چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام زید تھا۔ زید کو معمے حل کرنا اور رازوں کی کھوج لگانا بہت پسند تھا۔ ایک دن اس کے چھوٹے بھائی کا پسندیدہ کھلونا، ایک ننھا سنہری ہاتھی، غائب ہو گیا۔
زید نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس کھلونے کو ڈھونڈے گا۔ اس نے اپنی جاسوس کی ٹوپی پہنی اور اپنا بڑا چشمہ لگایا۔ سب سے پہلے وہ باغ میں گیا، جہاں اسے اپنے دوست، ایک بوڑھے کچھوے سے مدد ملنی تھی۔
کچھوے نے آہستگی سے کہا، “میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے… ایک چمکتی ہوئی چیز لال چڑیا لے کر اڑی ہے۔”
زید لال چڑیا کے پیچھے دوڑا۔ درخت کی ٹہنی پر بیٹھی چڑیا نے بتایا، “ہاں، میں نے ایک چمکتی چیز دیکھی تھی، مگر وہ تو کبوتر لے کر اڑا ہے۔”
زید پھر کبوتر کے پیچھے بھاگا۔ کبوتر نے گھر کی چھت پر بیٹھ کر بتایا، “وہ تو میں نے دیکھا تھا، مگر وہ چیز تو ہوا کے ساتھ اڑ کر بلی کے بچوں کے پاس چلی گئی۔”
زید بلی کے بچوں کے پاس پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ بلی کے بچے ایک چمکتی ہوئی چیز سے کھیل رہے ہیں۔ مگر وہ کھلونا نہیں تھا، بلکہ ایک چمکتی ہوئی پن تھی۔
تھک ہار کر زید گھر واپس آیا۔ اس کی نظر اپنے کتے ٹامی پر پڑی، جو باغ میں کچھ چبا رہا تھا۔ قریب جا کر دیکھا تو وہی سنہری ہاتھی تھا! ٹامی خوشی سے دم ہلا رہا تھا، اسے لگا کہ یہ اس کے لیے نیا کھلونا ہے۔
زید نے ہاتھی واپس لے لیا اور اپنے بھائی کو دے دیا۔ اس دن زید نے سیکھا کہ کبھی کبھی ہماری چیز ہمارے بہت قریب ہوتی ہے، ہمیں صرف اچھی طرح دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سبق: صبر اور ہمت سے کام لینے والا ہر معمہ حل کر سکتا ہے۔
ختم شد
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Chota Jasoos Aur Gumshuda Kolona چھوٹا جاسوس اور گمشدہ کھلونا” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.