Ishq Mian Gahyal Episode 09 عشق میں گھائل

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Episode 09
  • Language: Urdu
  • Author: Hamed Write
  • View : 7.9k
Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal Episode 09

عشق میں گھائل

یہ ٹھرکی انسان خود کو سمجھتا کیا ہے پہلے میرے سارے ڈریسز خراب کر ڈالے ۔۔۔

پھر بغیر میری پرمیشن کے میرے آفس میں آکر مجھ پر ہی ٹھرک پن جھاڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

چھوڑوں گی نہیں میں تمھیں آریان شاہ ،،،میں سود سمیت تم سے بدلہ لوں گی بس ایک موقع کی تلاش میں ہوں وہ پرس سے اپنی مطلوبہ چیز نکال کر مسکرائی۔۔۔۔

وہ موقع بھی اسے جلد ہی مل گیا جب اسے آریان اپنے آفس سے باہر نکل کر کینٹین کی طرف جاتا دکھائی دیا۔۔۔۔

یہ تو گیا اپنے آفس سے چل رواحہ جلدی سے مشن پر لگ جا اس سے پہلے کہ وہ واپس آجائے۔۔۔۔

رواحہ بیگ کندھے پر ڈالے جلدی سے اس کے آفس کی طرف بھاگی ۔۔۔۔

اب آئے گا مزہ آریان شاہ بس تم جلدی سے واپس آجاؤ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے ۔۔۔۔۔

اور پھر  جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔۔۔ 

کتنا کھاتا ہے یہ انسان ابھی تک واپس کیوں نہیں آیا وہ گھڑی پر ٹائم دیکھتے بڑبڑائی جہاں پر آریان کو گئے ایک گھنٹہ مکمل ہوچکا تھا لیکن ابھی تک وہ واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔

خالد جلدی سے میرے آفس میں ایک گرما گرم کافی پہنچا دو ۔۔۔

آریان کو اپنے آفس کی طرف جاتا دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔۔

رکو خالد میں بھی آریان کے آفس کی طرف ہی جا رہی ہوں تم یہ کافی کا مگ مجھے دے دو۔۔۔۔۔ میں دے دوں گی آریان کو تم جاؤ یہاں سے رواحہ خالد کو اپنے آفس کے سامنے سے گزرتا دیکھ جلدی سے بھاگ کر اس سے کافی کا مگ تھام گئی اور مسکراتے ہوئے لے کر آریان کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔

لیکن میم،،، خالد بیچارہ پیچھے سے لیکن لیکن کرتا رہ گیا لیکن رواحہ نے اس کی ایک نہ سنی۔۔۔۔

جب وہ میرے آفس میں دروازا ناک کر کے نہیں آتا تو پھر میں کیوں ناک کر کے جاؤں اس نے دروازا ناک کرنے سے پہلے سوچا اور پھر جلدی سے آفس کا دروازا دھکیل کر اندر گھس گئی۔۔۔۔۔۔

آئیں مس رواحہ صبح مجھے تو بڑے مینرز سکھائے جا رہے تھے اب کیا ہوا ہے ؟؟؟؟ 

کیا آپ پر فرض نہیں ہے دروازا ناک کر کے آنا اس نے پیپر ویٹ گھماتے پوچھا ۔۔۔۔۔

جب تم بغیر میری اجازت کے دروازہ ناک کیے میرے آفس میں آسکتے ہو تو میں کیوں نہیں رواحہ نے ایک آئی برو اچکایا۔۔۔۔۔

نائیس ،،، آریان داد دینے والے انداز میں بولا ۔۔۔۔

اور یہ کافی کا مگ تمھارے ہاتھ میں کیا کر رہا ہے میں نے کافی لانے کے لیے خالد کو کہا تھا۔۔۔۔

خالد کہاں ہے ؟؟؟ 

آریان نے دونوں ہاتھوں کا مکا بنا کے تھوری تلے جمائے سوالیہ نظروں سے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔

وہ خالد ہی لے کر آ رہا تھا لیکن پھر میں بھی اسی طرف ہی آ رہی تھی تو سوچا میں ہی لیتی جاتی ہوں خالد بیچارہ سارا دن کام کر کر کے تھک جاتا ہوگا اوپر سے ہے بھی بوڑھا ۔۔۔۔۔ اور تمھیں بھی ناجانے کافی کی کتنی طلب ہو رہی ہوگی ۔۔۔۔۔

رواحہ نے جلدی سے بہانا گڑھا ،،،، 

ناجانے کیوں مجھ سے تمھارا یہ ہمدردپن ہضم نہیں ہو پا رہا آریان کو اس پر شک ہوا ۔۔۔۔۔

تو ٹھیک ہے پھر میں یہ کافی واپس لے جاتی ہوں وہ واپس جانے کے لیے پلٹی لیکن آریان اسے روک گیا۔۔۔۔۔

اب لے ہی آئی ہو تو دے دو مجھے آریان نے اسے کافی واپس لے جانے سے روکا ۔۔۔۔۔

ایک منٹ پہلے یہ کافی تم پیو گی کیا پتا تم نے اس میں زہر وہر ملا دیا ہو ابھی صبح ہی تو زہر دینے کی باتیں کر رہی تھی تم ،،،، وہ کافی کا مگ تھامنے کے بعد پلٹنے لگی جب آریان اس کا ہاتھ پکڑ کے روک گیا ۔۔۔۔۔

اب کیا ہر کسی کو اپنے جیسا سمجھ رکھا ہے دھوکے باز لاؤ دو کافی پہلے میں ہی ٹیسٹ کر دیتی ہوں رواحہ اسے گھورتے ہوئے کافی کا مگ تھام کر پینے لگی ۔۔۔۔۔

اس بس اس چیز کا انتظار تھا جو وہ دیکھنا چاہتی تھی اس لیے بغیر کوئی بھی بحث کیے مگ تھام گئی ۔۔۔

لو ہو گیا نا یقین کافی میں کچھ نہیں ہے تو اب ٹھونس لو رواحہ نے کافی پینے کے بعد پٹکنے والے انداز میں مگ ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔۔

لگتا ہے میں نے تمھیں کافی کا مگ چکھا کر غلطی کر دی ہے ۔۔۔۔ تم نے میری کافی کا ٹیسٹ بھی کڑوا کر دیا ہوگا آریان نے کافی کا سپ لیتے رواحہ کو تپایا ۔۔۔۔۔

بھاڑ میں جاؤ تم جاہل انسان بھلے کا تو زمانہ ہی نہیں ہے اور میری توبہ جو آئندہ میں تمھارا بھلا کر گئی۔۔۔۔۔

دینے تو آخر میں تم نے طعنے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔

اب مجھے تو سچ بولنے کی عادت ہے اور تمھیں سچ سننا پسند نہیں ہے ،،،، آریان نے کافی کا سپ لیتے ہوئے اٹھنا چاہا لیکن اس سے اٹھا نا گیا ۔۔۔۔۔

یہ کیا ہوا میں چپک کیسے گیا مجھ سے اٹھا کیوں نہیں جا رہا آریان نے رواحہ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔۔

تم نے میری چیئر کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہے نا اور اب کافی لانے کے بہانے وہاں پر کھڑی ہوکر میرا تماشا دیکھ رہی ہو آریان کا پہلا شک اسی پر گیا ۔۔۔۔۔

نہیں آریان شاہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا بس ایلفی کی پوری بوتل تمھاری چیئر پر انڈیلی تھی بھرپور سنجیدگی سے جواب دیا گیا ۔۔۔۔۔

تمھیں تو میں ،،،،، آریان نے ایک بار پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے اٹھا نہ گیا۔۔۔۔

اسلام علیکم! جی تو ناظرین میں ہوں آپ سب کی ہوسٹ مس رواحہ ،،،،

جو دے گی آپ سب کو آج کی چٹخارے دار نیوز ۔۔۔۔

جی تو میں اس وقت شاہ امپائرز کے ففٹی پرسینٹ شیئرز کے مالک مسٹر آریان شاہ کے آفس میں ہوں یہ دیکھیں اس نے موبائل نکال کر کیمرے کا رخ آریان کی طرف کیا ۔۔۔۔۔

ناظرین دیکھیں آپ سب اس معصوم انسان کو جو اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان سے اٹھا نہیں جا رہا آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے ان کے نہ اٹھنے کی اس نے کیمرے کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔۔

مجھے تو ان کی بے بسی دیکھ کر بہت ہی افسوس ہو رہا ہے کیسے بیچارے اٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اٹھ نہیں پا رہے ۔۔۔۔۔

چہرے پر افسوس طاری کیا گیا جیسے ناجانے اسے آریان شاہ کی تکلیف پر کتنا دکھ ہو ۔۔۔۔۔

یہ دیکھیں میں نے ان کے اوپر کافی پھینکی لیکن بیچارے پھر بھی نہیں اٹھ پائے مجھے لگا تھا خود کو بچانے کی خاطر وہ ہمت کر کے اٹھیں گے لیکن اٹھ ہی نہیں پائے رواحہ نے مگ میں بچی ہوئی کافی کا مگ اٹھا کر اس کے کپڑوں پر پھینک دیا ۔۔۔۔۔۔

سٹاپ اٹ رواحہ ،،،، ورنہ تمھیں مجھ سے کوئی بھی نہیں بچا پائے گا آریان نے اسے مزید ویڈیو بنانے سے وارن کیا۔۔۔۔۔

جی تو ناظرین پھر کیسی لگی آپ سب کو آج کی چٹخارے دار نیوز بتائیے گا ضرور ،،،، جلدی سے ویڈیوز سیو کر کے موبائل آف کر کے واپس سے پرس میں رکھا ۔۔۔۔۔

ڈیئر ہبی جی کیسا لگا آپ کو بدلہ ،،،رواحہ نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے آریان سے پوچھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا جیسے ابھی سالم نگل جائے گا ۔۔۔۔۔۔

ڈیئر ہبی جی کیا ہوا مجھے سالم نگلنے کو دل چاہ رہا ہے کیا؟؟؟ کوئی بات نہیں میں کل زہر سے نہا کر آؤں گی پھر نگل لیجئے گا ۔۔۔۔۔

وہ کہنیاں ٹیبل پر جمائے تھوڑا آگے کو جھک کر معصومیت سے بولی ۔۔۔۔

گڈ آفٹر نون،،،، مائے ڈیئر ہبی جی وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے بائے کرتی بالوں کو جھٹکتی آفس سے باہر نکل گئی انداز تپانے والا تھا۔۔۔۔۔

اف یار کس مصیبت میں پھنسا گئی یہ ،،،،

تو بھی تو اندھا ہی ہے آریان ایک دفع دیکھ تو لیتا بیٹھنے سے پہلے بس جلدی سے بیٹھنے کی ،کی تو نے بھی ۔۔۔۔۔۔

آریان نے اپنی کم عقلی پر خود کو کوسا۔۔۔۔۔

اب کیا کروں ؟؟؟ عون کو کال کرتا ہوں اس نے جلدی سے موبائل نکال کر عون کو کال کی ۔۔۔۔۔

عون تو جہاں بھی ہے ابھی کے ابھی آفس پہنچ اور آتے وقت میرے لیے پینٹ بھی لے کر آنا دوسری طرف سے کال اٹینڈ ہوتے ہی وہ شروع ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن کیوں ؟؟؟ تو سوال جواب بعد میں کرنا پہلے جو بولا ہے وہ کر۔۔۔۔

آریان کہیں تو نے بیچ میں سو سو تو نہیں کر لیا ۔۔۔۔چھیییی ۔۔۔چھییییی میں تمھیں چینج نہیں کرواؤں گا ۔۔۔۔۔

عون نے اس کی کبرڈ سے پینٹ نکالتے مسکراہٹ ضبط کیے کہا۔۔۔۔

میرا اس وقت دو لوگوں کا قتل کرنے کو دل کر رہا ہے ایک تو اور دوسری رواحہ ایک دفع یہاں سے نکلوں چھوڑوں گا نہیں پہلے رواحہ اب عون کی باتیں اسے غصہ دلا رہی تھیں ۔۔۔۔۔

کیا ہے تجھے ہر وقت مارنے کی باتیں کرتا ہے آ رہا ہوں اور ہاں میں ایک بار پھر سے کہہ رہا ہوں میں تجھے چینج نہیں کرواؤں گا ۔۔۔۔۔

تو جلدی سے ادھر مر آریان اسے کہتا کال کٹ کر گیا اس کا عون کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔

ارے عون بھیا آپ یہاں پر وہ بھی اتنی جلدی میں اور ہاتھ میں یہ پیںٹ کیوں پکڑ رکھی ہے بڑے ہی سیریس انداز میں پوچھا گیا ۔۔۔۔

وہ ہاں آریان نے لگتا ہے بیچ میں ہی سو سو کر لی ہے یہ پیںٹ اسے چینج کروانے میرا مطلب ہے یہ پینٹ لے کر آیا ہوں تاکہ وہ چینج کر سکے ۔۔۔۔۔۔

عون کو جلدی جلدی میں جو سمجھ میں آیا بول گیا ۔۔۔۔۔ لگتا ہے موصوف نے عون بھیا کو بھی کچھ نہیں بتایا اور یہ عون بھیا کبھی نہیں سدھر سکتے اس نے عون کی چینج کروانے والی بات کو یاد کیا۔۔۔۔۔۔

رواحہ بیٹا تو بھی نکل جلدی سے یہاں سے اس سے پہلے کہ وہ ٹھرکی وہاں سے بچ کر تیرے سر پر آن پہنچے اور پھر سے اپنا ٹھرک پن جھاڑنا شروع کر دے ۔۔۔۔۔

وہ جو آفس کے باہر کھڑی ہوئی تھی جلدی سے اندر جاتے اپنا پرس اٹھا کر وہاں سے نکل گئی جو بھی تھا آریان سے بدلہ  لے کے اسے مزہ بہت آیا تھا ۔۔۔۔۔

یہ لے پینٹ اور چینج کر لے عون اسے پینٹ تھما کر خود رخ دوسری جانب کر گیا۔۔۔۔۔

بغیرت انسان ادھر دیکھ آریان کو اس کی حرکتیں غصہ دلا رہی تھیں ۔۔۔۔

میں تجھے ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتا ایک دفع چینج کر لے پھر دیکھوں گا عون نے ویسے ہی رخ موڑے جواب دیا۔۔۔۔۔

اس کی بات آریان کو تپا ہی گئی آریان نے نیچے جھک کر پاؤں سے شوز نکال کر عون کی کمر میں دے مارا ۔۔۔۔۔

آہہہہہ،،، توڑ دی میری کمر ظالم انسان وہ کراہتے ہوئے پلتا ۔۔۔۔

عون پلیز بی سیریس اس رواحہ نے مجھے اس چیئر کے ساتھ چپکا دیا ہے ایلفی ڈال کر اب کچھ کر اور مجھے نکال ادھر سے آریان جیسے جیسے بتاتا جا رہا تھا عون کے لیے اپنی مسکراہٹ ضبط کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ 

لیکن پھر اپنی شامت کے بارے میں سوچ کر خود پر کنٹرول کیے کھڑا رہا۔۔۔۔۔

اب بت بنے کیا کھڑا ہے جلدی سے ادھر آ اور یہاں سے اٹھنے میں میری مدد کر کھینچ مجھے اور وہ دروازا بھی لاک کرتا آ۔۔۔۔۔

پہلے ہی رواحہ میری ویڈیو بنا کر چلی گئی ہے پھر دوبارا سے نا آجائے میرا تماشہ بنانے کے لیے آریان کو ایک بار پھر سے اپنی فکر لاحق ہونے لگی ۔۔۔۔۔

اگر رواحہ وہ ویڈیو سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کر دیتی تو اس بیچارے کی کیا ہی عزت رہ جاتی ۔۔۔۔

چڑڑڑڑڑڑڑ ،،،، عون نے جلدی سے اسے پکڑ کر کھینچا اور چڑڑڑڑڑڑڑ کی آواز کے ساتھ ہی اس کی پینٹ بھی پھٹ گئی ۔۔۔۔

عون نے جلدی سے اپنا رخ بدلا جبکہ آریان وہیں نیچے زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔

عون تو ہنس رہا ہے آریان کو اس کا ہنسنا غصہ دلا رہا تھا ۔۔۔۔

زویا کی قسم میں سچی میں نہیں ہنس رہا عون نے اپنی ہنسی کنٹرول کیے جلدی سے جواب دیا ۔۔۔۔۔

پتا نہیں تجھے اور رواحہ کو زویا سے کیا مسئلہ ہے ہر وقت ہی دونوں اس کے پیچھے پڑے رہتے ہو وہ اب پینٹ چینج کرنے کے بعد اٹھ کر کھڑا ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔

تو منہ اٹھا کے پینٹ ہاتھ میں ہی لے کے آگیا کسی شاپر میں ڈال کے لے آتا تجھے کسی نے پینٹ کے ساتھ دیکھا تو نہیں ۔۔۔۔۔

کسی نے بھی نہیں دیکھا بس رواحہ بھابھی نے دیکھا تھا اور پوچھا تھا یہ کیوں لے کر آئے ہو۔۔۔۔

ہممممم ،،،،اس نے تو پوچھنا ہی تھا ۔۔۔

چل اب گھر چلیں مجھے پوری امید ہے یہ عظیم کارنامہ سر انجام دینے کے بعد اب رواحہ گھر جا چکی ہوگی اور کہیں پر بیٹھی مجھ پر ہنس رہی ہوگی وہ اپنی کیز اٹھا کر باہر کو چل دیا ۔۔۔۔۔

عون بھی جلدی سے اس کے پیچھے ہی ہو لیا ۔۔۔۔۔

رواحہ بیٹا کیا ہوا ہے ہمیں بھی بتاؤ اکیلے اکیلے ہنسے جا رہی ہو ہم بھی تھوڑا ہنس لیں ۔۔۔۔

وہ سب لوگ رواحہ کے آنے کے بعد لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے تب ہی داجی نے رواحہ کو مسلسل ہنستے دیکھ کے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

بس کچھ نا پوچھیں داجی آج تو آپ کے پوتے کو ایسا مزہ چکھایا ہے کہ صدیوں تک یاد رکھے گا آج تو میرا دل باغ باغ ہو گیا ہے سینے پر ٹھنڈ پڑ گئی ہے ۔۔۔۔۔

اس کی بات سن کر داجی اور نوشیبہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا اور سکون سے چائے کے مزے لینے لگے کیونکہ وہ بھی اپنا پلان تیار کر چکے تھے ۔۔۔۔۔

ہاہاہاہا یار آریان قسم لے لے میں جان بوجھ کر نہیں ہنس رہا خود بخود ہی ہنسی آتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا بدلہ لیا ہے بھابھی نے قسم سے آج تک کسی نے بھی ایسا بدلہ نہیں لیا ہوگا ۔۔۔۔۔

عون میں تجھے لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں چپ کر کے بیٹھ جا نہیں تو میں تجھے اس چلتی گاڑی سے دھکا دے کر باہر پھینک دوں گا آریان اب اس کی باتوں سے تنگ آچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

اس کی بات سن کر عون نے رخ ونڈو کی طرف کر لیا لیکن ہنسنا پھر بھی بند نہیں کیا۔۔۔۔۔ جو کسی کی بات مان لے وہ عون ہی کیا۔۔۔۔۔

ٹن ،،ٹن،،،ٹن،،ٹن،،، آج کے کافی تھکا دینے والے دن کے بعد اب وہ دونوں سکون سے لاؤنج میں بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے تب ہی باہر بیل ہوئی ۔۔۔۔۔

عون جا,جا کے دیکھ اس وقت کس کو تکلیف ہوئی ہے جو گھنٹی پر گھنٹی بجائے جا رہا ہے لگتا ہے جو بھی منہوس ہے گھنٹی پر ہاتھ رکھ کے اٹھانا بھول گیا ہے آریان نے بیزاری سے کہا ۔۔۔۔۔

تو خود جا کے دیکھ لے میرا موڈ نہیں ہے اور ویسے بھی تو نے کونسا ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا رکھی ہے جو تو نہیں جا سکتا ،،، عون نے ویسے ہی نظریں ٹی وی پر ٹکائے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔

عون اگر اب تو نے ایک بھی لفظ بولا اور دروازہ نہ کھولا تو میں سچ میں آج تجھے جان سے مار ڈالوں گا ۔۔۔۔ دروازا کھولنے کے بعد باہر جو بھی خبیث ہوا ٹکا کر دو تین کان کے نیچے دینا اسے۔۔۔۔۔

بس ایک دفع اس چوٹی والی سے سیٹنگ ہوجائے پھر میں تیرے ساتھ اس گھر میں نہیں رہوں گا ہر وقت دھمکیاں دیتا رہتا ہے اور کام کرواتا رہتا ہے عون کو مووی کا سین مس ہو جانے پر کچھ زیادہ ہی افسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

جی کسے تکلیف ۔۔۔۔۔۔ ابھی عون کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب سامنے پولیس والوں کو دیکھ کے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔

ہمیں پتا چلا ہے مسٹر عون اینڈ آریان شاہ نے اسد کی بہت بری حالت کی ہے۔۔۔۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 09 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more