زندگی کا ہر راستہ انجام کی طرف جاتا ہے۔ لیکن انجام کی نوعیت انسان کے اپنے اعمال سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر راستے میں روشنی کے چراغ جلائے
جائیں تو لوٹنے کا سفر بھی سکون بھرا ہوتا ہے، لیکن اگر لالچ اور ظلم کے کانٹے بو دیے جائیں تو واپسی پر انہی زہریلے کانٹوں سے جسم اور روح زخمی ہوتی ہے۔
یہ کہانی ایک گاؤں دھانوٹ کی ہے، جہاں ایک بااثر شخص حاجی کرامت رہتا تھا۔ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اپنے اثر و رسوخ کی وجہ
سے گاؤں کے لوگ اسے “چوہدری” کہہ کر پکارتے تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد اس نے پٹواری اور تحصیلدار سے سازباز کر کے پینتالیس ایکڑ زمین تنہا اپنے نام کرالی۔ باقی بہن بھائی جب اپنے حصے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا:
“یہ زمین میرے نام والد نے اپنی زندگی میں ہی لکھ دی تھی۔ تم سب کو میرا محتاج رہنا ہوگا۔”
گاؤں کے بڑے بوڑھوں نے بہت سمجھایا، عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا، لیکن دولت اور طاقت کے بل پر کرامت جیت گیا۔
زمینیں سونا اگلتی تھیں، مگر ان میں ایک حصہ ایسا تھا جو برسوں سے ویران پڑا تھا۔ اس جگہ ایک پرانی، شکستہ قبر تھی۔ گاؤں کے لوگ اسے “اندھی
بستی” کہتے تھے۔ مشہور تھا کہ یہ جگہ نادیدہ مخلوق کا مسکن ہے، اسی وجہ سے کرامت کی فصل ہمیشہ دوسروں سے زیادہ پیداوار دیتی۔
مگر لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ کرامت نے ایک دن اپنے منشی رمضان سے کہا:
“کل سے اس قبر کے اردگرد کی زمین ہموار کراؤ۔ اب یہ بے کار پڑی نہیں رہنی چاہیے۔”
رمضان لرزتی آواز میں بولا:
“حاجی صاحب! بزرگوں نے ہمیشہ کہا ہے یہ جگہ مت چھیڑنا۔ یہاں کوئی اور بستا ہے۔ اگر ہم نے ان کو بے گھر کیا تو مصیبت آئے گی۔”
کرامت نے قهقهه لگایا:
“میں کسی بھوت پریت سے نہیں ڈرتا۔ زمین میری ہے، اور میں اس پر اپنی مرضی کروں گا۔”
وہ رات خوف ناک تھی۔ آدھی رات کے بعد اچانک کرامت کے کمرے میں ایک تیز روشنی پھیلی، جیسے بجلی کوندی ہو۔ پھر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے
دروازہ چرچراتا کھل گیا۔ ایک دھندلا سا سایہ اندر آیا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ کمرے کی فضا موت کی بدبو سے بھر گئی۔
آواز گونجی:
“کرامت! تم نے ہماری خاموشی توڑنے کی جرات کی ہے۔ یہ زمین ہمارا مسکن ہے۔ اگر تم نے اسے ہموار کیا تو ہم تمہاری نسل کو ختم کر دیں گے۔”
کرامت خوف سے پسینے میں نہا گیا، زبان لڑکھڑا گئی:
“ک… کون ہو تم؟”
وہ سایہ غرایا:
“تمہارے انجام کے فیصلے کرنے والے۔”
یہ کہہ کر وہ دیوار سے گزر کر غائب ہوگیا۔ کرامت نے اگلے دن رمضان کو بلا کر حکم دیا کہ قبر والی زمین کو ہرگز نہ چھیڑا جائے۔
وقت گزرتا رہا۔ مگر قسمت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں۔ کچھ ہی سال بعد کرامت فالج کے باعث بستر سے جا لگا۔ اب اس کا جوان بیٹا زاہد شہر سے واپس آیا
تاکہ زمینوں کی نگرانی کرے۔ زاہد باپ سے بھی زیادہ غرور اور ضدی تھا۔ اس نے رمضان کو بلا کر کہا:
“ابا کی کہانیوں میں حقیقت نہیں۔ کل سے قبر والی زمین بھی ہموار ہوگی۔”
رمضان نے ڈرتے ڈرتے کہا:
“بیٹا! یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے میں آپ کے والد صاحب نے منع کیا تھا۔ وہاں کچھ… کچھ ہے۔”
زاہد ہنسا:
“یہ سب جاہلوں کی کہانیاں ہیں۔ کل صبح ٹریکٹر لے آنا۔”
اگلے دن جیسے ہی ٹریکٹر قبر کے گرد چلنے لگے، اچانک مغرب کی طرف سے کالے بادلوں کا لشکر آیا۔ بگولے اٹھنے لگے۔ گاؤں اندھیرے میں ڈوب
گیا۔ شور اتنا بڑھا کہ کان بہرے ہوگئے۔ اچانک قبر کے پاس زمین پھٹنے لگی، ایک شعلہ سا بھڑکا اور پھر خوف ناک آوازیں فضا میں گونجنے لگیں:
“ہم آج کسی کو نہیں چھوڑیں گے! تم نے ہمارے مسکن کو روند ڈالا! تمہاری نسل کو جلا کر راکھ کر دیں گے!”
ٹریکٹر کے ڈرائیور چیخنے لگے۔ مشینیں الٹ گئیں اور مزدور خشک پتوں کی طرح دور جا گرے۔ زاہد کو ایک نادیدہ قوت نے پکڑا اور آسمان کی طرف
اچھال دیا۔ وہ زور سے فرش پر آ گرا، اس کی چیخ پورے گاؤں میں سنائی دی۔
لوگ خوف سے بھاگنے لگے۔ عورتیں بچوں کو گود میں اٹھا کر مسجد کی طرف دوڑیں۔ اسی لمحے مؤذن کی اذان بلند ہوئی: “اللہ اکبر!” اور کمال یہ ہوا کہ
جیسے ہی اذان کی آواز پھیلی، اچانک فضا ساکت ہوگئی۔
لوگ مسجد میں جمع ہوگئے۔ امام صاحب نے لرزتی آواز میں دعا کی:
“یا اللہ! ہم بے خبر تھے۔ اگر کوئی غلطی ہم سے سرزد ہوئی ہے تو معاف فرما۔”
اچانک سفید روشنی میں لپٹے ایک بزرگ صحن میں ظاہر ہوئے۔ ان کے چہرے پر جلال تھا اور آنکھوں میں سرخی۔ وہ بولے:
“ہم بھی تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہیں۔ لیکن کرامت اور اس کے بیٹے نے لالچ میں ہمیں چھیڑا ہے۔ یہ اس ظلم کی سزا بھگتیں گے۔ باقی گاؤں کے لوگ
معصوم ہیں، لیکن یاد رکھو! اگر دوبارہ ہماری بستی کی طرف قدم بڑھایا تو یہ گاؤں زمین بوس ہو جائے گا۔”
یہ کہہ کر وہ ہوا میں تحلیل ہوگئے۔
اگلے دن حاجی کرامت نے بہن بھائیوں کو بلا کر ان کا حصہ واپس کر دیا۔ خیرات بانٹی گئی، مسجد میں دعائیں ہوئیں۔ مگر زاہد کی حالت کبھی پہلے جیسی
نہ رہی۔ وہ ہمیشہ خوف زدہ رہنے لگا۔ رات کو سائے دیکھ کر چیخ اٹھتا، قبر کا خواب دیکھ کر پسینے میں ڈوب جاتا۔
کرامت نے سب کے سامنے روتے ہوئے کہا:
“میں نے لالچ میں اندھا ہو کر اپنے خون کا حق مارا۔ یہی میری سزا ہے۔”
یہ کہانی آج بھی گاؤں دھانوٹ کے بزرگوں کی زبانی سننے کو ملتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی قبر والی زمین کے قریب جاتا ہے تو وہاں سرد
ہوا چلتی ہے، جیسے کوئی اب بھی پہرہ دے رہا ہو۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Nadeeda Maqlook نادیدہ مخلوق” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.