Dakouin ki Hawas Teen Khubsurat Auratein تین خوبصورت عورتیں ڈاکوں کی ہوس

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 33.6k
Category: Tag:

Description

ڈاکوں کی ہوس

تین خوبصورت عورتیں

موسمِ برسات کی پہلی بارش تھی جب نیلا گاؤں کے کھیتوں پر دھند کی چادر تنی ہوئی تھی۔ ہوا میں گیلی مٹی کی خوشبو تھی، اور کہیں دور سے بیلوں کے گھنٹوں کی آواز آ رہی تھی۔ یہ گاؤں اپنے نیلے پہاڑوں اور چاندی کی طرح بہتے دریاؤں کی وجہ سے مشہور تھا، مگر آج اس کی فضا میں ایک عجیب بے چینی تیر رہی تھی۔ گاؤں کے مغربی کنارے پر اکیلا کچا مکان، جس کی دیواریں مٹی سے لیپے ہوئے تھے، اس میں رہنے والی عورت “سارا” کو سب “لوہے والی عورت” کہتے تھے۔ اُس کے ہاتھوں میں ہل چلاتے ہوئے بھی وہ طاقت تھی جو کسی مرد کو شرمسار کر دے۔ اُس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو درد کے بعد جنم لیتی ہے—جب اُس کے شوہر کو دو سال پہلے ڈاکوؤں نے اُس کے سامنے گولی مار دی تھی۔ 

سارا نے اُس دن سے کبھی گھر کا دروازہ بند نہیں کیا۔ کہتی تھی: “ڈر وہ مر جاتا ہے جو اپنے سائے سے بھاگتا ہے۔” مگر آج جب سورج ڈھلنے لگا، تو گاؤں کے راستوں پر گرد کے بادل اُٹھے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز نے فضا کو چیرا—ڈاکو آ گئے تھے۔ یہ کوئی عام ڈاکو نہیں تھے۔ ان کا سردار، جسے لوگ “کالا جادوگر” کہتے تھے، اُس کی پیشانی پر زخم کا نشان تھا جو سارا کے شوہر کی گولی کا تحفہ تھا۔ اُس نے آج بدلہ لینا تھا۔ 

ڈاکوؤں نے گاؤں کو گھیر لیا۔ عورتیں چیختے ہوئے گھروں میں بھاگیں، مگر دروازے توڑ دیے گئے۔ کالے جادوگر نے ہنستے ہوئے حکم دیا: “ہر گھر… ہر عورت… کوئی نہیں بچے گا۔” گاؤں کی ہوا میں چیخوں کا شور تھا، کپڑوں کے پھٹنے کی آواز تھی، مگر سارا کے گھر کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ چولہے کے پاس بیٹھی روٹی پکا رہی تھی۔ اُس کے ہونٹوں پر ایک عجیب سکون تھا، جیسے وہ کسی انتظار میں ہو۔ 

ڈاکو کے پیروں کی آہٹ نے اُسے خبردار کیا۔ وہ ایک نوجوان ڈاکو تھا، جس کی آنکھوں میں وحشت تھی۔ اُس نے سارا کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگا: “تمہاری باری ہے، بیوہ!” سارا نے آہستہ سے چولہے سے آگ والا لوہا اُٹھایا۔ ڈاکو نے اُس کے کپڑے پکڑے—اور پھر ایک چیخ گونجی۔ لوہا اُس کے سینے میں اتر گیا۔ سارا نے اُسے گرتے دیکھا، پھر چاقو اُٹھایا اور ایک ہی وار میں سر تن سے جدا کر دیا۔ خون سے لت پت ہاتھوں نے اُس سر کو گھر کے کونے میں پڑے ٹوکری میں رکھ دیا۔ “تمہارے سردار کو پیغام دے دوں گی،” اُس نے سر سے کہا۔ 

ڈاکو چلے گئے تو گاؤں کی عورتیں سڑکوں پر نکل آئیں۔ ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، بال بکھرے ہوئے۔ کوئی رو رہی تھی، کوئی خاموش تھی۔ فاطمہ، جو گاؤں کے مُنشی کی بیٹی تھی، اپنی چادر سے چہرہ چھپائے زور زور سے روتے ہوئے بولی: “ہماری عزتیں مٹی میں مل گئیں!” اتنے میں سارا اپنے گھر سے نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں خون سے بھری ٹوکری تھی، اور چہرے پر وہی چمک۔ عورتیں خاموش ہو گئیں۔ فاطمہ نے کانپتے ہاتھوں سے پوچھا: “یہ… یہ کیا ہے؟” 

سارا نے ٹوکری کو زمین پر رکھا۔ ڈاکو کا سر سب کے سامنے تھا۔ “تم سب نے کیوں ہار مان لی؟” اُس کی آواز میں غصہ تھا، “کیا تمہارے بدن میں خون نہیں، یا تمہاری رگوں میں آگ؟” 

عورتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ شمسی، جو کبھی سارا کی سب سے قریبی سہیلی تھی، بولی: “ہم میں تمہاری طرح ہمت نہیں… ہماری کمزوری ہماری بربادی بن گئی۔” 

سارا نے سر اُٹھایا: “کمزوری انتخاب ہے۔ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی عزتیں ڈاکوؤں کے حوالے کیں۔” 

فاطمہ نے اچانک چیخ کر کہا: “تمہیں کیا پتا ہم نے کیا سہا؟ تم تو اکیلی ہو… ہمارے بچے ہیں، شوہر ہیں۔ اگر ہم مر گئیں تو ان کا کیا ہوگا؟” 

سارا نے ٹوکری میں سے سر نکال کر عورتوں کے سامنے پھینکا: “تمہارے بچوں کو تمہاری بے عزتی پر فخر ہوگا؟ تمہارے شوہر تمہیں معاف کریں گے؟” 

خاموشی چھا گئی۔ پھر شمسی نے آہستہ سے کہا: “ہم… ہم نے سوچا تھا تم بھی ہماری طرح ہو گی۔ مگر تم نے تو سب کو شرمسار کر دیا۔” 

فاطمہ نے اچانک اُٹھ کر سارا کے بال پکڑے: “تمہاری وجہ سے ہماری بے غیرتی عیاں ہو جائے گی! تمہیں ختم کرنا ہوگا!” 

عورتوں کا ہجوم اُبھرا۔ کوئی لاٹھی لے کر آیا، کوئی پتھر۔ سارا نے مزاحمت نہیں کی۔ اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب تسکین تھی، جیسے وہ اپنی قسمت جانتی ہو۔ پتھروں کی بوچھاڑ ہوئی۔ خون نے گلی کی مٹی کو سرخ کر دیا۔ 

گاؤں والے شام کو واپس آئے تو عورتیں روتی ہوئی ملیں۔ “ڈاکوؤں نے سارا کو مار ڈالا،” شمسی نے روتے ہوئے کہا، “وہ ہماری عزت بچانے کے لیے لڑی مگر…” مردوں نے سارا کی لاش کو دیکھا جو دریا کے کنارے پڑی تھی۔ اُس کے ہاتھ میں ڈاکو کا سر تھا۔ 

مگر کسی نے دریا کے پار دیکھا—کالا جادوگر اپنے گھوڑے پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ اُس نے سارا کی لاش کی طرف دیکھا اور ہاتھ ہلا کر کہا: “شکریہ، بیوہ۔ تم نے میرا بدلہ لے دیا۔” 

گاؤں والوں نے سارا کو دفنایا نہیں—اُس کی لاش کو دریا میں بہا دیا، تاکہ کوئی ثبوت نہ رہے۔ مگر اگلے دن دریا کا پانی سرخ ہو گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ سارا کا سایہ پانی پر تیر رہا ہے، اور اُس کے ہاتھ میں اب بھی وہ سر ہے۔ 

آج بھی جب کسی گاؤں میں ڈاکو داخل ہوتے ہیں، تو بوڑھے کہتے ہیں: “خبردار، کوئی سارا نہ جنم لے لے۔” مگر سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانے میں سارا جیسی عورتیں خاموشی سے مٹ جاتی ہیں… کیونکہ معاشرہ اپنی ذلت کو عزت سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ 

**اختتام**

کہانی پسند آئی ہو تو کمنٹ اور شیر کرنا نہ بھولیں ۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Dakouin ki Hawas Teen Khubsurat Auratein تین خوبصورت عورتیں ڈاکوں کی ہوس”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more