صوفیہ (بلغاریہ) کی سرد ہوا نے کھڑکی کے پردوں کو ہلکا سا اُڑایا تو صالحہ نے اپنی چادر کو کندھوں پر سمیٹ لیا۔ باہر برف کے ذرات ہوا میں رقص کر رہے تھے، مگر اُس کے دل میں ایک گرم دھڑکن سی اُبھر رہی تھی۔ کلینک کی گھڑی نے بتایا کہ رات کے 11 بج چکے ہیں، لیکن نیند کہاں؟ آج ہسپتال سے واپسی پر اُس نے اپنے بیگ میں وہ پرانا خط پایا تھا… وہ خط جو اُس نے کبھی ڈاک کے لیے لکھا تھا مگر بھیجنا بھول گئی تھی۔ خط کے کھردرے کاغذ کو چھوتے ہی اُس کی انگلیاں کانپ اٹھیں۔ یہ خط تو اُس نے اپنی ماں کو لکھا تھا جب وہ پہلی بار بلغاریہ آئی تھی۔ مگر اب ماں تو نہیں تھیں۔ کیا یہ خط اُس کی یاداشت واپس لانے کا اشارہ تھا؟
اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور احمد نے سر کو اندر سے جھانکا۔ “صالحہ، تمہیں کھانا یاد ہے؟ بچے سو چکے ہیں، مگر میں نے تمہارے لیے کھانا گرم رکھا ہے۔” احمد کی آواز میں وہی نرمی تھی جو اُسے 12 سال پہلے ڈھاکہ کی گلیوں میں ملی تھی۔ اُس وقت وہ دونوں جامعہ کے طالب علم تھے۔ صالحہ نے خط کو جلد سے بیگ میں چھپا لیا۔ “آ رہی ہوں… بس ذرا کام ختم کرنا تھا۔”
کھانے کی میز پر بیٹھتے ہی صالحہ کی نظر احمد کے ہاتھوں پر پڑی۔ وہ ہاتھ جو کبھی شاعری کی کتابیں تھامتے تھے، آج بلغاریہ کی سردی میں مزدوری کرتے کرتے کھردرے ہو گئے تھے۔ اُس نے سوچا، “کیا احمد کو کبھی افسوس ہوا ہوگا؟ کیا وہ بھی بنگلہ دیش کی گرم ہوائیں یاد کرتا ہوگا؟” مگر احمد نے کبھی شکایت نہیں کی۔ جب صالحہ کی یاداشت چلی گئی تھی، جب ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ حادثے کے صدمے نے اُس کے دماغ کے کچھ حصوں کو بند کر دیا ہے، تب بھی احمد نے ہمت نہیں ہاری تھی۔
رات کے کھانے کے بعد جب صالحہ نے خط کو دوبارہ نکالا، تو اُس کے ہونٹوں پر ایک نام چلایا: “امی…” خط میں لکھا تھا: *”امی، یہاں کی برف میری آنکھوں کو چبھتی ہے۔ احمد کہتا ہے کہ ہم یہاں خوش ہوں گے، مگر میرا دل ڈھاکہ کی گلیوں میں بھٹک رہا ہے۔ کیا تم مجھے معاف کر سکو گی؟”* خط کا یہ جملہ پڑھتے ہی صالحہ کی آنکھوں کے سامنے ایک دھندلی سی تصویر ابھری… ایک کار کا ہارن، تیز روشنیاں، پھر سیاہی۔
اچانک اُس کے کان میں بچے کی آواز گونجی۔ “امی…!” صالحہ نے تیزی سے خط کو الماری میں رکھا اور کمرے کی طرف بھاگی۔ چھوٹی بیٹی زینا بستر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ “امی، میں نے ڈراؤنا خواب دیکھا… کوئی مجھے گہری کھائی میں دھکیل رہا تھا۔” صالحہ نے اُسے گلے لگا لیا۔ “سب ٹھیک ہے، میری جان۔ امی یہاں ہے۔” مگر اُس کے ذہن میں وہی کھائی گھوم رہی تھی۔ کیا یہ خواب اُس کی اپنی کھوئی ہوئی یاداشت کا حصہ تھا؟
اگلے دن ہسپتال میں مریضوں کی بھیڑ کے درمیان بھی صالحہ کا دماغ خط اور خواب کے گرد گھومتا رہا۔ اُس کی ساتھی نرس، ماریہ، نے پوچھا: “صالحہ، تمہیں کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ سب ٹھیک ہے؟” صالحہ نے جھٹ سے مسکرا کر جواب دیا: “نہیں، بس… نیند پوری نہیں ہوئی۔” مگر اُس کا دل کہہ رہا تھا کہ یہ صرف نیند کی بات نہیں۔
شام کو گھر واپسی پر صالحہ نے احمد کو کمرے میں تنہا پایا۔ اُس کے ہاتھ میں وہی خط تھا۔ “صالحہ… یہ تم نے کب لکھا تھا؟” احمد کی آواز میں کوئی غصہ نہیں، صرف ایک گہرا دکھ تھا۔ صالحہ نے آنسو روکے۔ “مجھے یاد نہیں… مگر شاید یہ وہ وقت تھا جب میں یہاں خود کو اجنبی سمجھتی تھی۔”
احمد نے خط کو میز پر رکھتے ہوئے کہا: “تمہیں معلوم ہے؟ جب تمہاری یاداشت چلی گئی تھی، تو میں نے ہر روز تمہیں نیا سمجھا۔ تمہاری آنکھوں میں ڈھاکہ کی صبحیں تلاش کیں، تمہاری ہنسی میں ہمارے پہلے ملن کی یادیں۔ مگر آج… جب تمہاری یاداشت واپس آ رہی ہے، تو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
صالحہ نے احمد کا ہاتھ تھام لیا۔ “ڈر کیوں؟”
“کیونکہ جو کچھ ہم نے بنایا ہے… کیا وہ تمہاری پرانی یادیں مٹا دیں گی؟”
—
صالحہ نے احمد کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ گہرے بھورے رنگ کی آنکھیں جو کبھی شاعری کے مصرعوں کی طرح چمکتی تھیں، اب ایک ایسے سوال میں ڈوبی ہوئی تھیں جس کا جواب شاید دونوں کے پاس نہیں تھا۔ صالحہ نے اپنی انگلیاں احمد کے ہاتھوں میں گُندھتے ہوئے کہا، “تم نے مجھے دوبارہ پیدا کیا تھا جب میری یاداشت مٹ گئی تھی۔ تمہارے بنائے ہوئے کل کو میں کیسے مٹا سکتی ہوں؟” مگر احمد کا سکوت بتا رہا تھا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں کر پا رہا۔
اگلے کچھ دنوں میں صالحہ کے لیے ہسپتال اور گھر کے درمیان ایک عجیب جنگ چلنے لگی۔ ہر مریض کا چہرہ اُسے کسی نہ کسی یاد دِلا دیتا۔ ایک بوڑھی خاتون جس کی آنکھیں اُس کی ماں جیسی تھیں، ایک نوجوان لڑکا جس کی ہنسی احمد کے پہلے دنوں جیسی تھی… اور پھر ایک دن وہ واقعہ پیش آیا۔
ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں ایک حادثے کا شکار لڑکی لائی گئی۔ اُس کے بالوں میں پھنسے شیشے کے ٹکڑے، ہاتھ میں ایک کٹا ہوا کھلونا… صالحہ نے جب اُس کی آنکھوں میں دیکھا تو اُسے اپنا ہی عکس نظر آیا۔ “یہ تو بالکل ویسا ہی منظر ہے…” اُس کے ذہن میں ایک کار کا ہارن گونجا، پھر ایک تیز چلانے کی آواز۔ اچانک اُس نے محسوس کیا کہ ہسپتال کی دیواریں اُس پر گر رہی ہیں۔ وہ بے ہوش ہونے سے پہلے صرف اتنا سن پائی: “نرس! نرس صالحہ!”
جب آنکھ کھولی تو احمد کا چہرہ اُس کے سامنے تھا۔ “تمہیں ٹھیک ہونا ہے، صالحہ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں یہ دماغی دباؤ کی وجہ سے تھا۔” مگر صالحہ جانتے تھے کہ یہ صرف دباؤ نہیں تھا۔ اُس حادثے والی لڑکی نے اُس کی کھوئی ہوئی یاد کو چھُو لیا تھا۔
رات کو جب بچے سو گئے، صالحہ نے احمد کو کہانی سنانے کی ضد کی۔ “مجھے بتاؤ، وہ حادثہ کیسے ہوا تھا؟ میں کیوں بھول گئی تھی سب کچھ؟” احمد نے گہری سانس لی۔ “تمہیں یاد ہے جب زینا پیدا ہوئی تھی؟ تم اُسے لے کر ڈھاکہ جا رہی تھیں اپنی ماں کو دکھانے… راستے میں ٹرک اور کار کا ٹکراؤ ہو گیا۔ تم بچ گئیں، مگر…” احمد کی آواز بھر آئی، “تمہاری ماں… وہ گاڑی میں تمہارے ساتھ تھیں۔”
صالحہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اب وہ سب کچھ سمجھ رہی تھی۔ خط میں لکھے گئے الفاظ، “کیا تم مجھے معاف کر سکو گی؟” دراصل اپنی ماں سے معافی کی ایک التجا تھی۔ ماں کی موت کا صدمہ اُس کے دماغ نے مٹا دیا تھا۔
اگلے ہفتے صالحہ نے احمد سے کہا: “مجھے ڈھاکہ جانا ہے۔”
احمد نے حیرت سے دیکھا: “مگر کیوں؟ یہاں سب کچھ تو…”
“سب کچھ نہیں، احمد۔ میرا ایک حصہ وہاں دب گیا ہے۔ اگر میں نے اُسے باہر نہ نکالا تو یہ یاداشتیں مجھے اندر ہی کھا جائیں گی۔”
احمد خاموشی سے اُٹھا اور الماری سے ایک پرانا ایلبم نکالا۔ اُس میں صالحہ کی ماں کی تصویر تھی، زینا کے جنم کی تقریب کی فوٹو، اور ڈھاکہ یونیورسٹی کا وہ پرچم جس کے نیچے انہوں نے پہلی بار ہاتھ ملایا تھا۔ “میں تمہارے ساتھ آؤں گا،” احمد نے کہا۔ “ہمیشہ کی طرح۔”
ڈھاکہ کی گلیاں اب بھی اُسی طرح سنسناتی تھیں، جیسے صالحہ نے چھوڑی تھیں۔ ہوائی اڈے سے نکالتے ہی اُس نے اپنے چہرے پر نمی محسوس کی۔ احمد نے خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔ “تمہاری ماں کی قبر ہم سب سے پہلے جائیں گے،” اُس نے کہا۔ صالحہ نے صرف سر ہلایا۔ اُس کے گلے میں الفاظ کا ایک پتھر سا اٹکا ہوا تھا۔
قبرستان کی ہوا میں کھجور کے درختوں کی سرسراہٹ تھی۔ صالحہ نے ماں کی قبر پر ہاتھ رکھا تو اُس کی انگلیاں کانپ گئیں۔ “امی… میں معافی مانگنے آئی ہوں۔” اُس کی آواز ٹوٹی ہوئی تھی۔ “میں نے آپ کو چھوڑ دیا… اپنے لیے، اپنی خوشی کے لیے۔ مگر آپ نے مجھے ہمیشہ ساتھ رکھا۔” اُس نے قبر کی مٹی پر اپنے آنسو گرتے محسوس کیے۔ احمد اور بچے پیچھے کھڑے خاموشی سے اُس کے درد کو سہہ رہے تھے۔
شام کو جب وہ اپنی پرانی گلی میں داخل ہوئے تو صالحہ نے اچانک رک کر ایک کھنڈر کو دیکھا۔ یہ وہی مکان تھا جہاں اُس کی ماں نے اُسے پالا تھا۔ دیواروں پر جھاڑیاں اُگ آئی تھیں، مگر صالحہ کی آنکھوں کے سامنے وہ دن زندہ ہو گئے جب ماں اُسے کھلونے لے کر آتی تھیں۔ زینا نے پوچھا: “امی، یہ جگہ کون سی ہے؟” صالحہ نے اُسے گود میں اُٹھاتے ہوئے کہا: “یہ وہ جگہ ہے جہاں میری امی نے مجھے سکھایا تھا کہ محبت کبھی مرتی نہیں۔”
رات کو ہوٹل کے کمرے میں صالحہ نے احمد کو الجھے ہوئے خیالات سے باہر نکالا۔ “تمہیں معلوم ہے؟” اُس نے کہا، “جب میں نے ماں کی قبر دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ میں نے صرف اُنہیں نہیں کھویا… میں نے خود کو بھی کھو دیا تھا۔ مگر تم نے مجھے ڈھونڈ لیا۔” احمد نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “تم نے بھی تو مجھے ڈھونڈ لیا تھا۔ تمہاری یاداشتیں واپس آئیں یا نہ آئیں، ہماری محبت کبھی گم نہیں ہوگی۔”
واپس صوفیہ کے ہوائی اڈے پر جب زینا نے اپنی نانی کی تصویر دیکھی تو اُس نے پوچھا: “کیا وہ ہم سے ناراض تھیں؟” صالحہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “نہیں پیاری، وہ تو ہمیں یہ بتانے آئی تھیں کہ ہم جہاں بھی ہوں، اُن کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں۔”
آج صالحہ ہسپتال کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہے تو برف کے ذرات اُسے ڈھاکہ کی بارش کی یاد دِلاتے ہیں۔ احمد کے ہاتھ اب بھی کھردرے ہیں، مگر اُن میں وہی گرمجوشی ہے۔ رات کو جب وہ بچوں کو سُلاتی ہے تو زینا کا ڈراؤنا خواب ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اب وہ اپنی نانی کی کہانیاں مانگتی ہے۔
خط، جو کبھی ایک بوجھ تھا، اب الماری کے نیچے ایک پرانی کتاب میں محفوظ ہے۔ صالحہ جانتے ہے کہ یاداشتیں چاہے ٹوٹ جائیں، محبت کے رشتے اُنہیں جوڑ دیتے ہیں۔ احمد کے ساتھ بیٹھ کر وہ اکثر اُس رات کی بات کرتے ہیں جب اُنہوں نے ڈھاکہ کی گلیوں میں پہلی بار ہاتھ ملایا تھا۔ اب صالحہ کے لیے “گھر” کا مطلب صوفیہ کی برفانی چھتیں ہیں یا ڈھاکہ کی گلیاں؟ اُس کا جواب ایک مسکراہٹ میں چھپا ہوتا ہے۔
کیونکہ گھر وہ جگہ نہیں ہوتی… گھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو تمہاری یادیں بنتے ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔
ختم
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Hadhsa حادثہ ” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.