Description
انتقام کی آگ
چاروں طرف سنناٹا ہی سنناٹا تھا پوری سڑک ویران تھی حد نظر تک بنجر پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا جن پر سوکھی اور کانٹے
دار جھاڑیوں کے علاوہ کچھ نہ تھا – سورج ڈوب چکا تھا اور دھیرے دھیرے اندھیرا اپنی حکمرانی پھیلا رہا تھا – پرندے اپنے
آشیانوں کی طرف لوٹنے لگے تھے – اور انہی بنجر پہاڑوں کے بیچ یہ سڑک تھی جو ہائی وے چھوڑ کر اندر کی طرف ہم نے
سارٹ کٹ کیلئے لی تھی بڑا سنسان اور ویران راستہ تھا میں اور میرا دوست ڈاکٹر اسلم ایک کام کے سلسلے میں ٹیکم گڑھ جا رہے
تھے – “کمال ہے ہم قریب آدھے گھنٹے سے اس راستے پر چل رہے ہیں لیکن نہ کوئی چائے خانہ نظر آیا نہ ہوٹل ” میں نے حیرت
اور بیزارگی سے اپنے دوست ڈاکٹر اسلم سے کہا – اسلم نے گاڑی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے کہا “شاید آگے چل کر مل جائے”
پہلے ہی گرمی کی وجہ سے برا حال تھا – پیاس کی وجہ سے حلق خشک ہو چکا تھا اور تھکان بھی بہت زیادہ محسوس ہو رہی تھی
– دن بھر سے اتنی تیز دھوپ میں سفر کر رہے تھے کبھی میں ڈرائیونگ کرتا کبھی اسلم – اس پر قسمت کی ستم ظریفی یہ کہ کار
کے AC کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا – “کہی کوئی ہوٹل یا چائے خانہ ہی نظر آ جائے تو کم از کم بوتلوں میں تازہ اور ٹھنڈا پانی ہی
بھر لیں یار ” میں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا – میری کیفیت دیکھ کر اسلم ہنسنے لگا – گاڑی میں پڑی بوتلوں کا پانی گرم ہواؤں
کی وجہ سے اتنا گرم ہو چکا تھا کہ پینے کے قابل نہیں بچا تھا –
لیکن رات ہونے کی وجہ سے اب راحت محسوس ہونے لگی تھی – پھر بھی پیاس کی وجہ سے پریشانی برقرار تھی – “کیا ضرورت
تھی مین ہائی وے چھوڑ کر یہ ویران سارٹ کٹ لینے کی ڈاکٹر صاحب ؟؟ میں جھنجھلاتا ہوا اسلم کی طرف دیکھ کر بات کو آگے
بڑھاتا ہوا بولا تمہے بہت پڑی رہتی ہے سارٹ کٹ کی پٹرول بچانے چلا ہے کنجوس کہی کا” – اسلم میری طرف دیکھ کر زور سے
ہنس دیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا “ارے وکیل صاحب تھوڑا صبر کرنا تو سیکھئے بس اور
کچھ دیر جیسے ہی کوئی ہوٹل وغیرہ ملتا ہے ہم وہی رات گزار کر صبح سفر شروع کرے گے – “اب پڑی دل میں ٹھنڈک” میں منہ
بناتا ہوا بولا –
کچھ دور چلنے کے بعد سڑک کی بائیں جانب ہمیں روشنی نظر آئی سڑک سے قریب پچاس ساٹھ قدم اندر ایک چھوٹا سا ڈھابہ نظر آ
رہا تھا اسلم نے کار کو سڑک سے اتار کر ڈھابے کی سمت موڑ دیا – لیکن مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا میں سوچنے لگا کہ اتنے
سنسان راستے پر جہاں دور دور تک نہ کوئی چھوٹا موٹا ہوٹل ہے نہ کوئی چائے خانہ ایسے میں یہ ایک ہی ڈھابہ وہ بھی سڑک سے
اتنی اندر اسے تو بلکل سڑک سے لگ کر ہونا چاہیے تاکہ آسانی سے لوگوں کو نظر آ سکے – کیا پتہ کیوں لیکن مجھے کچھ غلط لگ
رہا تھا – ایک انجانا سا خوف میرے دل میں گھر کر چکا تھا –
میں نے اسلم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا “گاڑی واپس سڑک پر لو جلدی ” اسلم تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا
“یار کمال انسان ہو تم بھی کب سے ہوٹل اور چائے خانے تلاش رہے تھے اور اب جب منزل سامنے ہے تو واپس جانے کی بات کر
رہے ہو”؟ وہ سب باتیں بعد میں کر لینا ابھی نکلو یہاں سے جلدی مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ” اسلم نے حیرت سے کاندھے
اچکاتے ہوۓ تیزی کے ساتھ کار سڑک کی جانب موڑ دی
کار جیسے ہی سڑک پر پہنچی مجھے لگا جیسے کوئی ہمارا تعاقب کر رہا تھا اور سڑک پر پہنچتے ہی وہ تعاقب کرنے والا رک گیا
ہو یہ بات اسلم نے بھی محسوس کی لیکن پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت ہم دونوں میں سے کوئی نہ کر سکا ایک عجیب سا خوف
محسوس ہو رہا تھا – اسلم نے کار کی رفتار بہت تیز کر دی تھی – کار ہوا سے باتیں کر رہی تھی اسلم اور میں ایکدم خاموش تھے
ایک انجانا سا خوف دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا –
ابھی بھی سڑک ویسی ہی سنسان تھی نہ کوئی دوسری گاڑی نظر آ رہی تھی اور نہ کوئی بستی یا گاؤں
ڈر و خوف کی وجہ سے ہم نے گاڑی کے شیشے چڑھا رکھے تھے جسم سے ٹھنڈا ٹھنڈا پسینہ چھوٹ رہا تھا جیسے ہی اگلے موڑ پر
ہائی وے نظر آیا ہماری جان میں جان آئی – گاڑی ہائی وے پر لگتے ہی ہم نے سکون کی سانس لی اور اب وہ ڈر و خوف بھی اچانک
ختم ہو چکا تھا ہائی وے لگتے ہی ہم نے اپنے اندر یہ بدلاو محسوس کر لیا تھا – بڑی عجیب و غریب بات تھی – “وہاں کیا ہو سکتا
تھا؟” اسلم نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا “تمہے کیا لگتا ہے”؟ میں نے اسلم کو ٹٹولتے ہوۓ پوچھا –
“کیا پتہ یار مگر تھا کچھ تمہے پتہ ہے کسی نے سڑک تک ہمارا تعاقب بھی کیا تھا ؟ اسلم رازدارانہ انداز میں بولا – میں اسلم کی
طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا تو کیا تم نے بھی وہ بات محسوس کی تھی ؟ کون سی بات؟ ارے یار وہی تعاقب والی بات ! تو
کیا تم نے بھی؟
ہاں بلکل کسی نے ہمارا تعاقب کیا تھا میں یقین سے بول سکتا ہوں میں نے صاف محسوس کیا تھا لیکن مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں
کر پایا –
ابھی ہم لوگ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ میری نظر ہائی وے کے ایک ہوٹل پر پڑی “اسلم وہ دیکھو سامنے ایک ہوٹل ہے ” اسلم نے
کار ہوٹل کے احاطے میں لے جا کر روک دی رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی اور اس حادثے کے بعد ہم دونوں بھی کافی
ڈسٹرب ہو چکے تھے لہذا ہم نے یہاں رک کر آرام کرنے کا من بنا لیا اور ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر چپ چاپ جا کر سونے کی
کوشش کرنے لگے –
لیکن رات بھر خوابوں میں وہی خوفناک منظر گھومتا رہا اسلم کی کیفیت بھی مجھ سے جدا نہ تھی وہ بھی میری طرح کئ مرتبہ نیند
سے ڈر ڈر کے بیدار ہوتا رہا پوری رات سوتے جاگتے گزری صبح طبیعت بوجھل لگ رہی تھی اجاگرے کی وجہ سے سر کافی
بھاری ہو گیا تھا – ہم دونوں میں سفر کرنے کی ہمت نہیں بچی تھی
مگر سفر جاری رکھنا اشد ضروری تھا – کیونکہ ابھی کافی لمبا سفر باقی تھا –
پھر ہم لوگوں نے مشورہ کیا کہ جہاں تک طبیعت برداشت کرے گی سفر جاری رکھے گے ورنہ کہی رک کر آرام کر لے گے چلتے
رہے تو دھیرے دھیرے منزل سے دوری کم ہوتی جائے گی ویسے بھی 70 کلومیٹر چلنے کے بعد ٹیکم گڑھ کا موڑ آنا تھا وہاں سے
ہائی وے چھوٹ جاتا ہے اور اس موڑ سے چھوٹی سڑک لگ جاتی ہے یہاں سے تھوڑی تھوڑی سی دوری پر چھوٹے چھوٹے گاؤں
قصبوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جی چاہا رک کر آرام کر لیا اسلیے مشورے کے مطابق ہم سفر پر نکل پڑے –
ہم لوگ ہائی وے چھوڑ چکے تھے – اور ٹیکم گڑھ والا موڑ کراس کر چکے تھے – یہاں سے سبز پہاڑی والا علاقہ شروع ہو چکا
تھا ہر 35/40 کلومیٹر کے بعد کوئی نہ کوئی گاؤں یا قصبہ نظر آنے لگا رات والا حادثہ ابھی تک ہمارے زہن پر اثر انداز تھا
اسلیے ہم دونوں دوست خاموش خاموش ہی تھے – گرمی بھی طبیعت پر اثر انداز تھی – اچانک مجھے متلی ہونے لگی






Reviews
There are no reviews yet.