Naseehat Urdu Story نصیحت

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Complete
  • Language: Urdu
  • Author: zara writer
  • View :  10k
Category: Tag:

Description

نصیحت

محلے بھر کی عورتوں نے کئی بار یہ دعا مانگی کہ اللہ خالہ زبیدہ کو اپنے پاس بلا لے، لیکن مجال ہے کہ انہیں ذرا سا بخار بھی آیا ہو۔ وہ ایسی جان دار اور صحت مند خاتون تھیں کہ بیماری بھی ان سے کتراتی تھی۔
خالہ زبیدہ کو محلے کی ساسیں بہت پسند کرتی تھیں۔ وہ ان کی زبان کو اپنا ذریعہ بناتیں تاکہ بہوؤں کو جو کچھ کہنا ہوتا، وہ خالہ کے ذریعے کہلوا لیا جائے۔ زبیدہ خالہ بھی بلا کی سمجھدار تھیں۔ وہ کسی بہو کو نام لے کر کچھ نہ کہتیں، بس کہانیوں میں لپیٹ کر، جیسے کسی فرضی عورت کی بات ہو، وہ صلواتیں سناتیں کہ بہو کو شک ہوتا کہ اشارہ اُسی کی طرف ہے۔
جب کوئی بہو اپنے شوہر سے شکایت کرتی تو وہ بیچارہ ہکا بکا رہ جاتا، کیونکہ خالہ زبیدہ تو ہر وقت “نصیحت” کے پردے میں بات کرتیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا، تو وہ کہتیں:
“میں نے تو کچھ نہیں کہا۔ اگر کسی کو میری بات سے دکھ ہوا ہے تو مطلب وہ سچائی پر شرمندہ ہے۔”
یوں محلے کی بہت سی بیویاں خالہ کی باتوں سے تنگ تھیں، مگر ان کے سامنے خاموش رہتیں۔

ریاض بھائی کا بیٹا، عدنان، جو فوج میں کیپٹن تھا، شادی کے لیے آیا۔ لڑکی کراچی سے تھی، والدہ تعلیم یافتہ اور خاصی نفیس طبیعت کی مالک۔ جب انہوں نے دیکھا کہ گھر میں روٹیاں ملازمہ پکاتی ہے اور سالن بہوئیں بناتی ہیں، تو وہ حیران رہ گئیں۔
سالن کی ذمہ داریاں دنوں میں بٹی تھیں۔ ایک بہو عائشہ، ہر بار ایسا سالن بناتی کہ کبھی نمک بہت تیز، کبھی بالکل پھیکا، اور اکثر جل جاتا۔ خالہ زبیدہ نے حکم صادر کیا کہ اب ہمیشہ عائشہ ہی سالن بنائے گی، تاکہ پکا سیکھ جائے۔
دلہن کی ماں نے درخواست کی کہ اُن کی بیٹی کو کھانے کے کام میں نہ ڈالا جائے، لیکن خالہ نے تو فیصلہ صادر کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد بیٹا چلا جائے، مگر بہو تبھی جائے جب سالن میں مناسب مرچ اور خوشبو آ جائے۔
جب آٹھ دن بعد عدنان واپس اپنی پوسٹنگ پر جا رہا تھا، تب دلہن نے پہلی بار خود سالن بنایا۔ مہک ایسی تھی کہ سب نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ تب جا کر وہ بہو اپنے شوہر کے ساتھ رخصت ہو سکی۔

خالہ زبیدہ کو غسلِ میت دینے کا بے حد شوق تھا۔ ان کے نزدیک میت کو پاک کرنا سب سے بڑی عبادت تھی۔ محلے کے کچھ شوخ لڑکوں نے ایک دن ان کے دروازے پر موٹے مارکر سے لکھ دیا:
“یہاں خواتین کے غسلِ میت کا مفت انتظام ہے، صرف خالہ زبیدہ کے ہاتھوں!”
جب خالہ نے یہ پڑھا تو ان کا خون کھول اٹھا۔ ہاتھ اٹھا کر بد دعا دی:
“تمہاری ماؤں کو بھی کوئی غسل دینے والا نہ ملے!”

ندیم صاحب کی بہو، جس کا اصل نام نازش تھا، خالہ زبیدہ کی زبان میں “گنجی بہو” بن چکی تھی، کیونکہ اُس نے شادی کے بعد ہیئر اسٹائل بدلتے ہوئے بال چھوٹے کرا لیے تھے۔ اس دن محلے میں جیسے تہلکہ مچ گیا تھا۔
ایک دن نازش شدید دردِ زہ میں ہسپتال پہنچی۔ معاملہ نازک تھا، ڈاکٹر آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔ تب خالہ زبیدہ وہاں پہنچ گئیں۔ نرس کو جھاڑ کر اندر گھسیں اور ڈاکٹر سے بولیں:
“بی بی، ذرا دم کرنے دیں، پھر آپ جتنا چاہیں چاکو چلائیں!”
ڈاکٹر کو خالہ کی بات پر ہنسی تو آئی، مگر انہوں نے اجازت دے دی۔ خالہ نے دم کیا، اور اپنی جیب سے سفید تعویذ نکال کر نازش کی کمر سے باندھ دیا۔ کچھ ہی دیر میں نازش کی حالت سنبھل گئی۔ آپریشن مؤخر ہوا اور نازش نے نارمل ڈیلیوری کی۔
خالہ زبیدہ نے تعویذ واپس بٹوے میں رکھ لیا اور فوراً واپس آ گئیں۔ بعد میں کہنے لگیں:
“یہ تعویذ پیر خواجہ غیاث الدین نے مجھے دیا تھا، کہا تھا کہ بیٹی، اس کے بدلے کبھی کچھ نہ لینا۔”

خالہ زبیدہ کے تین بیٹے اور چار بہوئیں تھیں۔ ہر بہو اپنی دنیا کی رانی تھی۔ کوئی میک اپ کے پیچھے پاگل، تو کوئی یوٹیوب پر بیوٹی چینل کی دیوانی۔ خالہ روز نئی تنبیہ دیتیں:
“تمہاری مائیں تمہیں گجری بنانے کے لیے بیاہ کر لائیں تھیں؟ یہ چوڑی دار پاجامہ ہے یا کبوتر کا پنکھ؟”
ایک بہو نے شلوار کے ساتھ چُنی نہیں لی، تو خالہ نے تنبیہ کی:
“ادھ ننگی بہو، یہ گھر ہے فیشن شو نہیں!”

خالہ زبیدہ، جو پہلے ہر جمعہ کو مسجد کے لڑکوں کو جھاڑ کر بھیجتیں، اب خود نماز کے لیے بمشکل جاتی تھیں۔ ان کے شوہر مختار علی کا انتقال ہو چکا تھا۔ ان کے بعد جیسے خالہ کی حکومت ڈھ گئی۔
پھر ایک دن اطلاع آئی کہ وہ نہیں رہیں۔
میری ماں نے انہیں غسل دیا۔ چہرے پر عجیب نور تھا۔ ایسی خاموشی، ایسی شان، کہ دیکھنے والا بے اختیار رو دے۔
پتہ چلا، وہ خفیہ طور پر کئی بیواؤں اور غریب عورتوں کی مدد کرتی تھیں۔ ایک ہاتھ سے دیتیں، دوسرے کو خبر نہ ہوتی۔

اب محلے میں لڑکیاں چھتوں پر قہقہے لگاتی ہیں، لڑکے گلیوں میں کرکٹ کھیلتے ہیں، گیند شیشے توڑتی ہے، مگر اب کوئی خالہ زبیدہ نہیں جو آ کر ہرجانہ وصول کرے۔
محلہ خاموش ہو چکا ہے، جیسے وہ عورت اپنی طاقت کے ساتھ سارا شور بھی اپنے ساتھ لے گئی ہو۔
میں ان کے جنازے سے واپس آئی تو دل میں بس ایک ہی خیال تھا:
“محلے کے بچوں، بہوؤں اور عورتوں کی ماں، اب ہمیشہ کے لیے سو گئی ہے۔”

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Naseehat Urdu Story نصیحت”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more