داجی آپ نے دیا ان ڈریسز کا آرڈر ؟؟ اس نے داجی کی طرف حیرانگی سے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔۔
ہاں بیٹا تمھارے سارے ڈریسز خراب ہوگئے ہیں نا اس لیے میں نے سوچا تمھیں ضرورت ہوگی۔۔۔۔۔۔
لیکن داجی آپ کو کیسے پتا چلا میرے سارے ڈریسز خراب ہوگئے ہیں ؟؟ اس نے مشکوک نظروں سے داجی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ بیٹا تم جس طرح کی ڈریسنگ میں روزانہ آتی جاتی ہو اور ابھی بھی جس طرح کے ڈریس میں کھڑی ہو وہ دیکھ کر مجھے لگا تمھارے پہلے والے سارے ڈریسز شاید خراب ہوچکے ہیں اس لیے اب تمھارے لیے نئے منگوا لینے چاہیے تو میں نے منگوا لیے ۔۔۔۔۔
داجی نے جلدی سے بات سنبھالی نوشیبہ بیگم کی بات سننے کے بعد انہیں اچھے سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ ڈریسز کا آرڈر آریان شاہ نے ہی دیا ہوگا ۔۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے ان ڈریسز کی وجہ سے اب گھر میں کوئی تماشہ ہو یا پھر رواحہ اور آریان ایک بار پھر سے ایک دوسرے سے جھگڑیں ۔۔۔۔۔
داجی صیح کہہ رہے ہیں رواحہ نوشیبہ بیگم نے بھی داجی کی سائیڈ لی ۔۔۔۔۔
وہ فلحال آفس کے لیے لیٹ ہو رہی تھی اس لیے داجی کی بات پر ہاں میں سر ہلاتی جلدی سے ڈیلیوری بوائے سے ڈریسز کے بیگز پکڑتی اپنے کمرے میں چل دی ۔۔۔۔۔۔
پیچھے سے داجی اور نوشیبہ بیگم نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔۔
نوشیبہ بیٹا اب ذرا مجھے میرا موبائل لا دے میں عون سے بھی بات کر لوں داجی نے اخبار کا معائنہ کرتے ہوئے نوشیبہ بیگم سے کہا۔۔۔۔۔
تو وہ ہاں میں سر ہلاتی داجی کا موبائل لینے چلی گئی ۔۔۔۔
یہ لیں داجی آپ کا موبائل نوشیبہ بیگم نے موبائل لا کر داجی کو تھمایا تو وہ جلدی سے عون کو کال کرنے لگ پڑے ۔۔۔۔۔
اسلام علیکم! عون بیٹا کیسے ہو تم کال اٹینڈ ہوتے ہی داجی نے سلام دعا کی اور پھر سارا پلان عون کو سمجھانے کے بعد جلدی سے کال کٹ کر دی اور موبائل میں سے عون کا نمبر ڈیل کرنے کے بعد کال لسٹ میں سے بھی ڈیل کر دیا ۔۔۔
دوسری طرف سے عون بھی نمبر ڈیل کر چکا تھا وہ لوگ رواحہ اور آریان کو اچھی طرح جانتے تھے اس لیے کوئی بھی ثبوت نہیں رکھنا چاہتے تھے جس پر انہیں کوئی شک ہو۔۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
آج آریان شاہ کے پاس تھوڑا سا وقت تھا اس نے سوچا کیوں نا آج پرسنلی ورکرز کے کام کو جا کر چیک کیا جائے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے آفس سے اٹھ کر باہر نکلا اور جا کے ورکرز کے پاس انہیں چیک کرنے لگا ۔۔۔۔۔
لیکن جیسے ہی اس کی نظر سامنے سے آتی رواحہ پر گئی وہ اپنی جگہ پر سن ہو کے رہ گیا۔۔۔۔
پنک کلر کی فراک پہنے،،،، گلے میں پنک دوپٹہ ڈالے بالوں کو کھلا چھوڑے ہونٹوں پر پنک کلر کی ہلکی سی لیپسٹک لگائے وہ جیسے جیسے چلتی آ رہی تھی آریان شاہ کا دل دھڑکا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
آریان کا دل چاہا وقت یہیں پر تھم جائے اور وہ بس رواحہ کو ہی دیکھتا رہے ۔۔۔۔۔ اس کے دل نے ایک دفع کہا آریان شاہ بھول جاؤ بدلہ چھوڑ دو نفرت بس اپنی رواحہ کے ساتھ حسین زندگی گزارو لیکن پھر اسی وقت اس کے کانوں میں اپنی ماں اور باپ کی چیخیں گونجنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے ہوش میں آتا ادھر ادھر نظریں گھما گیا پھر بہت سارے لوگوں کو اپنی طرف دیکھتا پا کے واپس سے آفس جانے لگا ۔۔۔۔۔
تب ہی اس کی نظر سامنے سے آتے روباص پر پڑی جو رواحہ کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
دونوں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رواحہ کے آفس میں چلے گئے ۔۔۔۔۔
واٹ دا ہیل از دس ،،،، اس لڑکی کے اندر دماغ نہیں ہے کیا جو اتنے گھٹیا انسان کو آفس کے اندر لے کر چلی گئی ہے مرے گی یہ میرے ہاتھوں سے آریان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ دنیا کو آگ ہی لگا دے ۔۔۔۔۔
عمران بات سنو یہ مسٹر روباص یہاں پر کیا کرنے آئے ہیں ؟؟؟ آریان نے پاس سے گزرتے ورکر کو روک کر پوچھا ۔۔۔۔۔
پتا نہیں سر وہ یہاں کیا کرنے آئے ہیں مجھے خود بھی نہیں پتا عمران نے گردن جھکائے جواب دیا ۔۔۔۔۔
ہممممم تم جا سکتے ہو ،،،،
لگتا ہے اب مجھے خود ہی جا کر پتا کرنا ہوگا مجھے اس روباص کے ارادے کچھ خاص نیک نہیں لگ رہے اسد کی طرح اس کا بھی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔
اس نے رواحہ کے آفس کی طرف جاتے ہوئے سوچا اور پھر بنا ناک کیے اور اجازت مانگے اس کے آفس میں داخل ہوگیا ۔۔۔۔۔
مسٹر آریان شاہ آپ کے اندر ذرا بھی مینرز نہیں ہیں کسی کے آفس میں جانے سے پہلے دروازا نوک کرتے ہیں رواحہ نے اس کی مسکراتی شکل پر طنز کیا ۔۔۔۔۔
ڈیئر وائفی اب ہم دونوں ہسبنڈ وائف کے درمیان میں کونسی پرائویسی جو مجھے تمھارے قریب آنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت درکار آئے گی ۔۔۔۔
میں تو تمھارا شوہر ہوں نہ جب جیسے مرضی دل چاہے گا آجاؤں گا آریان نے مسکراتے ہوئے اس کے قریب جا کر سختی سے اس کا ہاتھ تھامے کہا ۔۔۔۔۔
مسٹر آریان شاہ آپ یہ بھول رہے ہیں یہ آپ کا کوئی پرائیویٹ روم نہیں ہے بلکہ آفس ہے اور یہاں پر بہت سارے ورکرز کا آنا جانا رہتا ہے تو پلیز آپ اس بات کا بھی خیال رکھا کیجیے ۔۔۔۔۔۔
روباص نے اپنے اگنور ہو جانے پر جل بھن کہا اور آریان کو اپنی طرف متوجہ کیا جو اسے بلکل ہی اسے وہاں پر فراموش کیے ہوئے تھا جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
اوہ مسٹر روباص آپ بھی یہاں پر ہیں سو سوری میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں وہ کیا ہے نہ جہاں پر میری بیوٹیفل وائفی موجود ہوتی ہے مجھے وہاں پر کچھ اور نظر ہی نہیں آتا اور شاید اسی لیے آپ بھی نظر نہیں آئے ۔۔۔۔۔
آریان نے اب بھی روباص کو دیکھے بغیر رواحہ کے چہرے سے بال پیچھے ہٹا کر وہاں پر نرمی سے اپنے ہونٹوں سے چھوا۔۔۔۔۔
میں چلتا ہوں مس رواحہ پھر ملاقات ہوگی روباص سے جب آریان کا رواحہ کے قریب آنا برداشت نہیں ہوا تو جلدی سے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔
اس کے جانے کے بعد آریان نے زور دار قہقہہ لگایا ہاہاہاہا مسٹر لنگور کو انگوروں کے خواب ۔۔۔۔
یہ انگور صرف اور صرف آریان شاہ کے ہیں اور ان پر آریان شاہ کا ہی حق ہے باقی ان انگوروں کی طرف دیکھنے والے ہر انسان کے لیے یہ انگور زہر ہیں آریان نے اسے اٹھتا دیکھ ایک ہی پل میں اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔
وہ جو اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھی کسی کٹی ہوئی ڈالی کی طرح سیدھا آریان کے سینے سے جا لگی ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے مسٹر آریان شاہ آپ یہاں پر کام کرنے آتے ہیں یا اپنا ٹھرک پن جھاڑنے وہ جلدی سے اس سے دور ہوئی ۔۔۔۔۔
دونوں ہی کام کرنے وہ واپس سے اسے کھینچ کر اپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔۔
ٹھرک پن جھاڑنا ہے تو زویا کو اپنی پرسنل سیکرٹری اپائنٹ کر لیں پھر سارا دن اس کے ساتھ ٹھرک پن جھاڑتے رہیں میرے پاس ان سب کے لیے فالتو وقت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
نائیس آئیڈیا آج ہی میں زویا کو کال کر کے پوچھتا ہوں ۔۔۔۔
ہم تو بعد میں کیا کرنی ابھی کر لیں وہ تو موقع کے انتظار میں ہوگی آپ کے کال کرنے کی دیر ہوگی بھاگی بھاگی آئے گی ۔۔۔۔
رواحہ نے طنز کیا،،،،
اوووو ڈیئر وائفی تم زویا سے جل رہی ہوں وہ تھوری سے پکڑ کر اس کا چہرہ اونچا کیے وہاں پر اپنے ہونٹ رکھے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا آپ کی اس زویا میں ایسا ہے کیا جو میں اس سے جلوں گی رواحہ نے اسے گھورا ۔۔۔۔۔۔
ہمممم تم سہی کہہ رہی ہو زویا میں تو کچھ نہیں ہے لیکن تم میں کوئی جادوئی نشہ ہے جو بار بار مجھے تمھاری طرف کھینچتا ہے ۔۔۔۔۔
اور میرا دل کرتا ہے میں دن رات وہ نشہ کرتا ہی جاؤں آریان خمار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
اور پھر اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی دسترس میں لے گیا۔۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے ہی دنیا بھول جاتے تھے ۔۔۔۔۔
انہیں کسی چیز کا بھی ہوش نہیں رہتا تھا ،،،، لیکن پھر بھی ابھی نفرت اور جھوٹی انا کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے بدلہ لینا ہی تھا ۔۔۔۔۔
رواحہ اپنے ہونٹوں پر اس کا لمس محسوس کرتی سکون سے آنکھیں موند گئی اور خود بھی اس کا ساتھ دینے لگی لیکن پھر کچھ سوچتے اچانک ہی ایک جھٹکے سے آریان سے دور ہوئی ۔۔۔۔۔۔
میں اچھی طرح جانتی ہوں مسٹر آریان شاہ تم مجھے میرے مؤقف سے ہٹانے کے لیے یہ سب کر رہے ہو۔۔۔۔۔ تم اپنی یہ جھوٹی محبت لٹا کر مجھے کمزور کر رہے ہو تاکہ میں تمھارے پیار میں پڑ جاؤں ۔۔۔۔۔۔
تم سے دور رہنا میرے مشکل ہو جائے میں سب بھول جاؤں تم سے بدلہ نہ لوں لیکن میں یہ سب نہیں ہونے دوں گی میں تم سے اپنے بابا کی موت کا بدلہ ضرور لوں۔۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے اس سے دور جا کے کھڑی ہوگئی آریان جو اس میں مکمل طور پر گم ہوچکا تھا اچانک سے جھٹکا لگنے کی وجہ سے لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا اور منہ کھولے رواحہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
کیسا بدلہ رواحہ بی بی تمھارے باپ کو اس کے کیے کی سزا ملی ہے اس کے کرتوت ہی ایسے تھے جو معافی لائق بلکل بھی نہیں تھے ۔۔۔۔۔
بدلہ تو میں لوں گا تم سے اور تمھاری ماں سے اپنے ماں باپ کی موت کا وہ ایک بار پھر تیزی سے چلتا اس کے قریب آکر اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کرتے اس پر اپنی گرفت تنگ کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
رواحہ کو اس کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا لیکن اب کی بار پہلے کی طرح نرمی بلکل بھی نہیں تھی بلکہ شدت پن تھا جو آریان اس کے ہونٹوں پر لٹا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
پنک شرٹ پنک لپسٹک پنک شوز لگ تو پوری کی پوری سٹابری لگ رہی ہو دل کر رہا ہے تمھیں سالم ہی نگل جاؤں وہ اس کے ہونٹوںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم پر اپنا لمس چھوڑنے کے بعد اب اسے اپنے ساتھ لگائے اس کی گردن پر اپنا لمس بکھیر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کی تمام تر مزاحمتیں بیکار جا رہی تھیں وہ جتنی مزاحمت کرتی آریان اتنا ہی زیادہ شدت پن دکھاتا ۔۔۔۔
ویسے اس سٹابری کا ٹیسٹ بلکل بھی اچھا ہی نہیں ہے لگتا ہے بس سارا دن کڑوا کھاتی ہو کڑوا بولتی ہو کل کچھ میٹھا کھا کے آنااچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم پھر کل یہیں سے کنٹینیو کریں گے آریان نے اسے آزادی بخشی ۔۔۔۔۔
اس کے ازادی بخشتے ہی وہ اس سے دور فاصلے پر جا کے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
کل تو میں آتے وقت اپنے ہونٹوں پر زہر لگا کے آؤں گی جو تم چکھتے ساتھ ہی اساچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم دارفانی سے رخصت ہوجاؤ اور میری جان چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔
رواحہ نے تپ کر کہا ۔۔۔۔
جان من مروں گا تو تمھیں ساتھ لے کر ہی مروں گا اب وہاں پر بھی مجھے نشہ چاہیے ہوگا اور تم سے بہتر نشہ تو کوئی ہے نہیں اس لیے جہاں بھی جائیں گے ساتھ ساتھاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم جائیں گے پھر دونوں وہاں پر ہی ایسے ہی رومانس کریں گے آریان نے تپانے والی مسکراہٹ اسے پاس کی ۔۔۔۔۔
تم میرے آفس سے دفع ہو جاؤ اور آئیندہ میری اجازت کے بغیر میرے آفس میں نہ آنا ،،،رواحہ کو اس وقت اس کا سمائل کرنا زہر لگا۔۔۔۔۔
میں تمھیں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں روباص سے دور رہنا ورنہ تمھارے لیے اچھا نہیںاچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم ہوگا ،،،، اب کی بار وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا۔۔۔۔۔
نہیں تو کیا کر لوں گے میرا اسد جیسا حال کرو گے یا پھر روباص کا وہ سینے پر ہاتھ باندھنے اس کے دو بدو ہوئی ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو آریان تھوڑا گڑبڑایا رواحہ کو اس بارے میں کیسے پتا چلا ۔۔۔۔۔
میں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں مسٹر آریان شاہ اسد کا وہ حال تم نے ہی کیا ہے یہ میں اچھے سے جانتی ہوں پارٹی میں ایک واحد تم ہی تھے جسے اسد سے بہت زیادہ تکلیف تھی ۔۔۔۔۔
تم ہی اسے میرے قریب دیکھ کر جل بھناچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم رہے تھے تمھیں ہی اس کا میرے قریب آنا پسند نہیں تھا اس لیے تم نے اپنی جلن میں آکر اسد کا وہ حال کر ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔
بہت سمجھدار ہو وائفی اتنا چھوٹا سا دماغ اتنا چلا کیسے لیتی ہو فضول باتوں کی طرف ۔۔۔۔۔ میں نے کسی اسد وسد کو کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔
وہ چہرے پر پہلے کی طرح سنجیدگی طاری کیے بولا ۔۔۔۔۔
ہونہہہ،، تم جتنا مرضی انکار کرو لیکن میں اچھے سے جانتی ہوں وہ سب تم نے ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔
اور میرا ارادہ تو یہاں سے سیدھا جا کر پولیس کو بتانے کا ہے تاکہ وہ تم جیسے درندے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دے ۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا ڈیئر وائفی پولیس پروف مانگتی ہے اور تمھارے پاس ایسا کوئی بھی پروف نہیں ہے جس سے تم یہ ثابت کر سکو میں نے ہی آریان کی وہ حالت کی تھی آریان نے مسکراتے اسے تپایا ۔۔۔۔۔
ثبوت بھی بہت جلد میرے ہاتھ لگ ہی جائیں گے اس کی تم ٹینشن نہ لو اور اب نکلواچھے اور پیارے ناولز کے لئے رابطہ کرے شرارتی چڑیل تین دو ایک ایٹ جی میل.کوم میرے آفس سے،،،، کب سے کھڑے میرا ٹائم ویسٹ کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔
رواحہ نے ناگواری سے کہا ،،،، جیسے وہ آریان کی باتیں سن سن کر تھک گئی ہو۔۔۔۔۔
ویسے ایک بات کہوں ڈیئر وائفی ،،، وہ جاتے جاتے رک کر اس کے قریب آکر کان میں سرگوشی کرتے بولا ۔۔۔۔۔
تم نا اس ڈریس میں بلکل اس کی طرح لگ رہی ہو وہ سوچنے والے انداز میں بولا،،،، ہاں یاد آیا فریدہ وہ جو ہمارے آفس میں صفائی کرنے آتی ہے ۔۔۔۔۔
تم روزانہ ایسا ڈریس پہنا کرو اچھی لگتی ہو کام والی ماسی ہائوس وائف اپنی بات کہہ کر آریان وہاں رکا نہیں تھا بلکہ تیز تیز قدم لیتا مسکراتے ہوئے آفس سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔
تم جلو سڑو مڑو میں تو ایسی ہی ڈریسنگ میں آیا کروں گی روازنہ وہ چینخی اور آریان شاہ یہی تو چاہتا تھا وہ ایسی ہی ڈریسنگ میں آفس آئے ۔۔۔۔۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 08 عشق میں گھائل” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.