دل نے تمہیں چن لیا باے نہیر لاشاری
ناول میں ایک لڑکی کو زبردستی نکاح پر امادہ کیا جاتا ہے صرف انا اور ضد کی خاطر کچھ لوگ اپنی اوقات دیکھاتے ہیں
جب وہ نکاح پر امادہ نہیں ہوتی تو اس کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے جس سے اس کی عزت پر حرف اتا ہے اور وہ معاشرے میں لاچار اور بے بس دکھائی دیتی ہے
Romantic Action Romance Viral Crimestor novel urdunovel bestnovel
Starting Novel
نکاح ! آپ کا دماغ ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ میں آ پ سے نکاح نہیں کر سکتی۔۔۔ وقفے سے بولی۔ محرماں جی ! نکاح تو ہونا ہی ہے آپ کا وہ بھی ابھی اور اسی وقت۔ اور وہ بھی ارحم آفندی سے۔ دنیا کی کوئی طاقت اس نکاح کو روک نہیں سکتی۔ ارحم ٹھوس لہجے میں بولا۔
:
Crime Spy Action Viral
Amizing Scene
ٹھیک ہے۔ نکاح نہیں کرتے۔ تمہاری مرضی۔ نکاح کے بغیر ہی تمہارے ساتھ وقت گزار لیتا ہوں۔ نکاح خواں کو واپس بھیج دیتا ہوں۔ تمہیں ایسے ہی مناسب لگتا ہے تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں۔ ارحم نے دروازے بند کیا اورکنڈی چڑانے لگا۔
یہ کون ہے۔۔۔!۔۔ ڈاکٹر فرزین نے پوچھا۔۔۔؟؟
یہ میری بیٹی محرماں ہے۔ زینب نے بتایا۔۔۔۔
ماشا اللہ ۔ بہت پیاری بچی ہے۔ ڈاکٹر فرزین نے کہا۔۔۔
اتنے میں اللہ وسایا اسے بلانے آگیا۔۔۔۔
اتنی جلدی ابھی تو آئی ہے۔ بیٹھے آپ ڈاکٹر صاحبہ ۔ رخسانہ جلدی سے بولی۔
نہیں شکریہ ۔ پھر کبھی آؤں گی۔ یہ کہہ کر ڈاکٹر فرزین چلی گئی۔۔۔۔۔
راستے میں سرمد نے اسے بتایا کہ محرماں کی منگنی ہو چکی ہے۔ اور اس کی جلد شادی ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر فرزین یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ ارحم کو کیا بتائے گی۔ وہ بھولی سی صورت والی لڑکی ان کے من کو بھی بھا گئی تھی۔ گھر پہنچے

