٹا آتا ہوں ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر اس نے بیہوش سلمان کو اٹھایا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے موجود ڈاکٹر کی کار کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا ۔ اور پھر ڈاکٹر کی کار سٹارٹ ہو کر تیزی سے آگے بڑھ گئی ۔ عمران اور فیاض سیڑھیاں چڑھ کر دوبارہ اوپر آگئے۔
یقین کرو عمران آج زندگی میں پہلی بار احساس ہوا ہے کہ سچی مسرت کسے کہتے ہیں ۔۔۔ فیاض نے کہا اور عمران نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
اب ذرا ان نقاب پوشوں کا دیدار تو کر لیں کہ یہ حضرت ہیں کون ۔۔۔عمران نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا ۔
اوہ واقعی ! میں تو انہیں بالکل بھول ہی گیا تھا ۔۔۔ قیاض نے چونکتے ہوتے کہا۔ اور پھر وہ دونوں ڈرائنگ میں آئے جہاں نقاب پوشوں کے مردہ جسم پڑے ہوئے تھے۔
عمران نے باری باری تینوں کے نقاب اتارے لیکن ان کے چہرے نامانوس ہی تھے گویہ نقاب پوش مقامی ہی تھے لیکن اس سے پہلے ان کے چہرے کم از کم عمران کی نظر سے نہیں گزرے تھے ۔
اب کیا کرنا ہے عمران؟ ۔۔۔ فیاض نے پوچھا ۔
کچھ نہیں ۔۔ پلاؤ کھائیں گے ۔۔ احباب فاتحہ ہو گا ۔۔۔ سلیمان کی طرف سے اطمینان ہونے کے بعد عمران کی شوخی بھی لوٹ آئی ۔
یعنی کیا مطلب؟ ۔۔۔ فیاض سمجھ نہ سکا ۔
یعنی ٹائیں ٹائیں فش ۔۔ کرنا کیا ہے ۔ بلواؤ اپنے محکمے کو اور ان کی لاشیں اٹھوا کر مردہ خانے ڈلوا دو ۔۔۔ عمران نے تفصیل سے سمجھایا ۔
بس ۔۔۔ فیاض نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
تو اور کیا ان کا اچار ڈال کر اپنی بیگم کو بطور تحفہ پیش کرو گے ۔۔۔ عمران نے کہا ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 10 ۔۔۔
دن کے دس بجے تھے ۔ دارالحکومت کے تمام افراد اپنے اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ شہر میں مکمل سکون تھا ۔ بازار اور گلیاں عوام کے ہجوم سے پر تھیں ۔
اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا ۔ اتنا زبردست دھماکہ کہ راہ جاتے لوگ گر پڑے۔ مکانوں اور دکانوں کے دروازے اور کھڑکیوں پر لگے ہوئے شیشے ٹوٹ گئے ۔ پھر شہر میں افراتفری مچ گئی ۔ بازاروں میں بھگدڑ مچ گئی۔ بہت بچے، عورتیں اور بوڑھے ایک دوسرے کے پاؤں تلے آ کر کچلے گئے۔
دھماکے کے تقریباً پانچ منٹ بعد ایک گونج دار آواز سے دارلحکومت گونج اٹھا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ آواز شہر کی بردیوار ، ہر سٹرک ، ہر گلی ، ہر کھمبے اور ہر درخت سے نکل رہی ہو ۔
اور پھر ایک تیز سیٹی کی آواز سے لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹنے لگے۔ ایک لمحے تک یہ سیٹی بجتی رہی ۔ پھر ایک انسانی آواز آئی ۔ ایک گرخت انسانی آواز جیسے ہر شخص نے سنا ۔۔۔۔
لوگو ! آج سے تین دن بعد رات کے بارہ بجے دار الحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس شہر میں رہنے والا ہر مرد ہر عورت ہر بچہ – حتی کہ اس شہر میں اڑنے والی ہر چڑیا کو بھی راکھ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ یاد رکھو کہ تین دن بعد رات کے بارہ بجے اس شہر کو تباہ کر دیا جائے گا اور بارہ بجکر دس منٹ کے بعد اس شہر کو آثار قدیمہ میں شمار کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ رک سکتا ہے۔ آپ اس ہمہ گیر تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ ایک شرط پر کہ تمام لوگ پریزیڈنٹ ہاؤس کا گھیرا ڈال لیں ۔ موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیں اور موجودہ صدر کو بازار میں لے جا کر سنگسار کر دیں ۔ بس مجھے صرف اتنا کہنا ہے ۔۔۔۔
اور پھر وہ آوان بند ہو کر تیز سیٹی کی آواز دوبارہ گونجنے لگی ۔ ایک منٹ بعد دوبارہ اسی طرح زور دار دھماکہ ہوا ۔ اور پھر خاموشی چھا گئی ۔ لوگ خوف سے پاگل ہو گئے ۔ دفتروں ، مکانوں اور دکانوں سے لوگ نکل نکل کر سڑکوں، بازاروں اور چوراہوں پر اکٹھے ہونے لگے۔ ان کے چہرے خوف اور دہشت سے پیلے پڑ گئے تھے ۔ وہ سب پریزیڈنٹ ہاؤس کی طرف بڑھنے لگے ۔
صدر مملکت نے فوری طور پر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ۔ شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا ۔ لوگوں کا خوف زدہ لیکن بپھرا ہوا سیلاب رکنے میں نہیں آرہا تھا کہ صدر مملکت نے فوری خطرے کے تحت یہی اقدام کیا کہ وہ پانچ منٹ بعد ریڈیو پر عوام سے خطاب کریں گے ۔
صدر مملکت نے یہی ایک طریقہ سوچا کہ ایک تقریر سے لوگوں کے جذبات اور جوش و خروش کو وقتی طور پر سرد کیا جا سکے ۔
اور پھر لوگ صدر کی تقریر نے کے لیے ریڈیو اور ٹرانسسٹروں کے گرد جمع ہونے لگے ۔ پھر صدر مملکت کی تقریر کا وقت ہو گیا ۔ اور پھر قومی ترانہ بجنے کے بعد صدر مملکت کی آواز آنے لگی ۔
میرے هم وطنو ۔۔میں جانتا ہوں کہ آپ سب لوگ ابھی تھوڑی دیر پہلے آنے والی آواز سے خوفزدہ ہو گئے ہیں ۔ ۔ آپ نے ایک لمحے کے لیے بھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کا دعوی کرنے والا شخص یا اشخاص کبھی بھی آپ کے ہمدرد اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے، اگر وہ آپ کے ہمدرد اور خیرخواہ ہیں تو وہ کسی تہہ خانے میں چھپ کر اعلان کرنے کی بجائے عوام کے سامنے آئیں۔ اور آپ لوگوں کو قائل کریں کہ موجودہ حکومت میں کیا خرابیاں ہیں ؟ اس کے بعد قانونی جدوجہد کے بعد اگر وہ آپ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیں تو مجھے حکومت چھوڑنے میں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ لیکن اس طرح عوام کو دھمکانے اور انہیں خوفزدہ کر کے حکومت سے لڑانا خیر خواہوں کا کام نہیں بلکہ شرپسندوں تخریب کاروں اور ملک دشمنوں کا کام ہے۔ جو چاہتے ہیں کہ ملک میں قتل عام ہو۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے لڑ کے ختم ہو جائیں اور دشمن ہماری لڑائی سے فائدہ اٹھا لیں ۔۔۔
میں آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ لوگ ضبط و تحمل شعور اور دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے پر امن رہیں اور متحد ہو کر حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ وہ ایسے مجرموں کو گرفتار کر کے انہیں اور ان کے تخریبی مقاصد کو آپ کے سامنے لے آنے میں کامیاب ہو جاٸیں ۔ اس کے ساتھ ہی میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم کوشش کریں گے کہ جلد از جلد مجرموں کو گرفتار کر کے عوام کے سامنے پیش کریں ۔ آپ اطمینان رکھیں اس شہر کو دنیا کی کوئی طاقت کھنڈرات میں تبدیل نہیں کر سکتی ۔ یہ شیر دل انسانوں کا شہر ہے ۔ اسے تباہ کرنے کا عزم رکھنے والے خود تو تباہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ شہر نہیں ۔۔۔
میں ایک بار پھر آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اپنے اپنے کاموں میں اطمینان دل سے مصروف ہو جائیں اور کوئی طاقت آپ کے شہر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔۔۔ خدا حافظ ۔۔۔
صدر مملکت کی تقریر ختم ہو گئی اور ان کی اسی مدبرانہ تقریر نے صورت حال ہی بدل دی ۔ وہ لوگ جو پہلے بےحد خوفزدہ ہو گئے تھے۔ ان کے چہرے جوش سے سرخ ہو گئے تھے۔ صدر مملکت کا یہ حملہ کہ یہ شیر دل انسانوں کا شہر ہے ۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت کھنڈرات میں تبدیل نہیں کر سکتی ۔ لوگوں کے دلوں میں اتر گیا۔
چنانچہ شہر کا نظام دوبارہ بحال ہو گیا لیکن جگہ جگہ ہونے والی چہ میگوئیاں بدستور جاری رہیں کیونکہ انہیں کوئی نہیں روک سکتا تھا ۔ فوج نے شہر کا نظام سنبھال لیا تھا اس کے ساتھ ہی تمام ہوائی اڈے سڑکیں اور ریلوے سٹیشنوں پر ٹریفک معطل کر دی گئی تاکہ لوگ خوفزدہ ہو کر شہر سے بھاگنے نہ لگ جائیں کیونکہ اگر ایک بار بھی یہ رو چل نکلی تو اسے سنبھالنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔
صدر مملکت نے تقریر کے فورا بعد ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی ۔ آدھے گھنٹے بعد پریزیڈنٹ ہاؤس کے ساؤنڈ پروف میٹنگ ہال میں میٹنگ شروع ہو گئی اور اس کانفرنس روم کے باہر ملٹری کا سخت ترین پہرہ تھا۔ اس میٹنگ میں صدر مملکت . وزیر داخلہ، سیکرٹری وزارت داخله ، سرسلطان ، سر رحمان ، ملٹری کے کمانڈر انچیف ملٹری انٹیلی جنس کے چیف اور عمران بطور ایکسٹو شامل ہوئے۔ عمران حسب روایت نقاب میں تھا ۔
صدر مملکت نے مختصر سی تقریر کی اور پھر مجرموں کی گرفتاری کے لیے کوئی لائن آف ایکشن بنانے پر زور دیا ۔
باقی تمام ممبروں نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں لیکن عمران خاموش رہا ۔ آخر صدر مملکت نے ایکسٹو سے مخاطب ہو کر کہا ۔
مسٹر ایکسٹو ! آپ کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔
میں اس لیے خاموش ہوں کہ باقی ممبرز اپنی تجاویز پیش کر لیں تو میں ان سے کوئی نتیجہ نکال کر کوئی لائحہ عمل بتاؤں ۔۔۔ عمران نے ایکسٹو کی مخصوص آواز میں کہا ۔
پھر اب آپ کچھ بتائیں ؟ ۔۔۔ صدر مملکت نے دوبارہ کہا۔
پہلے آپ یہ بتائیں کہ آواز کے منبع کا کھوج لگانے والے ماہرین نے کیا رپورٹ دی ہے ؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے سوال کیا ۔
انہوں نے اپنی ناکامی کا اعلان کر دیا ہے ۔۔۔ سر سلطان نے جواب دیا۔
وہ کس کے تحت یہ تحقیقات کر رہے تھے ؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے دوسرا سوال کرتے ہوئے کہا ۔
میرے تحت ۔۔۔ سر رحمان نے جواب دیا ۔
ہوں ۔۔۔ ایکسٹو نے ہنکارا بھرا۔
پھر چند لمحے تک میٹنگ ھال میں خاموشی طاری رہی ۔ سب کی نظریں ایکسٹو کے نقاب پوش چہرے پر لگی ہوئی تھیں ۔
صدر مملکت ۔۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جلد ہی مجرم گرفتار کر لیے جائیں گے؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے بڑے وقار اور پر اعتماد لہجے میں کہا ۔
اور صدر مملکت سمیت تمام ممبرز بری طرح چونک پڑے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا دعوی تھا ۔
آپ کے ذہن میں کوئی لائن آف ایکشن ہے جو آپ اس طرح دعوی کر رہے ہیں ۔۔۔ صدر مملکت نے سوال کیا۔
جی ہاں ۔۔ لائن آف ایکشن ہے تو میں یہ دعوی کر رہا ہوں ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا ۔
وہ لائن آف ایکشن آپ پیش کریں تا کہ ہم سب اس پر غور کر سکیں ۔۔۔ صدر مملکت نے رعب سے کہا ۔
یہ میرے اصول کے خلاف ہے ۔ آپ مجھ پر اعقاد کریں ۔۔۔ ایکسٹو نے اسی لہجے میں جواب دیا ۔
لیکن میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ یہ لائن آف اہکشن ممبرز کے سامنے پیش کریں ۔ اس نازک ترین وقت میں میں اس طرح اندھا اعتماد نہیں کر سکتا ۔۔۔ صدر مملکت کا لہجہ ترش ہو گیا ۔
آپ مجھے اس بات پر مجبور نہ کریں تو یہ ملک کے حق میں بہتر ہو گا ۔۔۔ اکیسٹو کا لہجہ بھی ہلکی سی ترشی لیے ہوئے تھا ۔
نہیں ۔ آپ کو میرا حکم ماننا پڑے گا ۔۔۔ صدر مملکت نے شائد جھکنا اپنے وقار کی توہین سمجھی ۔
تو پھر میں استعفی پیش کر دیتا ہوں ۔ آپ کسی اور کو اس پوسٹ پر اپوائنٹ کر دیں ۔۔۔ ایکسٹو نے بڑے اطمینان سے کہا ۔
اور یہ بات تمام ممبروں کے لیے خاص طور پر سرسلطان کے لیے بم کا دھماکہ ثابت ہوئی۔
نہیں نہیں ۔۔ اس نازک وقت میں آپ کا استعفے ملک کی تباہی کا باعث بن جائے گا ۔۔۔ سر سلطان بےاختیار بول پڑے ۔
میں کب چاہتا ہوں کہ میں اس نازک وقت میں استعفیٰ دوں ۔ لیکن میرے کچھ اصول ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ اصول ملک کے لیے فائدہ مند ہے۔ میں کسی قیمت پر بھی اپنا اصول نہیں توڑ سکتا ۔۔ ایکسٹو کا لہجہ اعتماد سے بھرپور تھا۔
کیا آپ کو شک ہے کہ اس میٹنگ سے بات باہر نکل جائے گی ۔۔۔ صدر مملکت ابھی تک اپنی بات پر بضد تھے ۔
اس دنیا میں ہر بات ممکن ہے ۔۔۔ اسکیٹو نے جواب دیا۔
تو کیا آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں؟ ۔۔۔ صدر مملکت کا لہجہ بےحد ترش ہو گیا ۔
ہم اپنے آپ پر بھی شک کرتے ہیں۔ آپ تو پھر دوسری شخصیت ہیں ۔۔۔ ایکسٹو نے بھی کافی ترش لہجے میں جواب دیا۔
صدر مملکت نے اسے براہ راست اپنی توہین سمجھا ۔ وہ ہتھے سے اکھڑ گئے ۔
آپ ابھی اور اسی وقت استعفیٰ دیں ۔۔۔ صدر مملکت نے غصے کے عالم میں حکم دیا ۔
جناب صدر صاحب ! میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ دارالحکومت کی اس وقت پوزیشن بہت نازک ہے۔ اس وقت ہمارے اختلافات مجرموں کو فائدہ دیں گے اور یہ ہمارے حق میں بہتر نہ رہے گا ۔۔۔ سرسلطان سے رہا نہ گیا اور وہ بول پڑے ۔
سلطان صاحب ! آپ بار بار ان کی فیور کیوں کر رہے ہیں جن کی نظر میں ملک کا صدر بھی مشکوک ہو میں انہیں ملک کا خیر خواہ نہیں سمجھ سکتا ۔۔۔ صدر مملکت نے سر سلطان کی درخواست بھی مسترد کر دی ۔
ایکسٹو نے پی اے سے کاغذ منگوایا اور اپنا استعفیٰ لکھ کر صدر مملکت کے سامنے رکھ دیا ۔
اچھا اب مجھے اجازت دیں ۔۔۔ استعفیٰ صدر کے سامنے رکھ کر ایکسٹو اٹھ کھڑا ہوا۔
تمام ممبرز حیرت سے یہ تمام کا رروائی دیکھ رہے تھے ۔ صدر مملکت نے قلم نکالا اور استعفے پر منظوری کا حکم لکھنے لگے۔ اور ایکسٹو سیٹ سے اتر کر دروازے کی طرف چل پڑا ۔
اچانک جاتے جاتے ایکسٹو یکدم پلٹا اور دوسرے لمحے اس نے جیب سے ریوالور نکال کر سر رحمان کی پشت سے لگا دیا ۔
ہینڈز اپ مسٹر رحمان ۔۔۔ ایکسٹو نے انتہائی سرد لہجے میں حکم دیا۔ سر رحمان بوکھلا کر کھڑے ہو گئے ۔
اور صرف رحمان صاحب ہی نہیں بوکھلاتے بلکہ تمام مبرز بوکھلا گئے ۔ صدر مملکت کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا ۔
یہ کیا حرکت ہے مسٹر ایکسٹو ؟ ۔۔۔ صدر مملکت نے انتہائی سخت لہجے میں پوچھا۔
ابھی پتہ چل جاتا ہے ۔۔۔ ایکسٹو نے اطمینان سے بھر پور لہجے میں کہا اور پھر سر سلطان سے مخاطب ہو کر کہا ۔
سلطان صاحب ! آپ یہاں تشریف لایئے ۔۔ سر سلطان بے اختیار ایکسٹو کے پاس پہنچ گئے ۔
یہ ریوالور ان کی کمر سے لگا کے رکھیں اور زرا بھی غلط حرکت کریں تو گولی مار دینا۔ میں ذمہ دار ہوں گا ۔۔۔ ایکسٹو نے سر سلطان کو ریوالور پکڑاتے ہوئے کہا۔
سرسلطان نے خاموشی سے ریوالور پکڑ لیا۔ لیکن اس عجیب سچوئیشن پر ان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔
ایکسٹو نے سر رحمان کی تلاشی لینی شروع کر دی ۔
میں احتجاج کرتا ہوں جناب صدر ۔۔ یہ میری توبین ہے ۔۔۔ سرحمان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔
مسٹر ایکسٹو ۔۔ اگر آپ کی اس حرکت کا کوئی جواز نہ نکلا تو میں آپ کو یہیں گرفتار کرا دوں گا ۔۔۔ صدر مملکت غصے سے چیخ پڑے۔
ایکسٹو نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ خاموشی سے سر رحمان کی تلاشی لیتا رہا ۔
لیکن سر رحمان کے پاس سے کوئی ایسی چیز نہ نکلی جو قابل گرفت ہوتی۔ ایکسٹو عجیب شش و پنج میں پھنس گیا ۔ اس کے خیال کے مطابق سر رحمان کے پاس ایک ڈکٹا فون کی موجودگی ناگزیر تھی لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
صدر مملکت نے ایکسٹو کو ہاتھ پیچھے کرتے دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے میز پر لگا ہوا بٹن دبا دیا ۔ بٹن دبتے ہی دروازہ کھلا اور پریزیڈنٹ سکیورٹی پولیس کے چار آفیسر ہاتھوں میں ٹامی گنیں لیے اندر داخل ہوئے ۔
مسٹر ایکسٹو کو گرفتار کر لو ۔۔۔ صدر مملکت نے ایکسٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو خاموش کھڑا کچھ سوچ رہا تھا۔
آفیسر ایکسٹو کے قریب آ کر رک گئے ۔ اس سے آگے کچھ کرنے کی ان میں جرات نہیں تھی کیونکہ ایکسٹو کے کارناموں نے تمام محکموں میں اسے ہیرو بنا رکھا تھا اور پھر ہیرو شپ کے ساتھ ساتھ اس کی ہمہ گیر شخصیت سے وہ خوف زدہ بھی رہتے تھے۔ رک کیوں گئے ؟ آگے بڑھو اور انہیں گرفتار کر کے لے جاؤ یہ میرا حکم ھے ۔۔۔ صدر مملکت نے پولیس افسروں کو رکتے دیکھ کر ڈانٹا۔
اس سے پہلے کہ وہ آفیسر آگے بڑھتے ایکسٹو نے جواب دیا ۔
جناب صدرصاحب! آپ ذرا صبر اور تحمل سے کام لیں۔ ایک ملک کے صدر کو ٹھنڈے دماغ کا آدمی ہونا چاہیے ۔ اس طرح چیخنا چلانا اور جذباتی ہونا ایک صدر کے شان شایان نہیں۔ اب تک میں اس لیے خاموش تھا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ باقی ممبرز کے سامنے میں کوئی بات کر دوں لیکن آپ نے جذباتیت کی انتہا کر دی ہے۔ اس لیے میں آپ کو صرف اتنا یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ کو شائد یاد نہیں رہا کہ آپ مجھے گرفتار کرانے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ سپریم کورٹ اور مرکزی اسمبلی نے آپ کے اختیارات بےحد محدود کر دیٸے ہیں ۔ بس اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔۔۔ ایکسٹو نے انتہائی کرخت لہجے میں جواب دیا ۔
لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ آن ڈیوٹی تھے۔ اب آپ استعفیٰ دے چکے ہیں اور میں اس استعفے کو منظور کر چکا ہوں اس لیے اب آپ کی وہ حیثیت نہیں رہی ۔۔۔ صدر مملکت جھلا گئے ۔
میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔ ورنہ میں آپ کو یہ بھی بتلا دیتا کہ میرے استعفیٰ پر منظوری آپ کے اختیارات سے باہر ہے۔ آپ نہ اسے منظور کر سکتے ہیں نہ مسترد ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا ۔
آپ لوگ باہر جائیں ۔۔۔ صدر کو شائد ایکسٹو کے سپریم کورٹ اور مرکزی آسمبلی کی طرف سے دیتے گئے وسیع اختیارات یاد آگئے تھے۔ اس لیے وہ ٹھنڈے پڑ گئے ۔ اس لیے انہوں نے پولیس آفیسروں کو باہر جانے کا حکم دے دیا اور وہ خاموشی سے باہر چلے گئے ۔
آپ کو سر رحمان پر کسی بات کا شک ہوا تھا ؟ ۔۔۔ صدر مملکت نے نرم لہجے میں پوچھا۔
مجھے اب بھی یقین ہے کہ سر رحمان کے پاس ڈکٹا فون ھے جو میٹنگ کی تمام باتیں نشر کر رہا ہے ۔۔۔ ایکسٹو نے سرد لہجے میں کہا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ تمام ممبرز اس خوفناک انکشاف سے اچھل پڑے.
یہ بکواس ہے۔ آپ مجھے خوامخواہ ذلیل کرنے پر اتر آئے ہیں ۔۔۔ سر رحمان نے غصے سے چیخ کر کہا۔
اور دوسرے لمحے ایکسٹو کی نظر ان کی گردن کی پشت پر بالوں کے نیچے پڑ گئی۔ وہاں ایک مخصوص سا ابھار تھا اور ایکسٹو کے ذہن میں ایک کوندا سا لپک گیا۔ وہ سب کچھ سمجھ گیا تھا ۔
اگر میں ثابت کر دوں تو ۔۔۔ ایکسٹو نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔ اور پھر اس نے اچانک اپنی جیب سے چاقو نکالا اور پھر دوسرے لمحے وہ سر رحمان کی جلد کو چیر چکا تھا۔
جلد پھٹتے ہی اس میں سے ایک بالکل چپٹی مگر انتہائی چھوٹی سی پتی باہر نکل آٸی جو جلد کے اندر رکھ کر اوپر سے جلد کو سی دیا گیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بالوں کی وجہ سے جلد پر لگے ہوئے ٹانکے نظر آرہے تھے ۔
پتی نکلتی دیکھ کر وہ سب حیرت زدہ رہ گئے ۔
سر رحمان بھی ہکا بکا رہ گئے ۔ ان کی آنکھیں حیرت کی زیادتی کی وجہ سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
یہ کیا ہے؟ ۔۔۔ سر سلطان نے پوچھا ۔
جدید ترین ڈکٹا فون کا ماتیک فون جس کے ذریعے اس میٹنگ کی تمام کاروائی مجرم اپنے اڈے پر بیٹھے سن رہے ہیں ۔۔۔ ایکسٹو نے اطمینان سے پر لہجے میں جواب دیا ۔
اوہ ! تو کیا سر رحمان غداروں سے مل گتے ہیں؟ ۔۔۔ صدر مملکت کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ۔
سر رحمان کا چہرہ پریشانی ، حیرت اور ندامت سے زرد ہو رہا تھا۔ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے انہیں بھری محفل میں جوتے مارے گئے ہوں۔ سر سلطان بھی حیرت کی شدت سے گنگ کھڑے تھے ۔
نہیں جناب! سر رحمان کی وفاداری پر شک کرنا لفظ وفاداری کی توبین ہے۔ ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔۔ ایکسٹو نے پروقار لہجے میں کہا ۔
لیکن یہ پھر کیا ہے؟ ۔۔۔ صدر مملکت الجھ گئے ۔
ایکسٹو کے اس جملے نے سر رحمان کی ڈھارس بندھا دی اور ان کے چہرے پر چھائی ہوٸی زردی میں کچھ کمی واقع ہو گئی ۔
میں تفصیل بتلاتا ہوں ۔۔۔ ایکسٹو پروقار چال چلتا ہوا دوبارہ اپنی کرسی کے قریب آکر رک گیا ۔
جناب صدر بات یہ ہے کہ سر رحمان کو مجرموں نے اغوا کر لیا۔ میں اسے اغوا ہی کہوں گا کیونکہ سرحمان پر مصنوعی موت طاری کی گئی تھی اور بعد میں انہیں زندہ کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی بےخبری میں یہ جدید قسم کا ڈکٹا مائیکرو فون ان کی گردن کی پشت پر جلد کے اندر سی دیا گیا تا کہ جب انہیں رہا کیا جائے تو ان کے ذریعے حکومت کی تمام سرگرمیاں ان کے علم میں رہیں ۔ سر رحمان چونکہ ایک ایسی پوسٹ پر ہیں کہ ہر میٹنگ میں ان کی موجودگی نہایت ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی نظر سر رحمان پر پڑی ۔ یہ تو اچھا ہوا کہ مجھے مبہم سی اطلاع مل گئی کہ سر رحمان کے ساتھ انہوں نے کوئی چکر کھیلا ہے مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ انہوں نے باقاعدہ جلد چیر کر مائیک اندر رکھا ہوگا ۔ چنانچہ میں نے رسک اٹھایا اور خدا کا شکر ہے کہ میں کامیاب رہا۔ دراصل میں اسی لیے اپنا منصوبہ یہاں پیش نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن آپ نے جذبات اور ضد سے کام لیا اور مجھے مجبورا استعفیٰ دینا پڑا ۔۔۔ ایکسٹو نے باقاعدہ ایک تقریر کر دی ۔
صدر مملکت کے چہرے پر ندامت امڈ پڑی ۔
” مجھے افسوس ہے مسٹر ایکسٹو میں جذبات میں آگیا تھا۔ دراصل حالات نے میرے ذہن پر ایسا اثر کیا ہے کہ میں نروس ہو گیا ہوں ۔۔۔ صدر مملکت نے اپنی ندامت کا اظہار کر دیا ۔
صدر مملکت جب یہ بات کر رہے تھے تو ایکسٹو نے ایک چھوٹی سی چٹ پر جلدی سے چند جملے لکھے اور صدر کے سامنے رکھتے ہوئے بولا ۔
معاف کیجئے صدر صاحب! میں استعفیٰ دے چکا ہوں اس لیے آج سے میری ہر قسم کی ذمہ داری ختم ۔۔ آپ جانیں اور مجرم مجھے اجازت دیجئے ۔۔۔ ایکسٹو کا لہجہ کافی سے زیادہ سخت تھا ۔
لیکن میں ندامت کا اظہار کر چکا ہوں۔ اور آجکل حالات بڑے نازک ہیں ۔ اس لیے آپ کا استعفیٰ مسترد کیا جاتا ہے ۔۔۔ صدر مملکت نے کہا ۔
معاف کیجئے ایک بار فیصلہ کر کے بدلنا میرا اصول نہیں ہے۔ اب اجازت ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور پھر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کانفرنس روم سے باہر نکل گیا اور صدر مملکت کے علاوہ باقی تمام مبرز ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے ایکسٹو کو باہر جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 11 ۔۔۔
کیپٹن شکیل کو جب ہوش آیا تو وہ ایک پلنگ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے تمام جسم پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ۔ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں تھا۔ سوائے اس پلنگ کے اور ہر قسم کے سامان سے عاری تھا۔
کیپٹن شکیل کو جب گذرے ہوئے حالات کا تصور آیا تو وہ بے اختیار اٹھ بیٹھا لیکن پھر اس کے منہ سے بے اختیار کراہ نکل گئی کیونکہ اسے تمام جسم میں شدید جلن کا احساس ہوا تھا ۔
کیا مجرموں نے مجھے موت کے منہ سے نکال لیا ہے ؟ مگر کیوں ؟ ۔۔۔ اس کے ذہن میں یہ سوالیہ نشان ابھر آیا ۔ لیکن جب کافی دیر غور کرنے کے باوجود بھی وہ اس سوال کی کوئی مناسب تادیل نہ کر سکا تو اس نے سر جھٹک کر اس خیال کو ذہن سے نکال دیا ۔ اور دوبارہ پلنگ پر لیٹ گیا ۔
ابھی اُسے لیٹے ہوئے چند ہی منٹ ہوئے تھے کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک خوبصورت لڑکی اندر داخل ہوٸی .
کیا حال ہیں مسٹر ؟ ۔۔۔ لڑکی نے بڑی ہمدردی اور نرم لہجے میں پوچھا۔
آپ کے سامنے ہوں مس ۔۔۔ کیٹین شکیل نے جان بوجھ کر فقرہ نامکمل چھوڑ دیا ۔
سوزیہ ۔۔۔ لڑکی نے فقرہ مکمل کر دیا ۔
مس سوزیہ ۔۔ میں اس وقت کہاں ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے پوچھا۔
ایک کمرے میں پلنگ کے اوپر ۔۔۔ سوزیہ جو شائد پرمزاح طبیعت کی مالک تھی ہنستی ہوئی بولی۔
اوہ میں سمجھا تھا کہ شائد کمرے سے اوپر اور پلنگ کے نیچے ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے بھی فقرہ جڑ دیا اور سوزیہ کے ترنم سے پر قہقہ سے کمرہ گونج اٹھا۔
مسٹر ۔۔۔۔ سوزیہ نے بھی کیپٹن شکیل والا حربہ دہرایا ۔
فیروز ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے فرضی نام بتلا دیا ۔
مسٹر فیروز ۔۔۔ کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ اس بری طرح کیسے جل گئے ؟ ۔۔۔ سوزیہ کے لہجے میں ہمدردی تھی ۔
جل گیا ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے لاعلمی کی اداکاری کی ۔
جی ہاں ! آپ ہمیں اس روڈ کے چوراہے پر پڑے ملے تھے اور جسم بری طرح جلا ہوا تھا میں اور میرے ڈیڈی فلم دیکھ کر آ رہے تھے کہ آپ پر نظر پڑ گئی ۔ ہم نے آپ کو وہاں سے اٹھایا اور یہاں لے آئے۔ پھر ڈاکٹر کو بلا کر مرہم پٹی کی اور اور اب آپ کو ہوش آیا ہے ۔۔۔ سوزی نے پوری تفصیل بتائی۔
اور کیپٹن شکیل یہ سوچتا رہ گیا کہ یہ لڑکی اداکاری کر رہی ہے یا واقعی مجرموں نے اسے چوراہے پر ڈال دیا تھا ۔
کمال ہے مجھے تو کچھ بھی یاد نہیں ۔ بس اتنا یاد ہے کہ میں وکٹری روڈ پر جا رہا تھا کہ اچانک مجھے چکر آنے لگے۔ میں نے سننے کی بے حد کوشش کی لیکن دماغ پر اندھیرا چھاتا چلا گیا اور اب مجھے ہوش آیا اور واقعی مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا تمام جسم جلا ہوا ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے بھی ایک کہانی گھڑ لی ۔
سوزیہ نے بغور کیٹین شکیل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ ایک عجیب بات اور میں نے نوٹ کی ہے۔ اگر آپ برا نہ منائیں تو میں پوچھوں ۔۔
ضرور ضرور پوچھیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے کہا ۔
میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی آپ ذرا سی کروٹ بدلتے ہیں تو تکلیف کی وجہ سے آپ کے منہ سے کراہ نکل جاتی ہے مگر آپ کے چہرے پر تکلیف کے آثار بالکل پیدا نہیں ہوتے؟ ۔۔۔ سوزیہ نے سوال کیا ۔
در اصل بات یہ ہے کہ میں نے چہرے پر پلاسٹک سرجری کروائی ہے اس لیے وہ اثرات پیدا کرنے سے قاصر ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل اور کیا کہتا۔
اچھا اب آپ آرام کریں اور آپ مجھے اپنے وارثوں کا پتہ بتلا دیں تاکہ میں انہیں آپ کے متعلق اطلاع کرا دوں ۔۔۔ سوزیہ نے کہا ۔
میں خود ہی چلا جاتا ہوں ۔ آپ لوگوں کو پہلے ہی میری وجہ سے بیحد تکلیف ہوٸی ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل کو اچانک اپنے فرض کا شدت سے احساس ہوا ۔ اس لیے پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ گو اس کے تمام جسم میں اس پھرتی کی وجہ سے شدید ٹھیس دوڑ گئی لیکن وہ ضبط کر گیا ۔
نہیں نہیں ۔ ڈاکٹر نے آپ کو چلنے پھرنے سے منع کیا ہوا ہے ۔۔۔ سوزیہ بوکھلا گئی ۔
آپ بے فکر رہیں ۔ مجھے کچھ نہیں ہوتا ۔ اچھا خدا حافظ ۔۔۔ کیپٹن شکیل دروازے کی طرف بڑھنے لگا ۔
سنیے رک جایٸے ۔ اگر آپ بضد ہیں تو میں آپ کو کار پر چھوڑ آتی ہوں؟ ۔۔۔ سوزیہ نے تجویز پیش کی اور کیپٹن شکیل نے رضامندی ظاہر کردی۔ تھوڑی دیر بعد وہ کار میں بیٹھا اپنے فلیٹ کی طرف جارہا تھا اور پھر وہ اپنے فلیٹ سے تقریباً بیس فلیٹ پہلے اتر گیا۔
خدا حافظ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے لڑکی سے کہا اور پھر فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
سوزیہ نے ایک نظر فلیٹ پر ڈالی اور پھر کار واپس موڑ لی ۔
کیپٹن شکیل دو تین سیڑھیاں چڑھ کر رک گیا اور پھر جب اسے اسے یقین ہو گیا کہ سوزیہ واپس چلی گئی ہے تو وہ دوبارہ نیچے اترا اور پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔ فلیٹ میں پہنچ کر سب سے پہلا کام اس نے یہی کیا کہ رسیور اٹھا کر ایکسٹو سے رابطہ ملانے لگا۔ چند ہی لمحے بعد رابطہ مل گیا۔
ایکسٹو دوسری طرف سے مخصوص آواز ابھری۔
سر میں شکیل بول رہا ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے جواب دیا۔
اوہ ۔۔۔ کیپٹن شکیل ۔۔ تم کہاں سے بول رہے ہو ۔۔۔ اہکسٹو کی آواز میں قدرے نرمی تھی ۔
سر میں اپنے فلیٹ سے بول رہا ہوں میرا تمام جسم جل گیا ہے اور ۔۔۔۔۔ کیپٹن شکیل نے رپورٹ دینی شروع کی ہی تھی کہ ایکسٹو نے فقرہ کاٹ دیا ۔
کیپٹن شکیل میں عمران کو وہاں بھیج رہا ہوں ۔ تم اسے رپورٹ دے دینا ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا۔
بہت بہتر سر میں عمران صاحب کا انتظار کرتا ہوں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے جواب دیا ۔
ٹھیک ہے ۔ وہ جلد ہی تمہارے پاس پہنچ جائے گا ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا اور پھر رابطہ ختم ہو گیا۔
کیپٹن شکیل رسیور رکھ کر پلنگ پر دراز ہو گیا اور عمران کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد عمران فلیٹ میں داخل ہوا۔ اسے اندر آتا دیکھ کر کیپٹن شکیل اٹھ بیٹھا۔
اوہ ۔۔ یہ تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے ؟ کیا کسی لونڈیا کے چکر میں پڑ کر رقیبوں سے تو نہیں لڑ بیٹھے ؟ ۔۔۔ عمران نے قریب آکر پوچھا۔
مجھے یہاں چھوڑ کر جانے والی تو لونڈیا ہی تھی مگر یہ زخم اس سے پہلے کے ہیں۔۔۔ کیپٹن شکیل نے قدرے مسکراتے ہوئے کہا ۔ واقعی کیپٹن شکیل کی قوت برداشت بے پناہ تھا جو بےحد تکلیف کے باوجود بھی خوش مذاقی کو قائم رکھے ہوئے تھا۔
اب سناؤ اپنی عشقیہ سٹوری ۔۔ میں کوشش کروں گا کہ تمہارے زخموں کو اپنی قلم کی نوک سے صفحہ قرطاس پر اجاگر کر سکوں ۔ لیکن یہ وعدہ نہیں کر سکتا کہ یہ ناول چھپ بھی جاٸے گا یا نہیں کیونکہ تمہیں معلوم کہ ناشر حضرات ۔۔۔ ہاں یاد آیا ۔۔ یار یہ بتلاو کہ کتابیں چھاپنے والے کو ناشر کیوں کہتے ہیں ؟ ناشر کا مطلب تو ہوا نشر کرنے والا اور ریڈیو سے کوئی ڈرامہ تو نشر ہو سکتا ہے کتاہیں تو نشر نہیں ہو سکتیں ۔۔۔ عمران کی حسب عادت ذہنی رو بہک گئی ۔
چھوڑ ہے اس چکر کو آپ ۔۔۔ کیپئن شکیل نے بات موڑنی چاہی .
واہ کیسے چھوڑ دوں؟ ۔۔ انہوں نے کب عوام کو بخشا ہے۔ ایسی ایسی کتابیں چھاپی ہیں کہ پڑھ کر آدمی حیرت سے دنگ، زبان سے گنگ ۔۔۔ مگر قافیہ ملا نہیں – دنگ کا قافیہ گنگ نہیں ہو سکتا البتہ بھنگ ہو سکتا ہے ۔ اوہ ۔۔ بھنگ سے مجھے خیال آیا ۔ واہ واہ کیا اچھوتی تحقیق ہے۔ میرے خیال میں ناشر کا مطلب ہے نشہ کرنے والا۔۔ دیکھیں نہ کتاہیں چھاپنا بھی تو ایک نشہ ہے یعنی کتاب بکے نہ بکے انہوں نے چھاپنی ضرور ہے ۔ گھر پھونک تماشہ دیکھنا اسے ہی کہتے ہیں ۔۔۔ عمران ہاتھ نجا نچا کر بولتا گیا۔
ویسے میرا خیال آپ سے مختلف ہے ۔۔۔ کیپٹن شکیل کو اور کوئی چارہ نہ دیکھ کر اس فضول بحث میں شامل ہونا پڑا ۔
وہ کیسے؟ ۔۔۔ عمران نے اشتیاق سے پوچھا۔
دیکھتے عمران صاحب ! – شر کہتے ہیں برائی کو اور نا کا مطلب ہے نہیں ۔ یعنی ناشر کا مطلب ہوا برائی نہ کرنے والا ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
تو تمہارا مطلب ہے کہ ناشر نیک آدمی کو کہتے ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتابیں چھاپنے کے لیے آسمان سے فرشتے اتارے ہیں ۔۔۔ عمران بھی باقاعدہ جرح کرنے پر اتر آیا۔
اللہ میاں نے بھی تو کتابیں بھیجی ہیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل کب پیچھے رہ سکتا تھا اس نے بھی دلیل دے دی۔
ارے بھائی ۔ اللہ میاں ان کتابوں کا مصنف ہے ناشر نہیں اب تم خود سوچو ناشر کے مقابلے میں مصنف کا کیا رتبہ ہے ۔۔۔ عمران بولا ۔
اس کا مطلب ہے کہ مصنف اللہ میاں کی سنت پر عمل کر رہے ہیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے جواب دیا ۔
ہاں ۔ جہاں تک ان کی عقل دوڑ سکتی ہے وہاں تک وہ عمل کر رہے ہیں ۔ اللہ میاں تو عقل کل ہوا ۔۔ انسان کی کیا مجال کہ عقل کل کا مقابلہ کر سکے لیکن بہرحال وہ خدا کا نائب ہے اس لیے کتابیں ضرور لکھتا ہے ۔ سنت جو پوری کرنی ہوئی ۔۔۔ عمران باقاعدہ جرح کے موڈ میں تھا ۔
ویسے عمران صاحب ۔۔ ایک بات اور ہے ۔ اگر ناشر کتابیں نہ چھاپیں تو مصنف حضرات کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل کو اب اس بحث میں مزہ آنے لگا ۔
بھٸی اگر مصنف کتابیں ہی نہ لکھتے تو ناشر کا وجود ہی نہیں رہتا ۔۔۔ عمران نے مقابلے کی دلیل دی ۔
تو ثابت ہوا کہ دونوں ایک دوسرے لیے لازم ملزوم ہیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے کہا۔
ہاں ہیں تو سہی مگر میرے خیال میں اگر ایک مصنف ناشر بن جاٸے تب تو اس کا رتبہ ڈبل ہو گیا یعنی نوراً علی نور ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔
اور اگر ناشر مصنف بن جائے تو کیا اس کا رتبہ ڈبل نہیں ہو جائے گا؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل بولا ۔
ناشر کو کیا تکلیف ہوتی ہے کہ وہ مصنف بنے ؟ مصنف بیچارہ خون جگر پی پی کر کتاب لکھے اور پھر جب ناشر کے پاس لے جائے تو ناشر صاحب بڑی نخوت سے وہ مسودہ پڑھیں گے اور اگر پسند نہ آیا تو مسودہ مصنف کی ناک پر دے مارا اور اگر پسند آ گیا تو بیس تیس روپے اٹھا کر مصنف کی ہتھیلی پر جما دیئے۔ پھر اس کے ساتھ ہی ایسی باتیں بھی کریں گے جیسے بیس تیس روپے دیگر مصنف کی سات پشتوں پر احسان کر رہے ہیں ۔ اُسے مول خرید لیا ہے ۔ اب اگر مصنف ڈرتے ڈرتے معاوضہ کی کمی کا رونا روئے تو وہ بڑے اطمینان سے کہیں گے۔ یہ ہمارا کم احسان ہے کہ ہم تمہارا مسودہ بھی چھاپ رہے ہیں اور تمہیں معاوضہ بھی دے رہے ہیں ورنہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم ہمیں مسودہ چھپوانے کے لیے رقم بھی مہیا کرتے ۔۔۔ عمران نے باقاعدہ تقریر کر ڈالی ۔ کیپٹن شکیل ہنسنے لگا ۔
ابھی تک کوئی آیا ہی نہیں ۔۔۔ اچانک عمران بڑبڑایا ۔
یہ بتاؤ کہ لونڈیا تمہیں اس فلیٹ پر چھوڑ گئی تھی ؟ ۔۔۔ عمران نے کیپٹن شکیل سے سوال کیا ۔
نہیں ۔۔ میں ۔۔۔۔ کیپٹن شکیل نے نے جواب دینا چاہا مگر عمران نے اس کی بات کاٹ دی ۔
اوہ پھر تو میں خوامخواہ بحث کرتا رہا ۔۔۔ عمران نے کہا ۔
کیا مطلب ؟ میں سمجھا نہیں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے حیرت سے پوچھا۔
نہ سمجھو تو اچھا ہے ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر جیب سے ایک کاغذ نکال کر اس پر جلدی سے ایک فقرہ لکھ کر کیپٹن شکیل کے سامنے رکھ دیا ۔ اور کیپٹن شکیل اسے پڑھنے لگا ۔
” تم خاموش رہنا میں جو کچھ بھی کروں بولنا نہیں “
پڑھنے کے بعد کیپٹن شکیل حیرت بھری نظروں سے عمران کو دیکھنے لگا ۔ عمران نے جیب سے چاقو نکالا اور پھر کیپٹن شکیل کی پشت ٹٹولنے لگا۔
کیپٹن شکیل کا حیرت کی زیادتی سے برا حال تھا لیکن حسب حکم وہ خاموش رہا ۔ دوسرے لمحے عمران اس ابھار کا پتہ چلا چکا تھا۔ چنانچہ اس نے پھرتی سے جلد کاٹ دی۔ کیپٹن شکیل کی ہلکی سی سسکی نکل گئی ۔ اور دوسرے لمحے عمران کے ہاتھ میں وہ پتی تھی جو اس نے کیپٹن شکیل کی جلد کے اندر سے نکالی تھی۔
ہاں اب بتاؤ کیا گذری تم پر ؟ ۔۔۔ عمران نے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
کیپٹن شکیل نے اس جگہ پر ہاتھ پھیرا جہاں سے جلد کائی گئی تھی لیکن وہاں سے خون وغیرہ نہیں نکلا۔ کیونکہ وہاں خون کی شریانیں کافی گہرائی پر تھیں اور پتی صرف اوپر کی جلد کاٹ کر سی دی گئی تھی ۔
یہ کیا چیز ہے ؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے حیرت سے پوچھا ۔
یہ ایک جدید ڈکٹافون مائیک ہے تمہیں چھوڑا اسی لیے گیا تھا کہ تم جا کر اپنے باس سے بات کرو اور وہ تمہارے ذریعے تمہارے تمام ساتھیوں اور تمہارے چیف کو پکڑ لیں میں اسی لیے تمہاری کہانی سننے کی بجائے بحث کرنے لگا کہ وہ ضرور میرا نام سن کر فلیٹ پر آئیں گے مگر تم نے کہیں اور اتر کر ان کی تمام سکیم برباد کر دی ۔۔۔ عمران نے تفصیل سے بتلایا۔
کمال ہے ۔۔ مگر آپ کو کیسے معلوم ہو گیا کہ یہ یہاں چھپا ہوا ہے ؟ ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے پوچھا ۔
یہ بعد میں بتاؤں گا پہلے تم یہ بتاؤ کہ تم اترے کہاں تھے؟ ۔۔۔ عمران نے ذہن میں ایک خاص خیال آنے پر پوچھا ۔
یہاں سے بیس فلیٹ پیچھے ۔۔۔ کیٹین شکیل نے بتایا ۔
تو پھر تم دروازہ اندر سے بند کر لو۔ میں جا رہا ہوں ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔ کیپٹن شکیل حیرت سے منہ پھاڑے اُسے جاتے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اٹھ کر دروازہ بند کر دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر اب بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ ڈاکٹر درانی کی طبی مہارت اور محنت نے اُسے جلد ہی اس قابل بنا دیا تھا کہ وہ دوبارہ اپنی سروس کی ہنگامہ آرائیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو گیا تھا۔ لیکن ابھی ایکسٹو نے اس کے ذمے کوئی کام نہیں لگایا تھا وہ اپنے فلیٹ میں فارغ پڑے پڑے اکتا گیا تھا لیکن مجبور تھا۔ ایکسٹو کا حکم تھا کہ کوئی ممبر بغیر حکم کے اپنے فلیٹ سے باہر نہ جائے۔
اس وقت رات کے تقریباً گیارہ بجے تھے اور صفدر ایک کتاب کا مطالعہ کر کے اب سونے کا پروگرام بنا ہی رہا تھا کہ تپاٸی پر پڑے ہوئے ٹیلیفون کی گھنٹی بج اٹھی ۔ اس نے پھرتی سے رسیور اٹھا کر کانوں سے لگایا۔
صفدر سپیکنگ ۔۔
ایکسٹو ۔۔۔ دوسری طرف سے ایکسٹو کی مانوس آواز گونجی ۔
یس سر ۔۔۔ صفدر نے مودبانہ لہجے میں کہا ۔
صفدر کیا تم کام کرنے کے لیے تیار ہو؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے پوچھا ۔
جی ہاں جناب! میں تو کام کے انتظار میں ہوں ۔۔۔ صفدر نے کہا ۔ ٹھیک ہے ۔ تم ایسا کرو کہ جتنی جلدی ہو سکے کیپٹن شکیل کے فلیٹ پر پہنچو، عمران وہاں گیا ہے۔ تم نے عمران کی نگرانی کرنی ہے۔ اگر کوئی گروہ اُسے گرفتار یا اغوا کر کے لے جائے تو تمہارا کام صرف نگرانی کرنا ہے۔ ٹرانسمیٹر واچ اپنے ساتھ لے جانا ۔ میں خود ہی تم سے رابطہ قائم کر لوں گا ۔۔۔ ایکسٹو نے صفدر کو حکم دیتے ہوئے کہا۔
بہت بہتر جناب میں ابھی جاتا ہوں ۔۔۔ صفدر نے کہا۔
او کے ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور پھر رابطہ ختم ہو گیا ۔
صفدر نے رسیور رکھا اور پھر جلدی سے کپڑے تبدیل کرنے لگا۔ ہلکا سا میک آپ کیا اور پھر ریوالور اور کچھ فالتو گولیاں جیب میں ڈال کر وہ تیزی سے فلیٹ سے نیچے اتر آیا۔
فلیٹ کے نیچے ایک طرف کھڑی ہوئی موٹر سائیکل پر بیٹھا اور پھر سیلف بٹن دبا کر اسے سٹارٹ کیا اور چند ہی لمحوں بعد اس کی موٹر سائیکل کیپٹن شکیل کے فلیٹ کی طرف اڑی چلی جا رہی تھی ۔
کیپٹن شکیل کے فلیٹ سے پہلے اس نے ایک برآمدے میں موٹر سائیکل کھڑی کی اور خود بھی وہیں رک کر انتظار کرنے لگا ۔ برآمدہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس لیے وہ محفوظ تھا۔
ابھی صفدر کو وہاں پہنچے چند ہی منٹ ہوٸے تھے کہ ایک ٹیکسی کیپٹن شکیل کے فلیٹ کے قریب آ کر رکی اور پھر عمران اس میں سے نکل کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا فلیٹ پر چلاگیا۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئی ۔
صفدر وہیں کھڑا انتظار کرتا رہا۔ کافی دیر ہوگئی نہ تو عمران فلیٹ سے باہر آیا اور نہ ہی کوئی اور شخص اسے فلیٹ کے گرد مشتبہ حالت میں نظر آیا۔ وہ حیران تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے ۔ ایکسٹو نے تو اسے یوں جلدی جانے کا حکم دیا تھا جیسے اگر وہ ذرا بھی لیٹ ہو گیا تو معاملہ بگڑ جائے گا اور یہاں ابھی تک کچھ ہوا ہی نہیں۔
بہرحال وہ انتظار کرتا رہا ۔ پھر وہ چونک پڑا۔ کیپٹن شکیل کے فلیٹ سے تقریبا بیس فلیٹ دور دو گاڑیاں آ کر رکیں اور پھر ان میں سے کوئی ایک درجن کے قریب افراد نکل کر فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگے ۔ چند ایک افراد نیچے کھڑے رہے۔
صفدر کو معاملہ پراسرار لگا لیکن وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا ۔ چند منٹ بعد فلیٹ میں جانے والے افراد تیزی سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے نیچے کھڑے افراد سے کچھ لمحے بات چیت کی اور پھر وہ سب پیدل چلتے ہوئے کیپٹن شکیل کے فلیٹ کی طرف بڑھنے لگے ۔ وہ تقریبا ہر فلیٹ کے قریب رکتے۔ دو آدمی اوپر جاتے ۔ پھر نیچے اتر آتے اور آگے بڑھ آتے ۔
صفدر یہ تمام کار روائی بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ سب افراد کیپٹن شکیل کے فلیٹ کے نیچے آکر رک گئے۔ ابھی ان میں سے دو آدمی اوپر چڑھنے ارادہ کر ہی رہے تھے کہ عمران اوپر سے نیچے اترتا ہوا دکھائی دیا۔
وہ سب پھرتی سے ادھر ادھر آڑ میں ہو گئے اور پھر عمران نے جیسے ہی سیڑھیوں سے نیچے قدم رکھا ۔ اچانک دس بارہ آدمی اس پر پل پڑے ۔ عمران نے لڑنے اور ان سے چھٹکارا پانے کی بےحد کوشش کی لیکن دس بارہ آدمیوں کے اچانک آ پڑنے سے اس کی کوئی پیش نہ چلی یا وہ خود ہی گرفتار ہونا چاہتا تھا۔ کوشش اس نے اس لیے کی تھی تاکہ حملہ آوروں کو یقین ہو جاٸے کہ گرفتار ہونے میں عمران کی مرضی شامل نہیں تھی۔ صفدر کو یہ دوسرا نظریہ زیادہ قابل قبول لگا۔ کیونکہ ایکسٹو نے بھی اُسے حکم دیا تھا کہ اگر حملہ آور عمران کو گرفتار یا اغوا کر لیں تو وہ اس کا تعاقب کرے ۔ دخل نہ دے ۔ اس سے تو صاف ظاہر تھا کہ اغوا ہونا پہلے سے ہی پروگرام میں شامل تھا۔ بہر حال عمران کو ہےبس کر کے ایک کار میں بٹھا دیا گیا اور پھر کاریں سٹارٹ ہو کر تیزی سے پیچھے کی طرف مڑیں اور پھر ہوا ہو گئیں ۔
صفدر نے تیزی سے اپنا موٹر سائیکل نکالا اور ان کاروں کا تعاقب کرنے لگا۔ اس نے موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ بند کر رکھی تھی اور صرف کاروں کی بیک لائٹ کے سہارے تعاقب کرنے لگا۔ شہر سے نکل کر کاروں کا رخ مضافات کی طرف ہو گیا ۔
صفدر بدستور تعاقب میں تھا۔ اچانک ایک چورا ہے پر جاکر وہ چکر کھا گیا ۔ کیونکہ ایک کار تو سیدھی چلی گئی اور دوسری بائیں طرف مر گئی۔ صفدر کو جلدی میں یہ یاد نہیں رہا تھا کہ عمران کسی کار میں تھا۔ اب وہ چکرا گیا کہ کسی کار کا تعاقب کرے اور کسی کا نہ کرے ۔
آخر کار اس نے سیدھی جانے والی کار کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگتا جا رہا تھا کہ خدا کرے عمران اسی کار میں ہو ۔ آگے جا کر اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا کیونکہ دوسری کار بھی چکر کاٹ کر دوبارہ پہلی کار کے پیچھے آگئی ۔ صفدر سمجھ گیا کہ حملہ آوروں نے متوقع تعاقب کرنے والوں کو ڈاج دینے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے ۔
اب وہ شہر سے تقریباً بیس میل دور نکل آتے تھے ۔ یہاں ایک چھوٹا سا پہاڑی سلسلہ تھا۔ کاروں کا رخ اس پہاڑی سلسلے کی طرف ہو گیا۔ اور پھر جیسے ہی کاریں پہاڑی سلسلے کے ایک درے میں پہنچیں اور ایک طرف مڑیں تو صفدر کی نظروں سے غائب ہو گیٸں ۔
صفدر سمجھ گیا کہ مجرموں نے اس پہاڑی سلسلے کو اپنا اڈہ بنایا ہوا ہے۔ اس نے پہاڑی سلسلے سے کافی دور اپنا موٹر سائیکل ایک جھاڑی نما درخت کے نیچے روکا اور پھر اسے درخت کے نیچے چھپا دیا اور پھر خود بڑی احتیاط سے چھپتا چھپاتا اس درے کی طرف بڑھنے لگا جہاں وہ کاریں غائب ہوٸی تھیں۔
درے کے قریب پہنچ کر صفدر نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی قدرتی سڑک درے کے بائیں سائیڈ مڑ کر بل کھاتی ہوئی پہاڑی کی طرف جارہی ہے لیکن آگے جا کر وہ سڑک اتنی تنگ ہو گئی تھی کہ کار یقینا وہاں سے نہیں گزر سکتی تھی۔
صفدر نے سوچا کہ اڈے کا خفیہ دروازہ یہیں کہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ وہ وہیں رک کر ادھر ادھر غور سے دیکھنے لگا لیکن وہاں موجود ٹھوس چٹانیں اس کا منہ چڑا رہی تھیں ۔ اس نے صورت حال سے ایکسٹو کو آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔ چنانچہ وہ پیچھے ہٹ آیا اور پھر ایک چٹان کی اوٹ میں بیٹھ کر اس نے واچ ٹرانسمیٹر سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا ۔ جلد ہی سلسلہ قائم ہو گیا ۔
صفدر سپیکینگ ۔۔ اوور ۔۔
یس ایکسٹو دس اینڈ ۔۔ اوور ۔۔۔ دوسری طرف سے ایکسٹو کی مخصوص آواز ابھری۔
اور پھر صفدر نے تمام رپورٹ تفصیل سے بتلا دی۔
ویری گڈ نیوز – صفدر تم وہیں رکو میں باقی ممبروں کو بھی بھیجتا ہوں ۔ آج اس کیس کا ڈراپ سین ہو ہی جانا چاہیئے۔۔ اوور ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا ۔
تو کیا میں ان کا انتظار کروں ۔۔ اوور ۔۔۔ صفدر نے پوچھا ۔
ہاں تم وہیں ان کا انتظار کرو۔ الو کی آواز کا سگنل کوڈ ہوگا ۔۔ اوور ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا ۔
ٹھیک ہے جناب ۔ میں انتظار کر رہا ہوں ۔۔ اوور ۔۔۔ صفدر نے کہا ۔
اوور اینڈ آل ۔۔۔ایکسٹو نے کہا اور پھر رابطہ ختم ہو گیا ۔
صفدر نے بٹن آف کیا اور پھر اٹھنے ہی لگا تھا کہ اچانک اس کے سر پر شدید ضرب پڑی. وہ پھرتی سے مڑا لیکن دوسری ضرب پہلے سے بھی شدید ثابت ہوئی اور صفدر کا دماغ اندھیرے کے عمیق سمندر میں ڈوبتا چلا گیا ۔۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 12 ۔۔۔
کیپٹن شکیل نے جب ایکسٹو کو رپورٹ دی تو اس وقت عمران اور بلیک زیرو دونوں بیٹھے مجرموں کی گرفتاری کے لیے لائن آف ایکشن سوچ رہے تھے لیکن کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی ۔ مجرموں کے تمام اڈے جو ان کی نظروں میں تھے انہیں مجرم چھوڑ گئے تھے۔ ہوٹل تھری سٹار کے منیجر کے ذریعے صرف اسے اتنا پتہ چلا تھا کہ ان کا چیف سر سے گنجا ہے اور پھر باتوں باتوں میں سر رحمان کے اغوا کا ذکر چلا تو منیجر نے صرف اتنا اشارہ کیا کہ سر رحمان کو ایک ڈکٹا فون مائیک لگایا گیا ہے جس کی خبر ان کو بھی نہیں۔
مینجر بےپناہ تشدد کے بعد کچھ بتانے پر راضی ہوا تھا لیکن بعد میں اس نے دانش منزل کے ساؤنڈ پروف کمرے میں خود کشی کرلی۔ خود کشی کے لیے اس نے بجلی کے پلگ میں انگلیاں دے دی تھیں ۔
اسی مبہم اشارے پر عمران نے اپنی ذہانت سے صدر کی میٹنگ میں سر رحمان کی جلد سے وہ ڈکٹا فون ماٸک برآمد کر لیا تھا۔ اپنی لیبارٹری میں جب اس نے اس پر تجربات کیے تو پتہ چلا کہ یہ اسی وقت کام کرتا ہے جب اسے انسانی جلد کے ساتھ چھوا جائے ۔ ورنہ وہ کام نہیں کرتا تھا ۔ اب وہ دونوں بیٹھے اس بات پر غور کر رہے تھے کہ مجرموں نے عالمگیر تباہی کا الٹی میٹم دے دیا تھا اس لیے عمران چاہتا تھا کہ کسی طرح ان کے مین اڈے پر قبضہ کیا جائے .
ابھی وہ دونوں اسی سوچ بچار میں مصروف تھے کہ کیپٹن شکیل کا ٹیلیفون آیا عمران کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا کہ کیپٹن شکیل اگر بچ کر آگیا ہے اور زخمی ہے تو یقیناً مجرموں نے اس کی جلد میں بھی وہ مائیک ضرور رکھا ہو گا تاکہ اس کے ساتھیوں کا پتہ چلا سکے۔
چنانچہ اس نے اُسے ٹیلیفون پر رپورٹ دینے سے منع کر دیا اور پھر صفدر کو ٹیلیفون کر کے اپنی نگرانی کا حکم دیا اور خود کیپٹن شکیل کے فلیٹ میں چلا گیا ۔ اسے پورا یقین تھا کہ اگر مجرموں کو پتہ چل گیا کہ عمران کیپٹن تشکیل کے فلیٹ میں ہے تو وہ یقینا اس پر حملہ کریں گے اور اس طرح وہ ان کے اڈے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ چنانچہ یہی ہوا ، عمران جیسے ہی سیڑھیوں سے نیچے اترا اُسے چھاپ لیا گیا اور پھر کار میں ڈال کر اس پہاڑی سلسلے کی طرف لے جایا گیا ۔ درمیان میں اسے مجرموں نے کلوروفام سنگھا کر بیہوش کر دیا مگر اس نے سانس روک لی تھی اس لیے وہ بیہوش ہونے سے بچ گیا لیکن اس نے ظاہر یہی کیا کہ وہ بیہوش ہو گیا ھے۔
عمران کو اڈے میں لے جا کر ایک کمرے میں لٹا دیا گیا ۔ پھر اُسے ہوش میں لانے کی کوشش شروع ہو گئی ۔ اور پھر عمران نے سوچا کہ اب آنکھیں کھول ہی دینا چاہیے. چنانچہ اس نے پیٹ پٹا کر آنکھیں کھول دیں ۔ یہ ایک کشادہ کمرہ تھا جو بجلی کی تیز روشنی سے منور تھا ۔
اٹھو ۔۔۔ اچانک ایک کرخت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور ساتھ ہی اس کے پہلو میں بوٹ کی ٹھوکر لگی ۔
عمران تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ کمرے میں چار آدمی ٹامی گنیں لیے کھڑے تھے۔
کیا بات ہے بڑے بھائیو ! کیا مجھے سلامی دینے کے لیے آئے ہو ۔۔۔ عمران نے چہکتے ہوئے پوچھا ۔
چلو تمہیں پاس بلا رہے ہیں ۔۔۔ ان میں سے ایک نے کرخت لہجے میں کہا اور ساتھ ہی کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کر دیا ۔
زہے نصیب – مگر یہ بتاؤ یارو ۔۔ تمہارا باس عورت ہے یا مرد؟ اگر عورت ہے تو پھر پہلے اس کی عمر بتلاو ۔ کہیں بڈھی نہ ہو اور میرے نصیب پھوٹ جائیں ۔۔۔ عمران نے کہا۔
بکواس بند کرو. ورنہ ابھی شوٹ کر دوں گا ۔۔۔ حکم دینے والا دھاڑا ۔ عمران نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی کیونکہ ان کے تیور کچھ خطرناک ہی نظر آرہے تھے ۔ کمرے سے نکل کر وہ ایک کشادہ مگر بےحد طویل گیلری میں آگئے۔ گیلری کراس کر کے وہ ایک بڑے دروازے کے قریب آکر رک گئے ۔
دروازے کے باہر ایک سرخ رنگ کا بلب جل رہا تھا۔ ان میں سے ایک نے آگے بڑھ کر دروازے پر لگا ہوا چھوٹا سا بٹن دو بار دبایا اور پیچھے ہٹ کر مودبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
بٹن دبتے ہی دروازے پر جلتا ہوا سرخ بلب تیزی سے جلنے بجھنے لگا اور پھر وہ سرح کی بجائے سبز رنگ میں تبدیل ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا ۔
چلو اندر ۔۔۔ ٹامی گن بردار نے عمران سے کہا۔
عمران خاموشی سے کمرے میں داخل ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی وہ چاروں ٹامی گن والے بھی اندر داخل ہو گئے ۔
یہ ایک خاصا بڑا کمرہ تھا جس میں چاروں طرف دیوار پر بڑی بڑی سکرینیں فٹ تھیں اور کونے میں ایک بہت بڑی میز کے پیچھے ایک قومی ہیکل شخص بیٹھا ہوا تھا، اس کے چہرے پر سفید نقاب تھا لیکن سر سے گنجا تھا ۔ نقاب میں سے چمکتی ہوئی اس کی نیلی آنکھیں عمران پر مرکوز تھیں ۔
اسلام علیکم جناب باس صاحب ۔۔۔ عمران نے چہرے پر معصومیت پیدا کرتے ہوئے کہا۔
تو تمہیں آخر موت کھینج ہی لائی ۔۔۔ گنجے ہاس نے کرخت لہجے میں کہا۔
موت تو نہیں البتہ تمہارے اپنے آدمی مجھے لے آئے ہیں ۔۔۔ عمران نے معصومیت سے جواب دیا ۔
میرے آدمی موت کے نمائندے ہیں ۔۔ گنجے باس نے زوردار قہقہ لگاتے ہوئے کہا ۔
آپ کے ناخن ہیں؟ ۔۔۔ عمران نے اچانک بات پلٹ دی ۔
ہاں ہیں ۔۔۔ باسی رو میں بہہ گیا۔ مگر دوسرے لمحے اسے اپنی بات کی مضحکہ خیزی کا احساس ہو گیا ۔
اسی لیے تو کہتے ہیں کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے ۔۔۔ عمران نے چھینٹا اڑایا .
لے جاؤ اسے اور گولی مار کر کہیں چوک پر لاش پھینک دینا ۔۔۔ باس کی غصے کی شدت نے آواز پھٹ گئی ۔
اور پھر اس سے پہلے کہ عمران کوئی جواب دیتا۔ کمرے میں گھنٹی بجنے لگی ۔ باس چونک پڑا۔ اس نے میز کے کنارے پر لگے ہوئے بے شمار بٹنوں میں سے ایک بٹن دبا دیا اور باتیں سائیڈ کی دیوار پر لگی ہوئی بڑی سی سکرین روشن ہو گئی اور پھر پہاڑی سلسلے کے باہر کا منظر اس میں نظر آنے لگا۔
عمران بھی حیرت سے سکرین پر ابھرنے والا منظر دیکھنے لگا۔ سکرین میں صاف نظر آ رہا تھا کہ صفدر پہاڑی سلسلے سے مڑ کر واپس جا رہا ہے اور پھر وہ ایک چٹان کی اوٹ میں بیٹھ گیا لیکن وہ سکرین پر صاف نظر آرہا تھا۔ باس نے ایک اور بٹن دبایا تو کمرے میں صفدر کی آواز گونجنے لگی ۔
صفررا ایکسٹو کو کال کر رہا تھا۔ پھر تمام گفتگو ھال میں سنائی دینے لگی۔ عمران تلملانے لگا۔ مجرموں کے وسائل واقعی بہت تھے۔ باس نے میز کی دراز سے ایک مائیک نکالا اور پھر کسی کو ہدایت دینے لگا ۔
نمبر الیون ۔۔ پہاڑی سلسلے کے باہر سیکٹر نمبر فور کے پاس ایک آدمی بیٹھا کال نشر کر رہا ہے۔ اسے بیہوش کر کے میرے پاس لے آؤ ۔۔۔ حکم دے کر باس نے ماٸیک واپس میز کی دراز میں رکھا اور پھر سکرین کو دیکھنے لگا۔
عمران نے دیکھا کہ صفدر کے قریب ہی ایک چٹان کھلی اور اس میں سے دو آدمی رائفلیں اٹھاٸے بڑی آہستگی سے صفدر کی طرف بڑھنے لگے ۔ صفدر ٹرانسمیٹر کال میں متوجہ تھا، پھر وہ دونوں آدمی قریب پہنچے تو ایک آدمی نے رائفل اٹھا کر زور سے بٹ صفدر کے سر پر مارا۔ صفدر تیزی سے مڑا، مگر اتنے میں دوسرے نے بھی بٹ مار دیا اور صفدر ہاتھ پھیلاٸے گر پڑا ۔ ان دونوں نے اُسے اٹھایا اور واپس اسی کھلی ہوئی چٹان کی طرف مڑ گٸے ۔
باس نے بٹن بند کر دیا اور سکرین تاریک ہو گئی ۔
تمہارا ساتھی آ رہا ہے اور اس کے بعد تمہارے تمام ساتھی اسی طرح میرے پاس پہنچ جائیں گے ۔۔۔ باس نے قہقہ لگاتے ہوئے ۔
پھر ہم سب مل کر یہاں بی جمالو کا رقص کریں گے ۔۔۔ عمران نے معنی خیز بات کی۔
بی جمالو کیا ۔۔۔ باس نے چونک کر پوچھا ۔
ہمارا ایک لوک رقص ہوتا ہے ۔۔۔ عمران نے کہا ۔
اتنے میں دروازہ کھلا اور دو آدمی بیہوش صفدر کو اٹھاٸے اندر داخل ہوئے ۔
اور انہوں نے صفدر کو عمران کے سامنے ڈال دیا ۔
اسے ہوش میں لے آؤ ۔۔۔ باس نے حکم دیا ۔
ایک آدمی نے جیب سے ایک شیشی نکالی اور اس کا ڈھکن کھول کر شیشی صفدر کی ناک سے لگا دی ۔ صفدر نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔
اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ ۔۔۔ باس نے حکم دیا۔ اور صفدر خاموشی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا ۔
اس کی تلاشی لے لی ہے ؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا ۔
جی ہاں ! اس کی جیب سے ایک ریوالور اور چند گولیاں نکلی تھیں وہ سٹور میں جمع کروا دی گئی ہیں ۔۔۔ لے آنے والوں میں سے ایک آدمی نے مودبانہ انداز میں جواب دیا ۔
اس کی گھڑی بھی اتار لو ۔۔۔ باس نے حکم دیا ۔ اور ان میں سے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر صفدر کے ہاتھ سے گھڑی یعنی واچ ٹرانسمیٹر اتار لیا۔
باہر جاؤ اور نمبر ٹو سے کہہ دینا کہ ان کے ساتھیوں کو جلد از جلد ہمارے پاس بھیج دے ۔۔۔ باس نے حکم دیا اور وہ دونوں خاموشی سے باہر نکل گٸے ۔
بار کرسی منگواؤ میری تو ٹانگوں میں درد ہونے لگا ہے ۔۔۔ عمران سے رہا نہ گیا تو بول پڑا ۔
باس ایک لمحے خاموش رہا اور پھر ایک آدمی کو کرسیاں لانے کا حکم دیا ۔ اور آدمی خاموشی سے باہر نکل گیا۔ اور چند لمحے بعد وہ کرسیاں اٹھاٸے اندر داخل ہوا۔ صفدر اور عمران ان پر بیٹھ گئے ۔
آخری خواہش سمجھو کہ مرنے سے پہلے تو آخری بار کرسی پر بھی بیٹھے تھے ۔۔۔ باس نے مسکرا کر کہا۔
بڑا اچھا سوچا تم نے ۔ ورنہ مجھے مرنے کے بعد کرسی پر بیٹھنا پڑتا ۔۔۔ عمران نے اطمینان سے بھرپور لہجے میں کہا ۔
باس عمران کا اطمینان دیکھ کر الجھن میں پڑ گیا اور وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی شخص موت کے قریب آکر بھی یوں اطمینان سے باتیں کر سکتا ہے ۔ اسے خیال آیا کہ عمران کو ابھی تک میری طاقت کا اور وسائل کا صحیح اندازہ نہیں ہے چنانچہ اس نے عمران کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ضروری سمجھا۔ یہ ایک نفسیاتی کمزوری تھی جس سے کوئی بھی فرد خالی نہیں ہوتا ۔ ہر طاقتور شخص اپنی طاقت کا مظاہرہ دشمنوں کے سامنے کر کے ہمیشہ اپنے احساس برتری کو تسکین پہنچاتا ہے۔ چنانچہ یہی اس گنجے باس کے ساتھ بھی ہوا۔ اس نے میز کے کنارے پر لگے ہوئے دو بٹن دبائے اور صفدر اور عمران بٹن دبتے ہی یوں ہوا میں اٹھ گئے جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے انہیں ہوا میں پکڑ رکھا ہو۔ وہ دونوں بری طرح ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ لیکن کمرے کے عین درمیان میں لٹک رہے تھے۔ باس کے قہقہوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔
یار نیچے اتارو کیوں سولی پر چڑھا رکھا ہے ۔۔۔ عمران نے باس سے مخاطب ہو کر کہا۔
نہیں ۔ تم یونہی ہوا میں لٹکتے رہو گے ۔۔۔ باس نے جواب دیا ۔
تو پھر تھوڑا سا اور اونچا کر دے تاکہ میں چھت پر کئے ہوٸے رنگ کو غور سے دیکھ لوں ۔ مجھے یہ رنگ بہت پسند آیا ہے۔ میں بھی اپنی کوٹھی کی چھت پر یہی رنگ کراؤں گا ۔۔۔ عمران نے بڑے اطمینان سے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور باس کا چہرہ بگڑ گیا ۔ اس نے یہ حرکت صرف عمران کو مرعوب کرنے کے لیے کی تھی ۔ لیکن وہ عمران ہی کیا جو ان بچگانہ شعبدوں سے مرعوب ہو جاٸے ۔
باس نے بٹن آف کر دیٸے اور دونوں ایک جھٹکے سے نیچے آ گرے ۔ صفدر نے تو اٹھنے میں پھر بھی دیر لگائی لیکن عمران ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور پھر یوں اطمینان سے کپڑے جھاڑنے لگا۔ جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ باس کی آنکھیں جھنجلاہٹ اور غصے سے سرخ ہو گئیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک زیرو نے صفدر کی کال ملتے ہی جولیا کو ٹیلیفون کیا۔
جولیا سپیکینگ ۔۔۔ رابطہ قائم ہوتے ہی جولیا کی آواز آئی ۔
ایکسٹو ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا
یس سر -۔۔ جولیا کا لہجہ بے حد مودبانہ تھا ۔
جولیا صفدر اور کیپٹن شکیل کےعلاوہ باقی تمام ممبروں کو آرڈر کر دو کہ فوراً مسلح ہو کر شہر سے بیس میل دور پہاڑی سلسلے کے پاس پہنچ جاٸیں ۔ وہاں صفدر موجود ہوگا۔ الو کی آواز کا سگنل کوڈ ہے۔ وہ صفدر کی قیادت میں اس پہاڑی میں مجرموں کے اڈے کے اندر جائیں عمران بھی وہاں موجود ہے۔ میں آج مجرموں کو ہر حالت میں گرفتار دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ بلیک زیرو نے حکم دیتے ہوئے کہا ۔
اوکے سر ۔۔ لیکن میرے متعلق کیا حکم ہے؟ جولیا نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
تمہارا وہاں جانا ضروری نہیں تم یہیں رہو ۔۔ ۔ بلیک زیرو نے سخت لہجے میں جواب دیا اور پھر رسیور رکھ دیا ۔
چند منٹ ٹھہر کر بلیک زیرو نے پھر ٹیلیفون کے نمبر ڈائل کرنے شروع کیے۔ اور دو سری طرف سے رابطہ مل گیا ۔
کمانڈر اسلم سے رابطہ ملاؤ ۔۔۔ بلیک زیرو نے قدرے سخت لہجے میں کہا ۔
کون صاحب ہیں؟ ۔۔۔ دوسری طرف سے شائد ملٹری ایکسچینج آپریٹر تھا۔
ایکسٹو ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا ۔
ہولڈ آن سر فار ون منٹ ۔۔۔ آپریٹر نے گھبرائے ہوٸے لہجے میں کہا اور بلیک پیرو مسکرا دیا ۔
یس ۔۔ کمانڈر اسلم سپیکینگ ۔۔۔ دوسری طرف سے ایک پروقار آواز سنائی دی ۔
ایکسٹو ۔۔۔ بلیک زیرو نے مختصر جواب دیا ۔
فرمایئے ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے لاپرواہی سے جواب دیا ۔
کمانڈر اسلم ! اپنا لہجہ درست کرو۔ تم نہیں جانتے کہ میں کون بول رہا ہوں ۔۔۔ بلیک زیرو کو کمانڈر کے لاپرواہ لہجے پر غصہ آ گیا ۔
جانتا ہوں ۔۔ لیکن شائد آپ کو یاد نہیں رہا کہ آپ استعفیٰ دے چکے ہیں ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے اسی لہجے میں جواب دیا ۔
اوہ ۔۔ تو یہ بات ہے ۔۔۔ ایکسٹو غرایا۔۔ وہ تو مجرموں کی نظروں میں دھول جھونکنے کی ایک کاروائی تھی۔ ۔ بہرحال تم ڈائریکٹ صدر مملکت کو فون کر کے انفارمیشن لے لو میں دس منٹ بعد ٹیلیفون کروں گا ۔۔۔ بلیک زیرو نے رسیور رکھ دیا اور اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ اس کے چہرے پر الجھن کے تاثرات تھے ۔ دس منٹ بعد اس نے دوبارہ نمبر ڈائل کئے ۔
کمانڈر اسلم سے رابطہ ملاؤ ۔۔ بلیک زیرو غرایا۔ –
کمانڈر اسلم سپیکٹنگ ۔۔۔ دوسری طرف سے کمانڈر اسلم کی آواز سنائی دی ۔
اسکیٹو ۔۔۔ بلیک زیرو غرایا۔
یس سر ۔۔ حکم فرمایئے جناب ۔۔۔ کمانڈر اسلم کی گھبرائی ہوئی آواز آئی ۔
تسلی ہو گئی آپ کی ۔۔۔ بلیک زیرو نے ترش لہجے میں پوچھا ۔
میں معافی چاہتا ہوں جناب ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے ندامت آمیز لہجے میں کہا ۔
اوکے ۔۔ ایسا کرو ۔ ایک یونٹ جو پوری طرح مسلح ہو۔ دارالحکومت سے بیس میل دور موجود پہاڑی سلسے کے گرد پھیلا دو۔ ان کی کمانڈ تم خود کرنا اور دیکھو، کاروائی خفیہ ہو۔ میں ٹرانسمیر لائن نمبر چھ پر جب تمہیں کاشن دوں ، تم محاصرہ تنگ کر دینا اور اگر کوئی شخص فرار ہونے کی کوشش کرے تو گولی مار دینا ۔۔۔ بلیک زیرو نے تفصیل بتاتے ہوئے حکم دیا ۔
بہت بہتر جناب ۔۔ لیکن کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ان پہاڑیوں میں کیا ہے؟ ۔۔۔ کمانڈر اسلم کی حیرت زدہ آواز سنائی دی ۔
ان پہاڑیوں میں ان مجرموں کا اڈہ ہے جنہوں نے آج رات بارہ بجے دارالحکومت کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔۔۔ بلیک زیرو نے بتلایا ۔
اوہ ! تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ بہت سیریس ہے ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے کہا ۔
ہاں ! پوری طرح ہوشیار رہنا ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا ۔
بے فکر رہیں جناب ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے کہا ۔
اوکے ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا اور رسیور رکھ دیا ۔ پھر اٹھ کر کپڑے تبدیل کرنے شروع کر دیٸے ۔ اس نے چست سیاہ لباس زیب تن کیا ۔ الماری سے نقاب نکال کر جیب میں ڈالا اور پھر دو ریوالور اور ایک مشین گن بھی اٹھالی۔ مشین گن کے پارٹس اس نے کپڑوں کے اندر بیلٹ سے کس لیے ۔
پھر وہ کمرے سے باہر جانے لگا کہ اچانک اُسے ایک خیال آگیا ۔ ایک لمحے تک وہ وہاں کھڑا سوچتا رہا، پھر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا دوبارہ فون کی طرف بڑھا. اس نے رسیور اٹھایا اور پھر نمبر ڈائل کرنے شروع کر دیٸے اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ جلد ہی رابطہ مل گیا ۔
ایٸر مارشل سے کنکٹ کراؤ ۔۔۔ بلیک زیرو نے حکم دیا ۔
ہو از سپیکینگ ۔۔۔ آپریٹر نے پوچھا ۔
ایکسٹو ۔۔۔ بلیک زیرو نے جواب دیا ۔
ون منٹ سر ۔۔۔ آپریٹر نے مودبانہ لہجے میں کہا ۔
صفدر سپیکنگ ۔۔۔ دوسری طرف سے ائیر مارشل صفدر کی پروقار آواز سنائی دی۔
ایکسٹو دس اینڈ ۔۔۔ بلیک زیرو نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا ۔
یس فرمایے ۔۔۔ ایٸر مارشل کی آواز میں نرمی تھی۔
مجھے دو بمبار اور دو فائٹر جہاز درکار ہیں ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا ۔
مل جائیں گے ۔ مگر آپریشن کہاں ہو گا؟ ۔۔۔ ایٸر مارشل نے پوچھا۔ دارالحکومت سے بیس میل دور پہاڑی سلسلے پر ۔۔۔ بلیک زیرو نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
اوکے ۔۔ کسی وقت بھیجوں؟ ۔۔۔ ایٸر مارشل نے پوچھا .
آپ انہیں الرٹ رہنے کا حکم دے دیں ۔ میں ٹرانسمیٹر فریکوینسی نمبر ون پر خود انہیں کنٹرول کروں گا ۔۔۔ بلیک زیرو نے جواب دیا ۔
اوکے ۔۔ میں ابھی احکام جاری کر دیتا ہوں ۔۔۔ ائیر مارشل نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
تھینک یو گڈ بائی ۔۔۔ بلیک زیرو نے رسیور رکھ دیا اور پھر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا آپریشن روم سے باہر نکل گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ باس غصے اور جھنجھلاہٹ میں کوئی اور طاقت کا مظاہرہ کرتا کمرہ تیز گھنٹی کی آواز سے گونج اٹھا۔ باس چونکا اور پھر اس نے میز کے کنارے پر لگا ہوا بٹن دبا دیا۔ پہلی والی سکرین دوبارہ روشن ہو گئی ۔
سکرین پر چار آدمی رینگتے ہوئے پہاڑی سلسلے کی طرف آرہے تھے۔ چاروں نے سیاہ لباس پہنے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے منہ پر نقاب لگاٸے ہوئے تھے اسلئے اندھیرے میں ساٸے ہی محسوس ہو رہے تھے۔
عمران اور صفدر سمجھ گئے کہ ان کے ساتھی آ رہے ہیں ، پہاڑی سلسلے کے قریب آ کر وہ چاروں رک گئے اور پھر کمرے میں الو کی کرخت آواز گونجی وہ صفدر کو سگنل دے رہے تھے ۔ اور پھر پہاڑی کی ایک چٹان سے جواباً بھی الو کی آواز میں سگنل دیا گیا۔ صفدر نے دانت بھینچ لیے۔ مگر عمران بڑی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہ بڑی دلچسپی سے فلم دیکھ رہا ہو۔ جوابا سگنل ملتے ہی وہ چاروں سائے تیزی سے اس چٹان کی طرف بڑھنے لگے جہاں سے سگنل کا جواب ملا تھا۔
چٹان کے قریب آکر وہ رک گئے ۔ یہ چٹان پہاڑی درے کے اندر واقع تھی۔ پھر انہوں نے چٹان کے پیچھے دیکھا لیکن وہاں انہیں کوئی بھی نظر نہ آیا ۔
اچانک ان کے سروں پر ایک چٹان بے آواز طریقے سے ہٹ گئی اور دوسرے لمحے وہ چاروں ایک مضبوط جال میں لپٹ گئے۔ انہوں نے کافی ہاتھ پاؤں مارے لیکن جال کی الجھی ہوئی ڈوروں سے نہ نکل سکے ۔ اسی لمحے نہ جانے کہاں سے بہت سے لوگوں نے ہاتھوں میں مشین گنیں پکڑے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور پھر وہ جال اوپر اٹھنے لگا۔ اور اس جگہ میں جاکر غائب ہوگیا جہاں سے وہ جال پھینکا گیا تھا ۔ بےبس پرندوں کی طرح وہ چاروں ساٸے بھی جال کے ساتھ ہی پہاڑی میں غائب ہو گئے ۔
باس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور پھر بٹن دبا کر سکرین تاریک کر دی ۔
کیوں کیسا رہا؟ ۔۔۔ باس نے خوشی سے چہکتی ہوئی نظروں سے عمران سے پوچھا۔
بڑی اچھی اور دلچسپ فلم تھی ۔۔۔ عمران نے جوابا تالیاں بجاتے ہوئے کہا ۔
فلم ۔۔ یہ فلم نہیں حقیقت تھی دوست ۔۔ اور ابھی یہ تمہارے چاروں ساتھی اسی کمرے میں پہنچ جائیں گے ۔۔۔ باس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔
یہ بھی اچھا ہے ۔ ہم سب مل کر قوالی گائیں گے اور تم ہال کھیلنا ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔
بال کھیلنا ۔۔ کیا مطلب ۔۔۔ گنجا پاس سمجھ نہ سکا
بال کھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ مستی میں رقص کرنا ۔۔ زخمی کی طرح تڑپنا ۔۔ اتنا تڑپنا کہ تمہاری روح عالم بالا کی طرف پرواز کر جائے ۔ کیا سمجھے ۔۔۔ عمران نے تفصیل بتلاتے ہوئے کہا ۔
اوہ ۔۔ اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ۔۔۔ باس کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔
ارے توبہ توبہ بھلا میں فقیر پرتفسیر بندہ نادان تجھے دھمکی دے سکتا ہے ۔۔۔ عمران نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ۔
ہوں ۔۔۔۔ باس نے کہا ۔
ایک لمحے خاموشی رہی۔ پھر دروازہ کھلا اور وہ چاروں نقاب پوش جن کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ مشین گنوں کے زور پر کمرے میں داخل ہوئے ۔
ان کے نقاب اتارو ۔۔۔ باس نے حکم دیا اور پھر ان چاروں کے نقاب اتار دیئے گئے۔
عمران اور صفدر نے اطمینان کی ایک طویل سانس لی۔ کیونکہ وہ چاروں میک آپ میں تھے ۔
ہاں ! اب بتاو عمران ! تم اور تمہارے ساتھیوں سے کیا سلوک کیا جائے؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا ۔
انہیں ٹھنڈا پانی پلایا جائے اور پھر انہیں کرسیوں پر بٹھا کر ان سے پوچھا جائے ۔۔ اور سناو کیا حال چال ہیں ۔۔ کب آٸے ۔۔ کیسے آمد ہوئی – میرے لائق کوئی خدمت ۔۔۔ عمران نے باقاعدہ تجویز پیش کی ۔
باس نے جواب دینا چاہا لیکن پھر میز پر پڑے ہوئے ٹرانسمیٹر کا بلب تیزی سے جلنے بجھنے لگا ۔ باس نے بٹن دبا کر کہا ۔
هو از سپیکینگ؟ ۔۔
باس ۔۔ فائنل آپریشن میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا ہے ۔۔۔ دوسری طرف سے آواز آئی ۔
اچھا میں وہیں آتا ہوں ۔۔۔ باس نے کہا اور پھر ٹرانسمیٹر بند کر دیا ۔
ان سب کو روم نمبر فائیو میں بند کر دو ۔ عمران ، تم میرے ساتھ چلو۔ میں تمہیں دکھاؤں کہ دارالحکومت کیسے تباہ ہوتا ہے ۔۔۔ باس نے کہا ۔
عمران کے علاوہ باقی سب کو وہاں سے لے جایا گیا اور پھر عمران کی پشت سے بھی مشین گن کی نال لگا دی گئی اور پھر وہ باس کے پیچھے چلتا ہوا ایک بہت بڑے ہال میں پہنچ گیا ۔
یہاں ایک دیو ہیکل مشین لگی ہوئی تھی جس پر ہزاروں کی تعداد میں ڈائل اور بلب تھے ۔ اس ساری مشین کے سامنے صرف ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جو باس کے آتے ہی مودبانہ طور پر ایک طرف ہٹ گیا ۔
سب علاقے ٹارگٹ پر سیٹ کر لیے ہیں نمبر الیون؟ ۔۔۔ باس نے پوچھا۔
یس سر ۔۔۔ نمبر الیون نے جواب دیا ۔
عمران سوچنے لگا کہ اب اُسے سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ کس طرح اس اڈے کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کی آنکھوں کے سامنے دارالحکومت تباہ کر دیا گیا تو اس کے لیے موت کے مترادف ہوگا ۔ وہ باس سے نپٹنے کی ترکیب پر غور کرنے لگا۔ لیکن ھال میں اس وقت بھی چار آدمی مشین گنیں لیے کھڑے تھے۔ وہ خاموشی سے کھڑا سوچتا رہا اور وقت گذرتا چلا گیا ۔
اب صرف دس منٹ رہ گئے ہیں باس ۔۔۔ نمبر الیون نے باس سے مخاطب ہو کر کہا ۔
ٹھیک ہے۔ مائیک پر نمبر گننے شروع کر دو ۔۔۔ باس نے کہا اور نمبر الیون نے ایک بٹن دبا کر مشین چلا دی ۔
دیو ہیکل مشین کے چلنے سے بے پناہ گڑگڑاہٹ کی آوازیں نکلنے لگیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں بلب جلنے بجھنے لگے اور نمبر الیون نے ماٸیک سنبھال کر عوام کو خبردار کرنا شروع کر دیا ۔
باس نے ایک بٹن دبایا تو سامنے سکرین پر شہر کے مختلف حصے ابھرنے لگے تمام دارالحکومت میں بھاگ دوڑ مچی ہوئی تھی۔ ایک عجیب افرا تفری کا عالم تھا۔ لوگ خوف سے چیخنے لگے تھے ۔ پولیس اور ملٹری کی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں، اور نمبر الیون مائیک پر باقاعدہ منٹ گن رہا تھا ۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 13 ۔۔۔ سیکنڈ لاسٹ ۔۔۔اور لاسٹ
بلیک زیرو جب پہاڑی سلسلے کے قریب پہنچا تو اس نے ٹرانسمیٹر پر صفدر وغیرہ سے رابطہ قائم کرنا چاہا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے اندھیرے میں دیکھنے والی ایٹمی دوربین سے پہاڑی سلسلے کو چیک کرنا شروع کیا ۔ لیکن اس کے ساتھیوں میں سے کوئی دوربین سے بھی اسے نظر نہ آیا ۔
بلیک زیرو اس وقت پہاڑی سلسلے سے کافی دور موجود تھا۔ ملڑی یونٹ نے پہاڑی سلسلے کو دور سے گھیر رکھا تھا اور اب وہ بلیک زیرو کے سگنل کے انتظار میں تھے۔ اب بلیک زیرو سمجھ گیا کہ تمام ممبرز پکڑے جاچکے ہیں۔ وہ اندازہ لگا رہا تھا کہ تمام کے تمام ممبرز کیسے پکڑے گئے ۔ پھر اسے یقین کرنا پڑا کہ مجرموں نے ٹیلیویژن کا سلسلہ لگا رکھا ہے اور پہاڑی کے باہر سے منظر پر نظر رکھتے ہوں گے۔ یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ پہاڑی کے کون کون سے حصے مجرموں کی نظروں میں ہے۔
وہ چند لمحے تک سوچتا رہا۔ پھر اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی دور مار رائفل اٹھائی اور ویسے ہی ایک گولی پہاڑی کی طرف داغ دی۔ رائفل پر ڈبل سائلنسر چڑھا ہوا تھا اس لئے قطعی آواز پیدا نہ ہوئی اور گولی روشنی کی ایک پتلی سی لکیر بناتی ہوئی پہاڑی کی ایک چٹان کا ٹکڑا اڑا گئی ۔ جس سے ایک ہلکا سا دھماکہ ہوا تھا ۔ وہ خاموشی سے بیٹھ کر اس کا رد عمل دیکھنے لگا۔ دوربین اس کی آنکھوں سے لگی ہوئی تھی ۔ وہ بغور چاروں طرف دیکھ رہا تھا ،
دو تین منٹ تک کچھ نہ ہوا ۔ بلیک زیرو مایوس ہونے لگا مگر اچانک اس کی نظریں چمکنے لگیں۔ اسے ایک چٹان پھٹتی ہوٸی نظر آئی اور پھر اس میں سے تین آدمی ہاتھوں میں مشین گنیں اٹھائے باہر نکلتے نظر آئے ۔ وہ سیدھے اس چٹان کی طرف آٸے جہاں گولی لگی تھی ۔ وہ کافی دیر تک اسے بغور دیکھتے رہے پھر انہوں نے چاروں طرف گھوم پھر کر دیکھا لیکن کوئی نشان نہ دیکھ کر وہ دوبارہ اس چٹان کی طرف بڑھے جہاں سے وہ برآمد ہوٸے تھے وہ چٹان ان کے نکلنے کے بعد دوباره برابر ہو چکی تھی۔ اب بلیک زیرو کی نظریں ان پر لگی ہوئی تھیں ۔ چٹان کے قریب پہنچ کر ان میں سے ایک نے چٹان کے نیچے ہاتھ ڈالا اور پھر ایک ابھرے ہوئے پتھر کو بائیں طرف کھینچا۔ چٹان دوبارہ پھٹ گئی ۔ اور وہ تینوں اندر داخل ہو گئے ۔ چٹان پھر مل گئی ۔ بلیک زیرو نے ایک لمحے کیلیے کچھ سوچا۔ پھر وہ وہ آہستہ آہستہ اس چٹان کی طرف بڑھنے لگا۔
اس کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں، وہ بےحد محتاط تھا۔ اس چٹان کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کوئی شخص باہر نکلے۔ اور پھر اس کا اندازہ صحیح نکلا۔ وہی چٹان دوبارہ پھٹی اور اس میں سے تین آدمی آہستہ سے باہر نکلے اور بلیک زیرو کی طرف بڑھنے لگے ۔ بلیک زیرو نے جان بوجھ کر اس چٹان کی طرف پشت کی ہوئی تھی ۔ وہ تینوں آہستہ آہستہ بلیک زیرو کی طرف بڑھتے رہے ۔ اسی لمحے اچانک بلیک زیرو پلٹا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے بلیک زیرو تقریباً اڑتا ہوا ان پر جا پڑا۔
بلیک زیر و قطعی دیر نہیں لگانا چاہتا تھا چنانچہ جلد ہی وہ تینوں ڈھیر ہو گئے۔ ان کے چہروں پر نقاب لگے ہوئے تھے اور ان پر مخصوص نشان بنے ہوئے تھے۔ بلیک زیرو نے ہاتھ بڑھا کر ان میں سے ایک کا نقاب اتارا اور پھر اپنا نقاب اتار کر اس کا نقاب پہن لیا۔ پھر رینگتا ہوا واپس چٹان کی طرف بڑھا۔ چٹان کے قریب پہنچ کر اس نے وہی عمل دہرایا جو اس نے دوربین سے دیکھا تھا ۔ چٹان پھٹ گئی اور وہ اس میں رینگ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر اور دیگر تمام ساتھیوں کو ایک بہت بڑے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ کمرہ ہر قسم کے ساز وسامان سے خالی تھا ۔
یار اب کسی صورت میں یہاں سے نکلنا چاہیے ۔ ورنہ بےموت مارے جائیں گے ۔۔۔ صفدر نے کہا ۔
ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔ تنویر نے جواب دیا ۔
صفدر نے بغور دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازہ فولاد کا تھا ۔
تیار ہو جاؤ ۔۔ میں چوکیدار کو اندر بلاتا ہوں ۔۔۔۔ صفدر نے کہا اور اور وہ سب مسکرا دیٸے کیونکہ وہ اس ترکیب کو اچھی طرح جانتے تھے ۔
صفدر دروازے کے قریب رک کر منہ سے ایسی آوازیں نکالنے لگا۔ جیسے دیوار کو کسی آلے سے کھودا جا رہا ہو۔ ظاہر ہے باہر کھڑا دربان یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ مجرم دیوار کھود کر باہر نکل جائیں، چنانچہ نتیجہ ان کی مرضی کے مطابق ہوا۔ اور دروازہ کھلا اور دو آدمی ہا تھوں میں مشین گنیں اٹھائے اندر داخل ہوئے ۔ اور ان سب نے مل کر ان پر حملہ کر دیا اور ان دونوں کو ڈھیر کر دیا۔
انہوں نے ان دونوں کے گلے دبا دیے ۔ پھر وہ سب کمرے سے باہر نکل آئے ۔ مشین گن ایک صفدر نے اپنے پاس رکھی اور دوسری خاور کے ہاتھ میں دے دی ۔
کمرے سے باہر ایک گیلری تھی ۔ اب وہ سارے تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ادھر بڑھے جہاں باس کا خاص کمرہ تھا ۔ اور جہاں سے انہیں لے آکر اس کمرے میں بند کر دیا گیا تھا۔ راستہ وہ جانتے تھے۔ گیلری میں ان کا ٹکراؤ کسی سے نہیں ہوا اور وہ اس مخصوص کمرے کے سامنے جا کر رک گئے ۔ دروازہ بند تھا ۔
صفدر نے مشین گن کا رخ دروازے کی طرف کیا اور پھر ٹریگر دبا دیا دوسرے لمحے دروازے کا لاک ٹوٹ گیا ۔ اُسی لمحے چاروں طرف سے گھنٹیوں کی تیز آوازیں آنے لگیں۔ شاید یہ خطرے کا الارم تھا۔ صدر دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
صدر دروازہ کھول کر وہ سیدھا اس میز کی طرف بڑھا جہاں باس بیٹھا تھا۔ اور پھر اس نے میز پر لگے ہوئے مختلف بٹن دبانے شروع کر دیئے، تمام سکرینیں روشن ہو گئیں ۔ اب اڈے کا ہر پہلو ان کی نظروں میں تھا ۔ اچانک گیلری میں جوتوں کی آواز آئی اور پھر خاور نے دروازے کی اوٹ سے فائزنگ شروع کر دی .
صفدر نے ایک سکرین میں ایک دیو ہیکل مشین دیکھی جس کے سامنے باس موجود تھا اور ایک طرف عمران کھڑا تھا ۔
اسی لمحے ایک زور دار دھماکہ ہوا اور تمام سکرین تاریک ہو گئیں۔ فائرنگ بدستور جاری تھی ۔ اس دھماکے سے کمرہ ہل گیا تھا۔ تمام ممبرز بھی بوکھلا گئے ۔ شائد کمرے پر بم مارا گیا تھا۔ اسی لمحے صفدر کی نظر میز کے دوسرے کنارے پر لگے ہوٸے ایک سرخ بٹن پر پڑ گئی۔ اس نے اسے دبا دیا۔ بٹن کے دبتے ہی پیچھے کی دیوار ایک طرف ہٹ گئی۔ اب وہاں ایک اور کمرہ تھا۔
اس کمرے میں آجاؤ ۔۔۔ صفدر چیخا اور وہ تمام بھاگ کر اس میں آگئے اور دیوار دوبارہ برابر ہو گئی ۔
دوسرے کمرے سے نکل کر وہ ایک راہداری میں بھاگنے لگے ۔ کمرے میں بیشمار اسلحہ موجود تھا۔ اس لیے سب نے مشین گنیں اٹھا لیں۔ گیلری سے بھاگتے ہوئے وہ ایک ہال میں جا پہنچے۔ اُسی لمحے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو گئی ۔ ایک نقاب پوش اوٹ سے ان پر گولیاں چلا رہا تھا ۔ وہ تمام بھی اوٹ میں ہو گئے ۔ دوسرے لمحے صفدر کی مشین گن سے گولیاں نکلیں مگر نقاب پوش ہٹ چکا تھا ۔ اور پھر ایک آواز گونجی ۔۔
صفدر – یہ تم ہو ۔۔۔
اور پھر سب اس آواز پر یوں بری طرح اچھلے جیسے انہیں کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو۔ یہ آواز ایکسٹو کی تھی۔ وہ نقاب پوش یقیناً ایکسٹو تھا ۔ اور پھر وہ نقاب پوش سامنے آگیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک زیرو چٹان میں رینگا تو اچانک اس کے سینے سے ایک رانقل لگ گئی۔
کوڈ ۔۔۔ ایک قوی ہیکل نوجوان نے پوچھا۔
مگر بلیک زیرو نے کوڈ بتانے کی بجائے اچانک پھرتی سے اچھل کر اس کی ناک پر ٹکر ماری ۔ وہ ڈکارتا ہوا نیچے گرا ۔ دوسرے لمحے بلیک زیرو نے مشین گن کے بٹ مار کر اس کا سر پھاڑ دیا اور وہ بیہوش ہو گیا۔ اور پھر بلیک زیرو آگے بڑھنے لگا ۔ جلد ہی وہ ایک کمرے میں پہنچ گیا جہاں چار نقاب پوشش موجود تھے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی بلیک زیرو نے مشین گن کا ٹریگر دبا دیا اور چاروں کے جسموں میں بے شمار سوراخ ہو گئے۔
اب وہ اس کمرے سے ملحقہ ایک ھال کی طرف بڑھنے لگا کہ اسے پانچ آدمی بھاگتے ہوئے اس ھال کی طرف جاتے نظر آئے ۔ اس نے اوٹ میں ہو کر ٹریگر دبا دیا اور وہ پانچوں بھی اوٹ میں ہو گئے اور اب اس پر بھی مشین گنوں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ مگر اسے گولیوں سے نکلنے والے شعلوں کی روشنی میں صفدر کی شکل نظر آ گئی ۔ اور اس نے آواز دی۔
صفدر ۔۔ یہ تم ہو ۔۔
اور وہ سارے اوٹ سے نکل کر سامنے آگئے۔ بلیک زیرو بھی آگے بڑھ گیا۔
اس ہال میں گھس جاؤ ۔۔۔ جو بھی ملے بھون دو ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا اور پھر وہ سب ھال کا دروازہ توڑ کر اندر گھس گئے ۔ ھال شائد ساونڈ پروف تھا ۔ اس لیے باہر چلنے والی گولیوں کی آوازیں ہال میں موجود لوگوں نے نہیں سنیں ۔ دروازہ ٹوٹتے ہی صفدر اور اس کے ساتھیوں نے نے مشین گنوں کے ٹریگر دبا دیٸے۔ ھال چیخوں سے گونج اٹھا ۔ اور وہ سب ھال میں ایک جھٹکے سے داخل ہو گئے۔ ھال میں عجیب و غریب قسم کی مشینیں لگی ہوٸی تھیں ۔
مشینیں توڑ دو ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا۔
اور پھر ان سب کی مشین گنوں کے رخ مشینوں کی طرف ہو گئے ۔ دوسرے لمحے زور دار دھماکے ہوئے اور چلتی ہوئی مشینیں رک گئیں ۔ اس وقت ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ شائد یہ پاور پلانٹ تھا ۔ اور اس پلانٹ سے بجلی ، تمام اڈے کی مشینوں کو سپلاٸی کی جاتی تھی ۔
وہ سب اندھیرے میں بھاگتے ہوئے باہر دروازے کی طرف بڑھے۔ اسی لمحے چاروں طرف سے گولیاں چلنے لگیں۔ اندھیرے میں ایک خطرناک جنگ شروع ہوگئی ۔ ہاتھ کو دکھائی نہیں دیتا تھا ۔
گولیوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ چیخیں بھی ابھر رہی تھیں ۔ نجانے کون مر رہے تھے ۔ کون زخمی ہو رہے تھے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران بےبس کھڑا دیکھ رہا تھا۔ چار مشین گنیں اس کی طرف اٹھی ہوئی تھیں اور وہ گنجا باس اس ہولناک مشین کی طرف پوری طرح متوجہ تھا ۔ مشین پر لگی ہوئی بہت بڑی سکرین پر دارالحکومت کے مختلف مناظر تیزی سے ابھرتے اور تبدیل ہوتے چلے جا رہے تھے ۔
تمام شہر خوف و ہراس میں ڈوبا ہوا تھا ۔ شہر سے باہر جانے والی سڑکوں پر بےتحاشہ ہجوم تھا۔ ہجوم کی وجہ سے خوفناک حادثے ہو رہے تھے ۔ لوگ ایک دوسرے کے پیروں کے نیچے روندے جا رہے تھے ۔
عمران سوچ رہا تھا کہ بلیک زیرو ، صفدر اور اس کے دوسرے ساتھی کیا کر رہے ہیں اور پھر نمبر الیون ماٸیک پر نمبر گنتے گنتے نمبر ون پر آ پہنچا۔ باس کی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ اس کی آنکھوں میں شیطان ناچ رہا تھا۔ تباہی و بربادی ناچ رہی تھی۔
پھر نمبر الیون نے زیرو کہا اور گنجے باس نے مشین پر لگا ہوا ایک بٹن دبا دیا ۔ بٹن دبتے ہی سکرین پر چلتا ہوا منتظر رک گیا ۔ یہ دارالحکومت کا شمالی حصہ تھا جہاں بہت بڑی بڑی کوٹھیاں قطار در قطار موجود تھیں۔
اور پھر گنجے باس نے ایک اور بٹن دبا دیا ۔ مشین کی گڑگڑاہٹ میں خوفناک اضافہ ہوا اور پھر سکرین پر اچانک بجلیاں سی چمکنے لگیں اور ایک خوفناک دھماکہ ہوا اور تقریبا دس میل کا علاقہ گرد کے طوفان میں پھنس گیا۔ دس میل کا علاقہ تباہ برباد ہو چکا تھا ۔ دار الحکومت کی مکمل تباہی کا آغاز ہو چکا تھا ۔
اب سب کچھ عمران کی قوت برداشت سے باہر ہو گیا ۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔ اسے وہ مشینیں کھلونے نظر آنے لگیں ۔ اور پھر اس سے پہلے کہ باس کوئی اور بٹن دباتا عمران اچانک اپنی جگہ سے اچھلا اور بجلی کی طرح گنجے پر جا پڑا ۔ اس کے اچھلتے ہی چاروں مشین گنیں چلیں مگر نشانے خالی گئے ۔۔
نمبر الیون نے مڑنا چاہا مگر گنجے پر گرتے گرتے عمران کی زور دار لات نمبر الیون کے پیٹ پر پڑی اور وہ کراہتا ہوا دوسری طرف جا گرا ۔
یہ وہ لمحہ تھا جب مشین گنیں چلی تھیں اور نمبر البون ان کی زد میں آ گیا۔ اس کے جسم میں بے شمار گولیاں سوراخ کر گئیں ۔ گنجا باس دھکے سے ایک طرف گرا اور اس کے ساتھ ہی عمران بھی اس کے سر کے اوپر سے ہوتا ہوا اس کی دوسری طرف جا گرا ۔ گنجے نے اٹھنے میں پھرتی دکھائی مگر یہ پھرتی عمران کے حق میں بہتر ثابت ہوئی کیونکہ جیسے ہی وہ اٹھا۔ عمران اس کی پشت پر آگیا۔
اس نے ایک بازو گنجے کی گردن میں ڈالا اور دوسرے سے اس کی کمر پکڑ لی ۔ اب مشین گنوں والے یے بس ہو گئے تھے کیونکہ وہ اگر گولی چلاتے تو گولیاں سیدھی ان کے باس کے جسم میں گھس جاتیں۔
ان کو کہو مشین گنیں پھینک دیں ورنہ میں تمہاری گردن توڑ دوں گا ۔۔۔ عمران بھیانک لہجے میں غرایا اور گردن والے بازو کو جھٹکا دیا۔ کڑ کڑ کی آواز آٸی اور گنجے کے منہ سے غراہٹ کی آواز تھی جیسے وہ مر رہا ہو۔ لیکن عمران جانتا تھا کہ وہ اتنی جلدی نہیں مر سکتا .
پھینک دو مشین گنیں ۔۔ پھینک دو ۔۔۔ گنجا پاس بھنچی بھنچی آواز میں چلایا ۔
گنجے نے عمران کو جھٹکا دے کر آگے پھینکنے کی بےحد کوشش کی لیکن عمران کے سر پر وحشت سوار تھی۔ عمران کو بھی اندازه ہو گیا تھا کہ گنجا اپنے اندر گینڈے جیسی طاقت رکھتا ہے لیکن یہاں سوال تھا پورے دارالحکومت کی زندگی اور موت کا ۔ اس لیے عمران اپنی پوری طاقت کے ساتھ گنجے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔ اور گنجا بےبس ہو کے رہ گیا تھا ۔
چاروں محافظوں نے مشین گنیں پھینک دیں۔
باہرنکل جاؤ ورنہ ۔۔۔۔ عمران نے خوفناک لہجے میں کہا اور ساتھ ہی گنجے کی گردن کو ایک اور جھٹکا دیا ۔
نکلو ۔۔۔۔ گنجا چیخا ۔
وہ چاروں تیزی سے باہر نکل گئے ۔
عمران نے گنجے کو دھکا دے کر آگے کی طرف پھینک دیا اور پھر خود بھی ایک مشین گن پر جا پڑا۔ اور پھر جیسے ہی وہ مشین گن اٹھا کر مڑا ۔ اس نے گنجے کو ایک دیوار میں غائب ہوتے دیکھا ۔ گنجا شاید کسی خاص میکنزم سے دیوار میں خلا بنا
چکا تھا۔ اس نے فاٸرنگ کی مگر گنجا غائب ہو چکا تھا ۔
عمران پھرتی سے مشین کی طرف بڑھا اور پھر اس نے ایک بٹن دبا کر ماٸیک سنبھال لیا ۔ وہ کافی دیر تک اُسے آپریٹ ہوتا دیکھ چکا تھا ۔ اس لیے وہ اس کی ورکنگ سمجھ گیا تھا ۔ اس نے تیزی سے مائیک منہ سے لگایا اور پھر سکرین پر نظریں جما دیں۔ اب سکرین پر منظر تبدیل ہو رہے تھے ۔ تمام شہر بری طرح خوف زدہ اور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھا ۔
میں علی عمران بول رہا ہوں ۔۔ آپ لوگوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ مجرموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اب آپ بےفکر رہیں ۔ مزید تباہی نہیں ہو گی ۔ اس وقت تباہی لانے والی مشین پر میں قابض ہوں اور ایک لمحے بعد یہ مشین توڑ دی جائے گی ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر اس نے دیکھا کہ اس کے الفاظ کا ردعمل خوشگوار ہوا تھا ۔ لوگ بھاگتے بھاگتے رک گئے تھے ۔ ان کے چہروں پر یکدم خوشیاں پھوٹ پڑی تھیں ۔ وہ اچھل اچھل کر نعرے لگا رہے تھے ۔ شائد یہ بھیانک تباہی سے بچنے کی خوشی تھی یا مجرموں کی گرفتاری کی ۔
عمران نے پھرتی سے بٹن آف کر دیا اور پھر دروازے پر رک کر اس نے مشین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ ڈائل اور بلب تیزی سے ٹوٹنے لگے۔ عمران اندھا دھند مشین پر گولیاں برساتا رہا۔ مشین تیزی سے ٹوٹنے لگی اور پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا اور مشین کے پرخچے اڑ گئے۔ اس دھماکے کی وجہ سے دروازے پر کھڑا عمران چھل کر گیلری میں جاگرا ۔
اسی لمحے تمام لائٹ بجھ گئیں ۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا چھا گیا اب اس کے کانوں میں بےتحاشہ گولیاں چلنے کی آوازیں آنے لگیں ۔
اس کا مطلب ہے کہ مقابلہ جاری ہے ۔۔۔ عمران نے سوچا ۔
پھر وہ تیزی سے گیلری میں بھاگنے لگا۔ وہ اندھیرے میں اندھا دھند بھاگا جار ہا تھا کہ وہ ایک دیوار سے ٹکرا کر گر گیا۔ شائد گیلری ختم ہو چکی تھی ۔ اُسی لمحے جس جگہ وہ گرا تھا وہ جگہ پھٹ گئی اور وہ سر کے بل نیچے گرتا چلا گیا۔ پھر وہ کسی چیز سے ٹکرا گیا۔ جو یقینا کسی آدمی کا جسم تھا ۔ اسی لمحے اس پر کسی نے فائر کر دیا ۔ وہ پہلو بدل گیا۔ مگر گولی سے نکلنے والے شعلے میں اس نے دیکھا کہ یہ چھ آدمی تھے جو ایک دیوار سے لگے کھڑے تھے۔
صفدر کا خوف زدہ چہرہ اس کی نظر میں آگیا ۔
صفدر تم ہو ۔۔۔ عمران چیخا ۔
عمران صاحب آپ ۔۔۔ بیک وقت پانچ چھ آوازیں گونجیں اور عمران نے شکر پڑھا کہ وہ اپنے ساتھیوں میں پہنچ گیا ہے ۔
اتنے میں اسے بلیک زیرو کی آواز آئی ۔ وہ ٹرانسمیٹر پر کہہ رہا تھا ۔۔
آپریشن نمبر ون ریڈی ۔۔ ایکسٹو سپیکینگ ۔۔ پہاڑی کے شمالی حصے پر بمباری کرو ۔. جلدی ۔۔
اوکے سر ۔۔۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔ اور پھر چند لمحے بعد بےپناہ دھماکے ہونے لگے۔ پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ان کے سامنے جیسے تاریکی کی گہری چادر کسی نے کھینچ لی ہو۔ اب انہیں اپنے سامنے آسمان نظر آرہا تھا ۔
ایکسٹو سپیکینگ ۔۔ بمباری روک دو ۔ ہم باہر آرہے ہیں ۔۔۔ ایکسٹو نے غراتے ہوئے کہا۔
اوکے سر ۔۔۔ جواب ملا ۔
دوڑ کر باہر نکلو ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور پھر وہ تمام دوڑتے ہوئے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتے پہاڑی سے باہر کے رخ پر آگئے ۔ اب وہ کھلے میدان میں تھے۔ اور پھر دوڑتے ہوئے ایکسٹو چلایا۔۔
کمانڈر اسلم ۔۔ ایکسٹو سپیکینگ ۔۔ تمام پہاڑی کو گھیر لو کسی بھی آدمی کو فرار مت ہونے دو۔ ہم سات آدمی پہاڑی کے شمالی حصے میں ہیں ۔ جلد ہمارے پاس پہنچ جاؤ ۔ جلدی ۔۔۔ ایکسٹو نے حکم دیا ۔
اوکے سر ۔۔ میں خود شمالی حصے میں ہوں اور میں نے آپ کو دیکھ لیا ہے ۔ میں آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے جواب دیا ۔
چند لمحے بعد ایک جیپ تیزی سے دوڑتی ہوئی ان کے قریب آکر رک گئی ۔
ایکسٹو ۔۔۔ ان میں سے ایک نے پوچھا۔
کمانڈر اسلم ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا ۔
آجائیے ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے کہا ۔
جیپ میں بیٹھو ۔۔۔ ایکسٹو نے حکم دیا اور سب ساتھی اچھل کر جیپ میں بیٹھ گئے ۔ خادر اور چوہان شائد زخمی تھے اس لیے انہیں سہارا دیکر جیب میں بٹھایا گیا اور پھر جیپ دوبارہ بھاگنے لگی ۔ اب وہ پہاڑی سے دور جا رہے تھے۔
گھیرا تنگ کر لیا گیا ہے؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے کمانڈر اسلم سے پوچھا ۔
یس سر ۔۔۔ کمانڈر اسلم نے جواب دیا ۔
اب وہ پہاڑی سے کافی دور نکل آئے تھے ۔
جیپ روک دو ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا ۔ اور جیپ رک گئی ۔
عمران تم نیچے اتر آؤ ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور خود بھی نیچے اتر آیا ۔
صفدر ! تم باقی ساتھیوں کو لے کر واپس جاؤ۔ کمانڈر اسلم ! یہ جیپ میرے ساتھیوں کے حوالے کر دیں ۔۔۔ ایکسٹو نے نیچے اترنے کے بعد کہا اور پھر کمانڈر اسلم اور ڈرائیور نیچے اتر آئے۔ صفدر نے سٹیرنگ سنبھال لیا اور جیپ تیزی سے دارالحکومت کی طرف جانے والی سڑک کی طرف مڑ گئی ۔
ملٹری کے سپاہیوں نے پہاڑی کے گرد گھیرا تنگ کر لیا تھا اور ان کی مجرموں کے ساتھ فائزنگ جاری تھی ۔
کمانڈر اسلم ! ملڑی کو پیچھے ہٹنے کا حکم دو میں پہاڑی کو تباہ کرواتا ہوں – ایکسٹو نے حکم دیا۔
کمانڈر اسلم نے ٹرانسمیٹر پر ملٹری کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا ۔ اور پھر چند منٹ میں ہی پیچھے ہٹ گئی ۔
ایکسٹ ایک طرف ہوکر ٹرانسمیٹر پر کال کرنے لگا ۔
آپریشن نمبر ون – ایکسٹو سپیکینگ ۔۔ تمام پہاڑی پر بمباری کر دو ۔۔ تباہ کر دو اس پہاڑی کو ۔۔۔ ایکسٹو چیخا۔
اوکے سر ۔۔۔ دوسری طرف سے جواب ملا ۔
اور پھر دونوں بمبار طیارے جھپٹ جھپٹ کر پہاڑی پر بم پھینکنے لگے۔ زوردار دھماکے ہوٸے اور پہاڑی ریزہ ریزہ ہونی شروع ہو گئی ۔ بمبار طیارے اس وقت تک ہم پھینکتے رہے جب تک پہاڑی مکمل طور پر تباہ و برباد نہ ہو گئی ۔
عمران صاحب ! مجرم کا کیا بنا ؟ ۔۔۔ بلیک زیرو نے عمران سے پوچھا ۔
اگر ملٹری کے گھیرے سے فرار نہیں ہوا تو یقینا بمباری سے ختم ہو گیا ہوگا ۔۔۔عمران نے جواب دیا۔
اوہ ! تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے ہتھے چڑھ گیا تھا ۔۔۔ بلیک زیرو نے کہا ۔
ہاں ! بڑی مشین میں نے تباہ کی تھی ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔
بمباری ختم ہوتے ہی ملٹری نے پہاڑی کی تلاشی لینی شروع کر دی ۔ اور بے شمار لاشیں اور زخمی وہاں سے اٹھائے گئے ۔
عمران اور ایکسٹو اس وقت تک وہیں رہے جب تک تمام تلاشی نہ ہو گئی لیکن ان لاشوں اور زخمیوں میں سے کوئی بھی آدمی گنجا نہ تھا ۔
اس کا مطلب ہے کہ مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔۔۔ بلیک زیرو بڑبڑایا ۔
ہاں معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔ عمران نے جواب دیا اور پھر وہ دونوں ایک جیپ میں بیٹھ کر دانش منزل کی طرف چل پڑے ۔۔
جاری ھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ گنجا بھکاری ۔۔۔۔۔
۔۔۔ قسط نمبر 14 ۔۔۔ آخری قسط ۔۔۔
کمزور دل والے ممبرز شروع کا حصہ چھوڑ کر سٹار والے نشان سے پڑھنا شروع کریں ۔۔۔ شکریہ
کیپٹن شکیل کو اس آپریشن کا اس وقت پتہ چلا جب جولیا نے اس کا حال پوچھنے کے لیے ٹیلیفون کیا تھا اور اسےاپنے زخمی ہونے کا بیحد افسوس ہوا کہ وہ آپریشن میں حصہ نہ لے سکا ۔ پھر اسے دور سے زور دار دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اور بھی بے چین ہو گیا۔ پھر اسے عمران کی آواز بھی سنائی دی جو مجرموں پر قابہ پانے کی خوشخبری سنا رہا تھا۔
اب اس سے نہ رہا گیا اور وہ تیزی سے فلیٹ سے نیچے اترا اور پھر موٹر سائیکل اٹھا کر تیزی سے پہاڑی سلسلے کی طرف چل دیا۔ جوش اور شدت جذبات اب اسے اپنی تکلیف کا احساس بھی نہ رہا تھا ۔ شہر میں رش تو بےحد تھا لیکن کسی نہ کسی طرح کیپٹن شکیل آگے بڑھتا رہا۔ اور پھر جلد ہی وہ شہر سے باہر نکل آیا ۔ اب اس کی موٹر سائیکل تیزی سے بھاگ رہی تھی۔ پہاڑی علاقہ اب قریب آتا جا رہا تھا ۔
اچانک کیپٹین شکیل کو ایک زخمی آدمی رینگتا ہوا ایک کچی سڑک کی طرف جاتا دکھائی دیا مگر اس نے کوئی خیال نہ کیا ۔ اور آگے بڑھتا چلا گیا ۔ کچی سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا مکان تھا اور وہ زخمی آدمی اس مکان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
کیپٹن شکیل آگے بڑھتا چلا گیا۔ اور پھر اچانک اسے ایک خیال آیا اس نے زور دار بر یک ماری موٹر سائیکل کے ٹائر چیختے ہوئے رک گئے ۔ اسے خیال آیا تھا کہ وہ زخمی سر سے گنجا ہے اور جس نے اسے جلایا تھا وہ بھی گنجا تھا اور تقریبا اسی جسامت اور قد و قامت کا تھا۔ چنانچہ اس نے شک مٹانے کی خاطر اس کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا اور اب وہ زخمی مکان میں داخل ہو چکا تھا ۔ کیپٹن شکیل نے موٹرسائیکل کا رخ اس مکان کی طرف موڑ دیا۔ لیکن ابھی آدھا فاصلہ رہتا تھا کہ مکان سے ایک سرخ رنگ کی کار نکلی اور پھر آندھی اور طوفان کی طرح دارالحکومت کی طرف دوڑنے لگی۔ کیپٹن شکیل رک گیا۔ اس وقت وہ ایک درخت کے قریب تھا اس لیے شائد کار والے کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی یا شائد وہ جلدی میں تھا۔ بہر حال اب وہ کار کا پیچھا کر رہا تھا۔
کار اب شہر میں داخل ہو چکی تھی اور کیپٹن شکیل کافی فاصلے سے اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ کار شہر میں داخل ہوکر ارباب کالونی کی ایک چھوٹی سی کوٹھی کے گیٹ پر رک گئی ۔
کیپٹن بھی ایک درخت کے پیچھے رک گیا ۔ وہ گنجا آدمی کار سے اترا اور اس نے پھاٹک پر لگا ہوا تالا کھولا اور پھر کار اندر لے جا کر پھاٹک دوبارہ بند کر دیا۔
کیپٹن شکیل نے موٹر سائیکل وہیں چھوڑا اور پھر تیزی سے اس کوٹھی میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ۔ کوٹھی کے قریب جا کر وہ وہ رک گیا۔ اسی لمحے اس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور پھر وہ تیزی سے واپس مڑ گیا۔ موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور سیدھا نکلتا چلا گیا۔ جلد ہی وہ ایک ٹیلی فون بوتھ کے قریب جا کر رک گیا۔ اس نے جیب سے چند سکے نکال کر سوراخ میں ڈالے اور پھر جولیا کے نمبر ڈائل کرنے لگا۔ جلد ہی رابطہ قائم ہو گیا ۔
جولیا سپیکنگ ۔۔۔ دوسری طرف سے جولیا کی آواز آئی ۔
میں شکیل بول رہا ہوں جولیا۔ میں نے ایک گنجے شخص کا پیچھا کیا ہے اور وہ اس وقت ارباب کالونی کی کوٹھی نمبر 106 میں موجود ہے وہ پہاڑی علاقہ سے فرار ہوا تھا۔ میں نے ٹیلیفون کر کے اس کی کوٹھی میں گھسنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آپ اگر مناسب سمجھیں تو ایکسٹو کو بتا دیں ۔۔۔ کیپٹن نے کہا ۔
لیکن تم پہاڑی علاقے کی طرف کس لیے گئے تھے ؟ ۔۔۔ جولیا نے پوچھا ۔
بس طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلا گیا تھا ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
لیکن تم تو زخمی ہو۔ اگر وہاں لڑائی ہوئی تو ؟ ۔۔۔ جولیا کے لہجے میں ہمدردی تھی۔
اب میں اتنا کمزور بھی نہیں ہوں کہ ایک آدمی سے مارا جاؤں ۔۔۔ کیپٹن شکیل نے تلخ لہجے میں جواب دیا اور پھر رسیور رکھ دیا ۔
فون بو نھ سے با ہر نکل کر کیپٹن شکیل اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر تیزی سے اس کوٹھی کی طرف چل دیا ۔ موٹر سائیکل اس نے کوٹھی کے قریب روکی اور پھر پیدل چلتا ہوا کوٹھی کی پشت کی طرف بڑھ گیا۔ پشت کی دیوار قدرے نیچی تھی اس لیے وہ آسانی سے اس پر چڑھ گیا ۔ اور پھر دوسری طرف کود گیا ۔ ایک ہلکا سا دھماکہ ہوا۔ کیپٹن شکیل چند لمحے تک دم سادھے وہیں بیٹھا رہا۔ لیکن جب کوئی رد عمل نہ ہوا تو وہ آہستہ سے رینگتا ہوا اصل عمارت کی طرف بڑھ گیا۔
کوریڈور سے ہوتا ہوا وہ ایک کمرے میں گھسا۔ وہاں سے اسے دوسرے کمرے میں روشنی نظر آئی۔ وہ بڑی احتیاط سے آگے بڑھا۔ اس نے ریوالور جیب سے نکال کر ہاتھ میں لے لیا ۔
اسی لمحے لائٹ بند ہو گئی اور پھر ایک شخص بری طرح اس سے ٹکرایا اور کیپٹن شکیل کے ہاتھ سے ریوالور نکل کر دور جا گرا۔
وہ شخص ٹکرا کر دوبارہ اندر جا گرا تھا ۔ کیپٹن شکیل نے بھی اندازے کے مطابق وہیں جمپ لگایا لیکن وہ فرش سے جا ٹکرایا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ اٹھتا۔ بوٹ کی زور دار ٹھوکر اس کے جبڑے پر پڑی مگر کیپٹن شکیل نے حملہ آور کی ٹانگ پکڑ کر مروڑ دی اور حملہ آور چکراتا ہوا نیچے جاگرا۔ اب کیپٹن شکیل اس کے اوپر تھا مگر جلد ہی حملہ آور نے اسے دوسری طرف اچھال دیا۔ حملہ آور کے جسم میں بے پناہ قوت تھی ۔
ادھر کیٹین شکیل قدرے زخمی بھی تھا۔ اس لیے وہ کمزوری محسوس کر رہا تھا ۔ دوسری طرف گرتے ہی وہ اچھل کر کھڑا ہوا مگر اس کے سینے پر زور دار فلائنگ پڑی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا دیوار سے جا ٹکرایا۔ مگر دوسرے لمحے اس نے جمپ لیا اور حملہ آور کے اوپر گر پڑا۔ اس نے اسے بےتحاشہ مکے مارنے شروع کئے مگر حملہ آور کا ایک مکا اس کی کنپٹی پر اتنے زور کا پڑا کہ اس کی آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے ۔ اور وہ ہوا میں ہاتھ چلاتا ہوا نیچے گر گیا ۔
حملہ آور نے ہاتھ جھاڑے ہی تھے کہ کمرہ کھٹ کی آواز سے روشن ہو گیا۔ عمران صفدر اور تنویر وہاں موجو د تھے۔ حملہ آور چونک کر مڑا ۔ لیکن عمران کے ہاتھ میں ریوالور دیکھ کر رک گیا ۔
اب اس کے منہ سے نقاب اترا ہوا تھا اور اس کا گنجا سر روشنی میں چمک رہا تھا ۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک سیاہ بیگ پڑا ہوا تھا۔
ڈاکٹر بچکاک ۔۔۔ اب تم بچ کر نہیں جاسکتے ۔۔۔ عمران کی آنکھیں سرخ تھیں۔ اپنا نام سن کر وہ چونک پڑا۔ پھر اس کے چہرہ کے نقوش بگڑ گئے۔ اسی لمحے اس نے ریوالور کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عمران پر چھلانگ لگا دی ۔ عمران نے ریوالور ایک طرف پھینک کر اس کے حملے کو ہاتھوں پر روکا اور اسے دوسری طرف اچھال دیا۔
ڈاکٹر ! میں تمہیں ایسی عبرت ناک سزا دوں گا جو تمہارے تصور میں بھی نہیں آئی ہو گی ۔۔۔ عمران بھیڑیے کی طرح غرایا اور پھر اٹھتے ہوئے ڈاکٹر بچکاک پر چھلانگ لگا دی۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے ٹکراٸے اور نیچے گر پڑے ۔ اب عمران گنجے کے اوپر تھا ۔ دوسرے لمحے گنجے نے نیچے سے گھٹنا چلایا اور عمران اڑتا ہوا ایک طرف جا گرا۔ پھر دونوں نے اٹھنے میں پھرتی دکھائی اور اب وہ دونوں ایک دوسرے کے مد مقابل تھے ۔
اچانک عمران نے جھکائی دی اور گنجا جھانسے میں آگیا ۔ وہ اس طرف مڑا جدھر عمران جھکا تھا کہ عمران برق کی سی تیزی سے دوسری طرف مڑا اور پھر اس نے گنجے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا۔ عمران کا چہرہ غصے اور وحشت سے سرخ ہو رہا تھا۔ اس نے گنجے کو اٹھا کر زور سے فرش پر پٹخ دیا۔ گنجے کے منہ سے کراہ نکل گئی۔ عمران پر جنون سوار ہو گیا ۔ اور اس نے گنجے پر ٹھوکروں کی بارش کر دی ۔ وہ اس تیزی سے ٹھوکریں برسا رہا تھا کہ گنجے کو اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی مہلت نہ ملی ۔ گنجے کا چہرہ لہولہان ہو گیا ۔
اور پھر عمران اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ اچانک عمران نے اپنی ایک انگلی بڑھائی اور پھر گنجے کی بھیانک چیخ سے کمرہ گونج اٹھا۔ کیپٹن شکیل کو بھی ہوش آگیا تھا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ عمران نے گنجے کی آنکھ میں انگلی گھسیٹر دی تھی ۔ گنجے کی آنکھ کا ڈھیلا باہر نکل آیا تھا اب اس کی آنکھ خون سے بھرا ہوا گڑھا معلوم ہو رہی تھی۔
مجھے مار دو عمران ۔۔ مجھے مار دو ۔۔۔ گنجا بے اختیار چیخا ۔
نہیں ۔۔ میں تمہیں موت سے بھی زیادہ بھیانک سزا دوں گا ڈاکٹر بچکاک ۔۔ ایسی سزا دونگا کہ پھر کوئی مجرم میرے ملک میں تباہی لانے کا تصور بھی نہ کر سکے ۔۔۔ عمران وحشت سے بھر پور لہجے میں بولا ۔
کیپٹن شکیل ، صفدر اور تنویر کو گنجے کی آنکھ نکلتی دیکھ کر جھرجھری آگئی ۔ عمران نے گنجے کا بازو ایک جھٹکے سے توڑ دیا ۔ کڑک کی آواز کے ساتھ ہی گنجے کے منہ سے بےاختیار چیخیں نکلنے لگیں۔
پھر عمران نے دوسرا بازو پکڑ کر جھٹکا دیا تو دوسرا بازو بھی ٹوٹ گیا۔ گنجا اب بیہوش ہو چکا تھا ۔
عمران کے مار مار کر اسے دوبارہ ہوش میں لے آیا ۔
تم مجھے معاف کر دو عمران ۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔۔ گنجا گھگھیایا ۔
میں انسانیت کے مجرم کو معاف نہیں کر سکتا ۔۔۔ عمران نے کہا اور پھر ایک جھٹکے سے گنجے کی ایک ٹانگ بھی توڑ دی۔ یہی حشر اس کی دوسری ٹانگ کا بھی ہوا ۔ اب گنجا ہے دست و پا ہو چکا تھا ۔ اور اس کی بھیانک چیخوں سے کمرہ گونجنے لگا۔
عمران درندہ بنا ہوا تھا۔ اور اس کے ساتھیوں نے آج تک عمران کو اتنی وحشت میں کبھی نہیں دیکھا تھا ۔
عمران نے گنجے کی دوسری آنکھ بھی نکال دی ۔
مجھے مار دے ظالم ۔۔ مجھے مار دے ۔۔۔ گنجا گڑگڑایا ۔
مار دے ۔۔ ہونہہ ۔۔ موت تو تمہارے لیے کوئی سزا نہیں ۔ تم زندہ رہو گے لیکن تمہاری حالت مردے سے بھی بدتر ہو گی ۔۔۔ عمران غرایا اور پھر اس نے اپنی جیب سے خنجر نکال کر گنجے کے جسم پر وار کرنے شروع کر دیئے۔ گنجے کی چیخیں نکلتی رہیں حتی کہ وہ بیہوش ہو گیا ۔
عمران اب اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا چہرہ اتنا خوفناک ہو گیا تھا کہ صفدر ، تنویر اور کیپٹن شکیل نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں ۔ مجرم کے لیے اتنی بھیانک سزا ان کے تصور میں بھی نہیں تھی ۔
صفدر وہ بیگ اٹھاؤ ۔۔۔ عمران نے صفدر سے کہا ۔ اور صفدر نے لیک کر بیگ اٹھایا اور عمران کو پکڑا دیا ۔
عمران نے بیگ کھول کر دیکھا۔ اس میں اہم دستاویزات تھیں۔ عمران نے سر ہلایا اور پھر اس نے تنویر سے مخاطب ہو کر کہا ۔۔
گنجے کو اٹھا کر باہر لان میں لے چلو ۔۔
تنویر نے خاموشی سے گنجے کو اٹھایا اور باہر لان میں لے آیا۔ وہ ابھی تک بیہوش تھا ۔
اس کے زخموں پر مٹی ڈال دو ۔۔۔ عمران نے حکم دیا اور تنویر نے لان کے کناروں سے مٹی اٹھا اٹھا کر گنجے کے ان گنت زخموں پر ڈالنی شروع کر دی ۔ مٹی سے خون رک گیا ۔
اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالو ۔۔۔ عمران نے حکم دیا ۔
تنویر نے بیہوش گنجے کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور پھر وہ سب اس میں بیٹھ کر کوٹھی سے باہر نکل آئے ۔ ایک چوک کے پاس پہنچ کر عمران نے گاڑی روکی ۔
تنویر اس گنجے کو اٹھا کر فٹ پاتھ پر ڈال دو ۔۔۔ عمران کے لہجے میں ابھی تک دہشت نمایاں تھی ۔
تنویر جو عمران کے حکم کو ماننا اپنی توہین سمجھتا تھا ۔ کان دبا کر اس کے احکام کی تعمیل کر رہا تھا ۔ اس نے گنجے کو کار سے نکالا اور پھر فٹ پاتھ پر ڈال دیا۔ تنویر والپس کار میں آبیٹھا اور کار تیزی سے دوڑتی ہوئی آگے بڑھ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
دانش منزل کے میٹنگ ہال میں سب ممبرز موجود تھے ۔ عمران بھی ایک طرف سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
عمران صاحب ! اب سلیمان کا کیا حال ہے؟ ۔۔۔ اچانک صفدر نے عمران سے پوچھا ۔
ٹھیک ہے۔ مگر اب قدرے شریف ہو گیا ہے ۔ خاص طور پر فیاض کی تو بڑی عزت کرتا ہے ۔۔۔ عمران نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
کیوں نہ کرے ۔ اب تو دونوں کا ایک ہی خون ہو گیا ہے ۔۔۔ صفدر نے ہنستے ہوئے کہا۔
یہی بات میں نے فیاض سے کہی تو وہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو گیا ۔۔۔ عمران نے آنکھیں مارتے ہوئے کہا ۔
کیوں ؟ اس میں لڑائی والی کون سی بات ہے ؟ ۔۔۔ صفدر نے حیرت سے پوچھا ۔
بس یہی کہ تم مجھے باورچی بنا رہے ہو ۔۔۔ عمران نے جواب دیا ۔ اور پھر سب لوگ متوجہ ہو گئے۔ کیونکہ ٹرانسمیٹر کا بلب سپارک کرنا شروع ہو گیا تھا۔ جولیا نے اٹھ کر رسیور کا بٹن دبا دیا ۔
ہیلو ممبرز کیا سب لوگ آ گئے ہیں ؟ ایکسٹو کی آواز سنائی دی ۔
جی ہاں جناب ۔۔۔ جولیا نے جواب دیا ۔
او کے۔ اب آپ لوگ چونکہ کیس کی تفصیلات سننے کے لیے بےچین ہوں گے۔ اس لئے میں مختصر طور پر آپ کو اس کے متعلق بتاتا ہوں ۔۔۔ اسکیٹو نے کہا اور پھر کیس کی تفصیل بتانے لگا ۔۔۔۔۔
ایک عیار بدنام زمانہ ادارہ بی آئی اے نے ہمارے ملک میں انتشار ، بد نظمی ، مالی بحران اور انقلاب لانے کا منصوبہ تیار کیا کیونکہ ہماری موجودہ حکومت نے ان کی مرضی پر چلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے ڈاکٹر ہچکاک کو یہاں بھیجا۔
ڈاکٹر ہچکاک ایک مشہور جاسوس ہے جس نے کئی ملکوں میں بڑی کامیابی سے انقلاب لانے کا مشن پورا کیا تھا ۔ وہ قدرتی طور سے بالکل گنجا تھا اس لیے اُسے گنجے ڈاکٹر کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ عمران کے متعلق چونکہ بی آئی اے والے جانتے تھے کہ عمران ضرور اس منصوبے کے آڑے آئے گا اس لیے انہوں نے ڈاکٹر بچکاک کو عمران کے متعلق بتا دیا ۔
ڈاکٹر بیچکاک نے ہمارے ملک میں آتے ہی سب سے پہلے سر رحمان کو زہر ملا دودھ پلا کر ان پر مصنوعی موت طاری کر دی ۔ یہ موت گو مصنوعی تھی لیکن یہاں کے ڈاکٹروں کے لیے اتنی مکمل تھی کہ وہ سر رحمان کی موت پر شک بھی نہ کر سکے اور سر رحمان کو دفن کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر بچکاک نے انہیں قبر سے نکال کر وہ مصنوعی موت دور کر دی اور وہ زندہ ہو گئے۔ اس میں اس کے دو مقصد پنہاں تھے سب سے پہلے تو یہ کہ وہ سر رحمان کو عمران کے مقابلے میں بطور یرغمال رکھنا چاہتا تھا ۔ دوسرا اس نے ان کی جلد میں اپنا ایجاد کردہ ڈکٹا فون ماٸیک چھپا دیا تا کہ اگر کسی طرح سر رحمان رہا ہو جائیں تو ان کے ذریعے وہ حکومت کی تمام سرگرمیوں سے واقف رہے۔
عمران یا ہمیں سر رحمان کی موت پر قطعی کوئی شبہ نہیں ہوا کیونکہ ان دنوں کوئی کیسی بھی نہیں تھا کہ ہم اس پہلو پر سوچتے ۔ بہر حال ایک دن عمران ایک ہوٹل جانے لگا تو اُسے ایک بھکاری نظر آیا ۔ عمران پہلی ہی نظر میں بھانپ گیا کہ یہ شخص میک آپ میں ہے اور پھر عمران اُسے زبردستی ہوٹل میں لے گیا ۔ جب وہاں عمران کی حرکتوں سے اس کا راز کھلنے لگا تو اسے گولی مار دی گئی ۔ جب اس کا میک آپ ہٹایا گیا تو وہ شخص غیر مکی نکلا۔ عمران نے مجھے رپورٹ دی اور میں کھٹک گیا۔
پھر میں نے تمام ممبرز کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ شهر کا راونڈ لگاٸیں اور کسی بھی مشتبہ بھکاری کو دیکھیں تو اسے اغوا کر لے آٸیں ۔ عمران خود بھی ایک بھکاری کے روپ میں شہر میں پھرنے لگا۔ اس کا نظریہ یہ تھا کہ بھکاری کے روپ میں وہ بھکاریوں کو زیادہ قریب سے دیکھ سکتا تھا ۔
پھر جولیا اغوا ہو گئی اور اسے اغوا کرنے والا ایک گنجا بھکاری تھا جو دراصل خود ڈاکٹر بھکاری تھا جو بچکاک تھا جو نجانے کیوں بھکاری کے روپ میں تھا ۔ پھر کیپٹن شکیل کو بھی اغوا کر لیا گیا ۔ اور جس کار میں اسے اغوا کر کے لے جایا جا رہا تھا اس کار پر عمران کی نظر پڑ گئی عمران نے اس کا تعاقب کیا اور پھر وہ دارالحکومت کے ایک کچے مکان میں جا پہنچا جہاں اس کی ملاقات خلاف توقع سر رحمان سے ہو گئی ۔ سر رحمان کو زندہ دیکھ کر عمران حیرت زدہ رہ گیا۔ اس کی خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور اسی خوشی میں اس نے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا ۔ ادھر مجرم سر رحمان کی جلد میں وہ مائیک چھپا چکے تھے چنانچہ اس مائیک کی وجہ سے انہیں پتہ چل گیا کہ بھکاری کے روپ میں یہ عمران ہے۔ وہ اسے قتل کرنے کے لیے وہاں آ پہنچے ایک جھڑپ ہوئی اور گنجا بھاگ گیا ۔ اس نے ٹائم ہم سے مکان اڑا دیا ۔ اس کا خیال تھا کہ یہ سب لوگ ملبہ میں دفن ہو جائیں گے لیکن سر رحمان، عمران، جو لیا اور کیپٹن شکیل بچ نکلے۔
پھر ڈاکٹر بچکاک نے رقم بانٹ کر بھکاریوں کا ایک جلوس مین بازار میں نکلوایا اور مین بازار میں لوٹ مار کروا کر آگ لگوا دی تاکہ حکومت بوکھلا جائے۔ صفدر وہاں موجود تھا۔ اس نے پیچھا کیا اور پھر وہ نادانستگی میں ان کے اڈے میں جا پہنچا۔ اس جلوس کی کمان خود ڈاکٹر کر رہا تھا۔ اس کو صفدر پر شک گزرا اور اس نے اپنی طرف سے صفدر کو قتل کر کے اس کی لاش گٹر میں پھینکوا دی۔ صفدر کا مقدر اچھا تھا کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ۔ پھر ڈاکٹر بچکاک نے بینکوں کی دیواروں کو جدید انداز سے نقب لگوا کر جعلی نوٹ وہاں رکھوا دیٸے اور اس طرح ملک شدید مالی بحران کی لپیٹ میں آگیا۔ لوگ حکومت کے سخت خلاف ہو گئے ۔
ڈاکٹر نے غدار سیاسی پارٹیوں کو رقم دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور یہ سیاسی پارٹیاں حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے لگیں۔ کیپٹن شکیل کو اس اڈے میں تحقیقات کے لیے بھیجا گیا تو یہ بھی ان کے ہتھے چڑھ گیا اور اسے زندہ جلانے کی سزا دی گئی لیکن پھر شائد ڈاکٹر نے جان بوجھ کر اسے زندہ رہنے دیا لیکن اس کی جلد میں بھی مائیک چھپا دیا گیا۔
عمران نے ہوٹل تھری سٹار جہاں پہلی دفعہ وہ بھکاری کو لے گیا تھا اس کے مینجر کو اغوا کیا اور پھر اس پر دانش منزل میں تشدد کیا گیا تو اس نے سب کچھ اگل دیا اس میں ایک اشارہ یہ بھی تھا کہ سرحمان کے پاس ایک مائیک ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ صدر مملکت کی میٹنگ میں عمران نے وہ مائیک نکلوا لیا. پھر عمران کے فلیٹ پر مجرموں نے حملہ کیا اور سلیمان کو گولی مار دی ۔ سلیمان مرتے مرتے بچا ۔
پھر مجرموں نے دار الحکومت کی تباہی کا الٹی میٹم دے دیا۔ یہ آخری زوردار چوٹ تھی تا کہ عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں ۔ اس کے لیے مجرم نے تین دن کا وقفہ دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس کی مشین ورکنگ آرڈر میں نہیں تھی اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے تین دن درکار تھے ۔
بہر حال اب مجرموں کی فوری گرفتاری ضروری ہو گئی ۔ پھر جب کیپٹن شکیل کا فون آیا تو میں نے عمران کو وہاں بھیج دیا۔ مجروں نے مائیک پر عمران اور کیپٹن شکیل کی باتیں سنیں اور پھر عمران کو اغوا کر لیا گیا ۔ ہمارا منصوبہ بھی یہی تھا کہ کسی طرح عمران اغوا ہو کر مجرموں کے اڈے تک پہنچ جاٸے اور ہمیں ان کے اصل اڈے کا پتہ چل سکے یہ سب کچھ اسی اندازے پر کیا گیا تھا کہ شائد کیپٹن شکیل کی جلد میں بھی مائیک نکل آئے ۔ اور پھر وہی ہوا ۔ مائیک اس کی جلد میں موجود تھا جسے عمران نے نکال لیا اور اس سے پہلے عمران نے خوامخواہ کیپٹن شکیل سے بحث چھیڑ دی تا کہ مجرم اسے اغوا کرنے کے لیے وہاں پہنچ جائیں، وہی ہوا اور مجرم اسے اغوا کر کے لے گئے۔ صفدر کو میں نے نگرانی کے لیے بھیجا ۔
صفدر نے ان کا تعاقب کیا اور وہ پہاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جو مجرموں کا اصلی اڈہ تھا ۔ صفدر نے مجھے ٹرانسمیٹر پر کال کیا اور پوزیشن بتلائی ۔ میں نے باقی ممبرز کو بھی وہیں صفدر کی مدد کے لیے بھیج دیا ۔ کیپٹن شکیل چونکہ زخمی تھا اس لیے وہ اس آپریشن میں شریک نہ کیا گیا ۔
ٹیلی ویژن نظام کے تحت پہاڑی کے باہر کا حصہ ہر وقت مجرموں کی نظر میں رہتا تھا اس لیے صفدر کو بھی گرفتار کر لیاگیا اور پھر باقی ممبرز کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ میں نے ایک یونٹ فوج کو حکم دیا کہ وہ پہاڑی کو گھیر لے۔ ساتھ ہی متوقع خطرے کے تحت میں نے دو بمبار طیارے اور دو فائٹر بھی منگوا لیے ۔ اور پھر میں خود پہاڑی میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ وہاں عمران کو مجرم اپنے خاص کمرے میں لے گیا جہاں وہ مشین موجود تھی ۔
ہر مجرم کی طرح ڈاکٹر بھی احساس برتری کا مریض تھا چنانچہ وہ عمران پر اپنی طاقت کا رعب ڈالنا چاہتا تھا۔ صفدر اور اس کے ساتھ دوسرے ممبرز جو ایک کمرے میں بند تھے وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ پھر میں بھی ان سے مل گیا ۔
ہم نے وہاں ان کا پاور پلانٹ تباہ کر دیا جس سے تمام اڈے میں اندھیرا چھا گیا اور مجرم اندھیرے کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑنے لگے ۔ ادھر عمران جو کہ چار مشین گنوں کی وجہ سے مجبور تھا اس کے سامنے ڈاکٹر بچکاک نے اس مشین کے ذریعے دارالحکومت کا شمالی حصہ تباہ و برباد کر دیا ۔ عمران نے یہ تباہی دیکھ کر موت کی پرواہ نہ کی اور ڈاکٹر پر پل پڑا ۔ ڈاکٹر فرار ہو گیا ۔
عمران نے وہ مشین تباہ کردی، پھر وہ ایک اتفاق کی وجہ سے ہم سے مل گیا۔ پھر ہم نے بمباری کرا کر پہاڑی کا ایک حصہ تباہ کرایا اور باہرنکل آئے ۔ اور پھر پہاڑی کو بمبارٹمنٹ کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ادھر کیپٹن شکیل نے جسے زخمی ہونے کی وجہ سے میں نے اس آپریشن میں شامل نہیں کیا تھا اُسے جب جولیا سے پتہ چلا تو وہ اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر پہاڑی علاقے کی طرف چل پڑا ۔
ادھر مجرم ایک سرنگ کے ذریعے فرار ہو کر پہاڑی سے کافی دور نکلا اور ایک مکان میں جو اس کا اپنا اڈہ تھا، کار لینے کے لیے گھسا۔ کیٹین شکیل کی اس پر نظر پڑ گئی اور اس نے اس کا تعاقب کیا اور اس طرح وہ اس کوٹھی تک پہنچ گیا جہاں مجرم نے پناہ لی تھی .
کیپٹن شکیل نے جولیا کو اس کی اطلاع دی اور خود اندر گھس گیا۔ میں نے اطلاع ملتے ہی عمران، صفدر اور تنویر کو مجرم کی گرفتاری کے لیے بھیج دیا۔ وہاں مجرم اور کیپٹن شکیل کی لڑاٸی ہوئی ۔ کیپٹن شکیل زخمی ہونے کی وجہ سے صحیح طریقے سے نہ لڑ سکا اور مجرم نے اُسے بہوش کر دیا ۔ اسی وقت عمران ، صفدر اور تنویر وہاں پہنچ گئے۔ عمران کو مجرم یعنی ڈاکٹر ہچکاک پر بےحد غصہ تھا کیونکہ اس نے اس کے سامنے دس میل کے علاقے کو برباد کیا تھا ۔
اور پھر سب سے زیادہ غصہ اس بات کا تھا کہ اس کیس میں ڈاکٹر کے ہاتھوں تین ممبرز مرتے مرتے بچے تھے ۔ یعنی کیپٹن شکیل ، صفدر اور سلیمان ۔ اس لیے عمران ڈاکٹر کو بھیانک سزا دینا چاہتا تھا چنانچہ عمران نے مجرم کو عبرت ناک سزا دی ۔ اس کی آنکھیں نکال دیں، ہاتھ پیر توڑ دیئے اور اُسے اندھا اور اپاہج کر کے پھینکوا دیا ۔
مجرم کے بیگ سے تمام دستاویزات مل گئیں جو میں نے حکومت کے حوالے کر دیں ۔ حکومت ان پر مناسب کاروائی کر رہی ہے ۔ ایکسٹو تمام تفصیلات بتلا کر خاموش ہو گیا ۔۔۔۔
سب لوگ سحر زدہ بیٹھے رہے۔
کوئی سوال ؟ ۔۔۔ ایکسٹو نے پوچھا ۔
سر ڈاکٹر بچکاک نے بھکاری کا بھیس کیوں بدلا تھا؟ ۔۔۔ صفدر نے سوال کیا ۔
اس لیے کہ وہ بھکاریوں کا جلوس نکلوا کر لوٹ مار کروانا چاہتا تھا۔ دوسرا اس کا خیال تھا کہ بھکاری بننے سے اس پر کوئی شک نہیں کریگا کہ یہ بھکاری مجرم ہے یا جاسوس ہے ۔۔۔ ایکسٹو نے جواب دیا ۔
سب ممبرز خاموش بیٹھے رہے۔
دیکھئے ! اس کیس پر آپ سب حضرات نے چونکہ بے حد محنت سے کام کیا ہے اس لیے میں آپ سب کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ پندرہ دن کے لیے پکنک پر کسی اچھے مقام پر تفریح کر آئیں ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور سب ممبرز کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔
تھینک یو سر ۔۔۔ سب نے بیک وقت جواب دیا۔
اوکے اوور اینڈ آل ۔۔۔ ایکسٹو نے کہا اور پھر ٹرانسمیٹر خاموش ہو گیا۔ اور جولیا نے اٹھ کر بٹن بند کر دیا۔
اب ممبرز نے پکنک منانے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کرنا شروع کر دیں ۔
میرے خیال میں سب لوگ پہلے عمران کے فلیٹ پر چلیں اور وہیں بیٹھ کر اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا ۔۔۔ صفدر نے کہا۔ اور سب نے اس کی تجویز کی تائید کی۔
یہ میں بتا دوں کہ سلیمان آپ کو چائے پلانے سے انکار کر دے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ نے صرف چائے پینے کے لیے میرا فلیٹ منتخب کیا ہے ۔۔۔ عمران نے کہا اور سب ہنسنے لگے ۔ اور پھر سب لوگ کار میں بیٹھ کر عمران کے فلیٹ کی طرف چل دیٸے ۔
راستے میں جب وہ لارنس چوک کے پاس سے گزرے تو عمران نے اچانک کار کو ایک فٹ پاتھ کے قریب روک دیا ۔
کیا ہو گیا؟ ۔۔ صفدر نے پوچھا ۔
باہر آؤ ۔۔ میں تمہیں گنجے بھکاری سے ملواؤں ۔۔۔ عمران نیچے اترتے ہوئے بولا اور وہ سب نیچے اتر آئے ۔ اور پھر یہ دیکھ کر انہیں عمران کے انتقام کے بھیانک پن کا صحیح احساس ہوا۔
سامنے فٹ پاتھ پر ڈاکٹر بچکاک پڑا ہوا تھا ۔ اس کے چہرے پر آنکھوں کی بجائے گڑھے تھے۔ جسم پر موجود زخموں میں پیپ پڑ چکی کی تھی اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر بےحد تکلیف کے آثار تھے لیکن وہ اس حد تک مفلوج ہو چکا تھا کہ اپنے زخموں پر بھنبھنانے والی مکھیوں کو بھی اڑانے سے قاصر تھا۔ لوگ اس کی حالت پر ترس کھا کر اس کے قریب پیسے ڈالتے جا رہے تھے ۔
عمران نے بھی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پھر ایک سکہ نکال کر اس کے قریب پھینکا اور کار کی طرف مڑ گیا ۔ اور سب ممبرز گنجے بھکاری کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے واپس کار میں بیٹھ گئے ۔
عمران صاحب ۔۔ آپ نے اس پر بےحد ظلم کیا ھے ۔۔۔ صفدر نے ہمدردی سے کہا۔
انسانیت سوز مجرموں کا یہی انجام ہوتا ہے ۔۔۔ عمران نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا اور کار تیزی سے عمران کے فلیٹ کی طرف دوڑتی چلی گئی ۔
اگر آپ کو اس سیریز کی مزید کہانیاں پڑھنی ہیں تو پوسٹ لاٸک کر کے جایٸے گا ۔۔۔شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Ganja Bhikari; an Imran Series by Mazhar Kaleem گنجا بھکاری” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.