جنگل کی خاموش گلیوں میں صبح کی روشنی دھیرے دھیرے پھیل رہی تھی۔ درختوں کے پتوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، اور ہوا میں ہلکی سی خوشبو تیر رہی تھی — جیسے کسی نے پھولوں کی کہانی سنائی ہو۔
نور، چھوٹی سی بچی، اپنی پیلی فراک میں چمکتے ہوئے سفید پھولوں کے ساتھ، ننگے پاؤں نرم گھاس پر چل رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، اور دل میں ایک انجان خوشی۔ وہ ہر پتے کو، ہر آواز کو، اور ہر روشنی کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔
اچانک، ایک رنگ برنگی تتلی اس کے سامنے آ کر ہوا میں تھرکنے لگی۔ اس کے پروں پر نیلا، نارنجی اور سنہری رنگ جھلک رہے تھے۔ نور نے قہقہہ لگایا، “کتنی خوبصورت ہو تم!”
لیکن تتلی کے ساتھ ایک اور چیز بھی تھی — ایک چھوٹی سی سنہری چابی، جو ہوا میں تیر رہی تھی۔ وہ چمک رہی تھی، جیسے سورج کی کرنوں سے بنی ہو۔
نور نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔ “یہ چابی کہاں سے آئی؟” اس نے آہستہ سے پوچھا، جیسے چابی سن سکتی ہو۔
تتلی نے ایک نرم سی حرکت کی، اور جنگل کے اندر ایک پتھریلے راستے کی طرف اُڑنے لگی۔ نور نے ایک لمحے کو سوچا، پھر تتلی کے پیچھے چل پڑی۔ ہر قدم کے ساتھ، جنگل اور بھی جادوئی ہوتا جا رہا تھا — جیسے وہ کسی اور دنیا میں داخل ہو رہی ہو۔
راستے کے آخر میں ایک درخت تھا، جس کے تنے میں ایک چھوٹا سا دروازہ بنا ہوا تھا۔ وہ دروازہ نور کے قد سے بھی چھوٹا تھا، لیکن اس میں ایک خاص کشش تھی — جیسے وہ نور کو بلا رہا ہو۔
نور نے سنہری چابی کو آہستہ سے دروازے میں لگایا۔ ایک نرم سی آواز آئی، “چررررر…” اور دروازہ کھل گیا۔
نور نے سانس روکی، اور اندر جھانکا۔
روشنی تھی۔ رنگ تھے۔ اور ایک نئی دنیا اس کے سامنے تھی
باب ۲: درخت کا دروازہ
نور تتلی کے پیچھے چلتی رہی۔ جنگل اب پہلے سے زیادہ خاموش اور گہرا لگ رہا تھا، جیسے ہر درخت اس کی آمد کا انتظار کر رہا ہو۔ پتوں کی سرسراہٹ میں کوئی راز چھپا تھا، اور ہوا میں ایک عجیب سی سرگوشی تیر رہی تھی۔
راستہ ایک پرانے درخت کے تنے پر ختم ہوا۔ وہ درخت بہت بڑا تھا، اس کی جڑیں زمین میں گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں، اور اس کے تنے میں ایک چھوٹا سا دروازہ بنا ہوا تھا — بالکل ایسا جیسے کسی ننھی دنیا کا دروازہ ہو۔
نور نے جھک کر دروازے کو غور سے دیکھا۔ اس پر ننھے ننھے نقش بنے ہوئے تھے — پھول، ستارے، اور ایک تتلی کی شکل۔ وہ حیرت سے بولی، “یہ تو جیسے میرے لیے ہی بنایا گیا ہے۔”
اس نے سنہری چابی کو آہستہ سے دروازے میں لگایا۔ ایک نرم سی روشنی چابی سے نکلی، اور دروازہ چرچراتے ہوئے کھل گیا۔
دروازے کے پیچھے ایک روشن راستہ تھا، جس پر جگنو تیر رہے تھے۔ ہر جگنو ایک رنگ میں چمک رہا تھا — نیلا، سبز، گلابی، اور سنہری۔ وہ نور کے گرد ناچنے لگے، جیسے خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔
نور نے قدم آگے بڑھایا۔ جیسے ہی اس نے دروازے کے اندر قدم رکھا، اسے محسوس ہوا کہ وہ کسی اور دنیا میں آ گئی ہے۔ یہاں کی ہوا ہلکی تھی، خوشبو میٹھی تھی، اور ہر چیز جیسے خوابوں سے بنی ہو۔
درختوں کے بیچ ایک چھوٹا سا میدان تھا، جہاں بولتے پھول جھوم رہے تھے۔ ایک پھول نے کہا، “خوش آمدید، نور! تم وہی ہو جس کا انتظار تھا۔”
نور نے حیرت سے پوچھا، “میں؟”
ایک جگنو نے قہقہہ لگایا، “ہاں! صرف وہی بچے یہاں آ سکتے ہیں جن کے دل میں حیرت زندہ ہو۔”
نور نے مسکرا کر کہا، “تو میں خاص ہوں؟”
پھولوں نے تالیاں بجائیں، اور تتلی نے نور کے گرد چکر لگایا — جیسے کہہ رہی ہو، “یہ تو ابھی شروعات ہے۔”
باب ۳: پریوں کی دنیا
دروازے کے پار نور نے قدم رکھا تو جیسے وقت تھم گیا۔ ہر طرف روشنی تھی — نہ تیز، نہ مدھم، بلکہ ایسی جو دل کو چھو جائے۔ جگنو آسمان میں تیر رہے تھے، اور زمین پر پھول جھوم رہے تھے جیسے کسی خاموش دھن پر رقص کر رہے ہوں۔
نور نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔ درختوں کی شاخوں پر چھوٹی چھوٹی پریاں بیٹھی تھیں — ان کے پروں میں چاندنی کی جھلک تھی، اور آواز میں شبنم کی نرمی۔ ایک پری، جس کے بال چاندی جیسے تھے، آہستہ سے نیچے اتری اور نور کے سامنے آ کر مسکرائی۔
“خوش آمدید، نور!” اس نے کہا۔ “ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے۔”
نور نے دھیرے سے پوچھا، “میرا؟ لیکن میں تو بس تتلی کے پیچھے آئی تھی۔”
پری نے سر ہلایا، “تتلی تمہیں لے کر آئی، کیونکہ تم وہ ہو جس کے دل میں روشنی ہے۔ یہ دنیا صرف ان بچوں کے لیے ہے جو حیرت کو زندہ رکھتے ہیں، جو خواب دیکھتے ہیں اور ان پر یقین کرتے ہیں۔”
نور نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔ اسے واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے اندر کوئی چراغ جل رہا ہو — نرم، گرم، اور روشن۔
پریوں نے تالیاں بجائیں، اور جگنوؤں نے آسمان پر نور کا نام لکھا — “نور” — سنہری روشنی سے۔
ایک اور پری آگے آئی، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کتابچہ تھا۔ “یہ تمہاری کہانی ہے، نور۔ ہر صفحہ تمہارے خوابوں سے لکھا جائے گا۔”
نور نے کتابچہ تھاما، اور اس لمحے اسے احساس ہوا — وہ صرف ایک بچی نہیں، بلکہ ایک خوابوں کی محافظ ہے۔
پریوں نے اسے ایک تاج پہنایا — پھولوں اور جگنوؤں سے بنا ہوا — اور تتلی نے اس کے کندھے پر بیٹھ کر کہا، “اب تم ہماری دوست ہو۔”
باب ۴: واپسی اور راز
نور پریوں کی دنیا میں کچھ دیر رہی — لیکن وقت جیسے وہاں رک گیا تھا۔ ہر لمحہ ایک خواب تھا، ہر آواز ایک دھن، اور ہر رنگ ایک جذبہ۔
پھر ایک دن، بوڑھی پری نے نور کے قریب آ کر کہا، “اب وقت ہے کہ تم واپس جاؤ۔ دنیا تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ لیکن یاد رکھو، جو تم نے یہاں دیکھا، وہ تمہارے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔”
نور نے کتابچہ کو سینے سے لگایا، تاج کو اتارا اور تتلی کی طرف دیکھا۔ تتلی نے سر ہلایا، جیسے کہہ رہی ہو، “چلو، اب چلیں۔”
دروازہ پھر سے کھلا، اور نور واپس جنگل کی گلیوں میں آ گئی۔ سورج ویسا ہی تھا، درخت ویسے ہی تھے — لیکن نور بدل چکی تھی۔
اس کے قدموں میں اعتماد تھا، آنکھوں میں روشنی، اور دل میں ایک راز۔
سنہری چابی اب نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی۔ لیکن نور جانتی تھی — وہ چابی اب اس کے دل میں ہے۔
جب وہ گھر پہنچی، تو اس نے اپنی ماں کو گلے لگایا اور کہا، “ماں، میں نے ایک جادوئی دنیا دیکھی۔”
ماں نے مسکرا کر کہا، “تم ہمیشہ خواب دیکھتی ہو، نور۔”
نور نے آہستہ سے جواب دیا، “اب میں خوابوں کی محافظ ہوں۔”
اور اس رات، جب وہ سو رہی تھی، تتلی اس کے خواب میں آئی — اور ایک نئی چابی دکھائی۔
شاید اگلی مہم شروع ہونے والی تھی۔
Reviews
There are no reviews yet.
Be the first to review “Sonari Chabi Aur Titli سنہری چابی اور تتلی” Cancel reply
Reviews
There are no reviews yet.