شام ڈھل رہی تھی۔ لاہور کی ادبی شاموں کی ایک اور محفل اپنے عروج پر تھی۔ کرسی پر بیٹھا وہ نوجوان جس کی آنکھوں میں خاموشی، ہاتھ میں قلم، اور دل میں بے شمار کہانیاں تھیں — وہی تھا زریاب۔
“میں لفظوں سے محبت کرتا ہوں، شاید اسی لیے زندگی سے دور ہوتا جا رہا ہوں۔”
یہ جملہ جیسے نائلہ کے دل کو چیر گیا ہو۔ وہ پہلی بار زریاب کو سن رہی تھی — اور پہلی بار اپنے اندر کچھ بدلتا محسوس کر رہی تھی۔
ایک دن، جب دھوپ کی روشنی نرم پڑ چکی تھی، نائلہ نے آہستگی سے کہا:
“کبھی کبھی دل چاہتا ہے، سب کچھ چھوڑ کر صرف تمہارے ساتھ بیٹھا جائے… بس یونہی خاموشی میں، بغیر کسی ڈر کے۔”
زریاب نے مسکرا کر جواب دیا:
“خاموشی ہی تو وہ زبان ہے، جو کسی وعدے کے بغیر سب کہہ دیتی ہے۔”
ریحان رضوی نے ایک دن اپنی بہن سے بات کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا:
“نائلہ، ہم نے تمہیں ہر چیز دی ہے — آزادی، تعلیم، خودمختاری — مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم خاندان کی حدود پار کر جاؤ۔ وہ لڑکا، زریاب… وہ تمہارے قابل نہیں ہے۔”
دادا جان نے بہت دیر تک خاموشی اختیار کیے رکھی، پھر دھیرے سے بولے:
“بیٹا، دعاؤں میں ہاتھ اٹھانے سے پہلے یہ دیکھ لیا کرو کہ نصیب میں قلم رکھا ہے یا زنجیر؟ بعض رشتے لکھے تو جاتے ہیں، مگر زندہ نہیں رہتے۔”
دادا جان نے آگے کہا:
“تم محبت مانگتے ہو، مگر عزت کے بغیر؟ وہ تو مانگنے والی بات ہوئی، بیٹا… اور محبت کبھی مانگی نہیں جاتی، بس نبھائی جاتی ہے۔”
نائلہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
“کیا تم بھی ہار جاؤ گے، زریاب؟”
زریاب نے ایک گہری سانس لی اور کہا:
“میں ہار نہیں رہا… بس تمہیں جیتنے کے لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں۔”
ریحان کا چہرہ سختی اور غیرت کی آمیزش سے تپا ہوا تھا۔ اس نے نائلہ کو بلایا، دروازہ بند کیا اور نہایت ٹھوس لہجے میں کہا:
“یہ صرف تمہاری پسند ناپسند کی بات نہیں، نائلہ۔ یہ فرق صرف رتبے کا نہیں، نسلوں کا ہے۔ ہم رضوی ہیں، اور وہ…؟”
نائلہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر ریحان نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
“اب یہ سب بند کرو۔ وہ لڑکا، وہ خواب، وہ خط… سب ختم۔ تمہیں اب خود پر بھی قابو پانا ہے اور اپنے جذبات پر بھی۔”
اس رات، پہلی بار، اس نے وہ خط مکمل کیا۔
آخری بار۔
نائلہ کا خط
جب تم یہ خط پڑھ رہے ہو گے، تب شاید میری خاموشی تمہیں بہت کچھ کہہ رہی ہو گی۔
میں تم سے دور جا رہی ہوں — اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ ان راہوں پر چلتے ہوئے جن پر میرا اختیار کبھی تھا ہی نہیں۔
تم نے مجھے زندگی سے روشناس کرایا، ان لفظوں سے، جنہیں کبھی میں نے صرف کتابوں میں دیکھا تھا۔
تمہارے ساتھ بیٹھ کر مجھے لگا کہ دنیا صرف دکھائی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے۔
زریاب…
مجھے اب تم سے نہیں، خود سے جدا ہونا ہے۔
تمہیں چھوڑنا نہیں، خود کو تم سے چھیننا ہے۔
لیکن ایک دعا ہے…
تم ہمیشہ خود کو پا لینا — میرے بغیر بھی۔نائلہ نے وہ خط تہہ کیا، ایک سفید لفافے میں رکھا، اور خاموشی سے اسے اپنی کزن نرگس کے ہاتھ زریاب تک پہنچا دیا۔
“بس دینا، کہنا کوئی جواب نہ دے، صرف پڑھ لے۔”
جب پہلی بار پڑھا، تو دل میں ایک زلزلہ سا آیا۔
جب دوسری بار پڑھا، تو آنکھیں بھیگ گئیں۔
جب تیسری بار پڑھا، تو وقت جیسے تھم گیا۔
لیکن…
اس نے کبھی جواب نہیں دیا۔
نہ اس لیے کہ وہ ناراض تھا،
نہ اس لیے کہ اس کا غرور آڑے آیا —
بلکہ اس لیے کہ بعض خط صرف پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں، جواب دینے کے لیے نہیں۔
اور بعض فاصلے…
صرف وقت نہیں، خاموشی بھی طے کرتی ہے۔
“کیا نائلہ نے واقعی مجھے چھوڑا… یا وقت نے چھین لیا؟”
حتیٰ کہ ایک دن وہ اپنی کہانیوں کو ایک کتاب کی صورت میں ڈھالنے لگا۔
“وہ جو لوٹ کر کبھی نہ آیا”
تم نے جانا، میں نے نبھایا۔
تم خاموش رہیں، میں بولتا رہا۔
تم یاد بنیں، اور میں… کہانی۔
تم تھیں، مگر وقت نہ تھا۔
— زریاب”
“شاید وہ پڑھے، اور جان لے کہ میں اب بھی وہیں ہوں، جہاں وہ چھوڑ گئی تھی۔”
کتاب کا ٹائٹل دیکھتے ہی اس کا دل دھڑک اٹھا —
“وہ جو لوٹ کر کبھی نہ آیا”
وقت بدل گیا تھا، مگر احساس… وہیں کھڑا تھا۔
وہ سب کچھ تھا — بااخلاق، مہذب، ذمہ دار — مگر “زریاب” نہیں تھا۔
ریشمی پردوں کے بیچ وہ ایک چراغ جل رہا تھا — ماضی کا، خامشی کا، احساس کا۔
تم نے لفظوں میں وہ خامشی سمو دی، جو میری آنکھوں میں پلکوں کے سائے میں چھپ گئی تھی۔
زریاب، شاید ہم کبھی نہیں ملیں گے —
مگر تم میری ہر دعا میں وہ نام ہو، جو لبوں سے نہیں نکلتا، مگر دل کبھی بھولتا نہیں۔”
اس کی زندگی میں بہت سے قاری آ گئے تھے، مگر وہ قاری جس کے لیے وہ لکھتا رہا… اس کی خاموشی اب بھی قائم تھی۔
مائیک پر آواز آئی:
وہ اس وقت گھر پر تھی، بچے کو گود میں لیے، مگر دل کا دھیان ریڈیو پر تھا۔
میں نے کہا، جاؤ — مگر واپس نہ آنا۔
مگر کیا خبر تھی،
خود سے بچھڑنا بھی ایک جدائی ہوتی ہے…”
ایمن کے دل میں زریاب کے لیے جو جذبات تھے، وہ کبھی لفظوں میں نہیں ڈھلے۔
وہ جانتی تھی —
“زریاب کی روح پہلے ہی کسی اور کے ساتھ بندھی ہے۔”
“محبت صرف پانے کا نام نہیں…
بلکہ کسی کی ہر خاموش دعا میں، ہر خوشی میں، ہر سانس میں شامل ہونے کا نام ہے — بے نام ہو کر بھی۔”
“وہ چلی گئی، ایمن۔
ایسے جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو…”
زریاب مشہور لکھاری بن گیا۔
محفلوں میں چرچے، کتابوں میں اقتباسات، اور ریڈیو پر اس کی نظمیں گونجنے لگیں۔
مگر ایمن ہمیشہ پردے کے پیچھے رہی۔
نہ کبھی زریاب سے اپنے دل کی بات کہی، نہ کسی اور کو زریاب جیسا جانا۔
ایمن کی زندگی سادگی میں گزرتی رہی۔ اسکول کی اُستاد تھی، بچوں میں خوشی تلاش کر لیتی۔
مگر ہر شب، جب سب کچھ خاموش ہو جاتا، تو اس کی آنکھوں میں وہ ایک شخص آ جاتا، جو کبھی اس کی آنکھوں میں نہیں جھانکا۔
“زریاب، تم نے نائلہ کو چاہا…
اور میں نے تمہیں —
مگر تم نے دونوں کو ہی کھو دیا۔
فرق صرف یہ ہے،
نائلہ تم سے جُدا ہو کر بھی تمہارے دل میں رہی،
اور میں… تمہارے دل سے پہلے ہی باہر تھی۔”
“کچھ لوگ ہماری زندگی میں خاموشی سے شامل ہوتے ہیں —
اور اسی خامشی سے ہمیں سنبھال لیتے ہیں۔
شاید میں نے ایمن کو کبھی نہیں چاہا،
مگر جو چاہت اس نے خاموشی سے نبھائی…
وہ کسی آندھی میں بھی بکھر نہ سکی۔”
— ایمن
”
اس نے وہی کتاب جو ایمن کے تکیے کے نیچے رکھی تھی، اٹھائی —
صفحہ کھولا، جہاں اس نے ایک نظم لکھی تھی:
“کبھی کبھی، وہ جو نظر نہ آئے…
سب سے زیادہ ہمارے قریب ہوتے ہیں۔”
“محبت کبھی کبھی بہت خاموش ہوتی ہے…
لیکن جب وہ چلی جاتی ہے،
تب سب سے زیادہ شور کرتی ہے۔
ایمن، تمہاری خاموشی میرے لفظوں کی سب سے بلند صدا تھی…
اور اب تمہارا نہ ہونا —
میری زندگی کی سب سے بڑی خامشی ہے۔”
وہ اکثر شام کے وقت پرانے خط اور کتابیں پڑھتا، اور سوچتا:
“کاش وقت کو روکنا آتا، یا پھر لوٹ آتا…”
زریاب نے آہستہ کہا،
“کبھی سوچا ہے، اگر وقت نے ہمیں وہ موقع دیا ہوتا جس کا ہم خواب دیکھتے تھے؟”
نائلہ نے کچھ دیر خاموشی کے بعد کہا،
“وقت نے ہمیں الگ کیا، مگر تم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے۔”
زریاب نے اپنی آخری کتاب کا نام رکھا:
“صدا جو رہ گئی”
محبت جب دل سے نکل کر حقیقت کی دہلیز پر آتی ہے تو سب سے پہلے اس کا سامنا “فاصلوں” سے ہوتا ہے۔ نائلہ اور زریاب کی کہانی بھی اب اسی موڑ پر آ چکی تھی۔
لاہور کی خنک صبحوں میں جب یونیورسٹی کے کیفے میں دونوں ساتھ بیٹھتے، تو کتابوں سے زیادہ باتیں دل کی ہوتی تھیں۔ ادب، فلسفہ، سماج، خواب اور انسان… ان کی گفتگو کبھی ختم نہ ہوتی۔ نائلہ کی آنکھوں میں خواب ہوتے، اور زریاب کے لبوں پر اُن خوابوں کی تعبیر کے الفاظ۔
مگر وہ دونوں جانتے تھے کہ یہ خاموشی، یہ رشتہ، صرف ان دو دلوں تک محدود نہیں رہ سکتا تھا۔
نائلہ کا تعلق ایک معزز اور روایتی گھرانے سے تھا، جہاں خواب صرف اُڑنے کے لیے نہیں، تولنے کے لیے ہوتے تھے۔ اس کے والدین اور بالخصوص بھائی ریحان رضوی، خاندانی وقار اور سماجی دائرے کے سخت محافظ تھے۔ ان کے نزدیک عزت کا مطلب صرف مرتبہ اور حیثیت تھا — جذبات کی کوئی وقعت نہیں تھی۔
نائلہ خاموش رہی، مگر اندر ہی اندر ٹوٹ گئی۔
زریاب نے جب یہ سنا تو کچھ کہنے کی بجائے صرف ایک شخص سے مشورہ لیا — دادا جان۔
دادا جان، جو وقت کی آنکھوں سے محبت کے رنگوں کو سمجھ چکے تھے، ایک بوسیدہ سا لحاف اوڑھے صحن میں بیٹھے تھے۔ جب زریاب ان کے پاس پہنچا، تو وہ چائے کی پیالی تھامے، آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
“دادا جان… اگر کوئی رشتہ دل سے جُڑ جائے، مگر دنیا اس سے انکار کرے، تو کیا کرنا چاہیے؟”
زریاب کچھ دیر ان کے جملے کا مفہوم سمجھنے میں گم رہا۔
زریاب نے سر جھکا لیا۔ وہ جانتا تھا، نائلہ کا ساتھ صرف اُسے وقت دے سکتا ہے — یا قسمت۔
اگلے دن، زریاب نے نائلہ سے کہا:
“میں تم سے لڑ نہیں سکتا، تمہارے لیے خود سے بھی نہیں۔ میں تمہیں کسی کٹھن فیصلے میں نہیں ڈال سکتا، نائلہ۔ تم آزاد ہو… اگر تم چاہو تو…”
وہ لمحہ، وہ جدائی، ان دونوں کی روحوں پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی۔
محبت کبھی ختم نہیں ہوئی، مگر وقت کے ہاتھوں بے بس ضرور ہو گئی۔
محبت کبھی کبھی چیخ کر نہیں، بلکہ ایک خاموش خط کی صورت میں بچھڑتی ہے — ایک ایسا خط جس میں صرف الفاظ نہیں، بلکہ سسکیاں چھپی ہوتی ہیں۔ نائلہ کا خط بھی کچھ ایسا ہی تھا۔
نائلہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ دروازہ بند کیا، آنکھوں سے آنسوؤں کا بندھن ٹوٹا اور اس نے ایک بار پھر وہ چاندی سی چٹھی کھولی جو اس نے پہلے کبھی زریاب کے لیے لکھی تھی — مگر کبھی بھیجی نہیں تھی۔
“زریاب…
مگر شاید یہی میری بھول تھی — میں نے حقیقتوں کی دنیا میں خواب بسا لیے۔
نائلہ”
زریاب کے ہاتھوں میں جب وہ خط آیا، وہ دیر تک صرف اسے دیکھتا رہا۔ جیسے کوئی آئینہ ہو، جس میں وہ خود کو تلاش کر رہا ہو۔
وہ جانتا تھا، خط میں صرف جدائی نہیں، ایک پوری محبت دفن تھی۔
محبت کی سب سے خاموش انتہا وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان وہ سب حاصل کر لیتا ہے، جس کا خواب اس نے کسی کے ساتھ دیکھا تھا — مگر اس “کسی” کے بغیر۔
زریاب کا کمرہ اب ایک ادبی خلوت کدہ بن چکا تھا۔ دیواروں پر کتابیں، میز پر کاغذ، اور دل میں وہی ایک سوال:
زندگی ایک معمول میں ڈھل چکی تھی، مگر اس معمول میں ایک کمی تھی — نائلہ کی آواز، اس کی ہنسی، اس کی خامشی۔
زریاب نے خود کو علم، ادب، اور الفاظ میں پناہ دی۔ اور انہی لفظوں سے ایک کہانی بنی، پھر دوسری، پھر تیسری…
کتاب کا نام رکھا گیا:
یہ صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں تھا — یہ اس کی زندگی کا آئینہ تھا۔ ہر کہانی میں نائلہ کا عکس تھا، اس کی باتیں، اس کی خاموشیاں، اور وہ سب کچھ جو کبھی کہا نہیں گیا۔
کتاب چھپ گئی۔
پہلی کاپی ہاتھ میں آئی تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے کتاب کے اندر صفحۂ آغاز پر ایک مختصر سا نوٹ لکھا:
“نائلہ کے نام
اس نے وہ کتاب ایک سادہ پیکٹ میں رکھ کر ڈاک کے ذریعے نائلہ کے پتے پر بھیج دی۔ وہی پرانا پتہ، وہی پرانا محلہ۔
دل میں ایک خواہش جاگی —
نائلہ نے وہ کتاب شام کے وقت وصول کی، جب ریحان اور باقی سب کسی تقریب میں گئے ہوئے تھے۔
پیکٹ کھولتے ہی جیسے برسوں پرانا عکس آنکھوں کے سامنے آ گیا۔
صفحات الٹائے، اور ابتدائی نوٹ پر نظریں جم گئیں۔
وہ الفاظ نہیں تھے، جیسے زریاب نے اس کی خامشی کو پڑھ لیا ہو۔
نائلہ نے کتاب کو گود میں رکھا، آنکھیں بند کیں، اور ایک طویل، اداس سانس لی۔
اس رات نائلہ نے کتاب کی ہر کہانی پڑھی۔ اور ہر کہانی کے بعد جیسے کوئی بند دروازہ کھلتا گیا۔
دور کہیں، زریاب اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھا آسمان کو تک رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ آج کسی نے اس کے لفظوں کو دل سے پڑھا ہے۔
وقت ہر زخم کو بھرتا ہے — یا شاید صرف ڈھک دیتا ہے۔ نائلہ اور زریاب کے بیچ وہ لمحہ بھی آیا، جو نہ چاہتے ہوئے بھی، دونوں کے نصیب میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو گیا۔
نائلہ کی شادی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔ اس کی زندگی اب شوہر اور ایک بیٹے کے گرد گھومتی تھی۔ ریحان، جو کبھی اس کا محافظ تھا، اب اس کے شوہر کا کردار نبھا رہا تھا۔
کبھی کبھار جب نائلہ اکیلی ہوتی، تو وہ بے آواز ہو کر آنکھیں بند کر لیتی۔ تب دل میں زریاب کی آواز گونجتی:
“تم تھیں، مگر وقت نہ تھا”
اس رات جب نائلہ نے زریاب کی کتاب پڑھی، تو دل میں ایک طوفان اٹھا تھا۔
صبح ہوتے ہی اس نے پرانی ڈائری نکالی، وہی جس میں وہ کبھی نظم لکھا کرتی تھی۔
ایک صفحہ کھولا اور لکھا:
“تمہاری کہانیوں نے وہ سب کہہ دیا، جو میں برسوں نہ کہہ سکی۔
دوسری طرف، زریاب اپنی کتاب کی کامیابی سے خوش تو تھا، مگر ایک خالی پن اب بھی دل میں زندہ تھا۔
ایک دن جب وہ ایک لائبریری میں لیکچر دے رہا تھا، ایک نوجوان لڑکی نے پوچھا:
“سر، آپ کی کہانیوں میں اتنا درد کہاں سے آتا ہے؟”
زریاب نے مسکرا کر جواب دیا:
“جہاں درد ہی زندگی ہو، وہاں لفظ دعا بن جاتے ہیں۔”
چند دن بعد، نائلہ نے ایک مشاعرہ سنا۔
“پیش خدمت ہے شاعرِ دل شکستہ، زریاب احمد۔”
نائلہ کا دل کانپ گیا۔
زریاب نے نظم سنائی:
“تم نے کہا تم جا رہی ہو،
نائلہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ جانتی تھی، یہ نظم صرف لفظ نہیں — ایک صدا تھی، جو وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر پلٹ آئی تھی۔
اور یوں، وہ لمحہ — جب زریاب نے پہلی بار نائلہ کے لیے لکھا، اور نائلہ نے پہلی بار آنکھ بھر کے اسے سنا — وہی لمحہ ان دونوں کا “مقدر” بن گیا۔
نہ وہ لمحہ کبھی مکمل ہوا، نہ وہ صدا کبھی خاموش۔
ایمن… وہ نام جو اکثر زریاب کی زندگی کے ہنگاموں میں دب جاتا تھا، مگر اس کی خامشی میں ہمیشہ موجود رہتا تھا۔
ایمن زریاب کی بچپن کی دوست تھی۔ وہ ساتھ کھیلتے، پڑھتے، خواب بُنتے، ایک دوسرے کو چھیڑتے، اور اکثر خاموش ہو جاتے — خاص طور پر جب زریاب نائلہ کا نام لیتا۔
مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ:
زریاب جب نائلہ سے جدا ہوا، ایمن نے اسے کبھی سوالوں میں نہیں الجھایا۔ وہ ہمیشہ ایک ہمدرد دوست بنی رہی، ایک وہ کندھا جس پر زریاب آنکھوں کے نمکین زخم اتار دیتا تھا۔
اکثر جب زریاب رات گئے فون کرتا، تو ایمن صرف سنتی — بنا کسی رائے، بنا کسی شکوے کے۔
ایمن دل میں ٹوٹ جاتی، مگر آواز میں مسکراہٹ رکھتی:
“کچھ لوگ ہمیں مکمل نہیں کرتے، ہمیں مکمل کرنے کے لیے ادھورا چھوڑ جاتے ہیں، زریاب۔”
سالوں بیت گئے۔
ہر سال زریاب کی سالگرہ پر وہ ایک سفید لفافے میں چھوٹی سی نظم لکھ کر بھیجتی، جس پر نام نہیں ہوتا تھا — صرف یہ لکھا ہوتا:
“خامشی، کبھی کبھی سب کچھ کہہ دیتی ہے…”
زریاب ہر سال وہ نظم پڑھتا، لمحہ بھر رکتا، مسکراتا، اور فائل میں رکھ دیتا — جیسے جانتا ہو، کس نے بھیجی ہے… مگر پھر بھی کچھ نہ کہتا۔
ایک دن زریاب نے اپنی ڈائری میں لکھا:
وقت… وہ جو گزر جائے تو صرف لمحے نہیں، زندگیاں بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ اور جب وہ لوٹ کر آتا ہے، تو یا آنکھیں بھیگتی ہیں یا دل ویران ہو جاتا ہے۔ زریاب کے لیے وقت لوٹا، لیکن کچھ ایسا لے کر آیا جس نے اسے اندر سے توڑ دیا۔
یہ خزاں کی ایک خاموش شام تھی۔
زریاب اپنے کمرے میں بیٹھا، اپنی نئی کتاب کے مسودے کو ترتیب دے رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ باہر اس کا پرانا دوست بلال کھڑا تھا۔ چہرہ بجھا ہوا، آنکھوں میں کوئی ان کہی بات۔
زریاب نے دروازہ کھولا، مسکرایا:
“ارے بلال! اتنے دن بعد؟ خیریت تو ہے؟”
بلال خاموش رہا، پھر آہستہ بولا:
“زریاب… ایمن نہیں رہی۔”
یہ جملہ جیسے وقت کو روک گیا۔ ہوا کی رفتار سست ہو گئی، دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی، اور ایک بے آواز چیخ زریاب کے اندر گونجی۔
“کیا؟”
“دو دن پہلے ہارٹ اٹیک ہوا۔ اسپتال لے گئے، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ کسی کو کچھ پتا نہیں تھا، وہ اکیلی تھی… بس تمہاری ایک کتاب تکیے کے نیچے تھی، اور ایک خط… جو تمہارے لیے تھا۔”
زریاب کا ہاتھ کانپ گیا جب بلال نے وہ سفید لفافہ اسے تھمایا۔
خط پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا، سوائے اس کے:
“آخری بار… صرف تمہارے لیے۔”
زریاب نے لرزتے ہاتھوں سے خط کھولا:
“زریاب،
میں نے کبھی تم سے کچھ مانگا نہیں، سو اب بھی کچھ نہیں مانگ رہی۔
بس شکریہ کہنا تھا — ان لمحوں کا، ان لفظوں کا، جنہوں نے مجھے زندہ رکھا، حالانکہ تم کبھی میرے نہ ہوئے۔
تمہیں پکارنا چاہا، مگر خامشی نے روک دیا۔
میں وہ نظم ہوں جو تم نے کبھی پڑھی نہیں، صرف سنی…
مگر محبت، سننے سے زیادہ محسوس کرنے کا نام ہے — اور تم نے کبھی میرے ہونے کو محسوس نہیں کیا۔
لیکن پھر بھی، میں دعا گو ہوں — کہ تم جہاں بھی رہو، تمہیں وہ شخص ضرور ملے جو تمہیں ایسے چاہے… جیسے میں نے چاہا۔
زریاب وہ خط لے کر دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ آنکھوں سے کوئی آنسو نہ گرا، مگر دل جیسے خالی ہو گیا ہو۔
“ایمن… تم چلی گئیں، اور اب مجھے پہلی بار محبت کی اصل شدت کا احساس ہو رہا ہے۔”
زریاب نے اپنے اگلے کالم میں لکھا:
وقت کی چال کبھی نرم کبھی بے رحم ہوتی ہے۔ زریاب کی زندگی میں جو درد، خاموشی اور محبت کا سمندر تھا، وہ اب ایک گہری صدا بن کر رہ گیا تھا — ایک ایسی صدا جو گونجتی تو ہے مگر جواب نہیں دیتی۔
زریاب نے ایمن کے جانے کے بعد زندگی کو نئے انداز سے دیکھا۔ اس کا قلم پہلے سے زیادہ درد میں ڈوبا، اور ہر لفظ میں خاموشی کا ایک ساحل نظر آتا۔
ایک دن، جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، اس کی نظر ایک پرانے خط پر پڑی جو نائلہ نے اسے بھیجا تھا۔
خط کے الفاظ میں اب بھی وہی مٹھاس اور درد تھا جو کبھی دل کو چھو گئے تھے۔
زریاب نے فون اٹھایا اور نائلہ کو کال کی۔
نائلہ کی آواز تھی نرم مگر کچھ جھجھک کے ساتھ۔
“زریاب، تم نے کتاب بھیجی تھی… پڑھ لی۔”
اس دن سے، زریاب اور نائلہ کے درمیان جو رابطہ ٹوٹ چکا تھا، وہ دوبارہ جڑنے لگا۔ ماضی کے درد، یادوں کے زخم، سب کچھ آہستہ آہستہ مٹنے لگا۔
مگر ایمن کی خاموش قربانی کا درد، جو اس کے دل میں ہمیشہ زندہ رہا، کبھی نہیں مٹا۔
یہ کتاب ایمن، نائلہ اور ہر اس محبت کو خراج تحسین تھی جو کبھی مکمل نہ ہو سکی، مگر ہمیشہ زندہ رہی۔
زندگی کا ہر سفر مکمل نہیں ہوتا، کچھ تو مسافتیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ مگر یہی ادھورے سفر، ادھورے وعدے، اور ادھوری محبتیں انسان کو مکمل کرتی ہیں۔
زریاب کی زندگی کی سب سے بڑی جیت یہ تھی کہ وہ محبت میں سچا رہا، چاہے وقت نے اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Mazi Ka Dard ماضی کا درد” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.