Secha Rista سچا رشتہ

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 2.6k
Category: Tag:

Description

سچا رشتہ

انسان فطری طور پر انتہا پسند واقع ہوا ہے۔ یہ نفرت کرنے لگے تو نرم و نازک پھولوں کو بھی بے دردی سے مسل دے اور پیار کرنے آئے تو اس شدت سے کہ کانٹوں کو دامن میں سجائے بھی پیار کی شبنم کا ایک قطرہ بھی ہمیں سیراب کر دے اور بھی چاہتوں کے اٹھتے دریا بھی ہماری تشنہ یہی کے آگے ہار مان جائیں۔ بدگمانی کی کیفیت طاری ہو تو اپنا بھی بیگانہ لگے اور خوش گمانی ہو تو دشمن کو رفیق سمجھ کر گلے سے لگالیں۔ناصر میرا چچازاد تھا۔ مجھے چاہتا تھا۔ اس کی چاہت بھی امڈتے دریا کی مانند تھی۔ مگر میں اس سے نفرت کرتی تھی۔ وہ میری منزل نہ تھا۔ مجھے دیہاتی ماحول بھی پسند نہ تھا۔ میری آنکھوں میں بسنے والا شہزادہ خوب صورت پڑھا لکھا اور سوٹ بوٹ میں ملبوس شخص تھا۔ جو شہر میں رہا اور پلا بڑھا ہو۔ میرا گاؤں پنجاب کے شہر راولپنڈی کے جنوب مغربی علاقے کی طرف بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہمارا گاؤں دور جدید کی سہولتوں سے

محروم تھا۔ ایک کچی سڑک پنڈی سے ہمارے گاؤں تک جاتی تھی ۔ اس روٹ پر صرف دہ بسیں چلا کرتی تھیں۔ گاؤں میں ایک مڈل اسکول تھا۔ جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے۔ بجلی نہ تھی۔ اسپتال کی کمی بھی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے گاؤں کے کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے تھے۔ ناصر اور میں اکٹھے ہی گاؤں کے اسکول میں پڑھتے تھے۔ ناصر کے والد میرے ابا جان سے بڑھے تھے۔ گاؤں میں ہماری جائیداد سب سے زیادہ تھی۔ میرے چا اور والد دونوں بھائی مل کر زمینداری کرتے تھے۔ آپس میں اتفاق اور محبت مثالی تھی۔ ناصر اور میں ہم عمر تھے۔ قدرت نے مجھے بے حد حسن سے نوازا تھا۔ جب کہ ناصر شکل وصورت کے لحاظ سے بہت پیچھے تھا۔ لگتا تھا وہ ہمارے خاندان کا فرد ہی نہیں ہے۔ اس کا سیاہ رنگ اور پکا چہرہ مجھے

بالکل نہیں بھاتا تھا۔ میں بچپن ہی سے اس نا پسند کرتی تھی۔ بدصورت ہونے کے باوجود وہ  کلاس کا ہونہار طالب علم تھا۔ اساتذہ اسے بہت چاہتے تھے۔ مگر میں ہر معاملے میں اسےنیچا ہی دکھانے کی کوشش کرتی تھی۔ مڈل کا امتحان ناصر نے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ جب کہ میں بمشکل پاس ہوئی۔ اس کے بعد حالات نے اجازت نہ دی تو ناصر نے تعلیمی سلسلہ ختم کر کے زمینداری میں باپ اور چا کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ جب کہ میں گھر کی ہو کر رہ گئی۔ کچھ عر صے بعد جب مجھے علم ہوا کہ میری اور ناصر کی نسبت بچپن میں ہی طے ہوگئی تھی تو میں تڑپ اٹھی۔ میں کسی صورت میں بھی ناصر کی ہمسفر نہیں بنا چاہتی تھی ۔ مگر اب انکار کرنا بھی میرے اختیار میں نہ تھا۔ پھر بھی میں نے اپنی ماں کو بتا دیا کہ میں ناصر کو نا پسندکرتی ہوں۔ اس لئے میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔ ماں نے میری بات سنی تو

پریشان کن لہجے میں بولی۔ سلمی بیٹی ناصر جیسا بھی ہے تمہیں اس سے شادی کرنی ہی ہوگی۔ تم دونوں کی نسبت بچپن میں ہی طے پاگئی تھی۔ ہمارے خاندان کی یہ ریت رہی ہے کہ جو رشتہ ایک بار طے ہو جائے وہ ٹوٹا نہیں کرتا۔ اس لئے تم سب کچھ بھول جاؤ اور ناصر کے سوا کسی کے بارے میں نہ مجبور مجھے خاموش ہو جانا پڑا۔ لیکن میں نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے میں ناصر سے شادی نہیں کروں گی۔ خواہ اس کے لئے میری جان ہی نہ چلی جائے ۔ ناصر ہمارے گھر آتا رہتا تھا۔ مگر میں اس سے بات کرنا بھی گوارہ نہ کرتی تھی۔ مجھے اس کی شکل سے بھی نفرت تھی۔ ناصر بھی بخوبی جانتا تھا کہ میں اسے نا پسند کرتی ہوں ۔ مگر اس کے باوجود میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت کے دیپ جلتے دیکھے تھے۔ گاؤں کے لوگ ناصر کے کردار کی بہت تعریفیں کرتے تھے۔ وہ گاؤں کے لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوتا اور غریبوں کی بے لوث مدد کرتا تھا۔ میں کسی کی زبان سے اس کی تعریف سنتی تو میرے اندر ایک آگ سی لگ جاتی۔ میں جی بھر کر اس کی برائی کرتی اور دل کی بھڑاس نکال لیتی۔ یہ میری دعاؤں کے اثر تھا۔ کہ قدرت کا کرشمہ کہ ایک روز میرے ابا جان اور تایا جان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا۔ بات لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی۔ وہ جو بھی ایک جان تھے۔ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ میں جانتی تھی کہ زیادتی میرے ابا جان کی ہے مگر وہ پھر بھی کسی صورت ہار ماننے کو تیار نہ تھے۔ میرے

لئے تو یہ جھگڑ از ندگی کی نوید بن چکا تھا۔ میں امی اور ابا کے ساتھ تھی۔ گاؤں کے لوگوں نے بجائے صلح کرانے کے اس ناراضگی کو اور بھی ہوا دی اور لگائی بجھائی کر کے اس مسئلے کو اور الجھا دیا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ تمام جائیداد کا بٹوارہ ہو گیا۔ میری اور ناصر کی منگنی بھی توڑ دی گئی۔ میرے من میں گھنٹیاں سی بج اٹھیں۔ میں نے سجدہ شکرا ادا کیا کہ میرے من کی مراد پوری ہوگئی تھی ۔ ایک روز ناصر اچانک ہمارے گھر آ گیا اور میرے ابا جان سے کہنے لگا ۔ ” چا جان! آپ چھوٹے ہیں غلطی اور زیادتی بھی آپ کی ہے۔ اس لئے بڑے بھائی سے معافی مانگ لیں اور خاندان کی عزت کو زمانے والوں کے سامنے تماشا نہ بننے دیں ۔ میں نے اور ابا جان نے ناصر کی اس جرات پر اس کی خوب خبر لی اور اسے کھری کھری سنا کر بھیج دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ آج کے بعد وہ ہماری حویلی میں قدم نہ رکھے۔ یوں ہی چار سال بیت گئے ۔ ہم ایک ہو کر بھی ایک دوسرے کے لئے اچھی بن گئے۔ ابا جان نے میری خواہش کی تکمیل کر دی۔ ہمارے دور کے رشتے دار عرصہ سے لاہور میں مقیم تھے۔

میری شادی ان لوگوں میں کر دی گئی۔ شہزاد بہت ہی خوب صورت اور اسمارٹ تھا۔ وہ میرا آئیڈیل تھا۔ لاہور میں کسی سرکاری ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ میں شادی کے بعد لاہور چلی گئی اور شہزاد کے ہمراہ ایک پر سکون زندگی گزارنے تھی۔ ناصر کو میں ایک خواب سمجھ کر بھول گئی۔ میں گاؤں میں کم ہی جاتی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ ناصر نے عمر بھر شادی نہ کرنے کا عہد کر لیا ہے۔ مجھے بھلا اس سے کیا غرض تھی۔ میری طرف سے وہ جہنم میں چلا جائے۔ میں تو اس کا نام سنتا بھی گوارہ نہ کرتی تھی۔ اسی لئے میں کم ہی جاتی تھی۔ اگر جاتی تو بھی ایک دن اور رات ٹھہر کر لاہور آجاتی تھی۔ شہری زندگی مجھے راس آگئی تھی۔ سردیوں کے دن تھے ۔ عید کی آمد آمد تھی۔ ابا جان کا اصرار تھا کہ اس مرتبہ میں اور شہزاد عید ان کے ہمراہ گاؤں میں منائیں۔ ہم جب راولپنڈی کے بس اسٹاپ پر پہنچے تو ہمارے گاؤں جانے والی آخری بس اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔ شام ڈھلنے والی تھی۔ موسم بھی ابر آلود تھا۔ بارش کا قومی امکان تھا۔ بس خالی ہی تھی ۔ میں اور شہزاد فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ آہستہ آہستہ مسافر آتے گئے۔ بس جب چلی تو اس میں تل دھرے کو جگہ نہ تھی۔ بس میں مسافروں میں میں واحد عورت تھی ۔ کئی لوگ بس کے اندر کھڑے تھے اور کئی چھت پر بیٹھے تھے۔ بس آہستہ آہستہ چلتی ہوئی شہری حدود سے باہر نکلی  اور گاؤں جانے والی بچی سڑک پر آگئی۔ اس سڑک پر روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ کیونکہ اس دور میں اس علاقے میں بجلی ہی نہ تھی۔ ابھی بس نے دس بارہ میل کا سفر طے کیا ہوگا کہ بس ایک جھٹکے سے رک گئی اور ڈرائیور نے انجن بھی بند کر

ڈالا۔ شہزاد نے جس بھری نظروں سے ڈرائیور کی طرف دیکھا کہ اس نے گاڑی کیوں بند کر دی ہے۔ اتنے میں ایک مضبوط اور لمبے قد کا شخص چہرہ نقاب میں چھپائے ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور لہرا رہا تھا۔ وہ بہت ہی غضبناک لہجے میں بولا۔

“خبردار! اگر تم میں سے کسی نے ہلنے یا گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو بھون کر رکھ دوں گا۔ بس میں سناٹا چھا گیا۔ تمام مسافر سہم گئے اور آنے والے برے وقت کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد اس نقاب پوش نے چہرے سے نقاب اتارا اور کہنے لگا۔ تم لوگ مجھے پہچان گئے ہو گے اگر نہیں تو بتا دوں کہ میں جہانی ڈکیت ہوں۔“ سناٹاور بھی گہرا ہو گیا۔ تمام مسافر اس کا نام سن کر خوفزدہ ہو گئے۔ میں پہلی بار جہانی ڈکیت کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ لوگ اس سے خوف کھاتے تھے۔ وہ کئی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔ اس کی گرفتاری پر انعام بھی مقرر تھا۔ مگر پولیس اس کے باوجود اسے گرفتار کرنے میں نا کام ہو چکی تھے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ جہانی خود بھی بڑا مظلوم ہے۔ اسے حالات نے اس مقام پر پہنچایا ہے۔ گاؤں کے زمیندار نے اس کی بہن کے بے آبرو کیا تھا۔ وہ زمیندار کا مزارع تھا۔ اس کا ہر ستم سہتا تھا۔ مگر وہ یہ ظلم برداشت نہ کر سکا اور گاؤں کے زمیندار کو قتل کر کے فرار ہو گیا اور پھر وہ ڈاکو بن گیا۔ جب کہ کچھ کہتے تھے کہ جہانی بچپن میں ہی اغوا ہو گیا تھا۔ کچھ کہتے تھے کہ اس کا بات بھی ڈا کو تھا اور یہ سب کچھ اسے ورثے میں ملا ہے۔ نہ جانے اس میں حقیقت کیا تھی مگر اس وقت ہم سب کو ان باتوں سے کوئی غرض نہ تھی۔ بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی جان بچانے کی نظر پڑی تھی۔ چند لمحے اس نے پوری بس کے مسافروں کا جائزہ لیا اور پھر وہ میری طرف بڑھا اور میرا ہاتھ برقعے میں سے یچ کر پکڑ لیا اور بننے لگا۔ چلو میرے ساتھ ۔” شہزاد بھلا یہ کیسے برداشت کر سکتا کہ کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالے۔ وہ شہری بابو ہونے کی باوجود اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا اور جہانی سے الجھ پڑا۔ ذلیل انسان ! شرم نہیں آتی تمہیں کیا گھر میں تمہاری ماں بہنیں نہیں ہیں ۔ یہ کہہ کر شہزاد نے میرا ہاتھ جہانی کی گرفت سے آزاد کرالیا۔ میں نے جہانی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ میں میرا جسم تھے تھے کان سا تھا مگر جہانی سر کسی بات کا اثر نہ ہو رہا تھا اس نے پھر میرا بازو پکڑ لیا۔ شہزاد کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ اس نے ایک بھر پور تھپڑ جہانی کے چہرے پر جڑ دیا۔ جس کی آواز تمام مسافروں نے سنی ۔ جہانی کی برداشت کی حد ختم ہو گئی۔ اس نے میرا باز و چھوڑ دیا اور شہزاد کو گھسیٹ کر بس سے باہر لے گیا اور اسے بے دردی سے مارنے لگا۔ میں نے کافی شور مچایا مگر کسی نے بھی میری آہ و فریاد نہ سنی۔ سب انجان بن کر ایک انسان کی بے بسی اور ایک درندے کے وحشیانہ پن کا تماشا دیکھتے رہے۔ شہزاد جہانی کی مار کھا کر بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ جہانی پھر بس کے اندر آ گیا اور مجھے بھی گھسیٹتا ہوا باہر لے گیا۔ میں بہت واویلا کیا۔ مگر کوئی بھی میری مدد کو نہ آیا۔ سب بزدل تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ میں نے روتے ہوئے جہانی کو خدا اور رسول کے واسطے دیئے اور کہا میں اس کی بیٹیوں کی طرح ہوں۔ وہ مجھ پر رحم کرے اور مجھے چھوڑ دے۔ مگر جہانی پر میری آہ وزاری کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس کا تو ضمیر ہی مر چکا تھا۔ مسافروں میں سے کسی میں اتنی ہمت اور جرات نہ تھی کہ آگے بڑھ کر جہانی کا راستہ روکتا یا اس ظلم اور زیادتی کے خلاف سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا۔ سب کے سب بس کی کھڑکیوں میں سے ایک مجبور اور بے بس عورت کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ جہانی مجھے لے کر آگے بڑھنے لگا۔ میں مزاحمت کی اور اسے کو سنے لگی۔ مگر میری مزاحمت نے جہانی کے غصے کو اور ہوا دی۔ اس نے میرے شہزاد پر گولیاں برسا کر میری آنکھوں کے سامنے ہی مار ڈالا۔ میں لمحوں میں بیوہ ہوگئی ۔ میں شہزاد کی لاش سے لپٹ کر رونا چاہتی تھی مگر جہانی نے مجھے ایسا نہ کرنے دیا۔ وہ مجھے کھیٹ کر آگے لے گیا اور پھر ایک جگہ رک کریس کے مسافروں کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔ میں اس لڑکی کو لے جارہا ہوں اگر کسی مائی کے لال میں ہمت ہے تو آکر اسے بچالے۔ میرا نام جہانی ڈکیت اور جہانی نے بھی ہارنا نہیں سیکھا۔“ یہ کہ کر جہانی پلٹا۔ میرا ہاتھ اس کی مضبوط گرفت میں تھا۔ میں مسلسل چلا رہی تھی اور حسرت بھری نگاہوں سے مسافروں کی طرف دیکھ رہی تھی کہ شاید کوئی غیرت مند مجھے بچالے۔

میرے لبوں سے آہیں اور دعا میں ایک ساتھ نکل رہی تھیں کہ اے پروردگارا اے رب ذوالجلال میری مدد فرما۔ شاید وہ دعا کی مقبولیت کا لمحہ تھا۔ خدا نے میری سن لی تھی۔ جس کی چھت سے ایک مسافر نیچے کو دا اور ہم تک آپہنچا۔ ان نے مجھے جہانی کی گرفت سے لمحوں میں آزاد کرایا اور پھر کسی بھوکے شیر کی مانند جہانی پر ٹوٹ پڑا۔ جہانی اس اچانک حملے سے گھبرا گیا۔ ریوالور اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا اور وہ دونوں ایک دوسرے سے تھم گتھا ہوگئے ۔ جہانی نے اس مسافر کو یز کرنے کی بہت کوشش کی مگر نا کام رہا۔ اس مسافر نے بھی بہت زور لگایا۔ مگر جہانی اس کے سامنے چٹان ثابت ہو رہا تھا۔ اس مسافر نے اپنی شلوار کے نیفے سے خنجر نکال لیا اور جہانی پر پل پڑاد یکھتے ہی دیکھتے اس نے جہانی کے جسم میں کئی سوراخ کر ڈالے۔ وہ بری طرح لہو لہان ہو گیا اور کچھ دیر تڑپ کر وہ زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا۔ اب مسافر بس سے نیچے اتر آئے اور اس مسافر کی طرف بڑھے جو ایک طرف بیٹھا ہانپ رہا تھا۔ اس کے جسم پر کئی زخم آئے تھے وہ کسی قدر اندھیرے میں تھا۔ میں اس کی صورت نہیں دیکھ پائی تھی۔ مشرق کی جانب سے چاند طلوع ہور ہا تھا۔ ہلکی ہلکی روشنی پھیلنے لگی تھی ۔ ایک دو مسافر شنہاد کی رات کی طرف طرف آگئے میں اپنی کلائی ایک دو مسار مرادی لاننا حرف ہے اور کچھ میرن صرف اتنے۔ میں اپنی خلاق

پکڑے زمین پر بے سدھ پڑی تھی۔ میرے احساب حل ہو چکے تھے۔ مجھ میں اٹھنے کی تاب ہی نہ تھی۔ ویسے بھی اک کے گرد کافی مسافر جمع ہو گئے تھے میں مختصر تھی کہ لوگ مجھے خوشخبری دیں کہ شہر او زندہ ہے۔ میں لاشعوری طور پر اسے دیکھنے سے کترا رہی تھی۔ شاید میں خود کو اس کی موت کا یقین نہیں دلانا چاہتی تھی۔ میں اٹھی اور آہستہ آہستہ اس اجنبی مسافر

کی طرف بڑھی۔ جو میری خاطر زخمی ہو گیا تھا۔ میں نے اپنا دوپٹدا تار کر ایک مسافر کو دیا اور کہا۔ بیان کے زخموں پر باندھ دو ۔”

اس مسافر نے دوپٹا پھاڑ کر اس کے زخموں پر باندھنا شروع کیا تو میں بھی اس کے قریب ہوگئی۔ میں نے اس مسافر کو دیکھا تو میرا وجود زلزلوں کی زد میں آگیا۔ وہ ناصر تھا۔ میرا کزن میرا سابقہ منگیتر، میں فوراً ناصر کے قدموں میں جھک گئی۔ میں نے روتے ہوئے کہا۔ ناصرا میں کبھی تھی کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہوگئی ہوگی اور تم میری شکل دیکھنا بھی گوارہ نہ کرو گے مگر آج جو کچھ تم نے کیا وہ میں زندگی بھر نہ بھولوں گی ۔ ناصر نے میری طرف دیکھا اور کراہتے ہوئے بولا۔  سلمی ! عزتیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ یقین کرنا سلمی مجھے قطعی یہ معلوم نہیں تھا کہ جہانی کا شکار ہونے والی لڑکی کون ہے۔ یہ تو مجھے اب پتا چلا ہے کہ وہ تم ہو۔ سلمی شاید قدرت کو ہمارا من منظور نہ تھا۔ میں قدرت کے اس فیصلے پر شاکر ہوں ۔ تمہاری جگہ کوئی لڑکی بھی ہوتی تو تب بھی میں وہی کچھ کرتا جواب کیا ہے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں تمہارے خاوند کو نہیں بچا سکا۔ شاید تمہاری قسمت میں یہی لکھا تھا۔ یہ کہہ کر ناصر نے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ میری آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر شہزاد کے پاس لے آیا اور تب تو جب بھی میں وہی کچھ کرتا جواب کیا ہے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں تمہارے خاوند کو نہیں بچا سکا۔ شاید تمہاری قسمت میں یہی لکھا تھا۔ یہ کہہ کر ناصر نے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

میری آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر شہزاد کے پاس لے آیا اور تب میں وہ خوفناک منظر دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔ جس سے میں آنکھیں چرا رہی تھی۔ شہر ادا ہو لیان تھے اور ان کی ویران آنکھوں میں جیسے تشکر بھرا ہوا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ ناصر کے شکر گزار ہوں کہ اس نے ان کی عزت لٹنے سے بچالی۔ مجھے رہ رہ کر اپنی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا کہ میں زندگی بھر ناصر کی بدصورتی کی وجہ سے اس سے نفرت کرتی رہی۔ میں نے اس کے کردار کی خوبصورتی پر توجہ نہ دی۔ آج مجھے پتا چلا تھا کہ گاؤں کے کبھی لوگ اس کی تعریفیں کیوں کرتے تھے وہ واقعی تعریف کے قابل تھا۔ ناصر پر مقدمہ چلا مگر جلد ہی اسے نہ صرف بری کر دیا گیا بلکہ تعریفی اسناد اور انعام سے بھی نوازا گیا۔ جب ان حالات کا علم میرے والدین کو ہوا تو ان کے سر بھی ناصر کی عظمت کے سامنے جھک گئے ۔ میرے ابا جان نے ناصر کے والد سے معافی مانگ لی۔ برسوں بعد بھائیوں میں خود بخود صلح ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد میرے والدین نے خود چاہا کہ میری اور ناصر کی شادی کر دی جائے۔ جب مجھے اور ناصر کو والدین کے فیصلے کا علم ہوا تو ہم دونوں نے ان کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا اس لئے کہ میں ناصر کو بھائی بنا چکی تھی۔ میں اس فخر میں رہنا چاہتی تھی کہ میں ایک غیرت مند بھائی کی بہن ہوں ۔ میرا کوئی بھائی جو نہیں تھا۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Secha Rista سچا رشتہ”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more