ازدابیل ہرف عائشہ کی آواز آنکھ برتنون کے ٹوٹنے کی آواز سے کھلی اس نےاپنی سہنری آنکھے کھولی جن مین واضح کوفت تھی صراحی جیسی گردن گھوما کر دیکھا جہان دائم لبے سدھ سورہا تھا عائشہ نے اپنے دھدیان پاوں قالین پر رکھے۔اپنے بھورے بال کو کیچر میں مقیر کرتی اس کا رخ کیچن کی طرف تھا۔عائشہ کو دیکھ کر شدید دکھ ہوا اس کا کانچ کا سیٹ زمین پر ٹوٹا کئ حصوں میں بہٹا پڑا تھا ہارٹ اٹیک- انقریب اتے اتے بچا۔صدمے سےنکالی تو کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا دائم دائم یہ دیکھو۔أنکھو میں أنسو لیے اس کے سینے سے لگ گئ دس منٹ ٹسوے بہانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ یہ دائم نہیں یہ ۔عائشہ۔جلدی سے پیچھے ہوئی وہاں اک اونچےلمبے قد کا خوبصورت نوجوان کھڑا تھا برون داڑی برون بال اور برون أنکھیں وہ حسن کی زنذہ مثال تھا۔۔کون ہو تم ۔
عائشہ نے پوری طرح جائزہ لے کر روب سے پوچھا میں جن ہوں ۔کہاں سے أہے ہو میں پرستان سے أیا ہوں اس نے أدب سے جواب دیا اواچھا ۔عائشہ نے مسکرا کر کہا اور اگالےہی پل جب اس کےلفظوں پ غور کیا تو۔حیرت سے أنکھیں کھلی کی کھلی رۓ گی اجنبی فاتحان سی مسکراہٹ لیے دیکھ رہا تھا۔اور اگالے ہی پل عائشہ کا فالک شگاف قہقہہ اس کی سماعت سے ٹاکریا تم تم جن ہاہاہاہاہاہاہا۔
عائشہ ہنسی روک کر بمشکل اتنا بول پای اچانک عائشہ نے أنکھیں کھولی تو سامنے اک بالوںوالا دس فٹ کی کوئی مخلوق کھڑی تھی باکل سیاہ جیسےاور چہرہ جون ایالیا جسیا تھا عائشہ کی أنکھوں میں خوف أیا تو تم واقعی جن ہو عائشہ نے اس کی چاروں طرف سے جائزہ لیتیے ہوے کہا وہ اسے دکھی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے اسے صدما پہنچا تھا جتنا میری نانی بتاتی تھی اس سے تو کم ڈرونے ہو مگر گزارالاہک ہو۔وہ ویلے سن کھڑا عائشہ کو سن رہاتھا جیسے اسے اس رویےکی توقع نہیں تھی اک دم سے وہ زور سے ڑاھاڑا تو عائشہ نے کانوں پ انگلیاں رکھ لی اہستا بو لو میں بہری نہیں ہوں۔عائشہ نے اسے جھڑکا تمہں ڈر نہیں لگ رہا۔
وہ دکھ سے بمشکل اتنا بول پایا اک بار پھر اس کے کانو نے عائشہ کا حوفناک قہقہہ برداشت کرنا پڑرا وہ اب اپنے دوسرے روپ میں اچکا تھا۔جن نام کیا ئہے تمہارا عائشہ نے مزے سے پوچھا
حیدر حیدر۔نام ہے میرا حیدر نے ٹھنڈی سانس خارج کرتے ہوئے کہا یہ کون ہے دائم نے کیچن میں داخل ہوتے پوچھا یہ یہ تو عائشہ کو سمجھ نہیں أرہا تھا کے کیا جواب دے میں جن ہوں حیدر نے أگے بڑھ کے گرجوشی سے اپنا تعارف کروایا ہاے میں دائم۔۔ دائم نے بھی اگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا اور اچانک کرنٹ کھا کر ہاتھ واپس کہنچا کیا کہا تم نے دائم نے شوکی نظروں سے دیکھ کر کہا۔
اور حیدر اپنے جن کے روپ میں واپس أگیا اور عائشہ بے بس کھڑی سب دیکھ رہی تھی دائم نے اک ۔نظر اس مخلوق کو دیکھا اور زور سے ہنستے ہنستے ہوۓ دیکھا وہ جن جن بول رہا تھا اور اچانک زمین پے گر کر بہوش ہو گیا
گھبرانے کی ضرورت نہیں انہیں کچھ دیر میں ہوش أجاۓ گااور کچھ ضروری ہدایت کر کے ڈاکٹر رخصت ہو گیا عائشہ اپنے سیاہ فارم شوہر کے پاس بیٹھی رونے میں مصروف تھی جس کے کالے ہونٹ میں بھی مل رہے تھے خود کو آئینہ میں دیکھ کر نہیں ڑرتا مجھے دیکھ کر جن جن کر کےگر گیا حیدر منھ میں بڑبڑایا۔
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا عائشہ نے غصے سے کہا تمہری وجہ سے نے بھنویں ساکیٹر ک دوہریاں۔۔۔۔
ہاں تمہاری وجہ سے جن ہی تو تھے اس میں کون سی بڑی بات تھی مم؟اگر میرے شوہر کو کچھ ہوا تو یہ کہتے عائشہ باہر بھاگ گی اور حیدر ہکا بہکا کھڑا رہأ۔۔حیدر نے اک نظر دائم پر ڈالی جو سوتے ہو بہت خوفناک لگ رہ تھا۔حیدر نے اسے دیکھ کر جھر جھری لی اور عائشہ کے پیچھے آگیا۔۔
دو گھنٹے بعد دائم نے اپنی زرد موٹی آنکھیں کھولی تو سامنے حیدر نظر آیا میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گا حیدر نےاسے دیکھتے ہی کہا مگر اس کی أنکھوں میں واضح خوف تھا۔تب تک عائشہ دائم کے لیے سوپ بنا لای ۔میں نہیں پینا سوپ۔دائم نے منہ بنا کر کہا تو عائشہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا حیدر کے لیے یہ منظر نہ قابلے یقین تھا واہ تیری قدرت حیدر نے ٹھنڈی سانس خارج کی۔۔
یقین کرو میں تم ۔دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گا۔حیدر کافی دیر سے انھیں اپنے وہاں رکھنے کے کیے راضی کر رہا تھا۔جو کسی صورت راضی نہیں ہو رھے تھے۔تم یہاں کیوں رکنا چاہتے ہو۔عائشہ نے کوفت۔سے پوچھا دراصل حیدر نے نظریں جھکا کر بتانا شروع کیا ہم چھے بھائی تھے میں سب سے چھوٹا تھا۔ہمارے باپ نے ہمیں حاکم دیا کے پر تھوی کی سب سے خوبصورت عورت جو آئےاسے پرستان لاؤ اور اس سے سمبند باندھ لو۔سب اپنی اپنی پنسد کی چن لاۓ مگر میں ناکام رہا۔۔پھر اک دن میں نے آپکو اک پارٹی میں دیکھا ۔میں وہاں کسی حورکی تلاش میں تھا۔۔
پھرمیری نظر آپ پر گی تو آنابھول گی۔اس رات میں أپ کو لینے آیا تھا مگر یہ دیکھ کر آپ شادی شدہ ہیں اور دائم سے کتنی محبت کرتی ہیں تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔۔اب اگر خالی ہاتھ لوٹا تو میرے بابامیرا سر تن سے جدا کر دے گے وہ افسردہ سہ بتارہا تھا ۔۔جب حیدر کو اپنے ہاتھوں پہ کچھ گرم گرتا محسوس ہوا۔حیدر نے نظر اٹھا کر دیکھا تو حیدر اپنی موٹی کالی زرد آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب بہا رہا تھا اور تب دائم نے پہلی دفع دیکھا کہ کولے کی کان سے ہیرا نکنا کسے کہتے ہیں۔۔ دائم شدت سے جزبات میں آ کر حیدرکے ہاتھ بار بار چوم رہا تھا۔اس کے اراروں سے نہ واقف دائم اس کا شکر گزار ہو رہا تھا جس نے اس کی محبت کی عزت کی اور ساتھ رہنے دیا اور اجازت بھی دے دی۔
یہ پکڑو اور سارے گھر کی صفائی کرو۔عائشہ نے جھاڑو حیدرکو پکڑاتے روب سے کہا حیدر کو جیسے دکھ ہوا۔۔
اتنا طاقتور جن ہو کر وہ صفائی کر رہا تھا حیدر کے گالے میں آنسوؤں کا پھندا بن گیا جسے بمشکل پہیچھے دھکیلا ۔۔ زرا اچھے سے صاف کرو۔ عائشہ نے کوکی منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔ہاں ہاں اتنا اچھے سے صاف کرو گا کے تم وہاں بہیٹھی تو چہرہ یہاں نظر آۓ گا۔حیدر نے غصے سے کہا۔پھر اک نظر عائشہ اور دائم کو دیکھا جو صوفے پر بانہوں میں باہنےڈالے ٹی وی دیکھ رۓ تھے۔ وقفے وقفے سے عائشہ دائم کے منہ میں کوکی بھی ڈال رہی تھی یقینا یہی وجہ پیش آئ تھی جسے دیکھ کر کسی نے کہا تھا کہ لنگور کے منہ میں انگور۔
عائشہ نے حیدر کو دیکھ کر تاسف سے سوچا۔۔چاۓ یا کافی بلا آخر عائشہ کو ترس آگیا تو پوچھ لیا۔نہیں ہم چاۓ نہیں پیتے حیدر نے کہا تو کیا بھوکے رہتے ہو عائشہ نے حیرانگی سے دیکھا ۔۔نہیں ہم انسانی گوشت کھاتے ہیں اور خون پیتے ہیں۔۔حیدر نے گردن اکڑا کر کہا۔۔
عائشہ نے اک دہشت ناک قہقہہ لگا اور پھر سنجیدگی سے گویا ہوہئ چاۓ یا کافی اگر نکھرے کرنےتو جا کر۔خود بنا لو چاۓ واد آؤٹ شوگر ۔۔
حیدر نے بیچارگی سے کہا اب ٹاہم آوٹ ہو گیا جا کر خود بنا لو عائشہ مزے سے کہتے آگے بڑھ گی جب کے حیدر بھون کر رہ گیا۔۔۔
تو کیسا ہے تمہارا پرستان۔۔عائشہ نے چاۓ کی چوسکی لہیے سرسری سا پوچھا۔میرا پرستان حیدر کی آنکھوں میں سہتاہش ابھری بہت خوبصورت ہے کسی شاعر کی غزل جیسا کسی مصور کی تصویر جیسا۔۔
برف میں ڈھنکے جیسا ۔۔
کسی پری کی گردن پرتل جیسا۔۔
حیدر نے کھوۓ کھوۓ لہجے میں عائشہ کی گردن پر نظریں جماۓ ہوئے کہا۔۔تو عائشہ اک دم چونک گی۔۔پھر سمبل کر بولی۔میں بھی دیکھو گی تمہارا پرستان جب تمہیں کوئی لڑکی مل گی عائشہ نے شرارت سے کہا ۔مل جاۓ گی بہت جلد حیدر نے عائشہ کہ چہرے پر ننظریں جماۓ کہا۔۔
تو عائشہ کی کالی گنھی پلکیں خود بخود جھک گی۔اچھا جب جاؤ تو مجھے پک واٹسپ کرنا عائشہ نے کہا۔وٹسی سپ؟ حیدر نے الجھی نظروں سے دیکھا تو عائشہ کی ہنسی چھوٹ گی۔۔
ارے وٹسی سپ نہیں وٹسپ عائشہ نے سمجھایا ۔۔وہ کیا ہوتا حیدر ابھی بھی الجھا سا لگ رہا تھا۔۔کیا تم سارے جن ہی ان پڑھ اور ٹکنیلوجی سے دور ہو اور پھر عائشہ نے حیدر کو وٹسپ کے بارے میں تفصیل سمجھائ پر یہ بھول گئ کے اسے موباہل کا ہی نہیں پتہ۔۔
حیدر دائم کے لیے سوپ بنا رہا تھا عائشہ پاس بیھٹی سبزی کاٹ رہی تھی اچانک حیدر کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا کسی کے نرم ہاتھوں کا احساس ہوا حیدر کی ڈھڑنے تیز ہوئ عائشہ حیدر نے بمشکل ہڑبڑاہٹ روکنے کی کو کوشش کی مگر بے سود اک دم سے آنکھوں کا اندھیرا جھٹ گیا حیدر نے گردن گھوما کر دیھکا تو وہ اپنی جگہ سن ہو گیا۔۔۔اس کے پیچھے اک بھورے بالوں والی لڑکی جو بمشکل اٹھارہ سال کی ہو گی ۔سفید رنگ کھلا کھلا سا چہرہ سب سے بڑھ کر اس کی نیلی گہری آنکھیں وہ حیدر کو دائم سمجھ کر یہ غلطی کرنے پے معزرت کر رہی تھی ۔۔شاید۔۔۔کیوں کے حیدر اس کی بات سن کب رہا تھا اب وہ لڑکی عائشہ کی طرف متوجہ تھی۔۔ اوو زینب میری جان تم کب آئ بتا دیتی میں دائم کو بھیج دیتی۔۔
عائشہ پیار سے گالے لگاتے بول رہی تھی وہ بھی جوابا کچھ بولی تھی حیدر عائشہ کی۔ آواز حیدر کو زینب کی گہری آنکھوں سے آذاد کروا لا ہی ۔ ہاں حیدر نے جلدی سے کہا دو کپ کافی کے بناؤ اور ساتھ کچھ کھانے کو بھی بنا لینا عائشہ کہتی لاونج کی طرف بڑھ گی اب زینب سے مخاطب تھی۔
تم جا کر فریش ہو جاؤ تب تک میں تمہاری فیوڑٹ ڈش بریانی بناتی ہوں۔عائشہ نے کندھا تھپتھپاتے ہوۓ عائشہ دائم کہاں ہۓ۔زینب نے موڑ کر کہا۔وہ کسی دوست کے ہاں گیے ہیں کچھ دیر تک آ جائے گا۔۔
اوکے۔۔
زینب کہ کر آ گے بڑھ گئی شاہد وہ یہاُں اکثر آتی تھی اسی لیے بے تکلفی سے اوپر والے کمرے میں چلی گی۔۔
دس منٹ بعد زینب کی میٹھی آواز کیچن میں آئ
شاید وہ اپنا بیگ اوپر لے جانا بھول گئ تھی ۔جاؤ حیدر زینب کا بیگ دے کر آؤ عائشہ نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔ دل کی دھڑکنوں پر قابو پا کر حیدر نے دروازے پر دستک دی۔
آجاؤ وہی زینب کی میٹھی شیریں آواز حیدر نے دھکیلا تو دروازہ کھولتا گیا اس نے اندر جھانک تو کوہی نہیں تھا شاہد زینب واشروم میں تھی ۔۔۔آآپکا بیگ حیدر نے کا نپتی آواز میں کہا۔حیدر واپس مڑا تو پھر زینب کی آواز نے روک لیا۔سنہے بیگ میں سے میرے کپڑے نکال دے پیلز۔۔۔
اور حیدر کو اپنا وجود کا نپتا ہوا لگا۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے اک بلیک کلرکی پینٹ شرٹ نکالی تو زینب نے اپنا بازوں دروازے سے باہر نکالا۔۔زینب کا گورا بازو کندھوں تک نظر آرہا تھا۔۔
جن پر جگہ جگہ ٹیٹو کندے پر بنے ہوئے تھےحیدر کے لیے وہاں رکنا بہت مشکل ہو رہا تھا اس نے پھنکنے کے انداز میں کپڑے پکڑاۓ اور باہر کی طرف دوڑ لگا دی۔۔
آج زینب کو آۓ دو دن ہو چکے تھے اور اس نے حیدر کو مکمل اپنے سحر میں لے لیا تھا۔۔حیدر پالیٹ میں کھانا ڈالتے بار بار چھوٹی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔جو نان سٹآپ بولے جارہی تھی اور دائم اور عائشہ مسکرا کر پوری توجہ سے سن رہے تھے۔۔۔
زینب نے آج ریڑ کالر کا سلیو لیس گھٹنوں سے اوپر اتا سوٹ پہن رکھا تھا۔۔وہ سب کہی جانے کے لۓ تیار تھے جب عائشہ نے اسے مخاطب کیا۔حیدر ہم شوپنگ کرنے جا رہے ہیں گھر کا دھیان رکھنا اور ہآں حیدر بے توجی سے باتیں سن رہآتھا جو وہ اکثر سنتا رہتا تھا ایسا کرنا تینوں کمروں کے باتھ روم صاف کر دینآ اور حیدر کے چودہ طبق روشن ہو گۓ اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا.جہاں حیدر کی حالت دیکھنے لاہک تھی وہی زینب۔کے کہوے کہوے ماحول کو ۔حوفناک بنا رہی تھی۔۔۔
مرتا کیا۔نہ کرتا۔کے مصدق حیدر نے دونوں کمروں کے باتھروم صاف کر ڈالے اب وہ دائم اور عائشہ کے کمرے کا باتھروم صاف کر کے نکالا تو الماری کا دروازہ کھلا نظر آیا۔
حیدر۔ بند کرنےکی نیت سے آیا تونہ چاہتے ہوے بھی عائشہ کی پنک کالر کی میکسی نکال لی۔پنک کالر ہمیشہ سے حیدر کی کمزوری رہی تھی عائشہ کے کپڑوں اٹھتی مہک حیدر عائشہ کی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔حیدر نے اک۔اک کر کے سارے کپڑے نکالے نہ جانے وہ کتنی دیر بیٹھا عائشہ کی موجودگی کو محسوس کرتا رہا۔
حیدر نے گھڑی پر نظر دوڑائ تو سات بج رہےتھے مطلب ان کے آنے کا وقت ہو رہآ تھا۔حیدر نے جلدی سے کپڑے ہینگ کر کہ واپس رکے دیۓ تھے
دوڑ ۔بیل کی۔ آواز آئ حیدر نے خود کو ۔نارمل کیا اور جا کر دروازہ کھولا ۔۔
یہ دیکھ کر حیدر کو ۔شوک لگا کے وہاں
ماما میں نےکہ دیا نہ کے میں سائم کے ساتھ نہیں رہ سکتی زوحا نے چلا کر کہا۔۔
مگر کیوں پہلے تو تم نے اس سے پنسد کی شادی کی ہماری معرضی کے خلاف اور اب تم اس سے علیحدگی چاہتی ہو۔
ماما میں اپنی مرضی سےاس کے ساتھ تھی اب اپنی مرضی سے چھوڑ رہی اور میں نے آپ کو صرف بتایا ہۓ پوچھا نہیں ۔زوحا بد تمیزی سے کہتی کھانے کے ٹیبل سے اٹھ گئ جب کے انعم بیگم کی آنکھیوں میں آنسوں سے بھر گئ ۔وہاں زینب اکیلی کھٹری تھی ہاتھ میں شوپنگ بیگ تھامے۔۔۔
حیدر دروازے سے ہٹ گیا۔اس نے زینب کی چال میں واضع للکڑاہٹ تھی۔مطلب وہ ڈرنک کر کے آئ تھی عائشہ اور دائم کہاں ہے حیدر نے دروازہ بند کرتے ہوے پوچھا وہ دائم کا کوہی پرانا دوست مل گیا تھا وہ اس کے سساتھ چلے گۓ کل صبح آے گے زینب کی آواز بھاری تھی مگر وہ مکمل ہوش میں تھی۔
یقینا وہ شراب کی۔عادی تھی یہ بیگ میرے کمرے میں پہنچا دو جبکہ زینب کمرے کی جانب بڑھ گئ جبکہ حیدر کے لیےخود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔
حیدر اپنی اتھل پتھل دھڑکنوں کے ساتھ جیسے ہی باہر نکلنے لگا تو زینب نے دروازے کے آگے ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ وہ اب ناہٹ سوٹ میں مبلوس تھی ۔۔
زینب نے آگےبڑھ کر خود کو وار نے کے سے انداز میں حیدر کے گلے میں باہیں ڈال دی تم کتنے خوبصورت ہو حیدر۔۔۔۔
زینب مداہوش سی بول رہی تھی اور حیدر کو اک اک قدم پیچھے دھکیل رہی تھی۔تمہاری یہ بھوری آنکھیں یہ بھورے بال زینب بکل حیدر کے چہرے کے قریب تھی۔۔اتنی کے حیدر کے چہرے پہ زینب کی سانسیں پڑرہی تھی حیدر نے کچھ بولنا ہی چاہا کے زینب نےحیدر کے لب خاموش کروا دیےاور یوں رات اک اور راز اپنے سینے میں چھپاۓ سیاہ کاری کو اپنی ساہ رنگت میں سموۓ گزر گئ۔۔
حیدر کی آواز سات بجے کے الارم سے کھلی حیدر نے جسیے آنکھیں کھولی ۔تو ساتھ میں کسی وجود کا احساس ہوا دیکھا تو زینب حیدر کے کندھے پر سررکھے پر سکون سی سورہی تھی۔۔۔۔
اور تبھی رات کا منظر حیدر کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح گھوم گیا۔
ائم سوری عائشہ۔۔
حیدر نے درد سے کہا اور اس چھوٹی لڑکی کا سر آرام سے پرے کیا اور اٹھ گیا۔۔۔
حیدر فریش ہو کر کیچن میں آگیا۔مگر اس کے دماغ میں ہلچل سی ہورہی تھی ۔شاید زینب سے یہ سب نشے میں ہو گیا ہو وہ جب اٹھیے گی تو اس کا کیا رردعمل ہو گا حیدر کے اندر اک جنگ سی شروع تھی ۔اس نے ناشتہ ٹیبل پہ لگایا تب تک زینب بھی فریش ہو کر نیچے آگئ تھی۔
حیدر نظریں نہیں اٹھا پا رہا تھا جبک زینب بے فکری سی ناشتہ کر رہی تھی اس سے یہ سب نشے میں ہوا اسے تو یاد بھی نہیں۔۔۔۔۔
حیدر کے اندر اک گلٹی سی ابھری پھر حیدر نے نظر اٹھا کر دیکھا تو زینب مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔حیدر کے دیکھنے پر شرما کر نظریں جھکالی اس کے گالوں کے بلش دیکھ کر لگ رہا تھا۔۔
کے وہ سب زینب نے خوشی سے کیا حیدر نے اک سکھ کا سانس لیا اور ناشتہ کرنے لگ گی
سائم میں نے کہ دیا تو کہ دیا ہم ساتھ نہیں رہے سکتے اور یہ میرا آخرری فیصلہ ہے۔۔
زوحا نے اتنے غصے سے کہا کے آس پاس ر یسٹورنٹ میں بیٹھے لوگوں نے اسے ناگواری سے دیکھا۔۔
دیکھو زوحا میری بات سنو۔
سائم نے پیار سے سمجھنا چاہا۔۔۔
وہ اک آونچے لمبے قد کا آدمی تھا میرا ایسا کوئ ارادہ نہیں تھا۔۔اس نے مجھے بہکایا اور تم بہک گۓ زوحا نے تنظزیہ مسکرا کر کہا تم سائم بچے نہیں ہو زوحا کا چہرہ غصے سے لال ٹماٹر جیسے ہو رہا تھا۔۔دیکھو زوحا صرف آخری بار۔۔۔ہر بار تم یہی کہتے ہو سائم مگر معاف کرنا اس بار میں تمہیں معاف نہیں کر سکتی چاہ کر بھی نہیں۔۔۔
زوحا کا لہجہ کمزور ہوا مگر اگلے لمحے میں تیز لہجے میں کہا کورٹ میں ملاقات ہو گی سائم زوحا کہتی اٹھ کھڑی ہوئ جبک سائم بس دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
عائشہ کو دیکھ کر حیدر کی گردن میں گلٹی ابھر کر مدھوم ہوی دائم نے عائشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ ہوا تھا۔۔وہ دونوں باتوں میں مصروف آگے گزر گۓ حیدر کو بری طرح چھبا تھا مگر ضبط کر کے دروازہ بندکر کے آگیا۔۔۔۔
عائشہ اور زینب کوئ بات ڈسکس کر رئ تھی جب حیدر اور پیٹردائم لاونج میں داخل ہوۓ کیا ہو رہا دائم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا حیدر بھی ساتھ میں بیٹھ گیا۔زینب اک عجیب انداز سے مسکرائ جو صرف حیدر نے محسوس کیا دائم عائشہ کی ڈرنک اٹھا کر پی رہا تھا۔وہ جیجو زینب نے کچھ کہنا چاہا جب عائشہ نے ڈینٹا کہ بھائی بولا کرو۔۔
او زینب نے بدمزہ سا ہو کر عائشہ کی بات کو نظر آنداز کیا عائشہ کہ رہی کے کل گھر میں اک چھوٹی سی پارٹی رکھ لیتے ہیں کتنے دن ہو گے سب دوستوں سے ملے اسی بہانے مل بھی لو گی۔۔۔
زینب نے وضاحت سے بتایا جیسے تم دونوں کی مرضی دائم کو جیسے کوئی مطلب نہ تھا۔۔۔
صبح سے گھر میں گہما گہمی تھی عائشہ اک شاندار پارٹی دینا چاہتی تھی ۔حیدر کی زور آور ضد اور زینب کی سفارش پر پارٹی کے کارڈ بلیک بور پینک کالر کے بنواۓ گۓ تھے۔۔۔
پورے گھر کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا سب کو کارڈ بھجوا دیئے ۔عائشہ دائم سے پوچھ رہی تھی اور وہ سب گن کر بتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
حیدر کو اس کے اگے وضاحتی جواب پر کوفت ہوئ اور تم نے مسٹر اذلان کے گھر کارڈ بھیجا عائشہ نے اک نظر اس پاس دیکھ کر ہر چیز کی تسلی کرتے ہوۓ پوچھے اوشٹ میں تو بھول گیا دائم نے ماتھےپر ہاتھ مارا تم میری خاص دوست کو دعوت میں شرکت کرانا بھول گیۓ۔۔۔ عائشہ اک خفا نظر ڈال کر کمرے میں چلی گئ پاڑٹی سات بج شروع ہونی تھی جبکہ ساڑھے چھے بج چکے تھے ۔۔دائم نے اک نظر گھڑی پر ڑالی وہ اتنی دیر میں جا کر واپس نہیں آسکتا تھا۔دائم کا یہاں ہونا بہت ضروری تھا دائم نے حیدر کو گھر کا اڈریس سمجایا اور مسٹر اذلان کی فیملی کو سات لانےکی جلد از جلد ہدایت دی اپنی کار کی چابی حیدر کے حوالے کرتے وہ کمرے میں چلا گیا اور حیدر جانتا تھا وہ عائشہ کے پاؤں پکڑے گا۔۔
ٹھیک سات بجے حیدر مسڑ اذلان کے گھر کے سامنے تھا حیدر نے گھنٹی دبائ پانچ منٹ بعد آک خوبرو حسنیہ نے دروازہ کھولہ اور اسے دیکھ کر حیدر کو یقین ہوا تھا کے اصل خوبصورتی کیا ہوتی ہے اس کی کالی سیاہ آنکھیں حیدر کو مسلسل دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔وہ خوبصورتی کی ذندہ مثال تھی حیدر نے بمشکل خود کو ہوش میں لایا جہاں وہ حسینہ اس کے بولنے کی منتظر تھی شاہد وہ حیدر کی حالت سے محفوظ ہو رہی تھی شاید اسے دیکھ کر سبھی کی یہی حالت ہوتی تھی جس سے اسےکوہی فرق نہیں پڑا تھا وہ یہ مسٹر اذلان کا گھر ہے۔۔۔
حیدر نے سنبھل کر پوچھا یقینا آپ نے گیٹ کے باہر پڑھا ہو گا۔۔
ہاں۔۔وہ مجھے دارصل مسز دائم نے بحیجھا ہے ان کے ہاں پارٹی ۓ جس کے لیے آپ کا ہونا ضروری ہے حیدر نے جلدی سے کہا او وہ کب ہے پارٹی پوچھا گیا آج آج ؟
میرا مطلب آبھی حیدر نے بوکھلا کر کہا ابھی؟
جی آپ کو میرے ساتھ چلنا ہے حیدر اس کے حسن میں پھر سے کھویا ہوا بولا۔۔۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا ٹھیک ہے اندر آجاۓ میں دس منٹ میں تیار ہو کر آتی ہو دروازہ کھول کر آگے بڑھ گئی۔سنے حیدر نے پکارا سنانیں وہ بھی اسی کے انداز میں بولی بلیک اینڈ پنک کلر کا حیدر کی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ مسکرا کر چلی گئ جیسے وہ سمجھ گئ ہو
ٹھیک پندرہ منٹ بعد وہ حسنیہ اپنے حسن کے جلواۓ بکھیرتی لاؤنج میں داخل ہوئ اس نے صرف پنک ۔کالر کا ڈریس زیپ تن کیا ہوا تھا جبکہ میک اپ بلیک کلر کا تھا۔۔
وہ سچ میں کسی ریاست کی شہزادی تھی حیدر نے خود کو بہت کمزور پایا مگر خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔
چلیں ۔۔۔وہی کانوں میں رس گھولتی آواز آئ ۔۔ہاں ہاں چلے۔۔
ٹھیک آٹھ بجے پارٹی میں پہنچ چکے تھے جہاں عائشہ اپنی دوستوں سے محو گفتگو تھی کے اچانک نظر گیٹ پر پڑی جہاں اس کے بچپن کی دوست کھڑی تھی عائشہ نے بلیک اور پنک کلر کا لباس پہنا ہوا تھااور وہ بھی قیامت خیز لگ رہی تھی
عائشہ کا منہ حیرت سے کھل گیا پھر دوڑتی ہوئ آئ او وہ میری جان تم آگئ عائشہ نے زوحا کے گال چومتے ہوۓ کہا لو بھلا میں کیسےنہ آتی زوحا نے بھی گال پے کس کرتے ہوۓ کہا……………
سائم کہاں ہے ۔عائشہ نے نظر دوڑاتے ہوۓ پوچھا میری اس سے علیحدگی ہو گئ زوحا نے بے فکری سے کہا جبکہ عائشہ کا منہ حیرت سے کھل گیا ۔۔۔۔کیا یہی کھڑے کرنے کا ارادہ ہے زوحا نے موزوں بدلا نہیں اؤ میری کھانے کے بعد تمام کپل ڈانس کر رہے تھے ۔زینب اپنی کسی دوست کے سات باتیں کرتے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی اس نے بلیک کلر کا ڈریس پہنآ تھا۔حیدر نے نوٹ کیا تھا کے وہ بلیک کلر کو پنسد کرتی ہۓ۔۔ زینب بہت زیادہ ڈرنک کر رہی تھی۔۔۔۔
اس قدر حوبصورت لڑکیاں پنک کلر میں دیکھ کر حیدر کو سنبھلنا مشکل ہو رہا تھا جب زوحا قریب آئ ہاۓ بیو ٹیفل بوائے ڈانس کروگے میرۓ ساتھ زوحا کی آواز سے لگ رہا تھا کے وہ ڈرنک کر کے آئ ہے۔۔۔وہ میں حیدر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی زوحا نے باذوں سے پکڑ کر اپنے ساتھ لائ
سنہ سنہ سنہ سنہ سنہ سنہ سنہ
ہلکا ہلکا ۔سا۔ میوزک بج رہا تھا بہت خوبصورت ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔۔ زوحا اک ہاتھ حیدر کے کندھے جبکہ اک ہاتھ حیدر کے ہاتھوں میں تھا باہر ہلکی پھلکی بندہ باندی ہو رہی تھی ۔۔حیدر زوحا کی قمر میں ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ ہل رہا تھا جبکہ زینب یہ منظر دیکھ کر آگ بگولہ ہوری تھی ۔حیدر کو زوحا کے جسم سے آنے والی خوشبو مد ہوش کر رہی تھی۔۔۔۔
زوحا بھی میوزک کی آواز پر آہستہ آہستہ تھرک رہی تھی زوحا کے بالوں سے اٹھنے والی بھینی بھینی سے خوشبو سےہر وجود کو اوجھل کر رہی تھی یہاں تک کے حیدر کو زینب کی بھی خبر نہ رہی
رات ایک بجے بارش کافی زور پکڑ چکی تھی سارے مہمان جا چکے تھے جبکہ زوحا کو رکنے کے لۓ عائشہ مجبور کر رہی تھی یار میں ماما کو بتا کر نہیں آئ نیٹورک بھی نہیں پھر کسی دن آوگی عائشہ نے برے دل سے اجازت دےدی مگر حیدر کو ساتھ جآنے کی لیۓ کہا تو زوحا اور حیدر بخوشی مان گۓ جو زینب نے بھی نوٹ کیا بارش کی بندیں کار کے شیشوں سے ٹکرا کر گر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی آہستہ آہستہ منزل کی طرف بڑھ رہی تھی ساتھ میں حیدر اور زوحا ہلکی پلکھی گفتگو بھی کر رۀے تھے ..حیدر کو گۓ دو گھٹنے گزر چکے تھے زینب سے مزید نہیں رک سکتی تھی زینب نے کوٹ اٹھایا کار کی چابی اٹھائ اک نظر دیکھا جہاں دائم اور عائشہ سو رہۓ تھے احتیاط سے دروازہ بند کیا اور زوحا کے گھر کی طرف گاڑی دوڑا دی
زینب سڑک کے کنارے گاڑی روکی اور چھتری تان کر زوحا کے گھر کی طرف چل دی ۔۔سارے گھر کی لاہٹس آن تھی وہاں ای چھوٹا سا لکڑی کا دروازہ تھا جسے زینب بآسانی پار کر گی سامنے کا منظر دیکھ کر زینب کے قدم ڈگمگا گۓ۔۔۔۔۔
ہاتھ سے چھتری گر گئ جسے جانے ہوا کہا لے گئ بارش کے قطرے زینب کے گورے وجود کو بھگو گۓ اس کی نظریں سامنے منظر پر جم گئ اسے لگا وہ پتھر کی ہو گئ ہے کبھی ہل نہیں سکے گی وہاں زوحا اور حیدر اک دوسرے میں کھوۓ تھے زوحا نے بمشکل حیدر سے خود کو آزاد کرویاں شاید اب وہ اسے جآنے کے لیے کہ رہی تھی پھر مسکراتے ہوۓ کل مللے گۓ کہ کہ کر دروازہ بند کر دیا حیدر کی شرٹ کے کھلے بٹن گواہی دے رہے تھے اندر کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے ہونٹ صاف کرتے جیسے حیدر مڑا زینب کو وہاں دیکھ کر ٹھٹک گیا حیدر نظریں جھک گیا کچھ دیر بعد سر اٹھایا تو نظر زینب سے ملی کیا نہیں تھا اس نظر میں درر غصہ نفرت شکوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک نظر ڈالی اور زینب وہاں سے بھاگ آئ حیدر مسلسل پکار رہا تھا جبکہ زینب ایسے ہی سڑک پر بھاگ رہی تھی بارش کچھ تھم چکی تھی جبکہ سڑک پر ابھی تک پانی تھا ۔۔۔زینب بیگتے وجود کے ساتھ ایسے ہی بھاگ رہی تھی جبکہ حیدر مسلسل رکنے کے لۓ منتیں کر رہا تھا زینب کے قدم رکے میرے پاس مت آنا۔۔۔۔۔
حیدر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر زینب نے غصے اور نفرت سے کہا وہ اونچےاونچے سانس لے ری تھی زینب پالیز میری بات سن لو حیدر کی آواز بھاری تھی کچھ نہیں سننا مجھے تم سنو حیدر شدت کربسے زینب کی آواز کپکپارھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم وہ شخص ہو جو مجھے سب سے عزیز تھا اور میری یہ غلطی تھی عائشہ سہی تھی عائشہ کہتی تھی مجھے انسانوں کو پرکھنا آتا ہی نہنہیں ۔۔۔۔سنو مسٹر حیدر زینب نے چہرہ صاف کر کے کہا مجھے تم سے شدید نفرت ہۓ۔۔زینب کے لفظ مکمل ہونے سے پہلے اک تیز ٹرک نے ٹکر ماری اور زینب کا نہنھا سا وجود ہوا میں اڑگیا۔ بارش پھر سے شروع ہو چکی تھی ڈراہیور وہقع دیکھ کر فرار ہو چکا تھا جبکہ حیدر زینب کا بے جان وجود لۓ سڑک کے بیچوں بیچ بیہٹھا تھا وہ زینب کا سر گود مین لے تھپتھپا رہا تھا زینب کے سر سے خون نکل کر پانی میں بہ رہا تھا ۔آج حیدر کو ڈرلگ رہا تھا۔۔۔
اک جن آج خوفزدہ تھا زینب کی گہری نیلی آنکھیں اسے ڈرا رہی تھی اس کی کھلی آنکھیں حیدر کے چہرے پر جمی تھی جن میں درد قرب ہی قرب تھا اور حیدر شدت سے رو رہا تھا جیسے کسی غریب اپنے اکلوتے کھلونے کے ٹوٹنے پر روتا جیسے اک ماں اپنے جوان بیٹے کی میت کو پکڑ کر روتی جیسے آگ پرندہ اپنے بچے کو گھونسلے سے گرتے دیکھ کر تڑپتا ۔نینی ختم ہو چکی تھی آنسو گالوں پر جم چکے تھے اور زینب کا خون تھم چکا تھا۔۔وجود برف جیسا ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔اور گہری نیلی آنکھیں مرجھا چکی تھی حیدر نے مشکل سے جیب سے فون نکلا اور عائشہ کو کال کی۔۔۔۔۔
ہاں حیدر بولو عائشہ کی سوئ سوئ سی آواز آئ اور اگلی خبر سے جیسے ساری نیند اڑاھن چھو ہو گی اور عائشہ کو معلوم ہو صور پھینکا جانا کیا ہوتا کچھ دیر وہ ایسے گم سم سی بیھٹی رہی دائم بار بار پوچھ رہا تھا کیا ہوا اچانک عائشہ اٹھی اور ننگے پاؤں زینب کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی نییہں ایسا نیہں ہو سکتا ۔۔ زینب یہی ہو گی حیدر مزاق کر رہا ہو گا ۔۔بھلا زینب کیسے وہ دیوانگی سے بول رہی تھی اور جب کمرے میں پہنچی تو زینب نہیں تھی کمرے کیا اب زینب کہی بھی نہیں تھی دائم بھی تب تک پہنچ چکا تھا۔۔عائشہ کچھ تو بتاؤ کیا ہوا ہۓ۔۔۔۔۔۔
زینب ہمیں چھوڑ کر چلی گی عائشہ کو اپنی آواز کسی کھائ سے آتی محسوس ہوہئ چلی گئ کہاں چلی گئ دائم نے نہ سمجھی سے پوچھا دائم وہ چلی گئ وہ اپنی عائشہ کو چھوڑ کر چلی گئ عائشہ دائم کے سنینے سے لگی بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔۔
زینب کو مرے ہفتہ ہو گیا تھا عائشہ کا رنگ کالا پڑ چکا تھا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے تھے وہ زہنی طور پر ابھی تک زینب کی موت قبول نہیں کر پائ تھی دائم کو ضروری کام کے سلسلے میں کسی دوسرے ملک جانا تھا جس کے لیۓ اسے زینب کی موت کے دوسرے دن جانا ۔پڑا بیشک حیدر کو زینب کی موت کا بہت افسوس تھا مگر اس نے ہمت کر کے عائشہ کو سنبھلا تھا ۔۔۔۔۔۔
دائم کی طرف سے عائشہ کا دل کچھ کھٹا ہو چکا تھا یقین کرو تم وہاں جاکر بہتر محسوس کرو گی حیدر عائشہ کو کئ دن سے پرستان جانے کے لئے کہ رہا تھا مگر وہ دائم کی اجازت کی بغیر نہیں جانا چاہتی تھی .دائم نے اک دفع بھی۔ رابطہ نہیں کیا تھا جس سے عائشہ کا دل ممزید کھٹا ہوا میں سوچ کے بتاؤ گی مختصر سا جواب میں کل پرستان آرہا ہوں اک لڑکی کی ساتھ حیدر نے پارک میں نظریں دوڑاتے ہوہوئے آدھیٹر عمر شخص سے کہا جس کے چہرے پہ واضع نا گواری آآئی تمہیں پتا تمہاری ایسی حرکتوں کی وجہ سے تمہیں پرستان سے نکلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اوھٹیڑ عمر نے جیسے کچھ یاد دلایا میں کچھ نہیں جانتا اگر میں گہنگار ہوں تو پاک صاف تو وہ بھی نہیں سب ان کی مرضی سے ہوا تھا۔۔میں کسی ایک سے بھی زربرستی نہیں کی حیدر نے چبا کر کہا مگر حیدر ۔تم نہیں آ سکتے ہمارے بزرگوں کا فیصلہ تھا وہ جس کا پآس کر نآمیرا فرض میں تمہیں نہیں آنے دے سکتا چلتا ہوں بہر حال کل ملاقات ہو گی پرستان میں حیدر میرے بچے ادھیڑ عمر بلا رہا تھا مگر حیدر انسنی کر گیا۔۔۔۔ ٹیھک ہۓ میں چلو گی تمہارے ساتھ عائشہ نے ٹھنڈی سانس خارج کر کے کہا جبکہ حیدر کے چہرے پے فاتحانہ مسکراہٹ آئ مچھلی خود پھنس گئ کانٹے میں
کل ٹیھک سات بجے حیدر عائشہ کے ہمراہ پرستان کے دروازے پر موجود تھا حیدر نے جیسے دروازے کو ہاتھ لگایا تو زور کا کرنٹ لگا حیدر نے فورا ہاتھ واپس کھینچ لیا حیدر جانتا تھا یہ اسی کے لیے ہے صرف حیدر کے لب بھینچ گیا تبھی پیچھے سے اسی ادھیڑ عمر شخصں کی آواز آئ تو حیدر کے لبوں پر خود بخود مسکرہٹ آگئ یوسف نے ایک نظر اپنے نافرمان بیٹے کو دیکھا پھر اک نظر ساتھ کھڑی لڑکی پر جس نے پنک کلر کی شرٹ ۔اور بیلک کلر کی پینٹ پہن رکھی تھی مگر چہرہ بجھا بجھا سا تھا۔۔۔تبھی یوسف نے اپنا ہاتھ دروازے پر رکھا تو دروازہ کھلتا گیا عائشہ نے اندر قدم رکھا تو بیٹے کی محبت کھینچ لائ یوسف کی نظریں عائشہ پر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہ ہ اپنی مرضی سے آئ ہۓ عائشہ نے اک آنکھ دبا کر کہا اور آگے بڑھ گیا
عائشہ ہر طرف پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ سچ کہتا تھا اس کا پرستان کسی شاعر کی غزل جیسا تھا پرستان قراقر م کی پہاڑیوں جیسا تھا یہ تمہاری لیے حیدر کی آواز سے وہ واپس نکلی اس کے ہاتھ میں اک گلابی رنگ کا لبس تھا عائشہ نے کچھ جھچک کر پکڑ لیا اور سوالیاں نظروں سے دیکھا حیدر سمجھ گیا اور وہ تم وہاں جا کر پہن سکتی ہو حیدر نے اک طرف اشارہ کیا وہ چاروں طرف پھولوں سے بنی دیواریںتھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالوں کو شانوں پر پھیلانے وہ اک گلابی رنگ کی فراک تھی جس کا پیچھلا حصہ زمین کو چھو رہا تھا جبکہ آگے سے گھنٹوں سے بھی اوپر جس سے عائشہ کی سفید ٹانگیں دکھ رہی تھی حیدر کتنی دیر عائشہ کو تکتا رہا پھر آگے بڑھا تو عائشہ اک قدم پیچھے ہوئ حیدر نے ای ہیرو سے جڑا تاج عائشہ کے سر رکھا وہ اب واقعی پرستان کی ملکہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔وہاں پر عائشہ کو وقت کا پتہ ہی نہ چلا وہاں روشنی روشنی تھی عائشہ کو لگا ابھی وہاں آۓ بس چند گھنٹے ہوۓ تھے جو اس کا وہم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک عائشہ کی نظر اک جھولے پر پڑی عائشہ دوڑ کر آئ وہ زینب کی موت کو یکسر بھلا چکی تھی۔۔ریسوں پر گلابی پھول لگے تھے جبکہ نیچھے دھوا ہی دھوا تھا عائشہ جلدی سے بیٹھ گئ جبکہ حیدر نے عائشہ کو قمر سے پکڑا عائشہ کو عجیب سا احساس ہوا حیدر نے قمر چھوڑ دی تو عائشہ ہوا میں اڑنے لگی عائشہ کی سلکی بال اڑ کر چہرے پر پڑ رہے تھے جبکہ اس لباس ہوا میں پھڑپھڑا رہا تھا عائشہ ہنس رہی تھی اور ہیرو جیسے دانت چمک رہے تھے
عائشہ اک درخت کے نیچحے بیھٹی حیدر سے باتیں کر رہی تھی جب اک تتلی اڑتی ہوئ آئ اور عائشہ کے گورے کندھے پر بیٹھ گی عائشہ نے اک نظر تتلی کو دیکھا اور ہاتھ بڑھ کر پکڑ لیا وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی حیدر محوسا اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ رہا تھا اگر زینب یہاں ہوتی تو کتنا خوش ہوتی اچانک حیدر کے منہ سے پھسلا ہم عائشہ کی آنکھ کا گوشا بھیک گیا۔۔ ایم سوری حیدر شرمندہ سا نظر آرہا تھا کوہی بات نہیں عائشہ نے زبردستی مسکرا کر کہا درد کی شدت سے عائشہ نے مٹھی بھنیچ لیاور اس میں موجود تتلی کا ننھا سا وجود ختم ہو گیا۔۔۔۔
مگر اس کا نیلا رنگ عائشہ کیمے ہاتھوں پر رہ گیا ۔۔۔تمہیں بھوک لگی ہو گی حیدر نے فکر مندی سے کہا ہاں شاہد عائشہ نے مسکرا کر کہا چلو کچھ کھلاتا ہو حیدر نےعائشہ کا ہاتھ پکڑ کر کھنیچا عائشہ ساتھ ساتھ چل دی حیدر عائشہ کو اکباغ میں لے گیا بیلا منہ پھاڑے دیکھ رہی تھی وہاں دور تک درخت ہی درخت تھے جن پر قسم قسم کے پھل لگے تھے جو عائشہ کے لیے قدرے مختلف اور نہۓ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم رکو میں کچھ لاتا ہوں مطر یہاں سے کسی چیز کو چھونا مت حیدر نے تنبیہ کرتا آگے چلا گیا۔
عائشہ آس پاس نظر دوڑا رہیتھی کہ اچنک اک درخت پر نظر پڑی وہاں سٹوبری تھی جو نارمل ساءز سے بہت زیادہ بڑی تھی۔عائشہ کوشش کے باوجود خود کو نا روک پائ کیونکہ عائشہ کا پنسدیدہ فروٹ سٹوبری تھی عائشہ نے ادھر ادھر دیکھ کر اک سٹوبری توڑلی اور مزے سے کھانے لگی وہ بہت لزیز تھی اچانک عائشہ نے مڑ کر دیکھا توحیدر پیچھے کھڑا تھا میں نے کہا تھا نہ کسی چیز کو مت چھونا پھر کیوں۔۔۔۔۔۔
وہ عائشہ کو بے بسی سے دیکھ کر بولا وہ میں بس۔۔۔۔۔عائشہ کو آپنآسر چکراتا ہوا محسوس ہوا حیدر عائشہ کو اٹھا کر اک کمرے میں لایا جہاں ہر سو گلابی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئ تھی حیدر نے عائشہ کو بیڈ پر لٹایا جیسے مڑا عائشہ نے ہاتھ پکڑ لیا حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ آئ سب پلین کے مطابق ہو رہا تھا ۔۔حیدر نے مڑ کر دیکھا تو عائشہ محبت پاش نظروں سے حیدر کہ دیکھ رہی تھی۔۔کیا ہوا عائشہ ۔۔حیدر نے اپنے لہجے میں فکرمندی بھر کر کہا تم کہاں جا رہۓ ہو۔۔۔۔
عائشہ کی نشے میں ڈوبی آواز ابھری عائشہ تمہاری طبیعت خراب تو تمہیں رسٹ کرنی چاہئے حیدر نے اب ساتھ محبت بھی شامل کی میرے پاس سؤوں عائشہ نے بیڈ پر جگہ بناتے ہوۓ کہا مگر عائشہ جاؤ میں بات نہیں کرتی عائشہ نے خفگی سے پرے منہ کیا تو حیدر لیٹ گیا عائشہ کی آنکھ کھولی تو کمرے میں دوڑائ وہ گھر پر نہیں تھی عائشہ کا سر ابھی تک چکرا رہا تھا ۔۔۔عائشہ کو اپنے ساتھ کسی مجودگی کا احساس ہوا عائشہ نے آنکھیں جھپکا کر دیکھا تو۔۔۔
خود کو اور حیدر کو قابل عتراض حالت میں پایا عائشہ کو آہستہ آہستہ سب یاد آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
عائشہ نے لباس پہنا اس کا دماغ مفلوج ہو رہا تھا ۔۔۔نہیں نہیں میں دائم کے ساتھ بے وفائ نہیں کر سکتی موٹے موٹے آنسو گالوں پر بہے رۓ تھے عائشہ چہرے کے عتراف جھول رہی تھی اب آنسوؤں میں ہچکیاں شامل ہو رہی تھی اچانک اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا ۔۔۔سرخ آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو شرمندہ شرمندہ سا حیدر کھڑا تھا۔۔۔۔حیدر عائشہ کے گھٹنوں میں بیٹھ گیا عائشہ مجھے معاف کر دو میں جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔۔۔
حیدر مجھے گھر جانا ہے عائشہ نے کانپتی آواز میں کہا عائشہ مجھ سے غلطی ہو گئ مجھے معاف کر دو مجھے خود کو روکنا چاہئے تھا۔۔حیدر مینے کہا مجھے گھرجانا ہۓ عائشہ نے سخت لحجے میں کہاں ۔۔۔۔حیدر اٹھ کر کھڑا ہوا اس کا مقصد پورا ہو چکا تھا ۔۔مگر اسے عائشہ کے آنسو تکلیف پنچا رہۓ تھے بیشک عائشہ کے نزدیک آنے کا یہی راستہ تھا مگر وہ عائشہ سے محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسھ دیر میں عائشہ حیدر کے ہمراہ گھر میں موجود تھی لاؤنج میں داخل ہوئ تو سامنے پریشان سا دائم نظر آیا ۔عائشہ کو گلٹی فیل ہوئ گردن خود بخود جھک گئ۔۔۔۔
تو تم اتنے دنوں سے اس کے ساتھ تھی اور میں یہاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو رہا ہوں کہ تم کہاں ہو دائم دیکھتے ہی غصے سے پھٹ پڑا عائشہ کے لیے یہ لحجا قدرے سنا تھا اس لیے گلٹی دور جا سوئ تم بھی رہتے ہو دائم مگر میں کبھی کچھ نہیں کہا اور اگر میں کچھ دیر کے لیے چلی گی تو تم کو ہم پر شک ہو گیا تم مجھے یہاں روتی کو چھوڑ کر چلے گیے تھے دائم اور مجھے حیدر نے سنبھلا تھا۔۔عائشہ نے دوبدوں جواب آیا اور ٹھک ٹھک کر کے کمرے میں چلی گی اور ٹھک سہ دروازہ بند کر دیا نہ دائم نے غصے میں عائشہ کا کچھ دیر کہنا نوٹ کیا نہ عائشہ نہ دائم کا کی دن کہنا عائشہ نے دائم کے چہرے کے زخم دیکھے نہ لنگڑا کر چلنا وہ بس دائم کے سامنے سے ہٹنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
پانی ٹپ ٹپ گر رہا تھا عائشہ گھٹنے سے لگانے بیھٹی سسک رہی تھی باذوں سے خون رس رہا تھا اور جگہ جگہ ناخنوں کے نشان تھے عائشہ نے حیدر کے ہر احساس کو نوچنا چاہا تھا اس نے جہاں جہاں سے چھوا تھا عائشہ وہاں وہاں سے خود کو نوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔دائم کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ معافی کی نیت سےکمرے میں گیا عائشہ کمرے میں موجود نہیں تھی جبکہ کمرے سے مسلسل سسکیوں اور پانی کی آواز آ رہی تھی دائم دوڑ کر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر شاہد دروازہ بند تھا بہت کو ششوں کے بعد بھی جب جواب نہ ملا تو لاک توڑنا پڑا۔۔۔دائم جیسے داخل ہوا عائشہ گھٹنوں میں سر چھپانے بیھٹی تھی اس کا سارا وجود سردی سے کانپ رہا تھا اور خون ابھی تک رس رہا تھا دائم کے دل کو کچھ ہوا اسے خود پہ بے پناہ غصہ آیا عائشہ دائم دوڑ کر آیا اور عائشہ کا منہ اوپر کیا۔۔۔اس کے ہونٹ کانپ رہۓ تھے اس کی آنکھوں میں کسی اندیکھی چیز کا خوف تھا ہاں وہ دائم کو کھو دینۓ کا خوف تھا عائشہ دائم کے سینے پر سر رکھ کر پھر سے رونے لگی۔۔۔۔
جیسی آس کی توانائی واپس ملی ہو اور روتے روتے عائشہ بہوش ہو گئ دائم نے جلدی سے عائشہ کو ٹاول میں لپیٹا اور پلنگ پر ڈال دیا جلدی سے فیملی ڈاکٹر کو کال ملائ۔۔۔۔گھبرانےکی ضرورت نہیں انھوں نے دماغ پر ذیادہ ڈیپریشن لیا ہے ڈاکٹر انعم نے پیشورانہ انداز میں کہا ان کے زخم صاف کر دیۓ ہیں ان کی خوراک کا خاص طورپر خیال رکھے اور ذیادہ سے زیادہ آرام کرنے دیں اور میڈیسن باقاعدگی کے دینی ہۓ دائم نے سکھ کا سانس خارج کیا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ عائشہ اسکی بات سے اس قدر دکھ میں کیوں آگئ۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کی آنکھ رات کے کسے وقت کھلی شاید بارہ بج چک تھے گھڑی کی ٹھک ٹھککے علاوہ پورے کمرے میں سناٹا تھا یا کسی وقت دائم کی سانسوں کی آواز آتی جو شاید صوفے پر سو رہا تھا۔۔۔عائشہ کا سر ابھی تک بھاری تھا اور زخموں میں درد کی ٹھسے اٹھ رہی تھی عائشہ کراہتی ہوئ اٹھی اسے کمرے میں گٹھن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔اس کیے بالکونی میں آگئ اک دم سے ٹھنڈی ہوا نے عائشہ کا استقبال کیا باہر آکر عائشہ کی بے چینی مزید بڑھ گئ تو واپس کمرے میں آ کر لیٹ گئ ۔چھت کو تکتے تکتے نا جانے کب عائشہ کی آنکھ لگ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کی آنکھ دائم کی آواز پر کھلی عائشہ نے آنکھیں کھولی تو سورج کی روشنی سے مجبوراً آنکھیں بند کرنا پڑی پھر آہستہ آہستہ سے آنکھیں کھولی تو دائم کا مسکراتا چہرہ نظر آیا وہ عائشہ کے لیے ناشتہ لایا تھا دائم کچھ کہتا اس سے پہلے عائشہ کے نتھو سے ناشتہ کی خوشبو ٹکراہئ عائشہ کا جی متلانے لگا وہ بھاگ کر باتھروم میں گئ۔۔۔عائشہ نے اپنا چہرہ اوپر کیا تو عائشہ کا رنگ فق ہو چکا تھا اس کی آنکھوں میں حوف اتر آیا نہں ایسا نہییں ہو سکتا یہ میرا وہم ہو گا نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا وہ بار بار منہ پر پانی کے چیھنٹے مار رہی تھی دائم کی فکر مند آواز عائشہ کی سمعا تو ٹکراہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ ہمت کر کے ٹاول سے منہ صاف کرتی باہر نکلی کیا ہوا عائشہ طبیعت تو ٹھک ہے۔۔دائم نے کندھوں سے تھامتے ہوئے کہا ۔ہاں وہ بس چکر آ رہے تھے عائشہ نے بہانا گھڑا چکر آہۓ تھے تو باتھروم میں۔۔۔۔۔اچھا خیر چھوڑو ناشتہ کرو پھر ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں دائم نے عائشہ کی بچی کچی جان بھی نکل لی نہین نہیں دائم میں ٹھک ہوں بس عائشہ میں نے کہا نہ دائم کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ عائشہ کو چپ ہونا پڑا۔۔حیدر ہم ڈاکٹر انعم کے پاس جا رہے ہیں گھر کا دھیان رکھنا دائم نے حیدر سے کہا ڈاکٹر کے پاس مگر کیوں سب ٹھک ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر کو اپنا خدشہ لگا وہ عائشہ کی طبیعت ٹھک نہیں دائم کے لہجے میں خوشی تھی اور حیدر کا شک درست ثابت ہوا
آپ دعوت کی تیاری پکڑیں مبارک ہو آپ پاپا بننے والے ہیں ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا اور دائم حیران اور اگلے ہئ لمحے سے اچھل پڑا جبکہ عائشہ مسکرا بھی نہ سکی
دائم تب سے بولے جا رہا تھا وہ بچے کے لیے مستقبل کے تمام منصوبے بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کےہر لمحے سے خوشی ٹپک رہی تھی عائشہ کا دل کٹ کر رہ گیا دائم نے گاڑی اک شاپنگ مال کے سامنے روک دی ۔۔یہاں کیوں روکی عائشہ نے حیران ہو کر پوچھا ۔۔۔بھائ حد کرتی ہو شاپنگ کے لیۓ کچھ تمہارے لیے کچھ بے بی کے لیۓ اس کے بعد لنچ کرے گے اور گھر دائم نے پورا منصوبہ بنایا مگر دائم مگر وگر کچھ نہیں چلوؤ اور عائشہ کو نا چاہتے بھی آنا پڑا ۔۔۔حیدر تب سے بے فکری سے ٹہل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب دائم کی مسکراتی آواز آہئ حیدر دوڑ کر آیا عائشہ کا اترا چہرہ دیکھ کر حیدر سمجھ گیا میرے دوست منہ میٹھا کروں تم ماموں بننے والے ہو دائم نے خوشی سے بھرپور لجہے میں کہا جبکہ حیدر لفظ ماموں پر جی بھر کر بدمزہ ہوا ارے وہاں کیوں کھڑی ہو چلو روم میں آج کے بعد اگر تم ۔نے پاؤں زمین پر رکھا تو برا پیش آؤں گا ۔۔۔دائم نے پیار بھری دھمکی دی تو عائشہ دکھ سے مسکرا دی دو ماہ گزر چکے تھے جبکہ عائشہ کو مسلسل تکلیف ہو رہی تھی اور نارمل بچے کی نسبت بچے کا وزن بہت ھاری محسوس ہوتا تھا عائشہ کو اکثر شک گزرتا کےاس کے پیٹ کے ساتھ منوں پتھر باندھ دیا۔۔۔۔۔۔۔
آج معمول کے خلاف عائشہ کافی بہتر تھی اس لۓ ج دائم آفس چلا گیا تھا۔۔۔
ڈاکٹر انعم کا نمبر دیکھ کر عائشہ چونکی ڈاکٹر انعم نے عائشہ کو فورا بلوایا تھا جبکہ عائشہ پریشان سی حیدر کے ہمراہ ہسپتال پہنچ گئ ڈاکٹر انعم کا لہجہ کافی پریشان کن تھا رسمی عیلک سلیک کے بعد ڈاکٹر انعم نے جو بات کہی حیدر اور عائشہ کے پاؤں سے وقتی طور پر واقعی زمین کھسک گی
اآپ سچ کہہ رہی ہۓ عائشہ کے منہ سے لفظ ٹوٹ کر نکلا ہلا کے وہ جانتی تھی یہ سچ ہے جی مسز دائم یہ اک سو اک پر سنٹ سچ ہۓ ۔۔۔۔آپ کی رپورٹ میں واضح ہۓ کہ یہ کوئی نارمل بچہ نہیں ہے شاید شاید یہ کسی انسان کا بچہ نہیں۔۔۔۔
اور جس طرح سے یہ گروتھ کر رہا ہۓ اک نارمل بچے کے لے نا ممکن ہۓ ڈاکٹر انعم نے آرام سے کہا آپ نے دائم کو بتایا ۔۔۔اس نے ہمت کر کے پوچھا نہیں فلحال تو مگر بہتر ہۓ آنھیں جلد از جلد آگاہ کر دے اس بچے کا جس طرح وزن بڑھ رہأ ہۓ آپکی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہۓ مسز دائم آپ دائم کو مت بتائں گا میں خود بتادوں گی
عائشہ اپنا بے جان سا وجود گھسیٹتی ہسپتال سے باہر نکلی حیدر نے عائشہ کو بلانے کی کوکوشش نہیں کی شاہد وہ اس کی کیفیت سے واقف تھا سارا راستہ خاموشی سے کٹا……..
مگر حیدر تہ کر چکا تھا اسے کیا کرنا ہۓ۔۔۔ ارے کہا تھی داخل ہوتےہو دائم نے فکر مندی سے پوچھا بس باہر کی ہوا کھانے گھٹن سی ہو رہی تھی اور کمرے میں چلی گئ شاید وہ کچھ دیر اور قدموں پر کھڑی رہتی تو گر جاتی یار تو ہی بتا دیتا کتنا پریشان تھا میں دائم نے افسوس سے کہا شاید ڈاکٹر انعم ٹھیک کہ رہی تھی عائشہ کے لیۓ چوتھے مہنیے میں وزن اٹھانا مشکل ہو رہا تھا اور دن بدن طبیعت بھی گرتی جا رہی تھی اب اسے لگنے لگا تھا کہ واقع اسے ابارشن کروا لینا چاہئے
وہ یہ سب نہیں کر پاۓ گی دوسری طرف دائم کو بھی اب خدشہ ہو رہا تھا وہ اب حقیقت میں پریشان ہو رہا تھا وہ ڈاکٹر کے جانا تھا جبکہ وہ مسلسل انکار کر رہی تھی اور دائم سمجھنے سے قاصر تھا کے آخر انکار کیوں۔۔
حیدر نے ہر طرف سے غور فکر کیا تھا اس کہ پاس یہی اک راستہ تھا عائشہ کو اس تکلیف سے بچانے کے لیۓ حیدر کی دن رات کی نیند حرام ہو چکی تھی دن رات بس اسی سوچ میں ڈوبا رہتا تھا اور آج وہ اک نتیجے پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔۔۔
او ہاۓ زوحا۔۔
زوحا کو دیکھ کر دائم کو خوشگوار حیرت ہوی او ہاے دائم وہ بھی بہت گرم جوشی سے ملی عائشہ کیسی ہۓ بھول ہی گۓ زینب کی دیتھ کے بعد تو شکوہ بھی گنے ہاتھوں کر ڈالا ہآں یار وہ بس اس کی طبیعت کچھ خراب دائم کو تھوڑی سی شرم آنئ جبکہ زہحا سمجھ گئ تبھی دل سے مسکرا دی پھر تو لنچ بنتا ہے اس نے بے تکلفی سے کہا ۔۔۔۔شیور۔۔۔۔ آنٹی کیسی ہۓ دائم نے کار کی طرف جاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔ماما کی تو اک ماہ پہلے دیتھ ہو گئ زوحا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ کہا یا اپنے آنسو چھپانے کے لیۓ کیا۔۔۔۔
جب کے دائم بہت حیران ہوا۔۔
وٹ کیسے۔
بتایا کیوں نہیں۔۔
تم ۔کہا اکیلی رہتی ہو اک ہی سانس میں کہی سوال کر ڈالے وہ دکھ سے مسکرا دی ۔۔۔چالو دیر ہو رہی ۓ بہت ذوروں کی بھوک لگی ۓ۔۔شاید اسے تکلیف ہو رہی تھی ۔۔دائم نے اک نظر اس چھوٹی سی مسکراتی سی لڑکی کو دیکھا جس کے اندر کتنے دکھ قرب تھے ۔۔اس پر طوفان گزر گۓ جبکہ انھیں خبر بھی نہ ہوئ آجاؤ یا بھوکا ۔۔مارنا ۓ اپنی سوچوں کو جھٹکتا کار کی طرف آگیا۔۔۔۔۔۔
حیدر نے اپنے فیصلے پر عمل کرنے سے پہلے اک بار پھر عائشہ کو ابارشن کے لیے راضی کرنے کی نیت سے کمرے میں آگیا وہ کسی صورت اسے نہیں گنوانا چآہتہآ تھااسے خود پہ غصہ بھی تھا اس نے دروازہ ناک کیا اک بار دو بار مگر اندر سے ہنوز خاموشی تھی حیدر نے دھکیلا تو دروازہ کھلتا گیا حیدر کا اک لمحے کے لیۓ دل کٹ گیا ۔۔۔وہا بیڈ کے پاس عائشہ دوہری پڑی تھی شاید وہ چلاتے چلاتے بہیوش ہو چکی تھی ۔۔حیدر کیسے مجھے کیسے خبر نہیں ہوئ یہ سب وقت ان باتوں کے سوچنے کا نہین تھا ۔۔جلدی سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا عائشہ کی سانسیں بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
اک پل کے لیۓ حیدر کے سامنے زینب کا مردہ وجود گھوم گیا نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میں أیسا نہیں ہونے دوں گا عائشہ عائشہ وہ اس کا منہ تھپتھپا رہا تھا کبھی ہاتھ مل رہا تھا۔۔جبکہ وہ ہنوز آہستہ آہستہ سانس لے رہی تھی ۔۔حیدر کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرۓ اسے فلحال ہسپتال جانا تھا حیدر نے عائشہ کے بہوش وجود کو اٹھایا اور ہوا میں غائب ہو گیا
دائم ہانپتا ہانپتا ہسپتال پنہچا جہاں بیقرار حیدر ٹہل رہا تھا حیدر حیدر کیا ہوا عائشہ کو وہ اونچے اونچے سانس لیتا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ وہ عائشہ سیڑھیوں سے گر گئ حیدر کے پاس اچھا بہانا تھا اس کی جان بچانے کا سیڑھیوں سے گر گئ کیسے تم کہاں تھے اس کی آواز میں واضح غصہ تھا میں بازار گیا تھا۔۔۔
مجھے نہیں جانا چاہئے تھا اکیلا چھوڑ کر مجھے اس کے پاس رکنا چاہئے تھا اس نے حیدر کا جواپ نہیں سنا وہ خود کلامی میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دائم بیچین سا پہلوان بدل رہا تھا تبھی ڈاکٹر پر نظر پڑی تو دوڑ کر قایب آیا ڈاکٹر وہ عائشہ کیسی ۓ بے چین سا پوچھا گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب خطرے سے باہر ۓ شکر ۓ آپ وقت پر لے آۓ ورنہ ان کا بھی بچنا مشکل تھا دائم نے اک شکرانہ نگاہ حیدر کو دیکھا اور اک جھکٹے سے ڈاکٹر کو دیکھا۔۔
ان کا مطلب ؟
ڈاکٹر میرا بچہ ایم سوری مسٹر دائم اور دائم کو لگا وہ آدھا زمین میں دھنس چکا ہۓ
عائشہ جانتی تھی دائم کی مسکراہٹ نقلی ہۓ اس نے کئ بارکھلونوں سے لپٹ کر روتے دیکھا تھا وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکے گئ یہ دکھ اسے دمک کی طرح چآٹ رہا تھا ۔۔و. اب نظریں نہیں اٹھاتی تھی خاموش گمصم رہتی تھی۔۔۔۔
چلو کہی باہر چلتے ہیں کافی دن ہو گۓ ہۓ داۓم کا من نہیں تھا پھر بھی عائشہ کے لیۓ کہ دیا اس نے محض سر ہلایا میں ابھی فریش ہو کر آیا اور اوپر چلا گیا جبکہ حیدر مسکرایا اس نے پہلا پتہ پھینک دیا تھا۔۔۔دائم مسکراتا ہوا کمرے میں آیا اس نے عائشہ کی سالگرہ پر بڑا سا سرپرائز رکھا تھا۔۔۔مسکراتے ہوۓ الماری کولنے لگا کے اچانک اک فاہل قدموں میں گری دائمنے جھک کر اٹھاہئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی کھول کر دیکھی دائم کا دماغ پل بھر کے لیۓ ماؤف ہو گیا دائم کو اسی ٹی شرٹ میں آتا آسیکھ کر عائشہ ٹھٹھکی۔۔
کیا ہوا۔۔۔
دائم کا انداز عجیب سا تھآ عائشہ کا دل زور سے ڈھڑ کا جسے سینہ چیر کر باہر آ جانے گا ۔۔
ککیا ہوا ہم نہیں جا۔۔۔۔۔۔
جملہ منہ میں تھا کے دائم نے فائنل آگے کر دی عائشہ کی رگوں میں خون دوڑتا ہوا محسوس ہوا ۔۔عائشہ کو پلکوں پر منوں بوجھ لگا جآ تو رہے مگر صرف تم دائم نے سختی سے کہا کیوووں عائشہ کیوووں کہا کمی تھی میری محبتمیں۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کیا گناہ کر دیا میں نے عائشہ تم نے زہر کیوں نہ دیا گلآ کیوں نہ دبایا میرا آیسا کیؤںکیا۔۔قرب سے دائم کی آنکھیں چھلک پڑی وہ عائشہ کے بے جان وجود کو جنھجھوڑ رہا تھا عائشہ خاموش تھی اس کہ لب سے دیے گیۓ تھے۔۔۔
نکل جاؤ یہاں سے ۔۔
دفعہ ہو جاؤ عائشہ۔۔
گیٹ لاسٹ عائشہ۔۔
اور عائشہ نے درد سے پلکے اٹھای آنسو گالوں پر بہآۓ۔۔ دائم میری بات سنو۔۔۔عائشہ نے دائم کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا جسے دائم نے بے دردی سے دھکیل دیا۔۔۔۔
فار گاڈ سیک عائشہ کچھ مت کہنا کچھ بھی ایسا مت کہنا کے کے مجھے تمہیں چھوڑنے مین تکلیف ہو عائشہ وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہ رہا تھا ۔۔۔
تم تم ایسا کرو آپنے آسو صاف کرتے..دائم نے نگاہ آس پاس دوڑہی اور حیدر کا ہاتھ پکڑ کر عائشہ کے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔اگرمجھے پہلے کہ دیتی تو میں آرام سے ہٹ جاتا مگر تمہاری آنکھ میں اک بھی آنسو نہیں دیکھ سکتا محبت کرتا ہوں نا۔۔
دائم دکھ سے مسکرایا تھا اور باہر نکل گیا۔۔۔بارہ بج چکے تھے جبکہ نیند کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر دل میں بہلانے کی ممکن کوشش کر رہا تھا جبکہ عائشہ اک بت کی طرح بیٹھی تھی وہ سات گھنٹوں سے ایسے ہی بیٹھی تھی آنسو گالوں پر جم چکے تھے ۔۔۔وہ خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی حیدر مجھے زوحا کے ہاں چھوڑ آؤ پلیز یہ یہ گھر مجھے دائم کے بغیر کاٹ کھاۓ گا۔۔وہ منت کے بولی تو حیدر نے چٹکی بجاہئ ۔۔۔زوحا کے گھر کے سامنے کھڑے تھے عائشہ مرے مرے قدم اٹھاتی دروازے تک آہئ بیل بجاہئ اک بار سو بار مسلسل بجانے پر بی نہ کھلا ۔۔۔۔تو حیدر دروازے پر ہاتھ رکھا کلک کی آواز سےکھل گیا۔۔۔عائشہ کو معلوم تھا زوحا کا کمرہ اس لیے سیدھا اوپر آہی ۔۔لاہٹ آن تھی ۔۔۔۔۔
عائشہ نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا گیا ۔۔جبکہ اگلا منظر دیکھ کر نکھیں بھی کھلی ہی رہے گہئ
دائم عائشہ کو آواز کھاہی سے آتی محسوس ہوہی وہ زوحا اور دائم کو قابل عترض حالت میں دیکھ چکی تھی ۔۔جبکہ دائم بھی چونکا پھر اگلے ہی لمحے سنبھل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ دائم کو دوسرے روم میں لاہی جب تم کر سکتی تو مین کیوں نہین؟؟
دائم نے نفرت سےکہا اور عائشہ کو لگا اس کی سماعت نے غلط سنا دائم میں مجھ سے انجانے اس کہلفظ ٹوٹ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
تھبی۔۔۔
کمرے میں زوحا داخل ہوہئ دیکھوں عائشہ یہ سب آج سے نہیں بلکہ کافی عرصے سے ہو رہا ہم دونوں آک ہونا چاہتے تھے مگر تمہاری وجہ سے نا ممکن تھا ۔۔دائم نے کہی راتیں میرے ساتھ گزری ہیں زوحا نے نخوت سے کہا عائشہ نے دائم کو دیکھا جس کے چہرے ذرہ بھی شرمندگی نہ تھی۔۔۔۔اور ہاُں کل تم آزاد ہو جاؤ گی اور دائم اور میں اک ہو جائے گیے۔۔عائشہ کو اب شدید جھٹکا لگا۔۔
وہ سہی کہ رہی تھی وہ دوسرے دن دائم کے نام سے محروم تھی اور زوحا جڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب دائم سی زوحا منسوب تھی
اس نے دائم اور زوحا کو تصتصویروں میں مسکراتا دیکھا تھا وہ اک سال میں عائشہ کا نام بھی بھول چکا تھا عائشہ نے سختی سے آنسو صاف کیۓ اور حیدر کا بڑھا ہاتھ تھام۔لیا۔۔۔
جس نے اک سال میں اک پل کے لیے تنہا نہین چھوڑا تہھا۔۔۔تو تیار ہو میری پرستان کی شہزادی بننے کے لیے اور عائشہ مسکرا دی ۔
اور حیدر نے مطلب جن نے اپنی محبت پالی تھی ۔اس نے کمر چھوڑی اور عائشہ کے گما کے ریشمی بال ہوا میں لہرانے
اور گلابی فراک ہوا میں پھڑ پھڑای۔۔۔۔۔۔۔
Happy Enfing…
کیسی لگی سٹوری سب ضرور بتائیں مجھے آپ سب کی طرف سے ریسپانس کا۔انتظار رہے گا
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Jin Ki Muhabat جن کی محبت” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.