Jism Frokhat جسم فروخت

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View58,1k

Description

جسم فروخت

بارش کے قطرے چھت کے ٹوٹے ہوئے سیمنٹ پر گر رہے تھے، اور ہر قطرے کے ساتھ نور کے دل میں ایک ٹکڑا ٹوٹتا جا رہا تھا۔

“زینب… زینب، جاگو بیٹی!” نور نے اپنی بہن کو ہلاتے ہوئے کہا۔

زینب کا سانس پھول رہا تھا، آنکھیں بند، چہرہ سفید۔ اس کے منہ سے نیلے رنگ کی ہوا نکل رہی تھی۔ نور نے اسے گود میں اٹھایا، مگر وہ بے ہوش تھی۔

“نہیں… نہیں، اللہ، نہیں!” نور نے اپنے آنسو پونچھے اور دروازہ کھول دیا۔

باہر، اندھیرا تھا۔ بارش تیز ہو چکی تھی۔ وہ گلی میں بھاگی، بارش میں تر، جوتیاں گم ہو چکی تھیں۔ ہسپتال تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔

“ڈاکٹر صاحب، بچی کو دمہ ہے، اسے فوری انجکشن چاہیے!”

ڈاکٹر نے زینب کو دیکھا، پھر نور کی طرف دیکھا۔ “تمہارے پاس فیس ہے؟ ہزار روپے ابھی ادا کرو۔”

نور نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا — صرف چالیس روپے۔ ماں کی چوڑی کے ٹکڑے، جو اس نے دن میں بیچی تھی۔

“میں کل لے کر آتی ہوں، بس اسے بچا لیں!”

“یہاں کوئی فلاحی ادارہ نہیں، بی بی۔ یا پیسے، یا واپس جاؤ۔”

نور نے زینب کو گود میں اٹھایا، اور بارش میں لوٹ آئی۔

راستے میں، ایک گاڑی روکی۔ اندر سے ایک بوڑھا آدمی نے سر باہر نکالا۔
“چلو، تمہیں پیسے دوں گا۔”

نور نے سر ہلایا۔ نہیں کہنے کے لیے۔

“دو ہزار۔ بس ایک گھنٹہ۔”

نور نے زینب کو دیکھا۔ اس کی سانس اب بھی مشکل سے چل رہی تھی۔

اس نے سر ہلایا

بازار کی گلی “کالی گلی” کہلاتی تھی۔ نہ کہ اس لیے کہ وہ سیاہ تھی، بلکہ اس لیے کہ یہاں کی ہر کہانی اندھیرے میں چھپی ہوتی تھی۔

نور نے اپنی پہلی رات وہیں گزاری۔ گاڑی کے پیچھے، ایک گندے کمرے میں، جہاں ہوا میں سگریٹ اور پسینے کی بو تھی۔

جب وہ باہر نکلی، تو اس کے ہاتھ میں دو ہزار روپے تھے۔ اور دل میں ایک سوراخ۔

اگلے دن، اس نے زینب کو ہسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹر نے انجکشن لگایا۔ بچی کی سانسیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگیں۔

نور نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا اور کہا:
“معاف کرنا، بیٹی۔ میں تمہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہوں۔”

ڈاکٹر علی، 27 سالہ، ایم بی بی ایس کے بعد ماسٹر ڈی ایچ ایم (صحت عامہ) کر رہا تھا۔ اس کا خواب تھا کہ وہ غریب بستیوں میں صحت کا نظام بہتر بنائے۔

ایک دن، اس نے “نورِ حیات” نامی تنظیم کے ساتھ مفت کلینک لگایا۔ وہاں اس نے زینب کو دیکھا — اس کی دمہ کی ادویات دیں، اور نور کو دیکھا — اس کی آنکھوں میں ایک ایسی تہذیب جو کسی تعلیم یافتہ خاتون کی ہوتی ہے۔

“آپ کہاں پڑھی ہیں؟” علی نے پوچھا۔

“میں… میں نے پانچ تک پڑھا ہے۔ پھر گھر والوں نے روک دیا۔”

“آپ کی بول چال بہت صاف ہے۔”

نور نے مسکرا کر کہا: “میری ماں قرآن پاک پڑھتی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ الفاظ بھی پاک ہونے چاہئیں۔”

علی حیران رہ گیا۔

اس نے نور کو “نورِ حیات” کے شیلٹر کا پتہ دیا۔ “اگر کبھی ضرورت ہو، وہاں جانا۔ وہاں عزت سے زندگی گزارنے کا موقع ملتا ہے۔”

نور نے پتہ رکھ لیا۔ مگر سوچا: “میں جیسی عورت وہاں کیسے جا سکتی ہوں؟”

ایک ماہ بعد، نور پھر اسی راستے سے گزری — جہاں ہر رات مرد گاڑیاں روکتے تھے۔ مگر اس بار، اس کے دل میں ایک امید تھی۔

اس نے شیلٹر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ایک خاتون، محترمہ فوزیہ، جو تنظیم کی سربراہ تھیں، نے دروازہ کھولا۔
“تم کون ہو؟”

“میں… نور ہوں۔ مجھے ڈاکٹر علی نے بھیجا ہے۔”

فوزیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا — درد، شرم، مگر ایک جھلک امید کی بھی۔

“اندر آؤ۔”

نور کو نہلایا گیا، صاف کپڑے دیے گئے، اور ایک کمرہ دیا گیا۔ اس رات، پہلی بار سالوں بعد، اس نے بغیر ڈر کے سویا۔

شیلٹر میں، نور نے سیکھا:

– سلائی کا کام
– کمپیوٹر کے بنیادی اصول
– اردو اور انگریزی میں پڑھنا لکھنا
– اور سب سے بڑھ کر — خود پر اعتماد

ایک دن، فوزیہ نے کہا:
“نور، تمہیں ایک موقع دیا جا رہا ہے۔ تمہیں اپنی زندگی دوبارہ بنانے کا حق ہے۔”

نور نے آنسو بہاتے ہوئے کہا:
“میں نے سوچا تھا کہ میں ہمیشہ گلی کی گرد ہوں گی۔ مگر آج میں سمجھ رہی ہوں… میں بھی ایک انسان ہوں۔”

ایک سال بعد، نور نے ایک چھوٹی سی دکان کھولی — “نورِ زینب”۔

وہ سلائی کرتی، سادہ کپڑوں کو خوبصورت بناتی، اور لوگ اس کے کام کی تعریف کرتے۔

زینب اب سکول جاتی تھی۔ اس کا دمہ کنٹرول میں تھا۔ وہ ہر روز کہتی: “اپی، میں ڈاکٹر بنوں گی۔”

نور ہنس دیتی، مگر دل میں کہتی: “میری بہن وہ کرے گی جو میں نہ کر سکی۔”

نور اب بازار کی گلی سے گزرتی تو سر اٹھا کر گزرتی۔

ایک دن، اس نے ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا کانپتی ہوئی، ڈری ہوئی۔

نور نے اس کے پاس جا کر کہا: “تمہارا نام کیا ہے؟”

“سحر…”

“تمہیں یہاں کیوں بھیجا گیا؟”

“میرے باپ کہتے ہیں… میں بے کار ہوں۔ میں صرف یہی کر سکتی ہوں۔”

نور نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“نہیں۔ تم بے کار نہیں ہو۔ تم ایک روشنی ہو، جو ابھی جلنے والی ہے۔”

وہ اسے شیلٹر لے گئی۔

سحر نے پہلی بار سوچا: “شاید میں بھی کچھ بن سکتی ہوں۔”

پانچ سال بعد، “نورِ حیات” شیلٹر میں دس لڑکیاں رہتی تھیں۔ نور اب ان کی سربراہ تھی۔ وہ سلائی سکھاتی، تعلیم دیتی، اور ہر رات کہانیاں سناتی — اپنی کہانی۔

ایک دن، سحر نے ڈپلومہ مکمل کیا۔ اس نے کہا:
“نور آپا، آج میں جانتی ہوں کہ میں کون ہوں۔”

نور نے اسے گلے لگا لیا۔

ہر سال 25 دسمبر، نور ماں کی قبر پر جاتی۔ وہ ایک چراغ جلاتی، پھول رکھتی، اور کہتی:

“ماں، میں روشنی بن گئی ہوں۔ تمہارا نام نور رکھنے کا شکریہ۔ میں نے اندھیروں میں روشنی بانٹی۔”

نور کی کہانی اخبارات میں آئی۔ ایک ٹی وی شو نے اسے مدعو کیا۔

میزبان نے پوچھا: “آپ نے اتنی مشکل زندگی کیسے گزاری؟”

نور نے مسکراتے ہوئے کہا:
“میں نے نہیں گزاری۔ میں نے اس سے لڑائی۔ میں نے اپنی عزت بیچی، مگر اپنی روح نہیں۔”

“اور آج؟”

“آج میں ایک ایسی دنیا بنانا چاہتی ہوں جہاں کوئی لڑکی بازار کی گلی میں کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہ دیکھے۔”

آج، “نورِ زینب” کی دکان شہر کے ایک معروف علاقے میں ہے۔
نور کی سلائی کے کپڑے امیروں کے گھروں میں پہنے جاتے ہیں۔
مگر اس کا دل اب بھی اسی گلی میں ہے، جہاں ایک رات، اس نے اپنی عزت بیچی تھی صرف اس لیے کہ اس کی بہن جی سکے۔

نور کہتی ہے:
جسم فروخت کرنا گناہ نہیں ہے…
گناہ یہ ہے کہ ہم سماج نے ایسی عورتیں پیدا کیں جن کے پاس انتخاب نہ ہو۔”

اور جب کوئی نئی آنکھ ڈر کے مارے چمکتی ہے،
تو نور اس کے پاس جاتی ہے
نہ کہ جسم بیچنے،
بلکہ روشنی بانٹنے۔

اختتامیہ

نور کی روشنی ختم نہیں ہوتی۔
وہ صرف پھیلتی ہے۔

اور جہاں بھی ایک عورت اپنی آنکھیں اٹھا کر کہتی ہے:
“میں بھی کچھ بن سکتی ہوں”،
وہاں نور کی روشنی موجود ہوتی ہے۔

تحریر: زارا رایٹر

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Jism Frokhat جسم فروخت”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more