ہر جگہ بیٹی رحمت بن کے پیدا نہیں ہوتی کہیں عذاب بن کے بھی پیدا ہوتی ہے
یہ بات آج سے دو سال پہلے کی ہمارے محلے میں ایک بہت ہی معزز گھر تھا اس گھر میں سب پانچ وقت کے نمازی تھے
سب بہت نیک تھے میں بچپن سے جانتا تھا سب کو
ان کی سب سے چھوٹی بیٹی شادی شدہ تھی وہ اپنے خاوند سے جھگڑا کر کے مائیکے آئی ہوئی تھی ۔
اس لڑکی کی زبان بہت لمبی تھی وہ ساری ساری رات کسی سے کال پہ بات کرتی تھی اس لڑکی کی امی نے کہا شوہر سے تم جھگڑا کر کے آئی ہو تو بات کس سے کرتی ہو تب اس نے کہا میں فلاں کزن سے بات کرتی ہوں ۔
تو اس کی امی نے کہا دیکھاؤ نمبر اور کال ہسٹری تو اس لڑکی نے قرآن سر پہ اٹھا لیا اور کہا امی قصم ہے اِس کی میں کسی اور سے بات نہیں کرتی ۔
ایک رات سردیوں کی رات تھی جب سارے سو رہے تھے
تو وہ لڑکی رات تین بجے گھر سے بھاگ گئی صبح جب اس کی ماں اس لڑکی کو اٹھانے گئی تو پتاء چلا وہ اپنا بچہ لے کے گھر سے فرار ہو چکی ہے گھر کا میں دروازہ کھلا پڑا ہوا تھا۔
اس کے ابو یہ بات پتا چلی تو ہارٹ اٹیک سے وہی دم توڑ دیا اس کا وہ پانچ وقت کا نمازی باپ جس کی ہر کوئی تعریف کرتا تھا ہم جنازے میں شامل ہوئے تو اس کے بعد اس لڑکی کے بڑے بھائی نے مجھ سے رابط کیا وہ مجھ پہ بہت اعتبار کرتا تھا ۔
سارا واقعہ مجھے بتایا میں نے اور اس نے مل کے لڑکی اور لڑکے کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ڈھونڈ لیا کسی دوسرے شہر سے لیکن شرم کے مارے تھانے رپٹ درج نہ کروائی ۔
میں نے اس لڑکے کے بڑوں سے رابط کیا وہ لوگ ڈر رہے تھے ساتھ گارڈ وغیرہ لے کے آئے میں نے بیٹھ کے بات کی اور لڑکی کے بھائی کو کہا تم یہیں ہوٹل میں بیٹھ جاؤ ۔
میں نے پیارے سے بات کی اور کہا خوں خرابے سے کچھ نہیں ہو گا اب آپ کے لڑکے کو نکاح کرنا پڑے گا اس سے
وہاں سے طلاق کروائی لڑکی کی عدت کے بعد اسی لڑکے سے نکاح ہو گیا ۔
پورا ایک سال لگ گیا اس ایک سال میں اس لڑکی کی ماں جائے نماز پہ بیٹھی بیٹھی مر گئی اب ان کے خاندان میں ان کے بھائیوں کی کوئی عزت نہیں کرتا اس لئے وہ خاندان میں کہیں آتے جاتے نہیں ۔
اور جو پہلے خاوند سے بچہ تھا وہ بھی یعتیم ہو گیا اس کے باپ نے نشہ کر کر کے خود کو برباد کر لیا اور وہ بھی مر گیا ۔
اس کی پہلی شادی بھی اس کی رضامندی سے ہوئی تھی کوئی زبردستی نہیں کی تھی اس کی فیملی نے اگر وہ پہلے بتا دیتی کے میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں تو اس کے ابو اور بھائی بہت اچھے اور شریف تھے انہوں نے بڑے ہی پیار سے پوچھا تھا بیٹا تمہیں کوئی اور پسند ہے تو ہم وہاں کر دیتے ہیں لیکن اس نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اور جانتے ہیں وہ لڑکا فیسبک سے تھا ۔
اپنی محبت کو دفن کرنا کئی گنا بہتر ہے اپنے ماں باپ اور بھائیوں کی جیتے جی دفن کرنے سے وہ جن زمانا اتنی عزت کرتا تھا اب ان کے ساتھ کوئی کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتا۔
یہ پوسٹ کرنے کا مقصد صرف یہی تھا ایسا قدم اٹھانے سے بہتر ایسی بٹیاں خود کشی کر لیں تاکہ موت صرف ایک کی ہو نہ کے پورے گھر موت ہو جائے ۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Beshram Larki بےشرم لڑکی” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.