Ishq Mian Gahyal Episode 10 عشق میں گھائل

Genre: zarasrory
Age:      18+
Status: Episode 10
Language: Urdu
Author: Hamed Write
View : 8.9k

Category: Tag:

Description

Ishq Mian Gahyal Episode 10

عشق میں گھائل

آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے یہاں پر کوئی بھی عون یا آریان نہیں رہتا آپ یہاں سے جا سکتے ہیں عون نے دروازا بند کرنا چاہا تب ہی اتنی تیزی سے پولیس انسپکٹر گھر میں اینٹر ہوا ۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے آپ زبردستی ہمارے گھر میں گھسے جا رہے ہیں عون کو اس کا زبردستی گھر میں گھسنا غصہ ہی دلا گیا۔۔۔۔۔

اوہ تو موصوف کسی کی زندگی خراب کر کے یہاں پر بیٹھے مووی کے مزے لے رہے ہیں پولیس انسپکٹر نے ڈنڈا صوفے پر مارا۔۔۔۔۔

آریان اچھل کر صوفے سے کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے آریان نے غصے سے اسے گھورا۔۔۔۔

یو آر انڈر اریسٹ مسٹر آریان شاہ انسپکٹر نے ہتھکڑی اس کے سامنے لہرائی ۔۔۔۔۔ 

اوہ تو یہ بات ہے ،،،، آریان نے اپنے پیچھے کھڑے عون کو اشارہ کیا ۔۔۔

جو اس کا اشارہ سمجھتے ہی جلدی سے آگے بڑھ کر پولیس انسپکٹر کے منہ پر ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔۔

آریان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ قابو کیے اور پھر دونوں اس پولیس انسپکٹر پر جھپٹ پڑے ۔۔۔۔

تو اریسٹ کرے گا ہمیں کمینے تیری اتنی ہمت آریان اسے مارنے کے ساتھ ساتھ بڑبڑایا ۔۔۔۔

عون بھی اس کا منہ چھوڑے اب اسے مارنا شروع ہوگیا ۔۔۔۔

چھوڑو مجھے کمینو میں تو مزاق کر رہا تھا ان دونوں کو غنڈوں کی طرح خود کو پیٹتے دیکھ وہ ان کے ہاتھ جھٹکتا دور جا کے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔۔۔

آؤ آگے اور ہمیں اریسٹ کرو دونوں نے صوفے پر بیٹھ کر اپنے ہاتھ آگے کو بڑھائے ۔۔۔۔۔مزاق کر رہا کمینو لیکن تم دونوں نے مجھے ہی دھو ڈالا ۔۔۔۔۔

حالانکہ غنڈوں کو دھونا میرا کام ہے وہ بھی ان کے ساتھ صوفے پر آ کے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔

مجھے تم دونوں سے ایک شکوہ ہے کیا ہی ہوجاتا اگر مجھے بھی بلا لیتے تو مل کے اس اسد کی دھلائی کرتے ۔۔۔۔

اگر تجھے بھی بلا لیتے تو پھر تو کیسے یہ سب سنبھالتا ۔۔۔۔۔ پھر سب کہتے ایک پولیس انسپکٹر کے ہوتے ہوئے بھی پارٹی میں وہ سب ہوگیا ۔۔۔۔۔

تو بتا معاملہ ہینڈل کر لیا نا اچھے سے آریان نے سنجیدگی سے چہرہ عالیان کی طرف کیے پوچھا ۔۔۔۔۔

یس باس انسپکٹر عالیان کے ہوتے ہوئے تمھیں کسی بھی چیز کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے عالیان نے گردن اکڑائے کہا۔۔۔۔۔

ویلڈن ،،،،

بس بس تو نہ بھی ہوتا تو بھی ہم سب ہینڈل کر لیتے عون سے کہاں اس کی تعریف برداشت ہو رہی تھی ۔۔۔۔

تو بتا تو یہاں کیسے عون نے یاد آنے پر جلدی سے پوچھا ۔۔۔۔

جب مجھے پتا چلا تم دونوں واپس آگئے ہو تو میں نے بھی ادھر ہی ٹرانسفر کروا لیا عالیان نے ایک آنکھ ونک کی ۔۔۔۔۔

چل چل زیادہ ڈرامے بازی نہ کر اب آہی گیا ہے تو ہمارے لیے ایک ایک چائے کا کپ ہی بنا دے عون پھیل کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔

عون میری جان خوابوں میں جینا چھوڑ دے تجھے ایسا کیوں لگتا ہے میں تیرے لیے چائے بنا کر لاؤں گا ایک آئی برو اچکائے وہ اس کی طرح صوفے پر پھیل کر بیٹھنے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔

میں سچ ہی کہتا ہوں تم دونوں میرے سب سے بڑے دشمن ہو جاؤ میں بات ہی نہیں کر رہا تم سے عون نے ان دونوں کو ہنستا دیکھ ناراضگی کا اظہار کیا۔۔۔۔۔

چلو شکر ہے تھوڑی دیر ہمارے معصوم کانوں کو سکون مل جائے گا ۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ عون جوابی کارروائی کرتا اس کے موبائل پر نوشیبہ بیگم کی کال آنے لگی ۔۔۔۔

ہیلو عون بیٹا داجی اچانک سے بیہوش ہوگئے ہیں انہیں ہوش بھی نہیں آ رہا ۔۔۔۔ 

رواحہ بھی گھر پر نہیں ہے مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا میں کیا کروں پلیز تم آجاؤ یہاں۔۔۔۔

عون جو نوشیبہ بیگم کی کال آتے دیکھ موبائل سپیکر پر لگا چکا تھا اس کی باتیں سنتا آریان جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔۔

اسے کیا ہوا ہے ؟؟؟ عالیان نے منہ کھولے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔

بس تیر سیدھا نشانے پر لگا ہے اب آئے گا مزہ عون بھی مسکراتے ہوئے کال کٹ کر کے جلدی سے اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔۔

کہاں بھاگ رہے ہو مجھے بھی ساتھ بھگا لے جاؤ عالیان بھی اٹھ کر ان کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔ 

داجی ،،،،، داجی کہاں ہیں داجی آریان گھر میں داخل ہوتے انہیں پکارتا جلدی سے داجی کے کمرے کی طرف بھاگا جہاں داجی بیہوشی کی حالت میں بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے اور نوشیبہ بیگم ان کے پاس بیٹھیں آنسو بہانے میں مگن تھیں ۔۔۔۔۔۔

رواحہ جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی آریان کو گھر میں موجود دیکھ کے اور پھر داجی کے کمرے کی طرف بھاگتا دیکھ کے خود بھی اس طرف بھاگی تھی۔۔۔۔

دور ہٹیں آپ کیا ،کیا ہے آپ نے میرے داجی کے ساتھ وہ نوشیبہ بیگم کو سائیڈ کرتا خود جلدی سے وہاں پر بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھام گیا 

رواحہ نے ناگواری سے اس کی یہ حرکت دیکھی،،،

ماما کیا ہوا ہے داجی کو ؟؟؟ رواحہ نے ماں کو پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتے پوچھا ۔۔۔۔

پتا نہیں بیٹا اچھے بھلے بیٹھے میرے ساتھ باتیں کر رہے تھے پھر اچانک سے بیہوش ہوگئے انہوں نے روتے ہوئے بیٹی کو بتایا ۔۔۔۔۔

عون اور عالیان بھی وہاں پہنچ چکے تھے ،،،،

کسی نے ڈاکٹر کو کال کی عالیان نے معاملہ سمجھتے جلدی سے پوچھا جس پر سب نفی میں سر ہلاگئے ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ عالیان موبائل نکال کر ڈاکٹر کو کال کرتا عون نے زور سے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی اور اشارے سے اسے باہر بلایا۔۔۔۔۔

ابے یار ڈاکٹر کو کیوں کال کر رہا ہے ؟؟ وہ یہاں آکر کیا کرے گا ؟؟؟ عون نے اسے باہر لا کر گھورا ۔۔۔۔

کیا مطلب ہے کیا کرے گا داجی کا چیک اپ کرے گا عالیان کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا ۔۔۔۔۔

جب داجی بیمار ہی نہیں ہیں تو کیسا چیک اپ ؟؟؟ 

کیا مطلب ؟؟؟ 

صاف صاف بتاؤ پاگل انسان داجی نے

بیہوش ہونے کا ناٹک کیا ہے وہ بھی آریان کو گھر میں بلانے کے لیے اس لیے چپ چاپ کھڑا رہ اور جو ہو رہا ہے ہونے دے وہ بتانے کے بعد اسے لے کر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

یہ ڈاکٹر ابھی تک آیا کیوں نہیں ؟؟؟ داجی پلیز آنکھیں کھولیں رواحہ بھی داجی کا دوسرا ہاتھ تھام کر ان کے پاس بیٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

داجی کی آنکھوں میں ہوتی جنبش اور باقی سب کا یوں نارمل رہنا اسے تھوڑا عجیب لگا تھا ۔۔۔۔۔

رواحہ بیڈ پر چوہا ہے جلدی سے نیچے اترو آریان جلدی سے اٹھ کر بیڈ سے نیچے جا کر کھڑا ہوگیا رواحہ بھی جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی ۔۔۔۔۔۔

کہاں ہے چوہا؟؟؟؟ وہ دیکھو داجی کے پاس جا رہا ہے ۔۔۔۔۔

کیاااااا،،،،چوہا میرے پاس آ رہا ہے بھگاؤ اسے جلدی سے چوہے کا سن کر داجی بھی جلدی سے اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتر چکے تھے ۔۔۔۔۔

عالیان ،عون اور نوشیبہ بیگم نے جلدی سے اپنا ماتھا پیٹا جبکہ داجی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔۔

نوشیبہ بیٹا پکڑو مجھے ۔۔۔۔ پھر سے مجھے چکر آ رہے ہیں داجی نے ایک بار پھر بیہوش ہونے کی ایکٹنگ کرنی چاہی لیکن آریان کو باہر کی جانب قدم بڑھاتے دیکھ وہ جلدی سے اس کے پیچھے بھاگے ۔۔۔۔۔

باقی سب کو نوشیبہ بیگم وہیں روک چکی تھیں وہ چاہتی تھیں دونوں اکیلے میں بات کریں اور ایک دوسرے سے اپنے شکوے دور کریں ۔۔۔۔۔

اگر سب لوگ ان کے پیچھے چلے جاتے تو شاید آریان خود کو کھل کر ظاہر نہ کر پاتا ۔۔۔۔۔۔

آریان بیٹا رکو میری بات تو سنو ،،،، داجی نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔۔

کیا سنوں داجی،،،، آپ نے جھوٹ بولا میری فیلنگز کے ساتھ کھیلا پہلے بھی آپ نے یہی کیا تھا اور آج بھی وہی کیا۔۔۔۔۔

آخر کیوں سب لوگ مجھ سے ہی جھوٹ بولتے ہیں وہ غصے سے پھٹ پڑا۔۔۔۔۔

بیٹا میں تو بس اتنا چاہتا تھا تم میرے پاس واپس آجاؤ داجی سر جھکا گئے ۔۔۔۔۔

جب ساتھ رکھنے کا ٹائم تھا تب تو آپ نے ساتھ رکھا نہیں بہت دور بھیج دیا اور اب پاس رکھنا چاہتے ہیں کیوں ؟؟ آریان شاید ان لوگوں سے کچھ زیادہ ہی بدگمان تھا ۔۔۔۔

بیٹا میں تم دونوں کی خوشی چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ میں تو چاہتا ہوں میرے سارے بچے خوش رہیں لیکن اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے مجھے تمھاری جگہ رواحہ کو چننا پڑا۔۔۔۔۔

لیکن بیٹا تم مجھے بھی تو سمجھو اس وقت گھر میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی بھی مرد نہیں تھا اگر میں بھی رواحہ اور نوشیبہ کو اکیلا چھوڑ جاتا تو کیا یہ معاشرے والے انہیں سکون سے رہنے دیتے ۔۔۔۔۔

بیٹا تم تو اچھی طرح جانتے ہو ہمارے معاشرے کے مردوں کو وہ تو اسی تاک میں ہوتے ہیں کب ایک عورت اکیلی انہیں دکھے اور وہ اسے ڈبوچ لیں۔۔۔۔۔

عورت کو معاشرے میں رہنے کے لئے ایک مضبوط سائبان کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت میں ان دونوں کا سائبان بنا تھا۔۔۔۔۔

تمھیں کیا لگتا ہے اگر میں ان دونوں کو اس وقت اکیلا چھوڑ دیرا تو وہ اس طرح کی زندگی گزار سکتیں ؟؟؟؟ 

کبھی بھی نہیں ،،،، ان کی زندگی اس زندگی سے بہت مختلف ہوتی ۔۔۔۔

میں ان دونوں کے ساتھ ایک مضبوط سائبان کی طرح تھا تو انہوں نے خود کو سنبھال لیا اگر میں بھی چھوڑ دیتا تو ناجانے میری بچیوں کا کیا ہوتا ۔۔۔۔۔۔

تم تو ایک مرد تھے آرام سکون سے کہیں پر بھی رہ سکتے تھے لیکن ان دونوں کے لیے یہ سب بہت مشکل تھا ۔۔۔۔۔

میں نے اس وقت بھی تم سب کا بھلا ہی سوچا تھا لیکن مجھے نہیں پتا تھا میرا وہ ایک فیصلہ تمھیں ہم سب سے اور اس گھر سے بہت دور کر دے گا ۔۔۔۔۔

پلیز ہوسکے تو اپنے داجی کو معاف کر دیں داجی نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ ڈالے جسے وہ جھٹ سے پکڑ گیا ۔۔۔۔۔

داجی آپ یہ کیا کر رہے ہیں آپ کے ہاتھ جڑے ہوئے نہیں بلکہ دعا دعا دیتے اچھے لگتے ہیں آریان ان کے ہاتھ اپنے سر پر رکھ گیا۔۔۔۔۔۔

ہمیشہ خوش رہو میرے بچے ،،،، 

داجی آپ ٹینشن نہ لیں میں اب آپ کو چھوڑ کر کہیں پر بھی نہیں جاؤں گا یہیں پر آپ کے ساتھ ہی رہوں گا لیکن میرا آپ کے علاؤہ اس گھر کے لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔

میں اپنے کام سے کام رکھوں اور وہ اپنے۔۔۔۔۔۔ نا ہی وہ میرے معاملات میں پڑیں گے نا ہی میں ان کے معاملات میں پڑوں گا وہ اپنا فیصلہ سناتے داجی کے گلے لگا تھا داجی نے بھی مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔۔

داجی اس وقت مجھے بھی کسی اپنے کی بہت ضرورت تھی میرا بھی دل چاہتا تھا میرا کوئی اپنا ہو جس سے میں اپنا دکھ درد شیئر کروں ۔۔۔۔۔

میرا کوئی اپنا ہو جو مجھے حوصلہ دے لیکن اس وقت میرے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔

میں نے تو اپنے سارے عزیز تر رشتے کھو دیے تھے،،،،،، داجی کون کہتا ہے مرد نہیں روتا؟؟؟ 

اپنے سب سے عزیز رشتے کی موت مظبوط سے مظبوط تر انسان کو بھی اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے داجی مرد کو بھی درد ہوتا ہے مجھے بھی اس وقت یہاں بہت درد ہوا تھا جب میں نے ایک ساتھ اپنے ماما بابا کی لاشیں دیکھیں تھیں ۔۔۔۔۔

میری تو پوری دنیا ہی اجڑ گئی تھی ،،،، آپ ہی بتائیں میں اس وقت کیا کرتا ؟؟؟ اس نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

میں تیرا درد سمجھ سکتا ہوں بیٹا میں نے بھی اپنے تین تین بچوں کو کھویا تھا اس وقت ۔۔۔۔۔ جو ہوا سو ہوا اسے تو ہم ٹال نہیں سکتے لیکن آگے کی زندگی کو تو بہتر بنا سکتے ہیں نا۔۔۔۔۔

چھوڑ دے میرے بچے یہ بدلہ ودلہ تو ان دونوں ماں بیٹی سے اس گناہ کا بدلہ لے رہا ہے جو انہوں نے کیا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

بیٹا میں تجھے گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں میرا شمشیر ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔ بچن سے لے کر اب تک میں اسے دیکھتا آیا تھا میں نے اپنے بچوں کو صرف عورت کی عزت کرنا سکھایا ہے ۔۔۔۔۔

وہ کبھی بھی ایک عورت کی عزت کو پامال نہیں کر سکتے ہمارے بہت ہی قریبی کسی اپنے نے یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔

اس نے اپنا بدلہ لینے کے لئے تم سب کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے دراڑیں پیدا کی ہیں ۔۔۔۔۔

آریان بیٹا میں چاہتا ہوں جو کوئی بھی دشمن ہے تم اس کا پتا لگاؤ اسے ایسی سزا دو کہ اس کی آنے والی ساری نسلیں یاد رکھیں ۔۔۔۔۔

اور ہاں میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوںo اگر گنہگار شمشیر ہی ہوا تو میں خود اس کی بیوی اور بیٹی کو سزا دوں گا لیکن پہلے تمہیں اصلی دشمن کا پتا لگانا ہے دو دوست کے روپ میں دشمن بنا بیٹھا ہے داجی نے اسے سمجھایا۔۔۔۔

جس پر داجی کی باتوں کا کافی حد تک اثر بھی ہوا تھا ،،،، آریان داجی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ہمیں آپس میں لڑنے کی بجائے دشمن کا پتا لگانا چاہیے عون اور عالیان بھی ان کے پاس آئے تھے ۔۔۔۔۔۔

ہاں میرے بچے سب ساتھ مل کر پتا لگاؤ آخر دشمن کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ یہ جو کوئی بھی ہے شمشیر اور فائق کے بہت قریب تھا جس نے ان کے قریب رہتے ہوئے ہی اپنی چال چلی اور ان دونوں کو اس کا پتا نہیں چلا۔۔۔۔۔

جب پتا چلا تو انہیں جان سے ہی مار دیا داجی کی بہت قریب والی بات پر آریان نے فٹ سے عون کے پیچھے کھڑے عالیان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔

کیا تو بھی وہی سوچ رہا ہے عالیان جو میں سوچ رہا ہوں اس کی بات پر عالیان ہاں میں سر ہلا گیا ۔۔۔۔۔

قسم اٹھوا لے یار میں نے کچھ بھی نہیں کیا ؟؟؟ میں تو خود ابھی چھوٹا سا کیوٹ سا بچہ ہوں اپنی طرف آریان کو بڑھتا دیکھ عون ڈر ہی گیا ۔۔۔۔۔۔

مجھے پتا ہے کمینے تو نے کچھ بھی نہیں کیا اور ہاں ایک بات تو نے سہی کہی ہے توں تو ابھی تک چھوٹا سا بچہ ہے جسے ٹھیک سے کھانا کھانا بھی نہیں آتا آریان نے اس پر طنز کیا۔۔۔۔۔

اللہ کرے تیری یاداشت کا وہ حصہ ہی گم ہو جائے جس میں تجھے یہ والی بات اچھے سے یاد ہے عون اس کی بات سن کر جل ہی تو گیا تھا ۔۔۔۔۔

رواحہ کو نوشیبہ بیگم نے اندر اپنے پاس ہی روکا ہوا تھا وہ نہیں چاہتی تھیں رواحہ کے باہر جانے کی وجہ سے معاملہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جائے ۔۔۔۔۔ آج کل اپنی بیٹی کی ٹر ٹر چلتی زبان سے وہ اچھی طرح سے واقف تھیں ۔۔۔۔۔۔

اللّٰہ نے میری سن لی اب میں فلیٹ میں اکیلا رہوں گا مجھے تیرے کام نہیں کرنے پڑیں گے نہ ہی صبح صبح اٹھ کر تیرے لیے کافی بنانی پڑے گی اور نہ ہی تجھے چینج کروانے کے لیے پین۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب آریان نے اسے گلے سے پکڑ کر دبوچا ۔۔۔۔۔۔

چھوڑ دے یار تجھے تو پتا ہی ہے میری زبان کتنی چکنی ہے خودبخود ہی پھسل جاتی ہے ۔۔۔۔۔ 

تو پھر توں اسے کنٹرول میں رکھا کر ،،،،عالیان کو اس کا آریان کی گرفت میں جھٹپٹانا مزہ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

سچی میں یار میں تو اسے بہت زیادہ کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن یہ رہتی ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

جس سے اپنی زبان کنٹرول نہیں ہوتی وہ بیوی کو کل کو کیا ہی کنٹرول کرے گا دونوں نے اس کا مزاق اڑایا ۔۔۔۔۔

داجی تو انہیں ہنستا مسکراتا دیکھ خوشی کی یہ خبر سنانے نوشیبہ بیگم اور رواحہ کے کمرے میں چلے گئے تھے ۔۔۔۔۔

چل اب ڈرامے بازی بند کر اور عالیان کے ساتھ جا کر ہم تینوں کا سامان اٹھا لاؤ اب سے ہم تینوں یہیں پر رہیں گے ۔۔۔۔۔

آریان نے انہیں آرڈر دیا۔۔۔۔۔

لیکن کیوں ؟؟؟ 

صبح صبح مجھے کافی بنا کے کون دے گا دروازا کون کھولے گا اس لیے چپ چاپ جا۔۔۔۔۔

جب شادی کے بعد بھی تمھارے چونچلے میں نے ہی اٹھانے تھے تو تمھاری شادی کی ہی کیوں وہ کسی بزرگ کی طرح کہتا باہر چلا گیا ۔۔۔۔

عالیان بھی اس کے پیچھے ہی گیا تھا۔۔۔۔

کیا مطلب ہے داجی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں وہ آریان بھی اب ہمارے ساتھ اس گھر میں رہے گا لیکن کیوں ؟؟؟ 

تم یہ بات مت بھولو رواحہ یہ گھر جتنا تمھارا ہے اتنا ہی آریان کا بھی ہے وہ اگر اتنے سال گھر سے دور رہا ہے گھر پر کوئی حق نہیں جمایا تو اس کا مطلب یہ نہیں اس کا اس گھر پے کوئی حق نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ اب اس گھر میں ہی رہے گا اور خبردار جو تم نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی تو اتنے عرصے کے بعد بچہ گھر میں واپس آیا ہے ہم چاہتے ہیں اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے سب پہلے کی طرح مل جل کر رہیں نوشیبہ بیگم نے بیٹی کو ڈانٹا۔۔۔۔۔

چلیں داجی اب ہم چلتے ہیں ،،، وہ دونوں اسے گھورتے باہر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔

اب کیا یہ آریان شاہ گھر پر بھی مجھے تنگ کرے گا ٹھرک پن جھاڑے گا اف ،،،،، وہ وہیں بیڈ پر ڈھے گئی ۔۔۔۔۔

رواحہ میری جان تیرے پاس آریان شاہ کی ویڈیو تو ہے نا پھر ڈر کس بات کا اب تجھے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ خود کو شاباش دیتی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا میرا بچہ رو کیوں رہا ہے ؟؟؟ 

ڈیڈ مجھے آریان شاہ چاہیے مجھے وہ ہر حال میں چاہیے آئی لو ہیم،،،،، 

تو اتنی سی بات کے لیے میرا بچہ رو کیوں رہا ہے اگر آریان شاہ تمھیں چاہیے تو آریان شاہ تمھیں ہی ملے گا ۔۔۔۔۔

انہوں نے بیٹی کو گلے سے لگاتے حوصلہ دیا۔۔۔۔۔۔

میرے ایک بچے کو رواحہ چاہیے تو دوسرے کو آریان تو ٹھیک ہے وہ انہیں ضرور ملیں گے۔۔۔۔۔

میرے بچوں کو ان کی محبت ضرور ملے گی انہوں نے دل ہی دل میں تہیہ کیا۔۔۔۔۔۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Ishq Mian Gahyal Episode 10 عشق میں گھائل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more