مسٹر آریان شاہ میں بھی اس آفس میں ففٹی پرسینٹ شیئرز کی مالکن ہوں آپ نے ڈیل کے کاغذات پر دستخط کرنے سے پہلے ایک
بار بھی مجھ سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔۔۔۔
رواحہ اسے بنا پوچھے ڈیل کے پیپرز پر دستخط کرتے دیکھ دانت پیستے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس لیے مسز آپ کے پاس فلحال دماغ کی کمی ہے اور میں نہیں چاہتا تھا آپ کی کم دماغی کی وجہ سے شاہ امپائرز کو کوئی بڑا نقصان پہنچے ۔۔۔۔۔
اس لیے تم سے پوچھے بغیر ہی میں نے دستخط کر دیے ہیں ۔۔۔۔۔
آریان شاہ تم ۔۔۔۔۔ شٹ اپ وائفی گھر جا کے بات کرتے ہیں نہ اپنے روم میں ابھی چپ رہو ہم آفس میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ اسے گھورتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے دانت پیستے بولا ۔۔۔۔۔
میٹنگ ختم ہوچکی ہے تو آپ لوگ یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اب آپ لوگ جا سکتے ہیں پھر ہم نے بھی نکلنا ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں بھی گھر پر ضروری کام ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر رواحہ کے پیچھے جا کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے وہاں موجود لوگوں سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔
جو اس کے بولنے پر جلدی سے اٹھ کر روم سے باہر نکل گئے سب کی دیکھا دیکھی روباص بھی ایک نظر ان پر ڈالتا اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کے تاثرات واضح بتا ریے تھے وہ رواحہ کے قریب آریان کو دیکھ کر کیسے جیلس ہو رہا ہے اور خود کا غصہ ضبط کیے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔۔
ان سب کے جانے کے بعد رواحہ بھی اپنا سامان اٹھائے جانے لگی تھی تب ہی آریان اس کے کندھوں پر دباؤ ڈالے اسے واپس سے بٹھا گیا ۔۔۔۔۔
میں نے تمھیں کیا بکواس کی تھی ؟؟؟؟ تم مجھے اس طرح کی ڈریسنگ میں نظر نہ آؤ وہ روم کا دروازا لاک کرتے واپس سے اس تک آکر پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔
مجھے لوگوں کی کی گئی بکواس کی سمجھ نہیں آتی اور میں بھی پہلے ہی تم سے کہہ چکی ہوں میرے اوپر ڈھونس جمانے کی تمھیں ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
میرے دل میں جو آئے گا میں کروں گی ۔۔۔۔ میری ڈریسنگ سے تمھیں کیا تکلیف ہے جب ہمارے بیچ کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
بدقسمتی سے تم میری بیوی ہو اور آریان شاہ اپنی چیزوں پر کسی کی نظریں برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
اس لیے اگر تم مجھے دوبارہ اس قسم کی ڈریسنگ میں نظر آئی تو میں ڈریس سمیت ہی پٹرول پھینک کر تمھیں آگ لگا دوں گا ۔۔۔۔۔
اور آریان شاہ خالی دھمکیاں نہیں دیتا کر کے بھی دکھاتا ہے یہ تم بھی جانتی ہو وہ پیچھے سے اس کے بالوں کو پیچھے ہٹائے کان کی لو کو دانتوں تلے دبا کے کاٹ گیا ۔۔۔۔
رواحہ کے منہ سے سسکی سی برآمد ہوئی تھی تبھی وہ آریان کے ہاتھ جھٹکتی جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
واہ آریان شاہ واہ تم تو بڑے ہی ہوس پرست انسان نکلے کیسے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے تم بار بار میری ڈریسنگ کو نشانہ بنا کر میرے قریب آتے ہو ۔۔۔۔۔۔
وہ کلیپنگ کرتے اس کے ارد گرد گھومتے طنزیہ انداز میں بولی اور آریان کو اندر تک سلگا گئی۔۔۔۔۔
او ہیلو میڈم بار بار یہ کیا ہوس ہوس لگا رکھا ہے ۔۔۔۔۔ تم نے ہوس پوری کی فلاں فلاں کیا۔۔۔۔۔
فار یور کائینڈ انفارمیشن مسز رواحہ تم بیوی ہو میری میں جب چاہوں تمھارے قریب آسکتا ہوں ۔۔۔۔۔
تم سے اپنا حق وصول کر سکتا ہوں یہ میرا حق ہے ۔۔۔۔
اور اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے قریب آتا ہے تو ہوس پوری کرنے نہیں آتا لیکن یہ بات تم جیسے چھوٹے دماغ کی لڑکی کہاں سمجھے گی ۔۔۔۔۔۔
ہوس تو وہ ہوتی ہے جو تمھارے بابا۔۔۔۔۔۔ ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب ایک بار پھر رواحہ نے اس کے منہ پر تھپڑ مارنے کے ارادے سے ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن اس دفع آریان اس کا ہاتھ بیچ راستے میں ہی پکڑ چکا تھا اور ویسے ہی اس کا ہاتھ پکڑے اسے گھما کر اپنے ساتھ لگا چکا تھا ۔۔۔۔۔
نہ رواحہ بی بی نہ ہر دفع نہیں چلے گا ۔۔۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے تم ہر دفع مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گی اور میں چپ چاپ کھڑا رہوں گا ۔۔۔۔۔۔
یہ تمھاری غلط فہمی ہے وہ اس کے بالوں کو سائیڈ پر کیے اس کی گردن پر جگہ جگہ اپنا شدت بھرا لمس بکھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔
رواحہ اس کی سخت گرفت میں کسمسا کر رہ گئی ۔۔۔۔
دور ہٹو مجھ سے چھوڑو مجھے وہ خود کو کمپوز کرتی جلدی سے بولی ۔۔۔۔۔
رواحہ بی بی میں نے چھوڑنے کے لیے تھوڑی نہ پکڑا ہے ۔۔۔۔۔۔ ابھی تو میں نے تمھیں تمھاری گستاخی کی سزا دینی ہے اس کے بعد چھوڑ دوں گا وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کیے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔۔۔۔
رواحہ خود کو بچانے کے لیے اس کے سینے پر مکے برسانے لگی لیکن آریان پر اس کے مومی ہاتھوں کے مکوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ ویسے ہی اپنے کام میں مصروف رہا جب اسے لگا کہ اب رواحہ سانس نہیں لے پا رہی تو اس کے ہونٹوں کو آزادی بخش گیا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے سینے پر سر ٹکائے اپنی سانسوں کو ہموار کرنے لگی لیکن پھر جلدی ہی اپنی پوزیشن کے بارے میں سوچ کر اس سے دور ہوئی ۔۔۔۔۔
یہ لاسٹ وارننگ تھی مسز اس کے بعد اگر تم مجھے دوبارہ سے اس قسم کی ڈریسنگ میں نظر آئی تو میں تمھارا جو حال کروں گا اس کی زمہ دار تم خود ہوگی ۔۔۔۔۔
آریان اس کے بھیگے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے اسے وارننگ دینے لگا ۔۔۔۔ وہ پل میں اس سے دور ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
تم جو بھی کر لو آریان شاہ میں تم سے نہیں ڈرتی میں وہی ڈریس پہنوں گی جسے پہننے کو میرا دل چاہے گا وہ غصے سے چینخی تھی ۔۔۔۔۔۔
چلو پھر میں بھی دیکھتا ہوں تم دوبارہ اس طرح کا ڈریس کیسے پہنتی ہو آریان نے اس کے پاس جا کر مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے تم اس طرح کی ڈریسنگ میں لگ غضب کی رہی ہو لیکن ہائے رے قسمت یہ ہمارا بیڈ روم نہیں آفس ہے وہ اسے دیکھ کے مسکراتے ہوئے خمار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
اگر تم کہو تو یہیں پر ہی نہ کنٹینیو کر لیں وہ اسے سمائل پاس کرتا ایک آنکھ ونک کرتے ہوۓ پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
شٹ اپ آریان شاہ اپنی بکواس بند کرو دوبارا میرے قریب آنے کے بارے میں سوچا بھی تو میں تمھاری جان نکال دوں گی رواحہ نے انگلی اٹھائے اسے وارن کیا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا رواحہ بی بی تمھارے قریب تو میں آؤں گا جب جب میرا دل کرے گا اور تم مجھے روک بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔
رواحہ اس کی بات کو اگنور کیے وہاں سے جانے لگی تھی تب ہی آریان ایک ہی جست میں اس تک پہنچتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک گیا ۔۔۔۔۔
اب کیا تکلیف ہے مجھے روکا کیوں ؟؟؟ وہ غصے سے مڑ کر اپنے ہاتھ کو دیکھتے اس سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
تمھیں کیا لگتا ہے میں تمھیں اس طرح کی ڈریسنگ میں ایسے ہی جانے دوں گا آریان ایک آئی برو اچکائے بولا ۔۔۔۔۔
اور پھر اپنا کوٹ اتار کر اسے پہنانے لگا تم یہ کوٹ پہن کر گھر جاؤ گی وہ اسے کوٹ پہنانے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑے آفس روم سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اور پھر اس کے ساتھ ساتھ چلتا باہر پارکنگ کی طرف آیا اور اسے گاڑی میں بیٹھانے کے بعد خود بھی گاڑی میں بیٹھتا اپنے فلیٹ کی طرف روانہ ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ اچھے سے جانتا تھا اگر وہ رواحہ کے ساتھ ہوگا تو آفس میں موجود سٹاف میں سے کوئی بھی نظر اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔
اس لیے وہ خود اسے باہر گاڑی تک چھوڑ کر آیا تھا ۔۔۔۔۔ وہ آفس میں تو اسے سب کی نظروں سے بچا سکتا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن جس طرح کی ڈریسنگ میں وہ گھر سے آفس تک لوگوں کی نظروں سے ہوتے ہوئے آتی تھی اس کا آریان کو حل ڈھونڈنا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور وہ اس بارے میں سوچ بھی چکا تھا اسے کیا کرنا
ہے ۔۔۔۔
اسے واپسی پر کوٹ پہنے گھر میں داخل ہوتے دیکھ داجی اور نوشیبہ بیگم نے مسکراتی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
نوشیبہ بیٹا یعنی محبت ابھی بھی زندہ ہے ۔۔۔۔۔ انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے ہی دنیا کی نظروں سے بچا کر رکھتا ہے کیونکہ وہ اس پر صرف خود کا حق سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔
کسی دوسرے کی نظریں برداشت نہیں کر سکتا بس اب ہمیں کچھ بھی کر کے آریان کو واپس شاہ ہاؤس لے کر آنا ہے ۔۔۔۔
اور ان دونوں کے بیچ میں سوئی ہوئی محبت کو جگانا ہے داجی نے اپنی بات کے اختتام پر نوشیبہ بیگم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
جو داجی کے دیکھنے پر ہاں میں سر ہلاگئی ۔۔۔۔۔
اسلام علیکم! ماما داجی کیسے ہیں آپ دونوں اس نے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ کر ان دونوں سے پوچھا ۔۔۔۔۔
ہم ٹھیک ہیں ،،، تم بتاؤ تمھارے لیے کچھ کھانے پینے کو لاؤں اور تمھاری آج کی میٹنگ کیسی رہی ۔۔۔۔۔
نوشیبہ بیگم نے بیٹی سے پوچھا ۔۔۔۔
ماما میٹنگ بہت اچھی رہی اور میں بہت تھک چکی ہوں فلحال ریسٹ کرنا چاہتی ہوں اب سیدھا ڈنر ہی کروں گی ۔۔۔۔۔
لیکن بیٹا تم صبح بھی کچھ کھا کر نہیں گئی تھی ایک منٹ رکو میں نے ابھی داجی کے لیے جوس بنایا تھا پڑا ہوگا تمھارے لیے بھی لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ پی کر تم سوجانا نوشیبہ بیگم بیٹی کو کہتی جلدی سے جوس لینے کے ارادے سے کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ جوس لے کر واپس آئیں تو رواحہ جوس پی کے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
آریان باہر چلیں ڈنر کرنے آج عون لاؤنج میں بیٹھے آریان کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
یہیں پر کچھ منگوا لے نا یار آریان نے نظریں ٹی وی پر ٹکائے اسے کہا۔۔۔۔
نہیں یار گھر میں کھانے کے ساتھ حسینائیں تو نہیں آئیں گی نہ اگر ریسٹورنٹ جائیں گے تو وہاں بہت ساری حسینائیں ہونگی ۔۔۔۔۔
اور مجھ بیچارے کا بھی شاید کچھ بن جائے آخر کب تک کنوارا رہوں گا ۔۔۔
مجھ معصوم کے بارے میں بھی کچھ سوچو مجھ پر بھی رحم کھاؤ ۔۔۔۔
مجھے اکیلے کو کمرہ کھانے کو دوڑتا ہے ۔۔۔۔ تھکا ہارا گھر آتا ہوں پورا جسم درد کر رہا ہوتا ہے بیوی بچے ہوں تو انہیں دیکھ کر کم از کم میری تھکاوٹ تو دور ہو۔۔۔۔۔
اب مجھ سے یہ تنہا زندگی نہیں گزاری جا رہی مجھے ایک حسین حسینہ چاہیے جو میری زندگی میں آکر میری زندگی کو حسین بنا دے ۔۔۔۔۔۔
عون کی دہائیاں عروج پر تھیں جبکہ اس کی دہائیاں سنتا آریان اپنے کان بند کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
یا اللہ پھینک دے کوئی حسینہ میری جھولی میں ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ عون اگر تو چپ نہ ہوا تو میں تیرا گلا دبا دوں گا اس سے پہلے کہ عون مزید کچھ بولتا آریان نے اسے بیچ میں ہی ٹوکا۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں تجھے مجھ معصوم پر ظلم کرنے کے علاؤہ اور آتا بھی کیا ہے ،،،،، عون نے منہ بسورے کہا تو آریان کو اس کی شکل دیکھ کر ہنسی آئی ۔۔۔۔
چل چلتے ہیں تو بھی کیا یاد رکھے گا لیکن میری ایک بات کان کھول کر سن لے وہاں جا کر تو نادیدوں کی طرح لڑکیوں کو نہیں گھورے گا ۔۔۔۔۔
آریان رموٹ سائیڈ پر رکھتے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔
میں کہاں لڑکیوں کو نادیدوں کی طرح دیکھتا ہوں لڑکیاں خود ہی اتنا حسین منڈا دیکھ کے نادیدوں کی طرح گھورنا شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔۔۔
میں تو بس ان کا دل رکھنے کے لیے انہیں سمائل پاس کرتا ہوں عون جلدی سے بولا ۔۔۔۔۔
پتا ہے مجھے تو کتنے پانی میں ہے ۔۔۔۔۔ توں تو اتنا شریف بچہ ہے کہ وہاں جا کر سارا دھیان اپنے کھانے پر رکھتا ہے اور کھانا منہ سے کھانے کی بجائے ناک سے کھاتا ہے آریان نے اس کی لاسٹ ٹائم کی گئی حرکت پر ٹونٹ کیا ۔۔۔۔۔۔
جب لاسٹ ٹائم وہ دونوں کھانا کھانے گئے تھے تب عون کا سارا دھیان لڑکیوں کو گھورنے پر تھا اور وہ بریانی کا چمچ منہ میں ڈالنے کی بجائے ناک میں ڈال گیا ۔۔۔۔۔
اس کی اس حرکت سے وہاں موجود اتنے لوگوں کے سامنے اس کا بھی مذاق بنا تھا ۔۔۔۔ اور جن لڑکیوں کو عون گھور رہا تھا انہوں نے تو عون کی خوب فرکی بھی لے ڈالی تھی ۔۔۔۔۔
اگر کھانا کھانا نہیں آتا تو چھوٹا بے بی ماما کو ساتھ لے آیا کرے اور ماما کے ہاتھ سے کھایا کرے ۔۔۔۔۔
ایسے کھانا منہ میں ڈالنے کی بجائے ناک میں نہیں جائے گا یا پھر جس دوست کے ساتھ کھانا کھانے آیا ہے اسی کے ہاتھ سے کھا لیا کرے۔۔۔۔۔۔
اس دن کے بعد وہ دونوں اس ریسٹورنٹ میں واپس سے کھانا کھانے نہیں گئے تھے ۔۔۔۔۔
تو میرا دوست ہے یا دشمن جو ایسے مجھ معصوم کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے عون نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا چل اب یہ نوٹنکی بند کر اور چلیں اس سے پہلے کہ میرا موڈ پھر سے بدل جائے ۔۔۔۔۔ آریان کی بات سنتا وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور پھر دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
رواحہ بیٹا اٹھ جاؤ کب سے سوئی پڑی ہو ۔۔۔۔۔ اب تو ڈنر کا ٹائم ہوگیا ہے ۔۔۔۔
ہو بھی صبح سے بھوکی تو اٹھ کر کچھ کھا لو نوشیبہ بیگم نے رواحہ کے کمرے میں جا کر اسے جگایا ۔۔۔۔۔
ماما تھوڑی دیر اور سونے دیں نا وہ دوسری سائیڈ پر کروٹ لیتے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں بمشکل ہی کھول کر بولی ۔۔۔۔۔
بیٹا سو لینا پہلے ڈنر تو کر لو نوشیبہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑ کر بٹھایا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ماما آپ جائیں میں فریش ہوکر پانچ منٹ تک آتی ہوں وہ ماں کو کہتی اٹھ کر واشروم میں بند ہوگئی ۔۔۔۔۔
پیچھے سے نوشیبہ بیگم بھی ہاں میں سر ہلاتی واپس سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہوکر نیچے آئی تو نوشیبہ بیگم ڈائننگ ٹیبل پر کھانا سیٹ کر چکی تھیں اور اب داجی اور نوشیبہ بیگم اس کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
اس کے آتے ہی تینوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا اور رواحہ پھر سے سونے کے ارادے سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 06 عشق میں گھائل” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.