Setra Saal ki rashim Urdu story سترہ سال کی ریشم

  • Genre: zarasrory
  • Age:      18+
  • Status: Complete
  • Language: Urdu
  • Author: zara writer
  • View :  47,2k
Category: Tag:

Description

سترہ سال کی ریشم

ریشم کا چہرہ سفید چادر کے نیچے چھپا ہوا تھا، سسکیوں کی لرزتی ہوئی آوازیں ریشم کے پورے وجود کو ہلا رہی تھیں۔ مگر کمرے میں بیٹھے کسی شخص کے دل پر ذرا سا بھی اثر نہ ہو رہا تھا۔ سترہ سالہ معصوم لڑکی کے ہونٹ کپکپا رہے تھے، مگر جیسے ہی مولوی کریم نے تیسری بار پوچھا:

“ریشم بنت نعیم گل… کیا تمہارا نکاح کامران جلال خان ولد جلال خان، مہر پانچ ہزار میں قبول ہے؟”

ریشم نے پھر بھی اقرار نہ کیا۔

کامران جلال خان کی سرخ آنکھیں سیدھی نعیم گل پر جم گئیں۔ نعیم گل کا بوڑھا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا تھا۔ اس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں ریشم کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا:

“بیٹی… تیرے باپ کی عزت کا سوال ہے، کہہ دے… کہہ دے قبول ہے!”

اپنے باپ کے لرزتے ہوئے ہاتھ، اس کی ٹوٹی ہوئی آواز، اور ڈھیر ہوتی عزت کے خوف نے ریشم کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

سسکیوں کے درمیان اس نے کہا:

“…قبول ہے…”

قبولیت کے الفاظ کمرے میں گونجے تو کامران جلال خان اپنی نشست سے غصے سے اٹھا۔ اس نے ریشم کی نازک کلائی اس سختی سے پکڑی کہ وہ تکلیف سے سہم گئی۔

نعیم گل اس کے سامنے آ گیا۔

“کامران بیٹا… میری بچی بے قصور ہے… اس پر رحم—”

کامران نے بھڑکتے ہوئے کہا:

“میرے لیے تمہاری بیٹی صرف بدلے کی چیز ہے۔
تمہاری بڑی بیٹی نے بھاگ کر جو ذلت مجھے دی ہے… اس کا حساب میں آج چکا کر لے جا رہا ہوں۔
یہ رخصتی نہیں… اسے جنازہ سمجھو۔”

وہ ریشم کو تقریباً گھسیٹتا ہوا باہر نکلا۔
گاڑی کے پچھلے حصے میں بندوقیں تھامے اس کے گارڈ کھڑے تھے۔
منٹوں میں گاڑی دھول اڑاتی حویلی کی طرف بڑھنے لگی۔

کامران اپنے کمرے کو گلابوں سے سجا کر بیٹھا تھا۔
وہ ریشم نہیں—اس کی بہن زویا کو اپنی دلہن بنا کر لانا چاہتا تھا۔
مگر نکاح کے عین وقت زویا بھاگ گئی۔

اس کی توہین پوری برادری میں گونج گئی تھی، اور اب ریشم اس توہین کا بدلہ تھی۔

ریشم کی روتی ہوئی آوازیں اس کے کانوں میں زہر کی طرح گونج رہی تھیں۔

“چپ ہو جاؤ لڑکی!”
اس نے دھاڑ کر کہا۔
“کیا سمجھا تم لوگوں نے؟
تمہاری بہن بھاگ گئی تو کامران جلال خان خالی لوٹ جائے گا؟
نہیں! میں دلہن لے کر آیا ہوں… اور عبرت کی نشانی بنا کر رکھوں گا!”

ریشم کی رگوں میں خوف جم گیا۔
وہ خود سے پوچھ رہی تھی:

“میں نے کیا گناہ کیا تھا؟
میں تو پردہ کرتی تھی، نمازی تھی، کسی اجنبی کو کبھی نہیں دیکھا…
تو پھر یہ ظلم کیوں؟”

جیسے ہی گاڑی حویلی میں داخل ہوئی، ڈھول بجنے لگے، خوشیاں منائی جانے لگیں۔
مگر کامران کی گرجدار آواز نے سبکو خاموش کر دیا:

“کوئی ڈھول نہیں بجے گا!
میری عزت لٹی ہے… خوشیاں نہیں منائی جائیں گی!”

بی بی عالیہ، حویلی کی بزرگ خاتون، باہر آئیں۔
چہرے پر پریشانی تھی۔

“کیا ہوا کامران؟”

“لڑکی بھاگ گئی، دادی جان.”

بی بی عالیہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

“اور یہ کون ہے؟”

“اس کی بہن۔
اسی سے نکاح کر کے لایا ہوں!”

بی بی عالیہ نے لرزتی آواز میں کہا:

“یہ معصوم ہے… اسے میرے کمرے میں لے جاؤ—”

مگر کامران چیخ پڑا:

“آج کی رات یہ میرے کمرے میں آئے گی!
جو بھی بیچ میں آیا… میں اسے نہیں دیکھوں گا کہ وہ میرا کون ہے!”

ریشم کو بڑی ملازمہ کامران کے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی۔
کمرے میں گلابوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی—
مگر یہ سجاوٹ ریشم کے لیے نہیں تھی۔
وہ زویا کے لیے تھی۔

ریشم کانپ رہی تھی۔
اسے لگ رہا تھا جیسے اس کی سانسیں رک جائیں گی۔

اس کا دل کہہ رہا تھا:

“کاش زویا نے بھاگنے سے پہلے ایک بار مجھے بتایا ہوتا…
کاش میں کچھ کر سکتی…
کاش میں مر جاتی…
مگر اس ظلم کا سامنا نہ کرنا پڑتا…”

ریشم کی آنکھوں میں بہتی ہوئی نمی کے پیچھے زیا کی کہانی چھپی تھی۔

زیا خوش اخلاق نہیں تھی، شوخ مزاج، کم عقل اور دنیا دکھاوی محبتوں میں الجھی ہوئی تھی۔
اسی بھول بھلیوں میں وہ جاگیر دار کے بیٹے کامران کے عشق میں پھنس گئی تھی۔

پھر ایک دن…
جب اس نے سنا کہ کامران کی نیت اچھی نہیں…
کہ وہ اسے حاصل کرنے کے بعد چھوڑ دینا چاہتا ہے…
تو وہ کسی اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی۔

اور اس بھاگ جانے کی سزا…
ایک معصوم 17 سالہ لڑکی ریشم کو مل رہی تھی۔

ٹھیک ہے… میں آپ کے لیے کہانی کا اگلا حصہ وہی جذبات، وہی درد، اور وہی ڈرامائی شدت کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔
اب کہانی وہاں سے آگے بڑھے گی جہاں ریشم کو زبردستی کامران کے کمرے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

کمرے کا دروازہ بند ہوا تو ریشم کے اندر جیسے دنیا ہی بند ہو گئی۔
اس نے پلٹ کر دروازے کو دیکھا—
جیسے اس لکڑی کے ٹکڑے میں کوئی معجزہ چھپا ہو،
جیسے کوئی فرشتہ اس کے لیے آسمان سے اتر آئے گا۔

مگر کچھ نہیں ہوا۔

کمرہ خاموش تھا…
گلاب کی خوشبو
اور سجے ہوئے پھولوں کی لڑی
اس رات کی بے رحمی کا مذاق اُڑا رہی تھی۔

ریشم اپنے دوپٹے کو دونوں ہاتھوں سے مٹھیوں میں بھینچ کر کھڑی رہی—
دل اندر ہی اندر کانپتا رہا۔

اسی لمحے دروازہ زور سے کھلا۔
کامران داخل ہوا۔

چہرہ غصے سے بھرا ہوا۔
قدموں میں غرور،
اور آنکھوں میں زخموں کا سمندر۔

ریشم سہمی، مگر اپنی جگہ کھڑی رہی۔

کامران دھاڑتا ہوا بولا:

“کیوں رو رہی ہو؟
تمہاری بہن نے جو رسوائی مجھے دی… اب وہ میں تمہارے ذریعے دھوؤں گا!”

ریشم کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے۔
اس کی آواز تھر تھر کانپ رہی تھی:

“میرا کیا قصور ہے…؟
میں نے تو کبھی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا…”

کامران نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“ہاں… تم تو معصوم تھی نا؟
تم لوگ ہمیشہ معصوم ہی ہوتے ہو…
اور پھر کسی رات چپکے سے… بھاگ جاتے ہو!”

ریشم نے پہلی بار ہمت کر کے سر اٹھایا۔

آواز دھیمی تھی مگر پوری دنیا کا درد سمیٹے ہوئے:

“اگر میں بھاگنا چاہتی…
تو آج آپ کے سامنے کھڑی نہ ہوتی۔
میں تو اپنے باپ کے کہنے پر آئی ہوں…
ورنہ آپ کے نام کا سایہ بھی برداشت نہیں کرتی!”

یہ جملہ کامران کے دل میں تیر بن کر لگا۔
اس نے مٹھیاں بھینچ لیں۔

“تم کسی کے لیے قربانی دے سکتی ہو؟
تم لوگ صرف اپنی مرضی کے لیے دوسروں کی زندگی برباد کرتے ہو!”

ریشم اس بار تڑپ کر بولی:

“اگر زویا نے غلطی کی…
تو اس کی سزا مجھے کیوں؟
کیا آپ کے دل میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے…؟”

کامران چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
اس کی سانسیں بھاری تھیں۔
پہلی بار اس نے محسوس کیا کہ اس لڑکی کی آواز میں سچائی کی جلن ہے… جھوٹ کا کوئی سایہ نہیں۔

اس نے رخ موڑا، کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔

کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔

پھر کامران نے آہستہ سے کہا:

“تمہیں کیا لگتا ہے… مجھے یہ سب اچھا لگ رہا ہے؟
میں بھی انسان ہوں ریشم…
دھوکہ… دل توڑ دیتا ہے۔
اور میں… ٹوٹ گیا ہوں۔”

ریشم کی آنکھوں میں حیرت اترتی چلی گئی۔

کامران نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔
اس کی آواز میں سختی نہیں…
بلکہ ایک زخمی آدمی کا درد تھا۔

“میں زویا سے محبت کرتا تھا…”

یہ جملہ ریشم پر بجلی بن کر گرا۔

وہ لڑکی جو اپنی ’شرافت‘ کا شور مچاتی تھی…
جو گھر میں سب سے چالاک تھی…
جس کا مزاج ہی سمجھ میں نہیں آتا تھا…

وہ کسی سے محبت کرتی تھی؟
اور وہ بھی کامران سے؟

ریشم کے دل میں پہلی بار نفرت کی جگہ…
افسوس نے لے لی۔

اس نے ہمت کر کے کہا:

“آپ نے محبت کی سزا مجھ پر کیوں ڈال دی…؟”

کامران کا چہرہ لہجے کے پیچھے چھپ گیا۔

“اس لیے کہ تم سامنے تھیں…
اور وہ مجھے خالی ہاتھ نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔
میں چاہتا تھا… بدلہ ہو۔”

ریشم نے آہستہ آہستہ خود کو سنبھالا۔
سسکیاں رک گئیں۔
سانسیں ٹھہر گئیں۔

وہ سیدھی کھڑی ہو کر بولی:

“بدلہ لے لیجیے…
مگر ایک بات یاد رکھیے گا…
میں زویا نہیں ہوں۔
میں بھاگنے والی لڑکی نہیں ہوں۔
میں مقابلہ کرنے والی ہوں۔”

کامران چونک گیا۔
پلٹ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

ریشم کی آنکھوں میں آنسو ضرور تھے…
لیکن ہمت بھی تھی، وقار بھی اور سچ بھی۔

پہلی بار کامران کا غرور پگھلنے لگا۔

وہ آہستہ سے بولا:

“تم… تم ایسی نہیں لگتی تھی۔”

ریشم نے جواب دیا:

“کیوں کہ آپ نے مجھے کبھی انسان سمجھا ہی نہیں۔
صرف بدلہ…
صرف غصہ…
صرف اپنی ٹوٹی ہوئی انا!”

کامران کے پاس جواب نہیں تھا۔

پہلی بار…
ریشم کی آواز نے اس کے اندر کی آگ پر پانی ڈال دیا تھا۔

دروازے پر دستک ہوئی۔
ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے کہا:

“خان صاحب… ایک خبر ہے…”

کامران نے پلٹ کر پوچھا:

“کیا؟”

ملازمہ نے لرزتی آواز میں کہا:

“زویا… واپس آگئی ہے۔”

کمرے میں جیسے سب کچھ رک گیا۔

ریشم کا سانس،
کامران کی دھڑکن،
اور رات کی خاموشی…

سب منجمد ہو گئے۔

کمرے کی فضا ایک لمحے میں بدل گئی۔

ملازمہ کے ہونٹ کپکپا رہے تھے…

اور کامران کی آنکھوں میں ایسے شعلے بھڑکے جیسے کسی نے اس کے زخم پر نمک ڈال دیا ہو۔

**”زویا… واپس آگئی؟”**

کامران نے لفظ چبا چبا کر کہا۔

ملازمہ نے ہاں میں سر ہلایا۔

اس کی نظریں زمین میں گڑی ہوئی تھیں:

“وہ حویلی کے صحن میں کھڑی ہے… اکیلی… رو رہی ہے خان صاحب۔”

ریشم کے دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا۔

وہ زویا سے ناراض تھی…

اس کی وجہ سے برباد ہوئی تھی…

لیکن بہن تو بہن ہوتی ہے۔

ریشم نے بے اختیار قدم بڑھایا، مگر پھر روک لیا۔

یہ اس کا معاملہ نہیں تھا۔

یہ کامران اور زویا کے دلوں کا ٹکراؤ تھا۔

کامران کا غصہ زنجیروں کی طرح ٹوٹنے لگا

کامران نے زور سے دروازہ کھولا —

ایسے جیسے صدیوں کا طوفان باہر نکلنے کو تیار ہو۔

ریشم پیچھے ہٹ گئی، مگر جاتے ہوئے کامران کی پشت پر ایک نظر ڈالی۔

وہ پشت…

اس کی ساری انا، ساری تکلیف اور سارا غرور اٹھائے چل رہی تھی۔

اور شاید…

پہلی بار ریشم کو اس کے لیے ترس آیا۔

صحن میں زویا کھڑی تھی۔

بال بکھرے ہوئے…

قدموں کے نیچے مٹی…

چہرے پر آنسوؤں کے نشان…

اور نظریں جھکی ہوئی، جیسے مٹی میں گڑ جانا چاہتی ہو۔

جیسے ہی کامران صحن میں پہنچا، اس کی آواز گونجی:

“واپس کیوں آئی ہو؟”

زویا نے سر اٹھایا۔

آواز ٹوٹی ہوئی تھی:

“میں… میں غلطی کر بیٹھی تھی کامران…”

کامران ہنس پڑا—

وہ ہنسی جس میں حقارت، دکھ اور انتقام سب شامل تھے۔

“غلطی؟

تم نے میرے عشق کو… میری عزت کو… میرے خاندان کو مٹی میں ملا دیا!

اور آج کہتی ہو *غلطی*؟”**

زویا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“میں ڈر گئی تھی…

میں سمجھ نہیں پائی…

مجھے لگا تھا کہ آپ… آپ صرف کھیل رہے ہیں…”**

کامران دھاڑا:

“کھیل؟

اگر کھیل ہی کرتا… تو آج تم اس حال میں نہ ہوتیں!

تم بھاگ کر جس کے ساتھ گئیں… وہ کہاں ہے؟

وہ تمہیں کیوں چھوڑ گیا؟”

زویا کی ٹانگیں کمزور پڑ گئیں۔

وہ مٹی پر بیٹھ گئی۔

آواز سنائی نہ دی مگر ہونٹ لرزے:

“وہ… وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا…”

تمام حویلی میں سناٹا چھا گیا۔

کامران کا غصہ عروج پر تھا، مگر اس کے دل میں ایک لمحے کو درد سا اٹھا۔

یہ وہ محبت تھی… جس کے لیے اس نے دنیا سے لڑنے کا ارادہ کیا تھا۔

اور وہ محبت…

آج اس کے قدموں میں ٹوٹ کر گری ہوئی تھی۔

ریشم خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی

ریشم دروازے کے پیچھے نیم روشن اندھیرے میں کھڑی تھی۔

اس کا دل بھاری تھا۔

زویا کی تباہی…

کامران کی ٹوٹن…

اور اس کی اپنی مسافری…

سب ایک طوفان تھے۔

وہ چاہ کر بھی باہر نہ جا سکی۔

دل اندر سے کہہ رہا تھا:

“باہر نکلی تو شاید یہ طوفان مجھے بھی بہا لے جائے گا…

 کامران زویا کے قریب آی

اس نے زویا کی طرف انگلی اٹھا کر کہا:

“اب کیوں آئی ہو؟

میرے پاس کیا لینے؟

تم جانتی تھیں کہ میں تم سے… محبت کرتا تھا!”

زویا نے روتے ہوئے کہا:

“محبت… کبھی کبھی ڈرا دیتی ہے کامران…

میں کمزور تھی…

میں غلط لوگوں کی باتوں میں آ گئی…”

کامران جھکا، اس کے قریب آیا، اور زہر بھری آواز میں کہا:

“تم جانتی ہو تمہاری وجہ سے کیا ہوا ہے؟

تمہاری وجہ سے… *میں نے تمہاری بہن سے نکاح کر لیا ہے!*”

زویا نے یہ جملہ سنا تو ایسے جیسے کسی نے اس کا دل چیر کر رکھ دیا ہو۔

“ریشم؟”

اس نے لرزتی سانس میں کہا۔

“ہاں!”

کامران چیخا۔

**”کیوں کہ میں خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہتا تھا…

کیوں کہ میں بدلہ چاہتا تھا…

اور تمہاری بہن… سامنے تھی!”

زویا زمین پر بیٹھے بیٹھے کانپنے لگی:

**”ریشم… میری وجہ سے…؟

نہیں… نہیں… یہ نہیں ہو سکتا…”

ریشم کا دل ٹوٹنے لگا

دروازے کے پیچھے کھڑی ریشم کا وجود لرز اٹھا۔

اس نے پہلی بار سنا کہ کامران نے اسے کیوں چنا…

کیوں اسے زندگی بھر کی سزا دے دی گئی…

وہ صرف “سامنے” تھی۔

صرف ایک بدلہ۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

لیکن…

اس کے دل میں ایک عجیب سی ہمت بھی جاگ اٹھی۔

وہ دروازہ تھوڑا سا کھول کر آگے بڑھ گئی۔

اس کے قدم کانپ رہے تھے، مگر اس کی آواز مضبوط تھی۔

“زویا…”

زویا نے جیسے ہی ریشم کو دیکھا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

ریشم… میں… میں نے تیرے ساتھ ظلم کیا…”

ریشم نے آہستہ سے کہا:

**”ظلم تم نے نہیں کیا زویا…

ظلم اس روایت نے کیا ہے…

جو لڑکیوں کو دوسروں کے گناہوں کی سزا دیتی ہے!”

کامران پلٹ کر ریشم کو دیکھنے لگا۔

وہ لڑکی…

جو چند گھنٹے پہلے لرز رہی تھی…

اب اس کے سامنے مضبوط کھڑی تھی۔

ریشم زویا کے پاس آئی، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

**”اگر تم غلطی کر کے لوٹی ہو…

تو تمہیں ضرورت ہے سزا کی نہیں…

سہارا کی!”

کامران یہ سن کر آگ بگولا ہو گیا:

“سہارا؟

میں اسے سہارا دوں؟

جس نے مجھے ذلیل کیا؟

جس نے مجھے پاگل بنا دیا؟”

ریشم نے پہلی بار سیدھے کامران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:

**”آپ کو سہارا دینے والا بھی کوئی چاہیے کامران خان…

کیوں کہ آپ بھی اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔

لیکن ٹوٹن…

بدلے سے ٹھیک نہیں ہوتی۔”**

یہ الفاظ…

کامران کے سینے میں تیر کی طرح اتر گئے۔

اسے لگا جیسے کسی نے اس کے اندر چھپی سچائی کو کھول کر رکھ دیا ہو۔

زویا کی آواز ٹوٹ گئی

زویا نے روتے ہوئے ریشم کے سامنے سر جھکا دیا۔

**”مجھے معاف کر دے ریشم…

میں نے تیری زندگی برباد کر دی…”

ریشم نے نرم لہجے میں کہا:

**”ابھی کچھ بھی برباد نہیں ہوا…

سچ کے بعد… راستے بدلتے ہیں۔”

کامران نے تڑپ کر پوچھا:

“اور میرا راستہ…؟

کیا بدل سکتا ہے؟”

ریشم خاموش رہی۔

کیونکہ اس سوال کا جواب…

صرف وقت دے سکتا تھا۔

رات گہری تھی، مگر ریشم کے اندر کا اندھیرا اس سے بھی گہرا۔ وہ آنگن میں پڑے پرانے جھولے پر بیٹھی تھی، ہاتھ ٹھنڈے تھے، دل جل رہا تھا۔

ہوا میں خفیف سی نمی تھی… جیسے بارش ہونے سے پہلے آسمان بھی روئے بنا رہ نہیں سکتا۔

اسی وقت گیٹ کی چوکٹ پر ایک دبیز سائے نے قدم رکھا۔

زویا…

ریشم نے چونک کر دیکھا۔

زویا کی آنکھیں سرخ تھیں، جیسے کئی گھنٹوں سے کوئی فیصلہ اس کے اندر جنگ لڑ رہا ہو۔

“ریشم… مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔”

ریشم نے پلکیں جھپکیں، “کہو… تمھیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئی؟”

زویا نے گہرا سانس لیا،

“میں… میں تم سے سچ چھپاتی رہی۔ لیکن اب مجھ سے پردے اٹھانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔”

ریشم خاموش رہی۔

پہلی بار—بالکل پہلی بار—اس کی خاموشی نے زویا کو خود اپنی آواز بھاری کر دی۔

زویا نے لرزتی آواز میں کہا:

“کامران… اُس نے جو کچھ کہا، جو کچھ کیا… اس کا سب سے بڑا سبب *میں* تھی۔”

ریشم کی نظریں لمحہ بھر کو ٹھہر گئیں۔

“تم…؟”

زویا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

“ہاں! میں نے ہی کامران کو غلط باتیں بتائیں۔ میں نے کہا تھا کہ تم مغرور ہو… تم اس کی پرواہ نہیں کرتیں… تم سب کے سامنے اسے شرمندہ کر دیتی ہو۔”

وہ ہچکیوں کے درمیان بولی،

“میں جلن میں اندھی ہو گئی تھی ریشم… تمہاری خاموشی، تمہاری عزت، تمہاری وقار—سب مجھے چبھتا تھا۔”

ریشم نے اسے دیکھا… بہت دیر تک…

اور پہلی بار زویا کو محسوس ہوا کہ **ریشم کی خاموشی اس کی سب سے بڑی سزا ہے۔

 اسی وقت دوسری طرف—کامران کا گھر

کمراں کی ماں، بیگم سائرہ، غصے سے ہاتھ باندھے بیٹھی تھیں۔

“یہ سب کیا سن رہی ہوں میں کامران؟ تم نے ایک شریف لڑکی کی عزت پر انگلی اٹھا دی؟”

کامران سر جھکائے بیٹھا تھا۔

“امی… میں غلطی کر بیٹھا… مجھے لگا—”

“بس!”

بیگم سائرہ کی آواز لرز گئی۔

“ریشم جیسی لڑکی کو تم نے تکلیف دی؟ وہ تو بولتی بھی نہیں، کسی سے شکایت بھی نہیں کرتی… اور تم نے اسی کے ساتھ یہ کیا؟”

کامران کے اندر کچھ ٹوٹ کر گرا۔

اس نے ہچکی لی،

“امی… مجھے اس سے معافی مانگنی ہے۔ میں نے اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھا تھا…”

بیگم سائرہ کے چہرے پر دکھ اور غصے کا عجیب ملاپ تھا۔

“جاؤ! اگر ریشم تمھیں معاف کر دے تو سمجھوں گی تم واقعی بدل گئے ہو۔”

ریشم کے دل میں غصہ نہیں تھا۔

دکھ تھا… بہت گہرا دکھ…

جو کہیں بیٹھ کر چپ چاپ روح کو بھگو دیتا ہے۔

زویا نے ہاتھ جوڑ دیے،

“میں معافی مانگتی ہوں ریشم… پلیز مجھے معاف کر دو۔”

ریشم ہولے سے بولی:

“زویا… معافی دینا مشکل نہیں…

مشکل یہ ہے کہ جسے ہم سچ سمجھتے ہیں، وہ جھوٹ نکل آئے۔

جس پر ہم بھروسہ کرتے ہیں، وہ زخم دے جائے۔

اور جن کے سامنے ہم کبھی اپنی آواز بلند نہیں کرتے… وہی آواز بن کر ہمیں بدنام کر دیں۔”

زویا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“میں غلط تھی… بہت غلط۔”

ریشم نے نظریں آسمان کی طرف اٹھا دیں۔

“تم جانتی ہو… میں کیوں چپ تھی؟

کیونکہ کبھی کبھی خاموشی بھی چیخ بن جاتی ہے۔

اور آج… مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میری خاموشی کمزوری نہیں… *طاقت* ہے۔”

زویا اس کے قدموں میں گر گئی۔

“مجھے معاف کر دو ریشم… پلیز…”

ریشم نے آنکھیں بند کر لیں۔

“وقت… شاید سب سے بڑا علاج ہے۔

میں… ابھی کچھ نہیں کہہ سکتی۔”

اسی لمحے—گیٹ کھلا

کامران اندر آ رہا تھا۔

وہ زویا کو روتا، ریشم کو خاموش کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

“ریشم…”

اس کی آواز بھرا گئی۔

“میں… میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔ میں نے غلطی کی… بہت بڑی غلطی… لیکن پلیز مجھے ایک موقع دے دو—”

ریشم نے آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات روک دی۔

“کامران… ہر زخم پر مرہم نہیں لگایا جا سکتا۔

کچھ زخم… انسان کو بدل دیتے ہیں۔”

کامران کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔

ریشم نے گہری، پُرسکون سانس لی۔

“میں اب تمھاری بات سن سکتی ہوں…

لیکن معافی؟

وہ وقت اور دل کے ہاتھ میں ہے۔”

یہ کہہ کر وہ مڑ گئی—

اور پہلی بار… کامران نے محسوس کیا کہ ریشم کی خاموشی ایک ایسی دیوار ہے…

جسے گرانا اب اس کے بس میں نہیں۔

وہی گہرا درد، وہی خاموش ٹوٹ پھوٹ، وہی جذباتی شدت کے ساتھ۔

صبح کا اجالا گھر کی دیواروں پر آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا، مگر ریشم کے دل میں اب بھی رات کی سردیوں جیسا اندھیرا تھا۔

وہ گھر کے صحن میں بیٹھی تھی، ہاتھوں میں چائے کا کپ، مگر چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی—بالکل اس کے اعتماد کی طرح۔

اتنے میں دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

ریشم نے سر اٹھایا۔

دروازے کے باہر **کامران** کھڑا تھا۔

چہرہ تھکا ہوا، آنکھیں سرخ، اور قدموں میں عجیب سی بے بسی۔

“ریشم… اگر اجازت ہو… تو کچھ کہوں؟”

ریشم نے نگاہ جھکا کر کہا،

“باتیں کہنے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوتی کامران… کمی تو عمل کرنے والوں کی ہوتی ہے۔”

کامران نے گہرا سانس لیا۔

“مجھے پتہ ہے… میں نے تمہیں تکلیف دی۔ تمہاری خاموشی کو سختی سمجھا… تمہارے وقار کو ضد… اور تمہاری آنکھوں میں چھپی صبر کو… بے حسی۔”

اس نے آہستہ سے سر جھکا دیا۔

“میں غلط تھا۔ بہت غلط۔”

ریشم چپ رہی۔

ہوا چلی اور اس کے دوپٹے کا کنارہ ہلکا سا لرز گیا—بالکل اس کے دل کی طرح۔

کامران نے کہا:

“میں تمہیں واپس نہیں مانگ رہا۔ میں صرف… یہ چاہتا ہوں کہ تم جان لو کہ میں بدل رہا ہوں۔ میں نے اپنی غلطیوں سے سیکھ لیا ہے۔ میں… میں معافی کے قابل نہیں، مگر کوشش کر رہا ہوں۔”

ریشم نے پہلی بار سیدھی نظروں سے اسے دیکھا۔

وہ نظر کسی الزام کی نہیں تھی…

وہ ایک تھکی ہوئی روح کی نظر تھی۔

“کامران… تمہاری غلطی صرف ایک فیصلہ نہیں تھی…

تم نے میرے کردار کو چوٹ پہنچائی تھی۔

اور وہ زخم… بہت گہرا تھا۔”

کامران کی سانس اٹک گئی۔

وہ کچھ بولنا چاہتا تھا مگر ریشم نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔

“میں نے بولنا نہیں سیکھا…

لیکن اب مجھے سمجھ آ گیا ہے کہ خاموش رہنا ہمیشہ ٹھیک نہیں ہوتا۔

تمہاری باتوں نے مجھے بدل دیا، کامران۔

اور میں اب پہلے والی ریشم نہیں رہی۔”

کامران نے لرزتی آواز میں کہا،

“کیا… کیا اس تبدیلی میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں بچی؟”

ریشم کی آنکھیں بھر آئیں،

“یہ فیصلہ وقت کرے گا… میں نہیں۔ میں ابھی کچھ نہیں کر سکتی۔”

کامران کے چہرے پر ایسا دکھ اتر آیا جیسے پوری دنیا اس کے خلاف ہونے کو کھڑی ہو۔

 دوسری طرف — زویا کا کفارہ

زویا آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔

اپنے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی… مگر اسے اپنا عکس نہیں، اپنی غلطیاں نظر آ رہی تھیں۔

“میں نے سب برباد کر دیا… دوستی بھی، بھروسہ بھی۔”

ریشم کے الفاظ اس کے دل میں تیر کی طرح اتر رہے تھے۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا اور ایک طویل میسج لکھا:

*”ریشم، میں اپنی غلطی صرف لفظوں سے نہیں چکا سکتی… میں تمہیں سچ دکھانا چاہتی ہوں۔ اس بار… تمہیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنے دوں گی۔”*

اس نے بھیج دیا۔

پھر فوراً کامران کو کال کی۔

“کامران… اب بہت ہو گیا۔ ریشم کو سب سچ بتانا ہوگا۔

وہ بات… جو تم نے بھی نہیں کہی… اور جو میں نے بھی چھپا لی تھی۔”

کامران کی سانس رک گئی،

“زویا… تم کیا کرنے جا رہی ہو؟”

زویا کی آواز مضبوط تھی،

“جو کئی دن پہلے کر دینا چاہیے تھا—

سچ سامنے لانا۔

جو بھی اس کے نتیجے ہوں… میں بھگتنے کو تیار ہوں۔”

ریشم کی پہلی بار… مضبوط آواز

دوپہر ڈھل رہی تھی۔ ریشم کمرے میں بیٹھی تھی کہ زویا کا میسج پڑھ کر اس کی بھنویں سمٹ گئیں۔

“کون سا سچ…؟ کون سی بات…؟”

اس لمحے اسے پہلی بار اپنے دل میں ایک عجیب طاقت محسوس ہوئی—

وہ طاقت جسے کبھی اس نے جانا ہی نہیں تھا۔

“اب میں خاموش نہیں رہوں گی۔

جو بھی سچ ہے… سب کے سامنے آئے گا۔

میں اپنے بارے میں دوسروں کی کہی باتوں سے نہیں ٹوٹوں گی۔

اب میں خود اپنی کہانی لکھوں گی۔”

اور اسی وقت—

دروازے پر ایک تیز دستک ہوئی۔

ریشم کھڑی ہو گئی۔

کامران…؟

یا زویا…؟

یا وہ سچ… جو سب بدل دے گا؟

دروازے پر ہونے والی تیز دستک ریشم کے دل کی دھڑکن سے بھی زیادہ بے چین تھی۔

وہ آگے بڑھی، کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا—

اور سامنے **زویا** کھڑی تھی۔

چہرہ زرد، آنکھیں بھیگی ہوئی، اور ہونٹ کانپ رہے تھے—

جیسے کوئی بھاری پہاڑ اٹھا کر آئی ہو۔

“ریشم… میں اندر آ سکتی ہوں؟”

ریشم نے آہستہ سے سر ہلایا اور دونوں بیٹھ گئیں۔

خو̈فناک خاموشی چند لمحے فضا میں لٹکی رہی۔

پھر زویا نے لرزتے ہوئے کہا:

“آج… میں سب بتا دوں گی۔ کوئی بات نہیں چھپاؤں گی۔

جو بھی ہو… مجھے برداشت ہے۔”

ریشم نے نرمی سے پوچھا،

“کون سا سچ؟”

زویا نے اپنے ہاتھ مضبوطی سے جکڑ لیے—

جیسے وہ خود کو ٹوٹنے سے روک رہی ہو۔

“وہ دن…

جس دن کامران نے تم پر الزام لگایا تھا…

تمہیں یاد ہے نا؟”

ریشم کی سانس بھاری ہو گئی۔

“ہاں… وہ دن بھولنے والا نہیں۔”

زویا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے،

“اس دن… تم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا ریشم۔

وہ… وہ سب *میں* نے کیا تھا۔

میں نے کامران کو غلط باتیں بتائیں…

بلکہ… کچھ جھوٹ بولے۔”

ریشم کا دل جیسے ایک لمحے کو رک گیا۔

“جھوٹ…؟”

“ہاں!”

زویا کی آواز ٹوٹ گئی۔

“میں نے کامران کو کہا تھا کہ تم اس میں دلچسپی نہیں رکھتیں…

کہ تم اس کے بارے میں دوسروں سے مذاق بناتی ہو…

اور… میں نے وہ میسج بھی… میں نے ہی بھیجا تھا!

جو تم پر ڈال دیا گیا کہ تم نے لکھا…”

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

ریشم کی آنکھیں حیرت اور صدمے سے پھیل گئیں۔

“تم… تم نے وہ سب کیوں کیا؟”

زویا نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

“کیونکہ میں حسد میں اندھی ہو گئی تھی۔

تم خاموش تھیں، باوقار تھیں، سمجھدار تھیں…

اور کامران… وہ تمہیں پسند کرنے لگا تھا۔

میں برداشت نہیں کر سکی، ریشم!

میں نے سوچے بغیر سب برباد کر دیا…”

ریشم نے اپنی سانس کو سنبھالتے ہوئے کہا:

“تو… جو کچھ بھی ہوا… وہ سب تمہاری وجہ سے تھا؟”

زویا نے ہاں میں سر ہلایا،

“سارا الزام میں لیتی ہوں…

سچ یہ ہے کہ کامران تم سے ناراض اس لیے نہیں ہوا کہ تم نے کچھ کیا،

بلکہ اس لیے… کیونکہ *میں* نے اسے غلط راستے پر دھکیلا۔”

یہ کہتے ہوئے وہ ریشم کے قدموں میں گر گئی۔

“مجھے معاف کر دو ریشم… پلیز… میں تباہ ہو رہی ہوں۔”

ریشم کا دل کانپ گیا،

لیکن اس نے خود کو سنبھالا۔

“زویا… تم نے میرا اعتماد توڑا ہے۔

اور اعتماد… زخم کی طرح ہوتا ہے—

بنتا تو ہے، مگر نشان کبھی مٹتے نہیں۔”

زویا نے روتے ہوئے کہا،

“میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں… لیکن سچ چھپا کر نہیں رہ سکتی تھی۔”

اسی لمحے—

دروازہ پھر کھلا۔

کامران اندر آیا۔

چہرہ پھیکا، آنکھوں میں خوف اور پچھتاوا۔

“میں نے… سب سن لیا ہے۔”

زویا پیچھے ہٹ گئی۔

کامران نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:

“ریشم… میں… میں تمہارے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں۔

میں نے تم پر یقین نہیں کیا…

میں نے تمہاری خاموشی کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی…

اور میں… میں نے تمہیں وہ تکلیف دی جو تم نے کبھی کسی کو نہیں دی تھی۔”

اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔

“میں… شرمندہ ہوں ریشم…

اور میں چاہتا ہوں کہ تم… تم مجھے معاف کر دو—”

ریشم نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کہا،

“کامران، معافی دینا آسان ہوتا…

اگر زخم صرف غلط فہمی کا ہوتا۔

لیکن یہ زخم… بھروسے کا تھا، دل کا تھا۔

اور ایسے زخم وقت مانگتے ہیں۔ بہت وقت۔”

کامران نے بے بسی سے کہا،

“تو… کیا کوئی امید ہے؟”

ریشم کی آواز نرم مگر مضبوط تھی:

“امید… تب ہوتی ہے جب دل چاہے۔

اور میرا دل… ابھی بہت تھکا ہوا ہے۔

میں… فوری جواب نہیں دے سکتی۔”

کامران کی آنکھوں میں شکست اور امید دونوں سمٹ آئے۔

“میں انتظار کروں گا… جتنا وقت چاہیے ہو۔”

ریشم نے آخری بات کہی:

“کامران…

یاد رکھنا…

اب میرے فیصلے میری خاموشی نہیں کرے گی…

*میری طاقت کرے گی۔*”

ریشم کے ان مضبوط الفاظ نے کمرے میں ایسی گونج پیدا کی…

جس کے بعد کوئی کچھ بول نہ سکا

کمرے میں خاموشی کی لپیٹ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

ریشم اپنی کرسی پر بیٹھی تھی، ہاتھ کانوں پر رکھے، جیسے دنیا کی بھاری سچائی اس کے سینے پر رکھی گئی ہو۔

کامران کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔ آنکھوں میں پچھتاوا، لبوں پر ندامت، اور دل میں امید کی ایک مدھم روشنی۔

زویا، جو ابھی تک ریشم کے قریب بیٹھ کر روتی رہی تھی، نے گہری سانس لی۔

“میں نے سب خراب کیا… سب کچھ…

اور اب… مجھے کچھ واپس لینے کا حق بھی نہیں۔”

ریشم نے آہستہ سے کہا:

“زویا… سب کچھ واپس نہیں لیا جا سکتا۔

لیکن اگر تم واقعی کچھ کرنا چاہتی ہو، تو اپنا سچ کا راستہ اپناؤ۔

صرف یہ نہیں کہ الفاظ کہو…

اپنے عمل سے دکھاؤ کہ تم بدل گئی ہو۔”

زویا نے سر جھکایا، آنکھوں میں پشیمانی کی چمک۔

“میں… میں کروں گی۔

چاہے کچھ بھی ہو، مجھے اس کی قیمت چکانی ہوگی۔”

کامران نے آہستہ قدم بڑھائے اور ریشم کے قریب آیا۔

“ریشم… میں جانتا ہوں کہ تم نے بہت صبر کیا۔

اور میں… میں تمہیں وہ اعتماد واپس دلانے کے لئے ہر کوشش کروں گا۔

میں چاہتا ہوں کہ تم جان لو… میں بدل گیا ہوں۔”

ریشم نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی۔

دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ کمرے کی خاموشی کو چیرتی محسوس ہو رہی تھی۔

پھر اس نے آہستہ مگر پختہ الفاظ میں کہا:

“کامران… وقت اور ثابت قدمی دکھائے گا کہ تم واقعی بدل گئے ہو۔

صرف الفاظ کافی نہیں ہیں۔

اور میرا دل… اب آسانی سے نہیں جھکے گا۔

میں اپنی خاموشی سے بھی طاقت رکھتی ہوں۔

اور وہ طاقت… فیصلہ کرنے کا حق بھی رکھتی ہے۔”

کامران نے سر جھکایا۔

“میں انتظار کروں گا… جتنا بھی وقت چاہیے ہو۔

میں تمہارے اعتماد کا مستحق بنوں گا، ریشم۔”

ریشم نے پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ دی، جو پوری شدت کے ساتھ خاموشی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔

وہ جان چکی تھی کہ اب اس کا فیصلہ اس کی اپنی زندگی ہے، کسی اور کے احساسات سے نہیں باندھا جائے گا۔

زویا نے خاموشی سے دعا کی،

“اللہ… مجھے معاف کرنے کا موقع دے، اور ان دونوں کو سکون دے۔”

کمرے میں گہرا سکوت چھا گیا، مگر اس سکوت میں ہر دل کی آواز سنائی دے رہی تھی:

ریشم نے پہچان لیا تھا کہ اب وہ صرف دوسروں کے لئے نہیں، اپنے لئے بھی جیتی ہے۔

اور یہی طاقت، اس کی سب سے بڑی فتح تھی۔

وقت دھیرے دھیرے بہتا رہا، مگر کمرے کی وہ خاموش شام، سب کے دلوں میں ایک نشانی چھوڑ گئی تھی۔

زویا نے اپنے اندر بدلاؤ محسوس کیا۔

“میں نے جو غلطیاں کیں، اب انہیں چھپانا ممکن نہیں۔

اب میں ان کا سامنا کروں گی… اور جو بھی انجام ہوگا، قبول کروں گی۔”

کامران نے ریشم کے قریب قدم بڑھائے، اس بار نہ تو پچھتاوے کے ساتھ، نہ ہی التجا کے ساتھ۔

صرف ایک امید تھی، اور ایک وعدہ:

“ریشم… میں ہر دن ثابت کروں گا کہ تمہارا اعتماد میرا مقصد ہے۔

تمہیں دکھ نہیں دوں گا، نہ کبھی۔”

ریشم نے آہستہ سر ہلایا، لیکن اس کی آنکھوں میں وہی طاقت تھی جو پہلی بار کامران نے دیکھی تھی۔

“میں چاہتی ہوں کہ تم یہ سمجھو… میں اب اپنے فیصلوں میں مضبوط ہوں۔

میری خاموشی، میرا وقار، میرا حق ہے۔

اگر تم نے یہ سمجھ لیا… تو ہم ساتھ ہو سکتے ہیں۔ اگر نہیں… تو میں اپنے راستے پر اکیلی چلوں گی۔”

کامران نے دل کی گہرائی سے کہا:

“میں سمجھ گیا ہوں… اور میں تیار ہوں۔

تمہارے وقار کا احترام کرتے ہوئے، تمہارے ساتھ ہر قدم چلنے کے لئے۔”

زویا، جو کمرے کے کنارے پر کھڑی تھی، نے ان دونوں کو دیکھا۔

آنکھوں میں ایک آنسو تھا، مگر لبوں پر سکون کی ہلکی مسکراہٹ تھی۔

“یہ سبق… سب کے لئے… کہ تبدیلی ممکن ہے۔

اور کبھی کبھی، خاموشی بھی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔”

ریشم نے پہلی بار بغیر کسی خوف کے مسکرا کر کہا:

“اب میں اپنے دل کی سنوں گی، اپنے حق کے لئے کھڑی رہوں گی۔

اور جو بھی فیصلہ ہو، وہ میرا ہوگا۔

میری خاموشی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ میں کسی کے دباؤ میں نہیں آؤں گی… بلکہ اپنی روشنی خود جلاؤں گی۔”

کمرے میں وہی خاموشی تھی، مگر اب یہ خاموشی کسی دکھ کی نہیں، بلکہ امید اور نئے آغاز کی تھی۔

دن کا پہلا نور کمرے میں داخل ہوا تو ریشم اور کامران کے چہرے پر سکون اور امید کی جھلک نظر آئی۔

ہر لمحہ، ہر خاموشی، اور ہر دل کی بات نے انہیں قریب کیا تھا، مگر اس قربت کی بنیاد اب صرف محبت نہیں بلکہ احترام اور سمجھ بوجھ تھی۔

زویا اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی۔

“میرے گناہ، میرے راز… سب نے مجھے جو سبق دیا، وہ یہ ہے کہ غلطیوں کو چھپانے سے کچھ نہیں ملتا۔

اب وقت ہے کہ میں اپنے دل کی سنوں، اور اپنی زندگی خود بناؤں۔”

اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی تلافی شروع کی۔ لوگوں کی مدد، اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا، اور سب سے بڑھ کر اپنی خود اعتمادی کو مضبوط کرنا۔

ہر قدم پر اس کا دل بھرا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں روشنی تھی — وہ روشنی جو غلطیوں کے بعد پیدا ہونے والے سکون سے ملتی ہے۔

کامران اور ریشم ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر ایک خاموش عہد کر رہے تھے:

“ہم ساتھ ہیں، لیکن اپنی اپنی شناخت کے ساتھ۔

ہم ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے، بلکہ ایک دوسرے کی طاقت کا احترام کریں گے۔”

ریشم کی خاموشی اب خوف یا غیر یقینی کی علامت نہیں تھی، بلکہ اعتماد اور طاقت کی نشانی بن گئی تھی۔

اور کامران نے پہلی بار محسوس کیا کہ ریشم کی یہ خاموشی بھی ایک زبان ہے، ایک احساس ہے، جسے سمجھنے والا ہی دل سے جڑ سکتا ہے۔

دو دن کے بعد زویا نے دونوں کے لئے چائے لائی۔

تینوں نے ایک میز کے گرد بیٹھ کر ہنسی، یادیں، اور مستقبل کے خواب بانٹے۔

وہ لمحہ، وہ خاموشی، وہ محبت اور احترام — سب کچھ ایک دوسرے میں گھل گیا۔

زندگی کا یہ سبق سب کے دلوں پر نقش ہوگیا:

کہ محبت صرف جذبات نہیں، بلکہ برداشت، احترام، اور خاموشی کی طاقت سے بھی پروان چڑھتی ہے۔

اور سب سے بڑی بات یہ کہ، ہر انسان کی خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے، اگر اسے صحیح طرح سمجھا جائے۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Setra Saal ki rashim Urdu story سترہ سال کی ریشم”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more