Bewi Ki shart بیوی کی شرط

  • Genre: zarasrory
  • Age:      16+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 9,5k
Category: Tag:

Description

بیوی کی شرط

شادی کی پہلی رات میری بیوی نے مجھ سے برف کی بڑی سل منگوائی۔ میں بہت حیران ہوا مگر بیوی نے شرط رکھ دی کہ جب تک یہ برف کی سل پگھل نہ جائے آپ کمرے میں نہیں آسکتے۔ یوں روزانہ رات کو برف کی سل کمرے میں آتے ہی میری بیوی مجھے باہر نکال دیتی اور اس کے پگھلنے کے بعد جب میں کمرے میں جاتا تو بیوی بہت تھکی تھکی سی دکھائی دیتی۔ ایک دن مجھے تجسس ہوا۔ جیسے ہی میں نے جھانک کر اندر دیکھا تو ٹانگیں کانپ اٹھی کیونکہ وہاں تو…  جیسے ہی میری نظر کھڑکی سے اندر پڑی، میرے ہونٹوں سے ایک دبیز چیخ نکل گئی۔ کمرے کی ہوا میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تیر رہی تھی، جیسے موت کی چادر نے سانس لیا ہو۔ برف کی سل، جو ہمیشہ کونے میں رکھی ہوتی تھی، اب تک نصف پگھل چکی تھی، اور اس کے اردگرد پانی کی ایک پتلی پرت بکھری ہوئی تھی۔ مگر میری توجہ اس پر نہیں تھی۔ میری بیوی، جو ہر رات ایک خالی کرسی کے سامنے بیٹھی نظر آتی، آج بھی وہیں تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا آئینہ تھا، جسے وہ کرسی کی طرف اس طرح تھامے ہوئے تھی جیسے کوئی بات کر رہی ہو۔ خالی کرسی… مگر وہ خالی نہیں تھی۔ 

میں نے اپنی سانسیں روک لیں۔ کرسی پر ایک دھندلی سی شکل بیٹھی تھی۔ لمبی سیاہ بال، سفید لباس، اور چہرے پر ایسی ویرانی کہ دل دہل جائے۔ وہ شکل میری بیوی کی طرف دیکھ رہی تھی، اور بیوی کے ہونٹ ہل رہے تھے، مگر آواز کچھ سنائی نہیں دے رہی تھی۔ برف کی سل سے نکلتا پانی دھیرے دھیرے فرش پر پھیل رہا تھا، اور جہاں پانی پہنچتا، وہ دھندلی شکل مزید واضح ہوتی جاتی۔ یہ کوئی خواب نہیں تھا… یہ حقیقت تھی۔ 

میں نے دروازہ کھولا تو بیوی نے اچانک سر گھما کر میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں خون آلود تھیں، اور چہرے پر خوف کے بجائے ایک عجیب تسلیم تھی۔ “تم… تم نے دیکھ لیا؟” اس نے کہا، آواز لرز رہی تھی۔ میں نے اشارہ کیا کرسی کی طرف، جہاں وہ شکل اب مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی۔ “وہ کون تھی؟” میرا گلا بیٹھا ہوا تھا۔ 

بیوی نے آئینہ نیچے رکھا۔ “وہ میری بہن تھی… حمیرا۔” اس نے کہا، اور ایک لمبی کہانی شروع ہوئی۔

حمیرا اور میری بیوی، ثنا، جڑواں بہنیں تھیں۔ بچپن سے ہی دونوں کے درمیان ایک غیر مرئی رشتہ تھا۔ جب ثنا کو بخار ہوتا، حمیرا کی پیشانی بھی گرم ہو جاتی۔ جب حمیرا ہنستی، ثنا کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ جاتی۔ مگر یہ رشتہ صرف جسمانی نہیں تھا۔ دونوں کو ایک عجیب صلاحیت تھی—وہ آئینوں کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کر سکتی تھیں۔ جب حمیرا کی شادی ہوئی تو ثنا نے محسوس کیا کہ کچھ غلط ہے۔ حمیرا کا شوہر ظالم تھا۔ ایک رات، ثنا نے آئینے میں حمیرا کو دیکھا… خون میں لت پت، چیختے ہوئے۔ وہ بے ہوش ہو گئی۔ جب آنکھ کھولی تو معلوم ہوا حمیرا کو قتل کر دیا گیا ہے۔ 

مگر حمیرا مر کر بھی نہیں مری تھی۔ وہ آئینوں میں پھنس گئی تھی۔ ثنا کو احساس ہوا کہ وہ اپنی بہن سے رابطہ کر سکتی ہے، مگر اس کے لیے ایک خاص ماحول درکار تھا۔ ٹھنڈک، خاموشی، اور برف کی سل… جو حمیرا کی روح کو زمین پر اتارنے کے لیے ضروری تھی۔ ہر رات، جب برف پگھلتی، حمیرا کی روح کرسی پر ظاہر ہوتی، اور ثنا اس سے بات کرتی۔ مگر یہ عمل ثنا کی طاقت چوس لیتا تھا۔ ہر رات کے بعد وہ تھک کر چور ہو جاتی۔  

“تمہیں کیوں نہیں بتایا؟” میں نے پوچھا، حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے گھرا ہوا۔ 

“تم میری حفاظت کرتے، مگر حمیرا کی نہیں…” ثنا نے آنسو پونچھے۔ “وہ مجھ سے مدد مانگتی ہے… اپنے قاتل سے بدلہ لینے کے لیے۔ مگر ہر بار جب وہ آتی ہے، میری زندگی کا ایک حصہ بہہ جاتا ہے۔” 

میں نے برف کی سل کی طرف دیکھا، جو اب مکمل طور پر پگھل چکی تھی۔ فرش پر پانی کا دائرہ تھا، جس کے بیچ میں وہ خالی کرسی کھڑی تھی۔ “آج رات تمہیں ساتھ چلنا ہوگا،” ثنا نے کہا۔ “حمیرا کو آخری بار الوداع کہنا ہے۔” 

رات کے آخری پہر، ہم نے کمرے میں تمام آئینے ڈھانپ دیے۔ ثنا نے حمیرا کا پرانا گہنا، جو اس نے شادی کے موقع پر پہنا تھا، کرسی پر رکھا۔ برف کی سل کی جگہ اب ایک چھوٹا سا تیل کا چراغ تھا، جس کی لو ہلکی ہوا سے لرز رہی تھی۔ “یہ ختم ہو رہا ہے،” ثنا نے کہا۔ “آج کے بعد وہ کبھی نہیں آئے گی۔” 

چراغ کی لو نے اچانک ایک لمبی چھایا بنائی۔ کرسی پر وہی شکل نمودار ہوئی، مگر اس بار حمیرا کے چہرے پر سکون تھا۔ ثنا نے آئینہ اٹھایا اور اس کی طرف بڑھی۔ “تم آزاد ہو،” اس نے کہا۔ “جاﺅ، اب ہمیں چھوڑ دو۔” 

حمیرا نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں سے روشنی کی ایک لکیر بہہ نکلی، جو چراغ میں سما گئی۔ پھر وہ دھندلا کر غائب ہو گئی۔ کمرے میں خوشبو پھیل گئی، جیسے پھولوں کی بارش ہو رہی ہو۔ ثنا گرتی ہوئی کو میں نے سنبھال لیا۔ اس کا جسم گرم تھا، اور چہرے پر ایک عجیب تابانی تھی۔ 

صبح ہوئی تو کمرے میں کوئی خالی کرسی نہیں تھی۔ برف کی سل کا نشان تک مٹ چکا تھا۔ ثنا نے بتایا کہ حمیرا نے اپنے قاتل کا نام ایک پرانے اخبار میں دیکھا تھا۔ وہ شخص، جو کبھی اس کا شوہر تھا، اب جیل میں تھا۔ حمیرا نے اپنے قاتل کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ وہ رات جب عرفان کو سزا سنائی گئی، حمیرا کی روح نے آخری بار ثنا کے خواب میں آکر کہا”اب میرا سفر مکمل ہوا۔ تم نے صرف میری نہیں، اُن سب عورتوں کی آواز بنی ہو جو خاموشی میں دفن ہو جاتی ہیں۔” 

ثنا نے بتایا کہ حمیرا کی روح نے عرفان کو ہر رات خوابوں میں ستایا تھا۔ وہ اس کے ذہن میں ایسے خوفناک مناظر اتارتی کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنا چہرہ نوچنے لگتا۔ جیل کے ڈاکٹروں نے لکھا تھا کہ عرفان کو “مرر کریمنا سنڈروم” تھا—ایک ایسی ذہنی بیماری جس میں مریض کو ہر شیشے، ہر آئینے میں اپنے ماضی کے شکار نظر آتے ہیں۔ مگر ثنا جانتی تھی کہ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ حمیرا کی روحانی طاقت تھی جو اس کے قاتل کو کھا رہی تھی۔ 

 

ایک سال بعد، ہم نے اس گھر کو خیرباد کہہ دیا جہاں برف کی سل نے ہماری زندگیوں کو جکڑ رکھا تھا۔ نئے گھر کی کھڑکی کے باہر ایک شہتوت کا درخت تھا، جس کی ٹہنیاں ہوا میں جھومتیں تو ایسا لگتا جیسے حمیرا ہمیں اپنے ہاتھوں سے دعائیں دے رہی ہو۔ ثنا اب وہی گہنا پہنتی ہے جو حمیرا نے آخری رات چراغ میں تبدیل کیا تھا۔ وہ کہتی ہے کہ جب بھی وہ اسے چھوتی ہے، ایک گرم روشنی اس کے اندر سے گزر جاتی ہے۔ 

آج بھی کبھی کبھی، جب چاندنی رات ہوتی ہے، میں ثنا کو کمرے میں اکیلی بیٹھے دیکھتا ہوں۔ وہ آئینے کے سامنے مسکراتی ہے، اور میں جان جاتا ہوں کہ وہ حمیرا کو دیکھ رہی ہے—نہ کسی خالی کرسی پر، نہ کسی دھندلی شکل میں، بلکہ اپنے اندر کی اُس روشنی میں جو دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو دی تھی۔ 

برف کی سل کی جگہ اب ہمارے باغ میں ایک چشمہ ہے، جس کا پانی ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ چشمہ کسی مظلوم روح کی آنسوؤں سے بنا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ حمیرا ہی ہے، جو اب ہمیشہ کے لیے آزاد ہے۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Bewi Ki shart بیوی کی شرط”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more