اپنی بات مکمل کرنے کے بعد میرے شوہر نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں حیران ہو کر ان کو دیکھ رہی تھی تھوڑی دیر یوں ہی بنا نگاہیں ہٹائے ان کے چہرے کو دیکھتی رہی مجھے امید تھی کہ شاید وہ اپنے سوال یا بات کی وضاحت کریں گے لیکن وہ اس انتظار میں تھے کہ میں ان سے کوئی سوال کروں ؟
کچھ لمحے خاموشی کے بعد جب ان کی طرف سے کوئی وضاحت نہ ائی تو میں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ؟
تو میری بات سن کر انہوں نے کہا کہ میری والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ سفر کے قابل نہیں ہے میں ان کو یہاں اس حالت میں چھوڑ کر حج پر نہیں جا سکتا اللہ تعالی دلوں کے حال جاننے والا ہے اللہ تعالی نے اگر میری والدہ کو صحت عطا کی تو میں اگلی بار اپنی والدہ اور اپ کے ساتھ حج کو جاؤں گا میرے شوہر کی بات مکمل ہوئی تو میں نے مزید کوئی سوال کیے بغیر ان کو کہہ دیا جیسے اپ کی مرضی جیسے اپ کی رضا میں ویسے راضی ہوں جب میں نے اتنی بات کی تو میں نے دیکھا کہ میرے شوہر کی انکھیں نم ہو گئی ہیں انہوں نے مجھے اپنے قریب کیا میرے ماتھے پہ بوسہ دیا اور میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا شکریہ
میرا نام ضلے ہما ہے میں اس وقت اپنی فیملی کے ہمراہ سویٹزرلینڈ کے علاقے بیلنزونا میں مقیم ہوں میرے شوہر یہاں ائی ٹی کی فیلڈ میں انجینیئر ہیں میرے بیٹے نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے لیے ائی ٹی کی فیلڈ کو چن رکھا ہے جب کہ میری بیٹی نے ایم بی بی ایس کیا ہوا ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ الحمدللہ ہم لوگ بہترین انداز میں یہاں سیٹ ہیں
اب جب ہم اپنے بچوں کی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں تو ہم دونوں میاں بیوی نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس بار حج کو چلیں گے اس کے ساتھ ہی میرے میاں نے مجھے کہا کہ تم اپنے والدین کو بھی وہاں بلا لو میرے والدین کے حج کے اخراجات بھی میرے میاں نے ہی ادا کیے اور کہا کہ وہاں ہی ان سے ملاقات ہو جائے گی اور پھر واپسی پر ان کے ساتھ پاکستان چلے جائیں گے ایک دو ہفتے وہاں رکیں گے اور پھر واپس بچوں کے پاس ا جائیں گے یوں اپنے میاں کے کہنے پر میں نے اپنے والدین کو بھی اپنے فیصلے سے اگاہ کر دیا لیکن اب اچانک میرے میاں نے حج پر جانے سے روکا تو مجھے تھوڑا عجیب لگا لیکن بہرحال میرے والدین نے میری ایسی پرورش کی ہے کہ میں نے ہمیشہ اپنے شوہر کے ہر حکم کی تعمیل کی ہے اور پھر اللہ تعالی کی قدرت ایسی رہی ہے کہ میرے میاں نے کبھی مجھے بے جا پابندی کا شکار نہیں کیا انہوں نے ہمیشہ میری رائے کو مقدم رکھا ہے اب کی بار بھی جب انہوں نے بات کی تو انہوں نے میری رائے ہی لی تھی اگر میں کہتی کہ لازمی جانا ہے تو شاید پھر وہ اس کا کوئی نہ کوئی اور حل نکال لیتے؟
خیر میں نے جب اپنے اس فیصلے سے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو اگاہ کیا تو سب کو بڑی حیرت ہوئی مگر میں نے ان کو مضبوط لہجے میں کہا کہ اگر میرے میاں نہیں ا سکتے تو میں ان کے علاوہ نہیں اؤں گی میں ان کے ساتھ ہی حج پہ ہوں گی باقی لوگوں نے میری بات سمجھ لی لیکن میری بڑی بہن نے مجھے میرے میاں کے خلاف کرنا شروع کر دیا
انہوں نے پہلے حیران ہو کر مجھے کہا کہ تمہارے شوہر نے انکار کیوں کیا ہے ؟
میں نے اس کو وجہ بتائی تو اس نے الٹا میری ساس کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مجھے بھڑکانے کے لیے بتایا کہ تم اپنا ماضی بھول گئی ہو کس طرح تم پر الزامات لگائے گئے تھے یہاں تک کہ تمہارے خلاف پولیس میں چوری کی شکایت درج کروائی گئی تھی مگر اس کے باوجود تم نے اپنی اسی ساس کی خاطر حج پر نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی خاطر تمہیں اور ہم سب کو پولیس سٹیشن کا منہ دیکھنا پڑا تھا یہ ایک حیران کن بات ہے اس عورت کی تو ہر ممکن یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ تمہیں کوئی اچھا کام نہ کرنے دے اور تم ہو کہ تم ہر بار اس کی باتوں میں اور اس کی چال میں ا جاتی ہو
جب میری بہن کی بات مکمل ہوگی تو میں نے اپنی بہن کو تھوڑے سخت لہجے میں کہا کہ اج کے بعد میرے گھریلو معاملات کے بارے میں مجھے مشورہ نہ دینا میں تم سے مشورہ نہیں مانگا اور نہ ہی میں اپنی ساس کے کہنے پر رکی ہوں مجھے میرے شوہر نے حکم دیا ہے اور یہ میرے اللہ تعالی کا حکم ہے کہ میں اپنے شوہر کے حکم کو تسلیم کروں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر میری ساس بھی مجھے کہتی کہ وہ بیمار ہے اور اسے کسی خدمت گار کی ضرورت ہے تو میں رک جاتی میرے ساتھ جو کچھ ہوا وہ غلط تھا یا صحیح میں نے اس فیصلے کو خدا پر چھوڑا تھا اور اپنے ساتھ ہوئے ہر ظلم پر صبر کر لیا تھا میرے اللہ نے مجھے میرے صبر کا بہترین صلہ دیا میں اج جس مقام پر کھڑی ہوں یہاں میرے رشتہ داروں میں سے میری دوستوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں پہنچ سکی ایک عرصے تک میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالی کی ذات پر چھوڑ رکھا پھر ایک دن میں نے ایک حدیث شریف پڑھی جس میں معاف کر دینے کے متعلق اجر کا ذکر کیا گیا تھا میں نے اس دن کے بعد اپنے ساتھ ہوئی ہر زیادتی کو معاف کر دیا اور یہ سب کچھ میں نے فقط اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا اب جب میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے سب کچھ بھلا چکی ہوں معاف کر چکی ہوں پھر میں کیسے اپنے دل میں اپنی ساس کے لیے بغض رکھ سکتی ہیں میری بہن نے میرے سخت لہجے کو محسوس کیا تو غصے میں ا کر کال بند کر اور پھر ایک عرصہ تک مجھ سے بات نہ کی
خیر وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا اگلی بار حج کا سیزن انے سے پہلے میری ساس کا انتقال ہو گیا انتقال ایسے وقت میں ہوا کہ ہم لوگ اپنی ساس کی میت لے کر پاکستان گئیے اور پھر وہاں سے ہمارا حج پہ جانے کا ارادہ بن گیا یوں ہمارا ایک ڈیڑھ مہینہ پاکستان میں گزرا اور پھر وہاں سے ہی ہم حج پہ چلے گئے اب کی بار بھی حج پر میرے والدین میرے ہمراہ تھے میرا شوہر اور میرے بچے میرے ہمراہ تھے
میں نے اپنے شوہر کے کہنے پر اس کی ماں کی خدمت کے لیے حج پر نہیں جا سکی تھی میرے دل میں اس بات کا بہت افسوس تھا لیکن اس کے بعد میرے اللہ تعالی نے مجھے حج اکبر عطا کر دیا اور پھر میرے ساتھ میرے والدین کو دوسری بار حج پہ جانا نصیب ہو گیا یہ سب کچھ شاید میری اس نیکی کے بدلے میں تھا جو میں نے حج پر جانے سے رک کر اپنی ساس کی خدمت کی تھی دوسری بار جب میں حج پر جانے لگی تو میں اپنی بہن کو راضی کرنے گئی اور اپنی بہن کو سمجھایا کہ جب اپ اللہ تعالی کی رضا کے لیے کسی کو معاف کر دیتے ہیں تو اس کے لئیے اپنے دل میں سے بغض بھی نکال دینا چاہیے اگر اپ کے دل میں اس کے لیے بغض باقی رہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ اپ نے اسے معاف نہیں کیا اور پھر اسلام کہتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جب اپ کی نیت ہی صاف نہیں ہوتی تو پھر اس عمل کا کوئی صلہ نہیں ملتا
پتہ نہیں میری بات میری بہن کے سمجھ میں ائی تھی یا نہیں لیکن وقتی طور پر میری بہن نے مجھ سے صلح کر لی اور میں حج پہ روانہ ہو گئی اللہ تعالی کی رضا دیکھیے کہ وہاں حج پہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا گھر والوں کی اجازت سے میری والدہ کو وہاں ہی دفن کر دیا گیا حج کے بعد ہم لوگ واپس ائے ہم تقریبا ایک مہینہ پھر پاکستان رکے اور پھر واپس سویٹزرلینڈ اگئے
اس کے بعد میں چار بار حج پر جا چکی ہوں چاروں بار میرا شوہر میرے ساتھ تھا یقین کریں وہ ایک بار جو میں حج پر نہیں جا سکی تھی میرے دل میں اس کا ملال باقی ہے لیکن میں پھر بھی اللہ تعالی کی شکر گزار ہوں کہ اس ایک بار نہ جا سکنے کہ بدلے میں میرے اللہ تعالی نے مجھے مزید چار بار اپنے گھر بلایا اپنے گھر کا دیدار کروایا مجھے وہاں عبادت کرنے کا موقع دیا چند دن پہلے میں اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی تو میرے شوہر نے مجھے کہا کہ اس بار ہم کسی ایسے شخص کو حج پر بھیج دیں گے جس کے دل میں اللہ تعالی کے گھر کا دیدار کرنے کی حسرت ہو لیکن رقم نہ ہونے کی وجہ سے وہ حج پر نہ جا سکتا ہو میں نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ ایسا کیوں ؟
تو میرے شوہر نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں اپنی والدہ کو حج کرواؤں اور اگر میری والدہ کی صحت ٹھیک ہوتی تو میں نے اسے ساتھ لے کر جانا تھا مگر اللہ تعالی کو کچھ اور منظور تھا میں ایسا نہیں کر سکا تو اس لیے میں چاہتا ہوں کہ والدہ کے حصے کا حج کسی ایسے شخص کو کروا دوں جو اللہ تعالی کا نیک بندہ ہو اللہ تعالی کا عبادت گزار ہو اور پھر ہم نے ایسے ایک شخص کا انتخاب کیا اور اسے بھی حج کروا دیا یہ سب کچھ میرے اللہ تعالی کی عطا ہے
میں اس کہانی میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میری طرح کئی لڑکیاں ایسی ہوں گی جن کو اپنی ساس سے شکوے شکایات ہوں گی سسرال سے شکوے شکایات ہوں گی لیکن میرا ان کو یہ مشورہ ہے کہ وہ صبر سے کام دیں اللہ تعالی سے مدد مانگیں انشاءاللہ ان کا صبر ضرور رنگ لے ائے گا اللہ تعالی ان کو میری طرح ضرور نوازے گا کبھی بھی اپنے بہن بھائیوں کو بہکاوے میں ا کر اپنے شوہر یا اپنے سسرار والوں سے تعلقات نہ بگاڑیں اگر اپ کو لگتا ہے اپ کا اپ کے سسرال کے ساتھ گزارا نہیں ہے تو تنہائی میں اپنے شوہر کے سامنے اپنا مسئلہ رکھیں اور اسے بتائیں کہ اس کا کوئی حل نکالیں پھر اپنے شوہر کو وقت دیں کہ وہ اس کا حل نکالے انشاءاللہ حالات بہتر ہو جائیں گے یہ بات میری اپنی ازمائی ہوئی ہے میں ان تمام بچیوں کے لیے دعا گو جن کا سسرال میں گزارا مشکل ہے اللہ تعالی سب کے لیے اسانیاں پیدا فرمائے امین ثم امین
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Mare Sohar میرے شوہر ” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.