Antakam Ki Aag انتقام  کی آگ

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 2.5k
Category: Tag:

Description

انتقام  کی آگ

 

چاروں طرف سنناٹا ہی سنناٹا تھا پوری سڑک ویران تھی حد نظر تک بنجر پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا جن پر سوکھی اور کانٹے

دار جھاڑیوں کے علاوہ کچھ نہ تھا – سورج ڈوب چکا تھا اور دھیرے دھیرے اندھیرا اپنی حکمرانی پھیلا رہا تھا – پرندے اپنے

آشیانوں کی طرف لوٹنے لگے تھے – اور انہی بنجر پہاڑوں کے بیچ یہ سڑک تھی جو ہائی وے چھوڑ کر اندر کی طرف ہم نے

سارٹ کٹ کیلئے لی تھی بڑا سنسان اور ویران راستہ تھا میں اور میرا دوست ڈاکٹر اسلم ایک کام کے سلسلے میں ٹیکم گڑھ جا رہے

تھے – “کمال ہے ہم قریب آدھے گھنٹے سے اس راستے پر چل رہے ہیں لیکن نہ کوئی چائے خانہ نظر آیا نہ ہوٹل ” میں نے حیرت

اور بیزارگی سے اپنے دوست ڈاکٹر اسلم سے کہا – اسلم نے گاڑی کی رفتار کو تیز کرتے ہوئے کہا “شاید آگے چل کر مل جائے” 

 

پہلے ہی گرمی کی وجہ سے برا حال تھا – پیاس کی وجہ سے حلق خشک ہو چکا تھا اور تھکان بھی بہت زیادہ محسوس ہو رہی تھی

– دن بھر سے اتنی تیز دھوپ میں سفر کر رہے تھے کبھی میں ڈرائیونگ کرتا کبھی اسلم – اس پر قسمت کی ستم ظریفی یہ کہ کار

کے AC کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا – “کہی کوئی ہوٹل یا چائے خانہ ہی نظر آ جائے تو کم از کم بوتلوں میں تازہ اور ٹھنڈا پانی ہی

بھر لیں یار ” میں نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا – میری کیفیت دیکھ کر اسلم ہنسنے لگا – گاڑی میں پڑی بوتلوں کا پانی گرم ہواؤں

کی وجہ سے اتنا گرم ہو چکا تھا کہ پینے کے قابل نہیں بچا تھا –

لیکن رات ہونے کی وجہ سے اب راحت محسوس ہونے لگی تھی – پھر بھی پیاس کی وجہ سے پریشانی برقرار تھی – “کیا ضرورت

تھی مین ہائی وے چھوڑ کر یہ ویران سارٹ کٹ لینے کی ڈاکٹر صاحب ؟؟ میں جھنجھلاتا ہوا اسلم کی طرف دیکھ کر بات کو آگے

بڑھاتا ہوا بولا تمہے بہت پڑی رہتی ہے سارٹ کٹ کی پٹرول بچانے چلا ہے کنجوس کہی کا” – اسلم میری طرف دیکھ کر زور سے

ہنس دیا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا “ارے وکیل صاحب تھوڑا صبر کرنا تو سیکھئے بس اور

کچھ دیر جیسے ہی کوئی ہوٹل وغیرہ ملتا ہے ہم وہی رات گزار کر صبح سفر شروع کرے گے – “اب پڑی دل میں ٹھنڈک” میں منہ

بناتا ہوا بولا – 

کچھ دور چلنے کے بعد سڑک کی بائیں جانب ہمیں روشنی نظر آئی سڑک سے قریب پچاس ساٹھ قدم اندر ایک چھوٹا سا ڈھابہ نظر آ

رہا تھا اسلم نے کار کو سڑک سے اتار کر ڈھابے کی سمت موڑ دیا – لیکن مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا میں سوچنے لگا کہ اتنے

سنسان راستے پر جہاں دور دور تک نہ کوئی چھوٹا موٹا ہوٹل ہے نہ کوئی چائے خانہ ایسے میں یہ ایک ہی ڈھابہ وہ بھی سڑک سے

اتنی اندر اسے تو بلکل سڑک سے لگ کر ہونا چاہیے تاکہ آسانی سے لوگوں کو نظر آ سکے – کیا پتہ کیوں لیکن مجھے کچھ غلط لگ

رہا تھا – ایک انجانا سا خوف میرے دل میں گھر کر چکا تھا –

میں نے اسلم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہا “گاڑی واپس سڑک پر لو جلدی ” اسلم تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا

“یار کمال انسان ہو تم بھی کب سے ہوٹل اور چائے خانے تلاش رہے تھے اور اب جب منزل سامنے ہے تو واپس جانے کی بات کر

رہے ہو”؟ وہ سب باتیں بعد میں کر لینا ابھی نکلو یہاں سے جلدی مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ” اسلم نے حیرت سے کاندھے

اچکاتے ہوۓ تیزی کے ساتھ کار سڑک کی جانب موڑ دی 

 کار جیسے ہی سڑک پر پہنچی مجھے لگا جیسے کوئی ہمارا تعاقب کر رہا تھا اور سڑک پر پہنچتے ہی وہ تعاقب کرنے والا رک گیا

ہو یہ بات اسلم نے بھی محسوس کی لیکن پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت ہم دونوں میں سے کوئی نہ کر سکا ایک عجیب سا خوف

محسوس ہو رہا تھا – اسلم نے کار کی رفتار بہت تیز کر دی تھی – کار ہوا سے باتیں کر رہی تھی اسلم اور میں ایکدم خاموش تھے

ایک انجانا سا خوف دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا – 

ابھی بھی سڑک ویسی ہی سنسان تھی نہ کوئی دوسری گاڑی نظر آ رہی تھی اور نہ کوئی بستی یا گاؤں

 

ڈر و خوف کی وجہ سے ہم نے گاڑی کے شیشے چڑھا رکھے تھے جسم سے ٹھنڈا ٹھنڈا پسینہ چھوٹ رہا تھا جیسے ہی اگلے موڑ پر

ہائی وے نظر آیا ہماری جان میں جان آئی – گاڑی ہائی وے پر لگتے ہی ہم نے سکون کی سانس لی اور اب وہ ڈر و خوف بھی اچانک

ختم ہو چکا تھا ہائی وے لگتے ہی ہم نے اپنے اندر یہ بدلاو محسوس کر لیا تھا – بڑی عجیب و غریب بات تھی –  “وہاں کیا ہو سکتا

تھا؟” اسلم نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا “تمہے کیا لگتا ہے”؟ میں نے اسلم کو ٹٹولتے ہوۓ پوچھا – 

“کیا پتہ یار مگر تھا کچھ تمہے پتہ ہے کسی نے سڑک تک ہمارا تعاقب بھی کیا تھا ؟ اسلم رازدارانہ انداز میں بولا – میں اسلم کی

طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا تو کیا تم نے بھی وہ بات محسوس کی تھی ؟ کون سی بات؟ ارے یار وہی تعاقب والی بات ! تو

کیا تم نے بھی؟

ہاں بلکل کسی نے ہمارا تعاقب کیا تھا میں یقین سے بول سکتا ہوں میں نے صاف محسوس کیا تھا لیکن مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں

کر پایا –

ابھی ہم لوگ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ میری نظر ہائی وے کے ایک ہوٹل پر پڑی “اسلم وہ دیکھو سامنے ایک ہوٹل ہے ” اسلم نے

کار ہوٹل کے احاطے میں لے جا کر روک دی رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی اور اس حادثے کے بعد ہم دونوں بھی کافی

ڈسٹرب ہو چکے تھے لہذا ہم نے یہاں رک کر آرام کرنے کا من بنا لیا اور ہوٹل میں ایک کمرہ لے کر چپ چاپ جا کر سونے کی

کوشش کرنے لگے –

لیکن رات بھر خوابوں میں وہی خوفناک منظر گھومتا رہا اسلم کی کیفیت بھی مجھ سے جدا نہ تھی وہ بھی میری طرح کئ مرتبہ نیند

سے ڈر ڈر کے بیدار ہوتا رہا پوری رات سوتے جاگتے گزری صبح طبیعت بوجھل لگ رہی تھی اجاگرے کی وجہ سے سر کافی

بھاری ہو گیا تھا – ہم دونوں میں سفر کرنے کی ہمت نہیں بچی تھی 

 

مگر سفر جاری رکھنا اشد ضروری تھا – کیونکہ ابھی کافی لمبا سفر باقی تھا – 

پھر ہم لوگوں نے مشورہ کیا کہ جہاں تک طبیعت برداشت کرے گی سفر جاری رکھے گے ورنہ کہی رک کر آرام کر لے گے چلتے

رہے تو دھیرے دھیرے منزل سے دوری کم ہوتی جائے گی ویسے بھی 70 کلومیٹر چلنے کے بعد ٹیکم گڑھ کا موڑ آنا تھا وہاں سے

ہائی وے چھوٹ جاتا ہے اور اس موڑ سے چھوٹی سڑک لگ جاتی ہے یہاں سے تھوڑی تھوڑی سی دوری پر چھوٹے چھوٹے گاؤں

قصبوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جی چاہا رک کر آرام کر لیا اسلیے مشورے کے مطابق ہم سفر پر نکل پڑے –

ہم لوگ ہائی وے چھوڑ چکے تھے – اور ٹیکم گڑھ والا موڑ کراس کر چکے تھے – یہاں سے سبز پہاڑی والا علاقہ شروع ہو چکا

تھا ہر 35/40 کلومیٹر کے بعد کوئی نہ کوئی گاؤں یا قصبہ نظر آنے لگا رات والا حادثہ ابھی تک  ہمارے زہن پر اثر انداز تھا

اسلیے ہم دونوں دوست خاموش خاموش ہی تھے – گرمی بھی طبیعت پر اثر انداز تھی – اچانک مجھے متلی ہونے لگی 

 

میں نے گاڑی سڑک سے اتار کر سائیڈ میں روک دی اور الٹیاں کرنے لگا – 

اسلم فوراً میرے پاس آیا اور بولا نیند پوری نہ ہونے  کی وجہ سے شاید تمہاری اسیڈیٹی بڑھ گئی ہے تمہے نیند اور آرام کی ضرورت

ہے چلو اٹھو قریب ہی سردار گڑھ قصبہ ہے وہاں سے دوائیاں لے کر پہاڑی والے ڈاک بنگلے میں مقام کر دیتے ہیں – قصبے سے

ضروری ادویات لینے کے بعد ہم لوگ پہاڑی والے ڈاک بنگلے پر پہنچ گئے دوپہر ہو چکی تھی میری طبیعت کافی خراب ہو چکی

تھی ڈاک بنگلے کے منتظم ایک بزرگ غفور چاچا تھے انہوں نے میری حالت دیکھ کر جلد از جلد کمرے کا انتظام کر دیا –

اس کے بعد غفور چاچا دوپہر کا کھانا لے آئے میں تو اتنا ملول ہو چکا تھا کہ دودھ کے ساتھ دوائیاں لے کر سو گیا شاید اسلم نے

مجھے نیند کی دوائی بھی دی تھی کہ میں آرام سے سو جاؤ قریب شام کے پانچ بجے میری آنکھ کھلی اب طبیعت کافی سنبھل چکی

تھی میں بستر سے اٹھ کر سیدھا باتھ روم کی طرف چلا گیا نہانے کے بعد بہت ہی بہتر لگنے لگا کپڑے بدلنے کے بعد میں اسلم کی

تلاش میں باہر نکل آیا –

شام کا مجگیلہ اندھیرا پھیل چکا تھا باہر کا موسم بڑا راحت بخش تھا اونچائی پر ہونے کی وجہ سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی

چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی بکھری ہوئی تھی  بنگلے کے احاطے میں کئ گھنے درخت قطار سے لگے ہوئے تھے جن میں آم, گل

مہر اور چمپا چمیلی شامل تھے دوسری طرف موگرا, رات رانی اور گلاب کی جھاڑیاں لگی ہوئی تھی ہوا کےجھونکوں کے ساتھ

جب رات رانی اور موگرے کی بھینی بھینی خوشبو چکراتی تو پوری فضا معطر ہو جاتی –

انہی میں سے آم کے ایک گھنے درخت کے نیچے اسلم اور غفور چاچا بینچ پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے مجھے آتا دیکھ اسلم

مجھ سے مخاطب ہوکر بولا “اب کیسے حال ہے وکیل صاحب؟” میں بھی ان کے قریب بیٹھتا ہوا بولا “بہتر محسوس کر رہا ہوں اب

ہمیں نکلنا چاہیے” اسلم حیرت اور خوف سے بولا “کل والے حادثے کے بعد اب میں بھول کر بھی کبھی رات کا سفر نہیں کروں گا “

اسلم کی اس بات پر غفور چاچا چونک گئے –

“کیا گاڑی کا کوئی حادثہ پیش آیا تھا بیٹا؟” غفور چاچا اسلم کو مخاطب کرتے ہوئے بولے – نہیں چاچا اور پھر اسلم نے سارٹ کٹ

راستے والے حادثے کا پورا واقعہ غفور چاچا کے گوش گزار کر دیا – واقعہ سننے کے بعد غفور چاچا میں ایکدم سے جیسے کوئی

تبدیلی رونما ہو گئ وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور خوف زدہ انداز میں ہم دونوں سے مخاطب ہوتے ہوئے  بولے “اندر چلو جلدی بیٹا!

وہ واپس آ گئی اندر چلو اس نے کہا تھا وہ واپس آئیگی وہ واپس آ چکی ہے اندر چلو ہم حیرت کے دریا میں غوطے لگاتے ہوئے

غفور چاچا کے پیچھے پیچھے ڈاک بنگلے میں داخل ہو گئے –

“یہ تم لوگوں نے کیسی آفت سر مول لے لی میرے بچوں تمہے اس راستے سے نہیں آنا چاہئے تھا -کیا تمہے پتہ نہیں وہ راستہ

برسوں سے بند پڑا ہے اس راستے سے کوئی سفر نہیں کرتا – وہ تو جانے کس کی دعاؤں سے تم اس کے جال سے بچ کر نکل آئے

کیا نیکی آڑے آ گئی جو تم لوگ اس جگہ داخل نہیں ہوئے وہاں رکے نہیں وہاں کوئی ڈھابہ نہیں ہے میرے بچوں وہ صرف اس کا

جال تھا” – غفور چاچا خوف و دہشت سے بولے جا رہے تھے اور ہم لوگ غیر یقینی انداز میں حیرت سے بس ان کا منہ تکے جا

رہے تھے – 

حالانکہ ہم دونوں ہی پڑھے لکھے نئے زمانے کے بندے تھے اور ان سب باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے مگر غفور چاچا کی باتیں

سن کر خوف ہم بھی محسوس کر رہے تھے – اور اس خوف سے پچھلی رات روبرو ہو چکے تھے تو اس پش منظر میں غفور چاچا

کی باتیں ہم پر کچھ زیادہ ہی اثر انداز ہو رہی تھی – وہ کون تھی؟ اور کہاں سے واپس آ گئی ؟اور جب وہ راستہ برسوں سے بند ہے

تو ہم کیسے اس راستے پر سفر کر آئے؟ ایسے انگنت سوالات زہن میں گردش کر رہے تھے اور ان کے جوابات غفور چاچا سے

جاننے کیلئے میں اور اسلم  بےقرار تھے –

مگر غفور چاچا سے جیسے ہی ہم نے یہ سوالات پوچھنے چاہے چاچا نے ہمیں اشارے سے خاموش کرا دیا “میں ابھی ڈاک بنگلے

کے سبھی کھڑکی دروازے بند کر کے آتا ہوں تم لوگ یہی رہنا اپنے کمرے سے باہر مت نکلنا میں ابھی آتا ہوں میرے بچوں” چاچا

ہمیں ہدایت دے کر چلے گئے –  میں اور اسلم خوف و حیرت سے ایکدوسرے کا منہ دیکھنے لگے – 

تھوڑی دیر کے بعد غفور چاچا کمرے کی جانب آتے ہوئے نظر آئے کمرے میں آتے ہی انھوں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور

کھڑکیاں بھی لگانے لگے ہم دونوں خاموشی سے غفور چاچا کی طرف دیکھتے رہے – جب چاچا پوری طریقے سے اطمینان کر

چکے تو ہمارے پاس آکر بیٹھ گئے – 

“میرے بچوں یہ آج سے 20/22 سال پہلے کی بات ہے تب وہ راستہ بہت زیادہ استعمال ہوتا تھا شاہ جہاں نگر, سردار گڑھ اور ٹیکم

گڑھ کا سارٹ کٹ ہونے کی وجہ سے اس راستے سے بہت زیادہ لوگ سفر کرتے تھے اُس وقت اس راستے پر ہر طرف ہریالی ہوا

کرتی تھی بہت سارے چائے خانے اور ڈھابے تھے انہی میں”کجری” اور اس کے شوہر کا بھی ڈھابہ تھا – لیکن اچھے اور لزیز

کھانوں کی بدولت “کجری” کا ڈھابہ بہت مشہور تھا – “کجری” بڑی سیدھی سادھی اور نیک دل خاتون تھی – اس ڈھابے سے

“کجری” کو بڑا لگاؤ تھا لے دے کر میاں بیوی کی یہی زندگی بھر کی کمائی تھی اور گزر بسر کا واحد ذریعہ بھی تھا – دونوں میاں

بیوی اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھے مگر ایک دن ان کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی ” اتنا بول کر غفور چاچا

خاموش ہو خلاء میں گھورنے لگے – 

 “پھر کیا ہوا چاچا ” میں اور اسلم ایک ساتھ بول پڑے ہمارے بولتے ہی چاچا ایکدم چونک کر ایسے اپنے خیالوں سے باہر آئے

جیسے اچانک کبھی کبھی گہری نیند میں آنکھیں کھل جاتی ہیں – “آں ! پھر کیا ہونا تھا بیٹا ! وہ دن مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے

جس دن ان ظالموں نے “کجری” اور اس کے شوہر کو ڈھابے کے اندر بند کر کے باہر سے آگ لگا دی – ” کجری” بار بار کھڑکی

سے مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن ان ظالموں کے ڈر سے کسی نے “کجری” اور اس کے شوہر کی مدد نہیں کی “کجری” کی وہ

سسکیاں اور دلخراش چیخیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں اس نے کہا تھا وہ واپس آۓ گی اور کسی کو بھی نہیں چھوڑے گی

سب کو ہلاک کر دے گی چاچا کانپتے ہوۓ جھجھری لے کر بولے خوف کی وجہ سے چاچا کی آنکھیں پھیل گئی تھی –

میں اور اسلم “کجری” کی کہانی سن کر غمگین اور افسردہ ہو گئے ” پولیس اور قانون نے بھی کچھ نہیں کیا “؟ میں نے غم اور

حیرت سے پوچھا  “پولیس اور قانون ! کہاں غریبوں کیلئے ہوتے ہیں بیٹا یہ تو امیروں اور رئیسوں کے اشارے پر کسی کوٹھے والی

رقصہ کی طرح رقص کرنے لگتے ہیں” – غفور چاچا غم بھرے طنزیہ انداز میں کرب کے ساتھ بولے –

 “وہ لوگ کون تھے چاچا ؟ اور انھوں نے “کجری” کے ساتھ اتنا برا سلوک کیوں کیا ؟ اسلم جواب طلب نظروں سے غفور چاچا کی

طرف دیکھتے ہوئے بولا غفور چاچا آہ بھرتے ہوئے اپنے طنزیہ انداز میں بولے “وہی لالچ اور اپنی دولت و طاقت کا گھمنڈ انسان کو

اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے کہ ابلیس بھی پناہ مانگنے لگتا ہے ایسا ہی ایک ابلیس کا چیلا تھا “شمشیر جندال

شمشیر جندال شاہ جہاں پور کا رئیس زادہ اور بارسوخ آدمی تھا بہت ہی بے رحم اور ظالم قسم کا بندہ تھا اس کے ظلم ستم عام تھے

کسی بھی غریب مظلوم کی جگہ پر ناجائز قبضہ کر لیتا اگر کوئی غریب بے چارہ اس کے خلاف آواز اٹھاتا شمشیر اسے اپنے غنڈوں

کی مدد سے پٹواتا یا قتل کروا دیتا – اس نے جب “کجری” کے ڈھابے کی شہرت سنی تو ڈھابہ زبردستی ہتھیانا چاہا لیکن “کجری “

کے شوہر نے اس کی ایک نہ چلنے دی یہاں تک کہ “کجری” کے شوہر نے شمشیر اور اس کے غنڈوں کی جم کر پٹائی کردی

شمشیر اپنی اس بے عزتی سے آگ بگولا ہو گیا اور اس نے “کجری ” کے شوہر سے انتقام لینے کی ٹھان لی اور ایک دن موقع پاتے

ہی اس نے “کجری” اور اس کے شوہر کو دھوکے سے ڈھابے میں قید کر کے جلا کر مار دیا –

اس حادثے کے کچھ دنوں بعد شمشیر نے اسی جگہ اپنا نیا ڈھابہ بنا لیا مگر ایک دن اچانک شمشیر کے ڈھابے میں آگ لگ گئی اس

وقت شمشیر ڈھابے کے اندر موجود تھا – لیکن کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں سے فرار ہو گیا اس کے بعد اس

راستے پر آئے دن مسافروں کے ساتھ  کوئی نہ کوئی واردات ہونے لگی ساری ہریالی ختم ہو گئی سوکھی اور کانٹے دار جھاڑیوں

کے علاوہ کچھ نہ بچا – لوگوں کے دلوں میں اس راستے کا خوف بیٹھ گیا اور پھر لوگوں نے اس راستے سے سفر کرنا بلکل ہی بند

کر دیا –  ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہاں آس پاس کے قصبے کے کچھ اچھے اور سمجھدار لوگوں نے مل کر اس راستے کو مسافرو

کی بہتری کی خاطر ہمیشہ کیلئے بند ہی کروا دیا –  

پورا واقعہ سننے کے بعد میں اور اسلم بےقرار ہو اٹھے دل ابھی بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کہ “کجری” کی روح سے ہمارا

سابقہ پڑا تھا – کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کوئی مرا ہوا انسان واپس آ سکتا ہے؟ کیا سچ میں بھوت پریت اور روحیں اپنا انتقام لینے کیلئے

بھٹکتی پھرتی ہیں ؟ نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو پھر وہ کیا تھا؟ وہ کون سی طاقت تھی جس نے ہمارا تعاقب کیا تھا؟ ہم اس

وقت اتنے خوف زدہ اور بد حواس کیوں ہو گئے تھے ؟ ہمیں وہاں ڈھابہ کیوں دیکھائی دیا؟ جبکہ غفور چاچا کے مطابق اب وہاں

کوئی ڈھابہ ہے ہی نہیں اور وہ راستہ بھی برسوں سے بند ہے تو پھر وہ سب کیا تھا؟ کیا ہم لوگوں نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا تھا؟

لیکن ایک ہی وقت میں دو لوگ بلکل ایک جیسا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ دل کہہ رہا تھا کہ یہ سب سچ ہیں اور دماغ یہ سب

ماننے کو تیار ہی نہیں تھا دل اور دماغ کی کشمکش میں ہمارے سر چکرانے لگے –

غفور چاچا اپنا بستر بھی ہمارے کمرے میں ہی لے آئے اور محبت اور اپنائیت سے بولے “بچوں میں تمہارے پاس ہی سو جاتا ہوں

دل نہیں مانتا تمہے اکیلے چھوڑنے کو” ہم نے بھی مسکراتے ہوئے چاچا کے اس جذبے کو خوش آمدید کہا اور اپنے اپنے بستر پر

لیٹ گئے – لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ذہن میں بار بار “کجری اور اس کے ساتھ ہوۓ ظلم کا خیال آ جاتا انہی سوچوں

میں الجھے ہوئے کب آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا –

پھر نیند کا سلسلہ تب ہی ٹوٹا جب کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا – میں نے آنکھیں ملتے ہوئے دیکھا سامنے اسلم کھڑا مجھ کو

کہی چلنے کیلئے بول رہا تھا میں ابھی بھی پوری طریقے سے نیند کی خماری سے باہر نہیں نکل پایا تھا اسلیے وہ کیا بول رہا تھا

مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا البتہ یہ سمجھ پڑ گیا وہ کہی چلنے کو کہہ رہا تھا مگر کہا یہ سمجھ نہیں آئی –

میں نے گھڑی پر نظر ڈالی رات کے 3 بج رہے تھے غفور چاچا گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے –

 “اتنی رات کو کہاں جانا ہے؟” ہوش میں تو ہو نا تم “میں اسلم کو آنکھیں دیکھاتا ہوا دبی آواز میں بولا اسلم منہ پر انگلی رکھتے

ہوئے غفور چاچا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا “چاچا اٹھ جائے گے خاموش رہو” اپنا سامان اٹھاؤ اور چپ چاپ نکل چلو یہاں

سے” اگر چاچا اٹھ گئے تو ہمیں کسی حالت میں بھی جانے نہیں دیں گے”- لیکن جانا کہاں ہے اتنی رات گئے سفر کے بارے میں تو

سوچنا بھی مت کیا یہ سارے حادثات اور واقعات کم ہیں جو تم اسوقت سفر پر نکل کر  نئی مصیبت مول لینا چاہتے ہو – میں نے اسلم

کو قریب قریب پھٹکار لگاتے ہوئے کہا –

“کجری” کے قاتلوں کو ان کے جرم کی سزا ملنی ہی چاہیے اور ہم ان قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچائیں گے ” اسلم جذباتی ہو کر

دھیمی آواز میں بولا – میں نے اسلم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا ” تم ٹھیک کہتے ہو میں نے بھی یہی سوچ رکھا تھا –

لیکن کیسے؟ کیا کوئی تدبیر ہے تمہارے پاس؟ یا کوئی پلان؟

بتاؤ جواب دو؟ نہیں نا! ایکدم اٹھے اور چل دۓ جوش میں, اتنا آسان نہیں ہے یہ کام جتنا تم سوچ رہے ہو, یہ جوش میں نہیں ہوش میں

کرنے کا کام ہے میرے دوست ! سوچ سمجھ کر پوری پلاننگ کے ساتھ اس کام کو انجام دینا ہوگا – ابھی آرام سے سو جاؤ صبح بات

کرتے ہیں اس معاملے میں ! جاؤ سو جاؤ – 

صبح ناشتے کے دوران ان باتیوں میں ہم نے غفور چاچا کو بھی شامل کر لیا غفور چاچا یہ سن کر بہت خوش ہوئے – پھر ہم سب نے

مل کر یہ منصوبہ بنایا کہ کسی طرح شمشیر جندال کو “کجری” کے ڈھابے والی جگہ پر لے جایا جائے اور اسے وہاں رسی سے

جکڑ کر چھوڑ دیا جائے آگے کا کام “کجری ” کی روح خود کر لے گی –

منصوبے کے مطابق میں اور اسلم شمشیر کے پاس ڈھابے والی جگہ کے خریدار بن کر گئے شمشیر لالچ میں آکر ہمارے پھینکے

جال میں پھنس گیا اور ہمارے ساتھ چل کر وہ جگہ بتانے کیلئے تیار ہو گیا پہلے پہلے شمشیر نے بہت آنا کانی کی لیکن ہم لوگوں نے

جگہ کی قیمت اتنی زیادہ لگا دی کہ شمشیر کو ہاں کرنی ہی پڑی –

شمشیر , اسلم, میں اور غفور چاچا کار میں سوار اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہو چکے تھے -سب کچھ ہمارے منصوبے کے

مطابق ایکدم پرفیکٹ چل رہا تھا ڈاکٹر اسلم نے خاموشی سے سرینج میں بیہوشی کی دوائی بھر لی اور جیسے ہی ہم لوگ ڈھابے

والے راستے کے موڑ کے قریب پہنچے میں نے اور غفور چاچا نے اچانک شمشیر کو مضبوطی کے ساتھ دبوچ لیا اور اسلم نے

شمشیر کو بیہوشی والا انجکشن لگا دیا ٹھوڑی ہی دیر میں شمشیر بے حس وحرکت ہو گیا –

دن کا وقت تھا لیکن وہی خوفناک سنناٹا اور ہیبت ناک ماحول تھا ہم نے کار میں بیٹھے ہوئے ہی شمشیر کے بیہوش جسم کو ڈھابے

والی جگہ پھینک دیا اور بنا کسی تاخیر کے فوراً اس جگہ سے نکل پڑے اچانک ہماری کار کے سامنے کوئی انسانی ہیولہ نظر آیا

میں نے پوری طاقت سے بریک لگا دۓ خوف و دہشت کے مارے ہم تینوں کی چیخیں نکل گئیں – “جاؤ یہاں سے” اچانک یہ جملہ

ہمارے کانوں سے ٹکرایا جیسے ہوا نے سرگوشی کی ہو اور میں نے ایکسیلیٹر پر پورے زور سے پیر رکھ دیا ایک جھٹکے کے

ساتھ کار لہراتی ہوئی سڑک پر آ گئی ہم تینوں پسینے سے شرابور شدتِ خوف سے ایکدوسرے کا منہ دیکھنے لگے – پھر ڈاک بنگلے

پر پہنچ کر ہی ہم لوگوں نے چین کی سانس لی –

دوسرے دن صبح تڑکے ہی پاس کے قصبےکا  ایک نوجوان خوشی خوشی غفور چاچا کے پاس آکر کہنے لگا “بابا جی آپ کو پتہ ہے

شمشیر جندال ایک حادثے میں مارا گیا وہ جو پاس والا بند راستہ ہے نا وہاں شمشیر کی جلی ہوئی لاش ملی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ

شراب کے نشے میں شمشیر نے سگریٹ جلاتے ہوئے خود کو آگ لگا لی ہونگی” اتنا بول کر وہ نوجوان وہاں سے چلا گیا اور ہم

تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگے ہم جانتے تھے یہ کام کس کا ہے “کجری” نے اپنا انتقام

لے لیا تھا  اب اس کی روح کو سکون مل گیا – اب وہ کسی کو نہیں ستائے گی –

اس حادثے کے بعد وہ راستہ پہلے کی طرح آباد ہو گیا اور پھر کبھی اس راستے پر کسی مسافر کو “کجری” نے پریشان نہیں کیا

“کجری” اپنا انتقام لے کر چلی گئی –

ختم شد

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Antakam Ki Aag انتقام  کی آگ”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more