گاڑی فلیٹ کے باہر روکتے وہ جلدی سے اس میں سے باہر نکلا تھا اور دوسری سائیڈ آیا تھا ۔۔۔۔۔
چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کے بالوں کو چہرے سے پیچھے کیے وہ اسے گود میں اٹھا گیا اور دل جلانے والے انداز میں سیٹی بجاتے فلیٹ کے اندر داخل ہوگیا ۔۔۔۔۔
اپنی گود میں رواحہ کا بچوں کی طرح جھٹ پٹانا اور ٹانگیں ہلانا اس کے چہرے پر دلکش سی مسکراہٹ لے آیا ۔۔۔۔۔
وہ پول کے پاس اسے نیچے اتارے کمر سے تھامے کھڑا کر گیا پہلے اس کا منہ کھولے اس کے ہونٹوں پر جھکے وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا ۔۔۔۔۔
پھر اس کے ہاتھ کھول گیا۔۔۔۔۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ٹچ کرنے کی وہ اپنے ہونٹوں کو رگڑ کر اس کا لمس مٹانے لگی۔۔۔۔
ڈونٹ دو دس رواحہ بی بی وہ اس کے ہاتھوں کو تھام کر اسے وارن کرنے لگا۔۔۔ وہ پھر بھی بعض نہ آئی اور اس کا لمس مٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔
دور رہو مجھ سے آریان شاہ ورنہ میں تمھیں جان سے مار ڈالوں گی وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی غرائی ۔۔۔۔۔
دور رہنے والے کام تو تم کرتی ہی نہیں ہو ۔۔۔۔ تم خود جان بوجھ کر مجھے اکساتی ہو میں تمھارے قریب آؤں تمھیں چھوؤں آخر بیٹی کس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔۔۔
ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب رواحہ نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا۔۔۔۔۔
اپنی اوقات میں رہ کر بات کرو آریان شاہ خبردار اگر تم نے میرے بابا کے بارے میں کوئی بھی بکواس کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
اس دفع تو ایک تھپڑ پڑا ہے اگلی دفع نجانے میں تمھارا کیا حشر کروں گی وہ انگلی اٹھائے آنکھوں میں نفرت بھرے اسے وارن کر گئی۔۔۔۔۔
تم نے مجھ پر آریان شاہ پر ہاتھ اٹھایا چلو اب اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے بھی تیار ہوجاؤ ۔۔۔۔۔
اگلے ہی پل آریان اس کی طرف بڑھے اسے پول میں دھکا دے گیا ۔۔۔۔۔۔ جو دھرام سے پول کے اندر جا گری ۔۔۔۔۔
پانی کے کافی چھینٹے اڑ کر آریان کے چہرے پر گرے تھے جسے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہاتھوں کی مدد سے مسکراتے ہوئے چہرے سے صاف کر گیا۔۔۔۔۔۔
یو باسٹرڈ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے پول میں دھکا دینے کی وہ تیرنے کی کوشش کرتی خود کو بچاتی اس پر چلائی ۔۔۔۔۔
ایسے ۔۔۔۔وہ اپنی بنیان اتارتے خود بھی پول کے اندر چھلانگ لگاتے بولا ۔۔۔۔۔
اسی پانی کے اندر ڈوب کر تم مر جاؤ آریان شاہ وہ اسے بد دعائیں دینے لگی ۔۔۔۔
رواحہ بی بی تم میری نہیں اپنی ٹینشن لو میں تو نہیں مرنے والا پول میں ڈوب کر تم ضرور مر سکتی ہو ۔۔۔۔
پول ہے بھی گہرا اوپر سے تم اپنی ہائیٹ دیکھو اور پھر تمھیں تو تیرنا بھی نہیں آتا ۔۔۔۔۔ دیکھو کب سے ایک ہی جگہ پر ڈبکیاں لگا رہی ہو۔۔۔۔۔
میں تو مچھلیوں کی طرح تیر رہا ہوں دیکھو وہ اس کے ارد گرد تیرتے اسے جلانے لگا ۔۔۔۔۔
ڈونٹ ڈو دس آریان مجھے در لگتا ہے پانی سے پلیز مجھے نکالو باہر ۔۔۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔ میرا سانس بند ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔
پلیز مجھے باہر نکالو آریان ۔۔۔۔۔ ت۔۔۔۔ تم۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرتے تھے نا تو پھر کیسے تم مجھے تکلیف میں دیکھ سکتے ہو ۔۔۔۔۔
پلیز بچاؤ مجھے ۔۔۔۔ باہر نکالو مجھے کچھ ہوجائے گا پلیز ہیلپ می وہ ڈر کے مارے اس سے مدد کی بھیک مانگنے لگی۔۔۔۔۔۔
اسے پینک ہوتے اور خود کو بچاتے دیکھ آریان جلدی سے اس کی طرف بڑھا تھا اور اسے کمر سے تھام کر کھڑا کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
باہر نکالو میں مر جاؤں گی وہ مضبوطی سے اس کی گردن میں بازو ڈالے آنکھ بند کیے بولی ۔۔۔
جیسے ابھی آریان اسے چھوڑ دے گا اور وہ مر جائے گی ۔۔۔۔۔ پلیز نکالو میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔
آریان کو لگا تھا وہ بچپن میں ہی پانی سے ڈرتی تھی اب بڑی ہوگئی ہے تو اسے ڈر نہیں لگے گا لیکن اسے پینک ہوتے ڈرتے دیکھ وہ پریشان ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔
رواحہ اوپن یور آئیز ٹرسٹ می کچھ نہیں ہوگا تمھیں میں یہی پر ہوں ۔۔۔۔ وہ اس کی کمر سہلاتے اسے دلاسا دینے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
نہیں آریان میں ڈوب جاؤں گی مجھے باہر نکالو پلیز وہ اور زیادہ اس کے ساتھ چپکتے ہچکیوں کے بیچ بولی ۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت دونوں اپنا غصہ نفرت سب کچھ بھلائے ہوئے تھے جب رشتوں میں سچی محبت ہو تو نفرت بھی کچھ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔
آج آریان شاہ اپنی نفرت کو کہیں سلائے اپنی محبت کو جگا گیا تھا ۔۔۔۔۔
رواحہ ٹرسٹ می میں تمھیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا بس تم رونا بند کرو شاباش وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ بھرے محبت سے بولا ۔۔۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے ویسے ہی اس کے ساتھ چپکی رہی ۔۔۔۔۔
مجھے سوئمنگ نہیں آتی آریان پلیز مجھے باہر نکالو وہ اس کی منت کرنے لگی ۔۔۔۔
میں ہوں ناں رواحہ میرے ہوتے کچھ نہیں ہوگا تمھیں ۔۔۔۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھو ۔۔۔۔۔
وہ اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگا جس میں وہ کامیاب بھی ٹھہرا تھا اس لیے اب رواحہ سیدھی ہوکر آنکھیں کھولے نیچے سوئمنگ پول کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
جہاں وہ پول میں چمکتے گہرے نیلے پانی کو دیکھتے ایک بار پھر خوفزدہ ہوتی اپنی آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔۔۔۔
رواحہ کے ایک بار پھر سے آنکھیں بند کرنے پر وہ مسکراتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا گیا ۔۔۔۔۔
جب میں ہوں تو ڈر کس بات سے رہی ہو تم ٹینشن نہ لو میں تمھیں سوئمنگ کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ سکھا دوں گا۔۔۔۔۔۔
آریان نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے نیچے کو جھکتے اس کے کان میں سرگوشی کی اور پھر نرمی سے اس کے کان کی لو کو چوم گیا۔۔۔۔۔۔
اور پھر آہستہ آہستہ سے اس کے جسم سے اپنی شرٹ اتار گیا اور گہری نظروں سے اس کے حسین سراپے کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔
نظروں کا مرکز مستقل اس کے کانپتے گلابی ہونٹ ہی تھے ۔۔۔۔۔
وہ نرمی سے اس کے ہونٹوں پر جھکے اپنی تشنگی مٹانے لگا رواحہ کے اوپر ڈر اس قدر حاوی تھا کہ اسے سمجھ میں ہی نہ آیا آخر اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
آریان کے ساتھ ساتھ وہ بھی اس کی قربت اور چاہت میں پگھلنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ پلیز نہ کریں ۔۔۔۔۔ یہ سب غلط ہے ۔۔۔۔۔ وہ اسے اپنی گردن پر جھکے دیکھ منمنائی ۔۔۔۔۔۔
زبان سے سن کر کیا کرو گی تم۔۔۔..سب کر کے دکھاؤں گا میں تمھیں بس تم خاموش رہو اور مجھے محسوس کرو۔۔۔۔
تم میرے نکاح میں ہو ۔۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے پر مکمل حق رکھتے ہیں ہمارے بیچ کچھ بھی غلط نہیں ہے جو بھی ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے بلاؤز کو کندھے سے ہٹائے وہاں اپنے ہونٹوں کا لمس بکھیرنے لگا ۔۔۔۔۔
وہ اس سے دور جانے کی کوشش کرنے لگی تب ہی آریان اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے آنکھوں میں خمار لیے کالی گھٹا کی طرح اس پر چھانے لگا۔۔۔۔۔۔
اس کا لمس پاتے ہی رواحہ اندر تک لرز گئی ۔۔۔۔۔دونوں کی دھڑکنیں الگ ہی ادھم مچائے ہوئے تھیں ۔۔۔۔
آریان کوئی آجائے گا وہ اس کی بڑھتی جسارتوں کے بیچ میں بولی ۔۔۔۔۔
تم بس چپ رہو کوئی بھی نہیں آئے گا یہاں ۔۔۔۔۔کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں ہے کہ میری اجازت کے بغیر یہاں آسکے۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے بالوں کی بھینی بھینی خوشبو اپنے اندر اتارتا خمار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
دونوں ان جادوئی لمحات میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ آریان اس کے ہونٹوں کو چومتے اسے گود میں اٹھائے آہستہ آہستہ پول سے باہر نکلنے لگا۔۔۔۔۔۔
اور پھر اسے لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
وہ اسے واشروم میں کھڑا کیے واپس سے کمرے میں آیا تھا کبرڈ میں سے اپنی ہلکی پھلکی سی دو شرٹس نکال کر واپس سے واشروم میں گیا تھا ۔۔۔۔۔
چلو ڈریس چینج کرتے ہیں گیلی ڈریس کے ساتھ ہم بیڈ پر سو نہیں سکتے وہ ہاتھ بڑھا کر واشروم کی لائیٹس آف کر گیا ۔۔۔۔۔
اور پھر رواحہ کا ڈریس چینج کروانے کے بعد اسے اٹھا کر بیڈ پر لیتانے کے بعد واپس سے واشروم میں آیا تھا اور اپنا ڈریس چینج کرنے کے بعد رواحہ کی ماما کے موبائل پر میسج چھوڑ کر وہ بھی اس کے قریب ہی جا لیٹا تھا۔۔۔۔۔
وہ رواحہ کے کانپتے وجود کو اٹھا کر اپنے اوپر ڈال چکا تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر اس کی کمر سہلائے اسے نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اس وقت رواحہ ڈر کے حصار میں ہے اس لیے اس کے اتنے قریب ہے ورنہ وہ کبھی بھی نہ خود اس کے قریب آتی نہ ہی اسے خود کے قریب آنے دیتی ۔۔۔۔۔
اس کی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوساچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم کر کے وہ اسے سائیڈ پر لیٹا چکا تھا شاید وہ ابھی بھی ڈر کے حصار میں تھی اس لیے اس کے قریب ہوکر اس کے سینے سے لگ چکی تھی ۔۔۔۔
ہمسفر قریب ہو اور جذبات کو بہکا رہی ہو تو خود کے جذبات کو کنٹرول کرنا مشکلاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم ہوجاتا فلحال وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا وہ صبح اٹھ کر اس پر کوئی بھی الزام لگائے وہ اس کے ڈر کا فائدہ اٹھا کر اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔۔
اس لیے خود بھی اسے اپنے بازوؤں کی گرفت میں لیے سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔
اپنے ماما بابا کے جانے کے بعد آج وہ بہت عرصے بعد سکون کی نیند سویا تھا ۔۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو خود کو آریاناچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم کے حصار میں پایا۔۔۔۔۔ وہ جلدی سے ہوش و حواس میں آتی اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔
اور پھر کل کا ایک ایک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح لہرایا تھا ۔۔۔۔۔
نو ،نو ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔
میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔۔ یہ مجھے کس نے پہنائے۔۔۔۔۔ آریان ۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔
آریان میرے قریب کیسے آسکتا ہے ۔۔۔۔اس نے میرے ڈر کا فائدہ اٹھایا ہے وہ بڑبڑاتے ہوئے جلدی سے اٹھی اور پھر جلدی سے واشروم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ساڑھی پہن کر واپس سے کمرے میں آئی تھی جو کل آریان ڈرائے ہونے کے لیے ڈال چکا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں ہونے والے شور کی آواز سے آریان کی آنکھ کھلی تھی اور پھر اس نے کمرے سے باہر جاتی رواحہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
رواحہ کا اس طرح سے بھاگنا اسے احساس دلا چکا تھا رواحہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہوئی ہے۔۔۔۔۔ جو کچھ ان کے بیچ میںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم ہوا ہی نہیں وہ وہی سب سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ خود بھی جلدی سے اٹھتا اس کے پیچھے بھاگا تھا ۔۔۔۔۔۔
سٹاپ رواحہ میری بات سنو ۔۔۔۔ تم غلط سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔ تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔
ڈیم اٹ ایک دفع رک کر بات سن لو وہ رواحہ کو بھاگتا دیکھ کے چلایا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ اس کی ایک بھی سنے بغیر اندھا دھن وہاں سے بھاگ چکی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں سننا تو نہ سنو بھاڑ میں جاؤ مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تمھیں صفائیاں دینے کا وہ رواحہ کو بھاگتا دیکھ کے وہیں رک چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ سجھ چکا تھا اس وقت رواحہ نے اس کی کوئی بھی بات نہیں سننی اور نہ ہی سمجھنی اس نے آریان کو غلط ہی سمجھنا تھا۔۔۔۔۔۔
اس لیے وہ بھی اسے صفائیاں نہیں دینا چاہتا تھا واپس سے کمرے میں جا کے لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔
اُسے کہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دھڑکتا ہے !
ابھی تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سانس چلتی ہے !
ابھی تک یہ میری آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہانے خواب بنتی ہیں !!
میرے ہونٹوں کی جنبش میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا نام رہتا ہے !!
ابھی بارش کی بوندوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارا پیار باقی ہے !!
اُسے یہ بھی بتا دینا ۔۔
ابھی اظہار باقی ہے !
ابھی یادوں کے کانٹوں سے ۔۔۔۔۔
مرا دامن الجھتا ہے !!
تمہارا پیار سینے میں ۔۔۔۔۔۔۔
کہیں اب بھی دھڑکتا ہے !
مجھے لگا تھا آریان شاہ تمھاری یہ نفرت کھوکھلی ہے تم بس خود کو تسکین پہچانے کے لیے مجھ سے نفرت کرتے ہو۔۔۔۔۔
کل تم نے میرے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے وہ کر کے مجھے غلط ثابت کر دیا ہے تمھاری مجھ سے نفرت سچی ہے ۔۔۔۔۔
میں آج تک تم سے کبھی بھی نفرت نہیں کر پائی میرے دل کے ہر کونے میں صرف اور صرف آریان شاہ اور اس کی محبت تھی لیکن اب آریان شاہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
مجھے تم سے شدید نفرت ہے آئی ہیٹ یو تم کیسے میرا فائدہ اٹھا سکتے ہو وہ گھر آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں گئی تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر اب کل والے مناظر یاد کر کے بیڈ پر لیٹی آنسو بہا رہی تھی
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 04 عشق میں گھائل” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.