Sohag Raat سہاگ رات

  • Genre: zarasrory
  • Age:    18+
  • Status: Completed
  • Language: Urdu
  • Author: Zara Writer
  • View : 9.4k

 

Categories: , Tags: , ,

Description

سہاگ رات

 

آمنہ ایک خوبصورت اور پرانی روایات پر یقین رکھنے والی لڑکی تھی جس کی شادی ایک امیر اور پڑھے لکھے لڑکے، ساجد سے ہو رہی تھی۔ یہ ایک ارینج میرج تھی، جہاں دونوں خاندانوں نے مل کر یہ رشتہ طے کیا تھا۔ آمنہ کے دل میں ساجد کے لیے احترام تھا اور وہ ایک خوشگوار زندگی کا خواب دیکھ رہی تھی۔ ساجد کا خاندان صدیوں پرانی حویلی میں رہتا تھا، جو گاؤں سے باہر ایک ویران جگہ پر موجود تھی۔ اس حویلی کے بارے میں گاؤں میں عجیب و غریب کہانیاں مشہور تھیں، لیکن آمنہ ان سب باتوں کو توہم پرستی سمجھتی تھی اور ان پر دھیان نہیں دیتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی نئی زندگی خوشیوں اور محبت سے بھری ہوگی۔

سہاگ رات تھی، اور کمرہ گلاب کی پتیوں اور خوشبو دار موم بتیوں سے سجا ہوا تھا۔ کمرے کی کھڑکی سے چاند کی مدھم روشنی اندر آ رہی تھی، جو ماحول کو مزید رومانوی بنا رہی تھی۔ ساجد، جو خود بھی کافی پرجوش تھا، آمنہ کے گھونگھٹ اٹھانے کے لیے اس کے قریب آیا۔ آمنہ کا دل دھڑک رہا تھا، یہ اس کی زندگی کا سب سے خاص لمحہ تھا۔

ساجد نے آہستگی سے آمنہ کا گھونگھٹ اٹھایا۔ آمنہ نے شرما کر اپنی نظریں جھکا لیں۔ ساجد نے اس کے ہاتھ کو چھوا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔ “تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو، آمنہ۔”

آمنہ نے ہلکا سا مسکرایا۔ “آپ کا شکریہ۔”

ساجد نے آمنہ کے چہرے کی طرف دیکھا اور ایک گہری سانس لی۔ “آمنہ، مجھے تمہیں ایک بات بتانی ہے…” اس کی آواز میں ایک عجیب سی گھبراہٹ تھی، جو آمنہ نے محسوس کی۔

“کیا ہوا، ساجد؟” آمنہ نے پوچھا، اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف پیدا ہونے لگا۔

ساجد نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ہٹا لیا اور کمرے میں چلنے لگا۔ “یہ حویلی… اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ ایک تاریک تاریخ۔”

“میں نے سنا ہے،” آمنہ نے کہا۔ “لیکن مجھے ان سب باتوں پر یقین نہیں ہے۔”

“تمہیں یقین کرنا پڑے گا،” ساجد نے کہا۔ “یہاں ایک روح قید ہے۔ ایک دلہن کی روح۔”

آمنہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ “آپ کیا کہہ رہے ہیں؟”

“اس کی شادی بھی اسی کمرے میں ہوئی تھی،” ساجد نے کمرے کی دیواروں کی طرف اشارہ کیا۔ “اس کی سہاگ رات کو… وہ غائب ہو گئی تھی۔ اسے کبھی نہیں دیکھا گیا۔”

آمنہ نے خوف سے ساجد کی طرف دیکھا۔ “اور اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟”

ساجد اس کے قریب آیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔ “جب بھی کوئی نئی دلہن اس کمرے میں آتی ہے، وہ روح اسے لے جاتی ہے۔”

اسی لمحے، کمرے میں موجود ساری موم بتیاں بجھ گئیں اور کمرے میں گہرا اندھیرا چھا گیا۔ آمنہ نے خوف سے چیخ ماری۔ “ساجد! کیا ہوا؟”

“وہ آ گئی ہے…” ساجد کی آواز کانپ رہی تھی۔

آمنہ کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کے بال چھو رہا ہے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کے پیچھے ایک سفید لباس میں ملبوس عورت کھڑی تھی۔ اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ اس کے ہاتھوں میں ایک پرانا، زنگ آلود چاقو تھا۔

“تم میری جگہ لے رہی ہو،” اس عورت نے ایک گونجدار آواز میں کہا۔

آمنہ نے خوف سے چیخ ماری اور ساجد کی طرف بھاگی، لیکن ساجد وہاں نہیں تھا۔ وہ غائب ہو چکا تھا۔ کمرے میں صرف وہ دلہن کی روح اور آمنہ رہ گئی تھی۔ دلہن کی روح نے اپنا چہرہ دکھایا۔ وہ ایک خوبصورت عورت تھی، لیکن اس کی آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک ڈراؤنی مسکراہٹ تھی۔

“تم میری بن جاؤ گی،” اس نے کہا۔ “اور اس حویلی کی نئی روح۔”

آمنہ نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن دروازہ بند تھا۔ وہ کمرے میں پھنس چکی تھی۔ دلہن کی روح اس کے قریب آ رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں چاقو چمک رہا تھا۔ آمنہ نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ کمزور تھی۔ دلہن کی روح نے اس پر حملہ کر دیا۔

صبح ہوئی، تو کمرہ پھر سے گلاب کی پتیوں اور موم بتیوں سے سجا ہوا تھا۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ صرف ایک دلہن کا سفید لباس پڑا ہوا تھا۔ اور دیوار پر ایک نیا، زنگ آلود چاقو لٹکا ہوا تھا۔ اس حویلی میں ایک اور دلہن کی روح قید ہو چکی تھی۔

صبح کے وقت، جب سورج کی پہلی کرنیں حویلی کی کھڑکیوں سے اندر آئیں، تو کمرہ خاموش تھا۔ گلاب کی پتیوں سے بھری ہوئی بستر پر کوئی نہیں تھا۔ صرف ایک دلہن کا سفید لباس پڑا ہوا تھا، جو رات کے خوفناک واقعہ کی خاموش گواہی دے رہا تھا۔ کمرے میں موجود چیزیں اپنی جگہ پر تھیں، لیکن ان میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔ دیوار پر ایک زنگ آلود چاقو لٹکا ہوا تھا، جیسے کسی نے اسے ابھی وہاں رکھا ہو۔

ساجد کا خاندان سہاگ رات کے بعد نئے جوڑے کو دیکھنے آیا۔ جب انہوں نے کمرے میں قدم رکھا، تو وہ حیران رہ گئے۔ کمرہ خالی تھا اور صرف دلہن کا لباس بستر پر پڑا تھا۔ ساجد کی ماں نے گھبرا کر کہا، “آمنہ کہاں ہے؟”

ساجد کے باپ نے فوراً کمرے کا جائزہ لیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ اس نے دیوار پر لٹکے ہوئے چاقو کو دیکھا اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ وہی چاقو تھا جو کئی سال پہلے ایک اور دلہن کے غائب ہونے کے بعد ملا تھا۔

“وہ… وہ چلی گئی ہے،” ساجد کے باپ نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔

“کیا مطلب؟” ساجد کی ماں نے کہا۔ “کس نے اسے اغوا کیا؟”

“کسی نے اسے اغوا نہیں کیا،” ایک بوڑھی عورت نے کہا جو پیچھے کھڑی تھی۔ وہ ساجد کے خاندان کی ایک پرانی خادمہ تھی۔ اس نے کمرے کے کونے میں بنے ایک چھوٹے سے مجسمے کی طرف اشارہ کیا۔ “اس نے اسے لیا ہے۔”

سب نے اس مجسمے کی طرف دیکھا۔ وہ ایک چھوٹی لڑکی کا مجسمہ تھا، جس کی آنکھوں میں کوئی چمک نہیں تھی۔

ساجد کی ماں نے چیخ کر کہا، “یہ کیا پاگل پن ہے؟”

“پاگل پن نہیں، حقیقت ہے،” خادمہ نے کہا۔ “اس حویلی کی پہلی دلہن کو ایک جادوگرنی نے یہاں قید کر دیا تھا تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کروا سکے، لیکن دلہن نے اس کی بات نہیں مانی۔ جادوگرنی نے اس پر جادو کر دیا اور اس کی روح کو اس حویلی میں قید کر دیا۔”

“اور اس کا اس مجسمے سے کیا تعلق؟” ساجد کے باپ نے پوچھا۔

“یہ مجسمہ اس جادوگرنی کی بیٹی کا ہے،” خادمہ نے بتایا۔ “وہ اسی حویلی میں ایک حادثے میں فوت ہو گئی تھی اور جادوگرنی نے اپنی بیٹی کی روح کو اس مجسمے میں قید کر لیا۔”

“اور یہ دلہن…” ساجد کے باپ نے کہا۔

“یہ دلہن ایک ایسا راز ہے جو ہم اس حویلی سے باہر نہیں جانے دے سکتے۔” خادمہ نے کہا۔

اسی وقت، کمرے میں ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا اور کمرے کی ساری کھڑکیاں زور سے کھل گئیں۔ کمرے میں عجیب سی بو پھیل گئی۔ سب نے دیکھا کہ سفید لباس میں ایک سایہ کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، اور اس کی آنکھیں خالی تھیں۔

“میں آ گئی ہوں،” اس نے ایک گونجدار آواز میں کہا۔

یہ آمنہ کی روح تھی، جو اب اس حویلی کی نئی روح بن چکی تھی۔ وہ اب زندہ نہیں تھی، بلکہ وہ ایک ایسی دلہن کی روح بن چکی تھی جو ہمیشہ کے لیے اس حویلی میں قید ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے خالی ہاتھوں کو ہوا میں اٹھایا اور ساجد کی طرف دیکھا۔

“تمہیں لگا کہ تم مجھ سے بھاگ سکتے ہو؟” اس نے کہا۔

ساجد کا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس خوفناک حقیقت سے بھاگ نہیں سکتا، کیونکہ وہ حقیقت اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔

کمرے میں موجود سارے لوگ خوف اور دہشت کے عالم میں منجمد ہو کر رہ گئے تھے۔ آمنہ کی روح، جو اب سفید لباس میں ملبوس تھی، آہستہ آہستہ ساجد کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی خالی جگہوں سے ایک خوفناک چمک نکل رہی تھی۔ اس کے پیچھے کمرے میں ایک اور روح نمودار ہوئی، جو ایک پرانی دلہن کی روح تھی، جس نے آمنہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر رکھا تھا۔

**مکالمے اور اختتام:**

“کیا تمہیں لگا تھا کہ تم مجھ سے بھاگ سکتے ہو؟” آمنہ کی روح نے ایک گونجدار، سرد آواز میں پوچھا۔ “تم نے مجھے صرف ایک شے سمجھا تھا… جسے تم اپنی مرضی سے استعمال کر سکو۔”

ساجد نے کانپتے ہوئے کہا، “نہیں… نہیں آمنہ… میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا تھا۔”

“جھوٹ!” پیچھے والی دلہن کی روح نے کہا۔ “ہر مرد جھوٹا ہوتا ہے۔ وہ صرف اپنی ہوس اور لالچ کے لیے عورت کو استعمال کرتا ہے۔”

ساجد کے باپ نے قدم بڑھایا اور کہا، “یہ صرف ایک افسانہ ہے۔”

“افسانہ؟” آمنہ کی روح نے کہا۔ “اس دیوار پر لگے ہوئے چاقو سے پوچھو… یہ افسانہ نہیں، حقیقت ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس نے مجھے میری زندگی سے محروم کر دیا۔”

آمنہ کی روح نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کی چھنگلیوں سے ایک عجیب سی توانائی نکلنے لگی۔ اس نے ساجد کی طرف دیکھا اور کہا، “تم نے مجھے دھوکا دیا… اور اب اس کی سزا تم خود بھگتو گے۔”

ساجد نے چیخ ماری، لیکن اس کی آواز نہیں نکلی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا جسم آہستہ آہستہ ہوا میں اٹھ رہا ہے اور اس کا وجود اس کے جسم سے نکل کر ایک لکڑی کے تختے میں داخل ہو رہا ہے۔ وہ تختہ جو دیوار پر لگا ہوا تھا۔ اس کے جسم کی شکل بھی بدل رہی تھی، وہ ایک خالی مجسمہ بن رہا تھا۔

“کیا… کیا ہو رہا ہے؟” ساجد کی ماں نے گھبرا کر کہا۔

خادمہ نے آہستہ سے کہا، “یہ وہی سزاہے جو ہر اس مرد کو ملتی ہے جو اس حویلی میں عورتوں کو دھوکا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ کے لیے اس حویلی میں قید ہو جاتے ہیں، ایک بے جان مجسمہ بن کر۔”

جب ساجد کا وجود مکمل طور پر مجسمے میں تبدیل ہو گیا، تو آمنہ کی روح نے ایک گہری سانس لی۔ “اب ہماری سہاگ رات مکمل ہوئی۔”

صبح ہوئی، تو کمرے میں دو مجسمے تھے۔ ایک عورت کا اور ایک مرد کا۔ عورت کا مجسمہ وہ تھا جو کئی سالوں سے وہاں موجود تھا۔ اور مرد کا مجسمہ نیا تھا، جو ساجد کا تھا۔ دیوار پر لگے ہوئے چاقو کے پاس ایک اور چاقو آ گیا تھا۔

اس دن سے، اس حویلی میں ایک نیا راز اور ایک نئی روح قید ہو چکی تھی۔ وہ روح جو محبت کے دھوکے میں اپنی جان دے بیٹھی تھی۔ اور وہ روح جو اپنی سہاگ رات کی دلہن کو دھوکا دینے کی سزا پا چکی تھی۔ یہ کہانی نسل در نسل چلتی رہی، جب بھی کوئی دلہن اس حویلی میں آتی، وہ خود کو ایک ایسی دلہن کی روح میں بدلتی جو محبت میں دھوکا کھا کر قید ہو چکی تھی۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “Sohag Raat سہاگ رات”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You cannot copy content Without our Permission Subscribe First than You can copy..

Read more